TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سباعیات کا بیان

Chapter 12 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 16 · 4 Hadith
۔ (۹۶۳۲)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَبْعَۃٌیُظِّلُھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ، اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَاَ بِعِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَرَجُلٌ قُلْبُہُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِیْ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ اَخْفَاھَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ،وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ اِلَی نَفْسِھَا، فَقَالَ: اَنَا اَخَافُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دن سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا، (۱)منصف حکمران، (۲) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا، (۳) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو، (۴) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، (۵) وہ آدمی نے جس نے صدقہ کیا اور اس کو اس طرح چھپایا کہ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا، اس کے بائیں ہاتھ کو اس کا علم نہ ہوا، (۶) وہ آدمی جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑھیں اور (۷) وہ آدمی جس کو منصب اور حسن والی عورت نے اپنے وجود یعنی برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
Takhreej
(۹۶۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۰، ۱۴۲۳، ومسلم: ۱۰۳۱ (انظر: ۹۶۶۵)
Explanation
فوائد:… اگر آدمی غور کرے تو اس حدیث ِ مبارکہ میں بیشتر اعمال بہت آسان ہیں۔
9632
Sahih
۔ (۹۶۳۳)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ، وَنَھَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ فَذَکَرَ: ((مَا اَمَرَھُمْ بِہٖمِنْعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ، وَاِتْبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السِّلَامِ، وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَاِجَابَۃِ الدَّاعِیْ، وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ، وَنَھَانَا عَنْ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ، اَوْ قَالَ: حَلْقَۃِ الذَّھَبِ، وَالْاِسْتَبْرَقِ، وَالْحَرِیْرِ، وَالدِّیْبَاجِ، وَالْمِیْثَرَۃِ، وَالْقَسِّیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۹۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔
Takhreej
(۹۶۳۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۳۹، ۲۴۴۵، ۵۶۵۰، ۵۸۶۳، ومسلم: ۲۰۶۶ (انظر: ۱۸۵۰۴)
Explanation
فوائد:… دیباج: ریشمی قیمتی کپڑا جس کا تانا بانا ریشم کا ہوتا ہے۔ استبرق سے مراد موٹا ریشم ہے۔ قسِّیّ: یمن کی ایک بستی کا نام قَسّ ہے، اس میں ایک کپڑا تیار کیا جاتا ہے، اس پر ریشمی پٹیاں لگائی جاتی ہیںیا اس کا تابا یا اس کا بانا ریشم کا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کپڑا ریشم کی ملاوٹ کی وجہ سے حرام ہے۔
9633
Sahih
۔ (۹۶۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((ثَلَاثٌ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ، وَاُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ۔)) قَالَ: ((فَاَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِیْ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ: فَاِنَّہُ مَانَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلِمَۃٍ فَیَصْبِرُ عَلَیْھَا اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عِزًّا، وَلَا یَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْاَلَۃٍ اِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ لَہُ بَابَ فَقْرٍ۔)) (وَاَمَّا الَّذِیْ اُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ) فَاِنَّہُ قَالَ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ وَیَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالًا، قَالَ: فھُوَ یَقُوْلُ : لَوْکَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: فَاَجْرُھُمَا سِوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مَالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا بِاَخْبَثِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالًا وَ لَاعِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ فَوِزْرُھُمَا فِیْہِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پس اس کو یاد کرو۔ وہ تین چیزیں، جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں، یہ ہیں: (۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا، (۲) جس آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور پھر وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کر دیتاہے اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقیری کا دروازہ کھول دیتاہے۔ اب میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس کو یاد کر لو: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔
Takhreej
(۹۶۳۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۳۲۵ (انظر: ۱۸۰۳۲)
9634
Sahih
۔ (۹۶۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنِیْ خَلِیْلِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ: اَمَرَنِیْ بِحُبِّ الْمَسَاکِیْنِ وَالدُّنُوِّ مِنْھُمْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ دُوْنِیْ وَلَا اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَسْاَلَ اَحَدًا شَیْئاً ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَخَافَ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اُکْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ فَاِنَّھُنَّ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب ہوا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ذکر کروں،کیونکہیہ عرش کے نیچے موجود ایک خزانے میں سے ہیں۔
Takhreej
(۹۶۳۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۹۱، وابن حبان: ۴۴۹، ووالطبرانی فی الکبیر : ۱۶۴۸(انظر: ۲۱۴۱۵)
9635
Sahih