TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان

Chapter 7 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 16 · 8 Hadith
۔ (۹۶۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنِِ، اَلتَّعَطُّرُ، وَالنِّکَاحُ، وَالسِّوَاکُ، وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار امور رسولوں کی سنتیں ہیں، خوشبولگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیا کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب، وھو مجھول، أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰(انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
فوائد:… چاروں چیزیں ہماری شریعت میں مطلوب ہیں۔
9611
Zaeef
۔ (۹۶۱۲)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْیَدَعُھُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صِیَامَ عَاشُوْرَائَ، وَالْعَشْرِ،وَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَالرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۱)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے، عاشوراء کا روزہ، دس دنوں کے روزے اور ہر ماہ سے تین دنوں کے روزے اور فجر سے پہلی والی دو سنتیں۔
Takhreej
(۹۶۱۲) تخریج: حدیث ضعیف، دون قولہ: والرکعتین قبل الغداۃ فصحیح، ابو اسحق الاشجعی مجھول، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲۰(انظر: )
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فعلی اور قولی صحیح احادیث سے یہ چاروں اعمال ثابت ہیں۔ دس دنوں سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے روزے ہیں، جن میں زیادہ عمل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس عشرے میں وہ ایام شامل نہیں ہیں، جن کا روزہ رکھنا منع ہے، مثلا دس ذوالحجہ کا روزہ، کیونکہیہ عید کا دن ہوتا ہے۔
9612
Zaeef
۔ (۹۶۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ اِذَا کُنَّ فِیْکَ فَـلَا عَلَیْکَ مَافَاتَکَ مِنَ الدُّنْیَا، حِفْظُ اَمَانَۃٍ، وَصِدْقُ حَدِیْثٍٍ، وَحُسْنُ خَلِیْقَۃٍ، وَعِفَّۃٌ فِیْ طُعْمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار نیکیاں ہیں، اگر تجھ میں پائی جائیں، تو دنیا کی کسی چیز کے فوت ہو جانے کا تجھے کوئی غم نہیں ہونا چاہیے، امانت کی حفاظت، سچی بات، حسن اخلاق اور کھانے میںپاکدامنی (یعنی گزارے کے لائق حلال روزی ملتی رہے)۔
Takhreej
(۹۶۱۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحارث بن یزید الحضرمی لایعرف لہ سماع من عبد اللہ بن عمرو، انما یروی عنہ بواسطۃ، وقد روی ھذا الحدیث عن عبد الرحمن بن حُجیرۃ عنہ، لکن فی الاسناد ابن لھیعۃ، وھو سییء الحفظ، وروی الحدیث موقوفا وھو اصح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۴ (انظر: ۶۶۵۲)
9613
Zaeef
۔ (۹۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔)) قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)
۔ سیدنا ابو کبشہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔
Takhreej
(۹۶۱۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۳۲۵ (انظر: ۱۸۰۳۲)
Explanation
فوائد:… ہر آدمی آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا مقام کیا ہے۔
9614
Sahih
۔ (۹۶۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ اَرْبَعًا، سُبَحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ سُبَحَانَ اللّٰہِ کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عِشْرِیْنَ حَسَنَۃً، أَوْ حَطَّ عَنْہُ عِشْرِیْنَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،فَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ لَہُ ثَلَاثُوْنَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ اَوْ حُطَّتْ عَنْہُ ثَلَاثُوْنَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے یہ چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبَحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ، پس جس نے سُبَحَانَ اللّٰہِ کہا، اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دیتا ہے یا بیس برائیاں مٹا دیتا ہے، جس نے کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُاس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا ، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا اور جس نے اپنی طرف سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی۔
Takhreej
(۹۶۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۴۲۸، والبیھقی فی الشعب : ۵۷۶ (انظر: ۸۰۱۲)
9615
Sahih
۔ (۹۶۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَقَالَ: ((یَااَبَا سَعِیْدٍ! ثَلَاثَۃٌ مَنْ قَالَھُنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: مَاھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَاسَعِیْدٍ! وَالرَّابِعَۃُ لَھَا مِنَ الْفَضْلِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابو سعید! تین کلمات ہیں، جس نے ان کو ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے، اس کی اتنی فضیلت ہے، جیسے آسمان سے زمین تک اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۹ (انظر: ۱۱۱۰۲)
9616
Sahih
۔ (۹۶۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: اِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِیْعَۃَ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَأْتِیَکَ اِلَّا فِیْ اَشْھُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِاَمْرٍ اِذَا نَحْنُ اَخَذْنَا بِہٖدَخَلْنَاالْجَنَّۃَ، وَنَاْمُرُ بِہٖاَوْنَدْعُوْمَنَوَرَائَنَا،فَقَالَ: ((آمُرُکُمْبِاَرْبَعٍ،وَاَنْھَاکُمْعَنْاَرْبَعٍ،اُعْبُدُوْااللّٰہَوَلَاتُشْرِکُوْابِہٖشَیْئًا فَھٰذَا لَیْسَ مِنْ الْاَرْبَعِ، وَاَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ، وَآتَوُا الزَّکَاۃَ، وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ، وَاَعْطُوْا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَاَنْھَاکُمْ عَنْ اَرْبَعٍِ، عَنِ الدُّبَّائِ، وَالنَّقِیْرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ۔)) قَالُوْا: وَمَا عِلْمُکَ بِالنَّقِیْرِ؟ قَالَ: ((جِذْعٌ یُنْقَرُ ثُمَّ یُلْقُوْنَ فِیْہِ الْقُطَیْعَائَ اَوِ التَّمْرَ وَالْمَائَ، حَتّٰی اِذَا سَکَنَ غَلَیَانُہُ شَرِبْتُمُوُہُ، حَتّٰی اَنَّ اَحَدَکُمْ لَیَضْرِبُ ابْنَ عَمِّہِ بِالسَّیْفِ۔)) وَفِیْ الْقُوْمِ رَجُلٌ اَصَابَتْہُ جَرَاحَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ، فَجَعَلْتُ اُخَبِّؤُھَا حَیَائً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: فَمَا تَاْمُرُنَا اَنْ نَشْرَبَ؟ قَالَ: ((فِیْ الْاَسْقِیَۃِ الَّتِیْیُلاثُ عَلٰی اَفْوَاھِھَا۔)) قَالَ: اِنَّ اَرْضَنَا اَرْضٌ کَثِیْرَۃُ الْجُرْذَانِ لَاتَبْقٰی فِیْھَا اَسْقِیَۃُ الْاَدَمِ، قَالَ: ((وَاِنْ اَکَلَتْہُ الُجُرْذَانُ۔)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، وَقَالَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ: ((اِنَّ فِیْکَ خُلَّتَیْنِیُحِبُّھُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیںہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریںیا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸، ۱۹۹۶ (انظر: ۱۱۱۷۵)
Explanation
فوائد:… شہریز کھجورکی ایک قسم ہے، اس کے دانے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے حصول کی خاطر آنے والے عبد القیس کے وفد کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اپنی رسالت کی گواہی دینے کی تعلیم دی۔ جب شراب حرام ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عارضی طور پر ان چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، بعد میں ان کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ جیسا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنِّی کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْھَا، فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الْأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔))… یعنی: بلاشبہ میں نے تم لوگوں کوقبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہیہآخرتیاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لئے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو… (صحیحہ:۸۸۶)
9617
Sahih
۔ (۹۶۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ اَرْبَعُ خِلَالٍ، اَنْ یُّجِیْبَہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیُشَمِّتَہُ اِذَا عَطَسَ، واِذَا مَرِضَ اَنْ یَّعُوْدَہَ، وَ اِذَا مَاتَ اَنْ یَشْھَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب وہ چھینکے تو اس کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرے۔
Takhreej
(۹۶۱۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۳۴ (انظر: ۲۲۳۴۲)
9618
Sahih