TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عورتوں اور ان کو جنت میں داخل کرنے والے اعمال کا بیان

Chapter 15 of ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 16 · 11 Hadith
۔ (۹۶۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا صَلَّتِ الْمَرْاَۃُ خَمْسَھَا، وَصَامَتْ شَھْرَھَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَھَا، وَاَطَاعَتْ زَوْجَھَا، قِیْلَ لَھَا: ادْخُلِی الْجَنّۃَ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ الْجَنّۃِ شِئْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھے، ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔
Takhreej
(۹۶۴۰) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۶۶۱)
Explanation
فوائد:… خواتین کی ذمہ داریاں مردوں کی بہ نسبت بہت کم ہیں، پس ہونا یہ چاہیے تھا کہ مردوں کی بہ نسبت عورتیں زیادہ کامیاب ہونے والی ہوتیں، لیکنیہ ان کی نااہلی ہے کہ معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین کی اکثریت کو جہنم میں دیکھا۔ مسلم عورتوں کو چاہیے کہ وہ آخرت کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں اور حقوق ادا کریں۔
9640
Sahih
۔ (۹۶۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْاَلُہُ وَمَعَھَا صَبِیَّانِ لَھَا، فَاَعْطَاھَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھَا تَمْرَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ اِنَّ اَحَدَ الصَّبِیَّیِْنِ بَکٰی، قَالَ: فَشَقَّتْھَا فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدٍ نِصْفًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِیْمَاتٌ بِاَوْلَادِھِنِّ، لَوْلَا مَایَصْنَعْنَ بِاَزْوَاجِھِنَّ لَدَخَلَ مُصَلِّیَاتُھُنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، جبکہ اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر بچے کو ایک ایک کھجور دے دی، پھر جب ایک بچہ رونے لگا تو اس نے تیسری کھجور بھی دو ٹکڑوں میں تقسیمکر کے ہر ایک آدھی آدھی دے دی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والی، پھر جنم دینے والی اور پھر ان سے شفقت کرنے والی،یہ خواتین جو کچھ اپنے خاوندوں کے ساتھ کر جاتی ہیں، اگر یہ چیز نہ ہوتی تو نمازی عورتوں نے جنت میں داخل ہو جانا تھا۔
Takhreej
(۹۶۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، فھو منقطع بین سالم بن ابی الجعد وابی امامۃ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۷۴، وأخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۲۰۱۳ (انظر: ۲۲۱۷۳)
9641
Zaeef
۔ (۹۶۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِمْرَاَۃٌ، وَمَعَھَا صَبِیٌّ لَھَا تَحْمِلُہُ وَبِیَدِھَا آخَرُ، لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا قَالَ: وَھِیَ حَامِلٌ فَلَمْ تَسْاَلْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًایَوْمَئِذٍ اِلَّا اَعْطَاھَا اِیَّاہُ، ثُمَّ قَالَ: ((حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ۔)) اَلْحَدِیْثَ (مسند احمد: ۲۲۵۷۲)
۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، ایک بچہ اس نے اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرا بچہ تھا، میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ بھی کہا کہ وہ عورت حاملہ بھی تھی اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو چیز مانگی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بچوں کو پیٹ میں اٹھانے والیاں، پھر ان کو جنم دینے والیاں، …۔
Takhreej
(۹۶۴۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… بہرحال دیکھایہ گیا ہے کہ خواتین کی اکثریت اپنے خاوندوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتیں۔ اگرچہ یہ جملہ عورتوں کو اچھا نہیں لگے گا اور وہ فوراً مردوں پر اعتراض کرنا شروع کر دیں گی، لیکنیہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس وقت ہمارا موضوع خواتین کی ذمہ داریاں ہیں اور ہم ان کے منفی اور مثبت پہلو کو بیان کر رہے ہیں، ویسے تو میاں بیوی میں سے ہر ایکیہ سمجھتا ہے کہ وہی درست ہے، غلطی دوسرے کی ہے، لیکن ہر ایک کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں اور دوسروں کے حقوق کو سمجھنا چاہیے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۶۴۴) میں خواتین کی اکثریت کے جہنمی ہونے کا ایک سبب خاوندوں کی ناشکری کو قرار دیا گیا ہے۔
9642
Zaeef
۔ (۹۶۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ یَوْمًا فَاَتَی النِّسَائَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَیْھِنَّ فَقَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ! مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ وَدِیْنٍ اَذْھَبَ لِقُلُوْبِ ذَوِی الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ، فَاِنِّیْ قَدْ رَاَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَتَقَرَّبْنَ اِلَی اللّٰہِ مَااسْتَطَعْتُنَّ۔)) وَکَانَ فِیْ النِّسَائِ امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَاَخْبَرَتْہُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَخَذَتْ حُلِیًّا لَھَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَاَیْنَ تَذْھَبِیْنَ بِھٰذَا الْحُلِیِّ؟ فَقَالَتْ: اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلِہِ، لَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیْ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ: وَیْلَکِ ھَلُمِّیْ فَتَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقَالَت: وَاللّٰہِ حَتّٰی اَذْھَبَ بِہٖاِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَھَبَتْ تَسْتَاْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ھٰذِہِ زَیْنَبُ تَسْتَاْذِنُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ ھِیَ؟)) فَقَالُوْا: امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ: ((اِئْذَنُوْا لَھَا۔)) فَدَخَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ سَمِعْتُ مِنْکَ مَقَالَۃً، فَرَجَعَتُ اِلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَحَدَّثَتُہُ وَاَخَذْتُ حُلِیًّا اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ وَاِلَیْکَ رَجَائَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیَ اللّٰہُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ لِیَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقُلْتُ: حَتّٰی اَسْتَاْذِنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیْہِ وَعَلٰی بَنِیْہِ فَاِنَّھُمْ لَہُ مَوْضِعٌ۔)) ثُمَّ قَالَتْ: یارَسُوْلَ اللہِ! اَرَاَیْتَ مَاسَمِعْتُ مِنْکَ حِیْنَ وَقَفْتَ عَلَیْنَا، ((مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ قَطُّ وَلَا دِیْنٍ اَذْھَبَ بِقُلُوْبِ ذَوِیْ الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعُقُوْلِنَا؟ فَقَالَ: ((اَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، فَالْحَیْضَۃُ الَّتِیْ تُصِیْبُکُنَّ، تَمْکُثُ اِحْدَاکُنَّ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَمْکُثَ، لَاتُصَلِّی وَلَا تَصُوْمُ، فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، وَاَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُوْلِکُنَّ، فَشَھَادَتُکُنَّ، اِنّمَا شَھَادَۃُ الْمَرْاَۃِ نِصْفُ شَھَادَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۴۹)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِفجر سے فارغ ہوئے ، مسجد میں موجود عورتوں کے پاس آئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی، لہٰذا حسب ِ استطاعت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ عورتوں میں عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی بھی موجود تھی ، اس نے اپنے خاوند کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی باتوں کی اطلاع دی اور اپنا زیور لے کر نکل پڑی، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زیور لے کر کہاں جا رہی ہے؟ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں نہ بنائے، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اِدھر آ اور مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کا بہترین مصرف ہیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اس وقت تک نہیں، جب تک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہ جاؤں، پس وہ چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا کہ یہ زینب آئی ہے اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سی زینب ہے؟ لوگوں نے کہا؛ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو۔پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے آپ سے بات سنی، پھر میں اپنے خاوند سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئی، ان کو یہ حدیث بیان کی اور اس نیت سے اپنا زیور لے کر چل پڑی کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرتی ہوں، اس امید میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں سے نہ بنائے، لیکن ابن مسعود نے مجھے کہا: مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کے مستحق ہیں، میں نے کہا: جی میں پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لے لوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسی پر اور اس کے بیٹوں پر صدقہ کر دے، وہی اس کے مستحق ہیں۔ پھر اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صبح ہمارے پاس آئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ اے اللہ کے رسول! گزارش یہ ہے کہ ہمارے دین اور عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جو نقصانِ دین کی بات کی، وہ یہ ہے کہ تم میں سے جب کسی کو حیض آتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نماز پڑھنے سے اور روزے رکھنے سے رکی رہتی ہے، اس سے دین میں کمی آ جاتی ہے اور میں نے جو عقل کی کمی کی بات کی ہے تو وہ تمہاری گواہی کا مسئلہ ہے کہ ایک عورت کی گواہی کو مرد کی نصف شہادت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۹۶۴۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۰(انظر: ۸۸۶۲)
Explanation
فوائد:… نقص میں عورتوں کا کوئی قصور نہیں، لیکن ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ} (سورۂ مائد: ۵۴) … یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔ اس قانونِ ربانی کے تحت مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور ان میں ایسی صفات ودیعت کر دی گئیں جن سے عورتیں محروم ہیں۔ بہرحال عورت ہو یا مرد ہر ایک اپنے قول و کردار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔ میدان کھلا ہے، جو چاہے، جیسے چاہے، زندگی گزار لے۔ اگر حشر کے میدان میں جوابدہی کا احساس پیدا کر لے تو کامیاب ہو جائے گا۔
9643
Sahih
۔ (۹۶۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ، تَصَدَّقْنَ وَاَکْثِرْنَ، فَاِنِّیْ رَاَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ النَّارِ لِکَثْرَۃِ اللَّعْنِ وَکُفْرِ الْعَشِیْرِ، مَارَاَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ اَغْلَبَ لِذِیْ لَبٍّ مِنْکُنَّ۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَانُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّیْنِ؟ قَالَ: ((اَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَ الدِّیْنِ، فَشَھَادَۃُ امْرَاَتَیْنِ تَعْدِلُ شَھَادَۃَ رَجُلٍ، فَھٰذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْکُثُ اللَّیَالِیَ لَاتُصَلِّیْ وَتُفْطِرُ فِیْ رَمْضَانَ فَھٰذَا نُقْصَانُ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو اور کثرت سے کرو، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہنم کی اکثریت تم ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن اور خاوند کی ناشکری بہت زیادہ کرتی ہو ، میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آ جانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ایک خاتون نے کہا: ہمارے عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عقل اور دین کی کمییہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے، یہ عقل کا نقص ہے اور عورت حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی،یہ د ین کا نقص ہے۔
Takhreej
(۹۶۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۹ (انظر: ۵۳۴۳)
Explanation
فوائد:… خواتین کا کثرت سے لعن طعن کرنا، اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کسی سے راضییا ناراض ہونے یا کسی کو اچھا یا برا سمجھنے میں معیار اپنی سمجھ اور ذات کو قرار دیتی ہیں اور اس معاملے میں انتہائی قریبی رشتہ دار کو ٹھکرا دیتی ہیں اور دور کے رشتہ داروں، بلکہ اجنبی لوگوں کی تعریف کرنے لگتی ہیں، جس نے خوشی کے موقع پر کسی کے بچے کو پانچ سو روپیہ دے دیا، وہ جنتی بن جائے گا اور جس نے کسی خاتون کے بچے یا والدین وغیرہ کے بارے میں قابل اعتراض بات کر دی، بس وہ اپنی خیر منائے، جبکہ شرعی تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کے مثبت اور منفی پہلو، دونوں پر غور کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ مثبت پہلو ہی غالب رہے۔
9644
Sahih
۔ (۹۶۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((یَانِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لَاتَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے مسلم عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
(۹۶۴۵) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۵۶۶(انظر: ۱۰۴۰۲)
Explanation
فوائد:… ان گھروں والے افراد میں بڑی محبت پائی جاتی ہے، جو اس حدیث ِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی قیمتی چیز پکائی جائے تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ ہمسائیوں کی دینے کی گنجائش ہی نہیں ہے، جب کوئی عام چیز پکائی جاتی ہے تو اس کو ہمسائے کے مناسب سمجھا جاتا ہے، آہستہ آہستہ تعلق کم ہوتا رہتا ہے اور بالآخر کسی کو اس کے ہمسائے کی خوشی اور دکھ کا کوئی احساس ہی نہیں رہتا، جبکہ ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔
9645
Sahih
۔ (۹۶۴۶)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُعَاذِ نِ الْاَشْھَلِیِّ، عَنْ جَدَّتِہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ، اِلَّا اَنَّ فِیْہِ: ((وَلَوْ کُرَاعُ شَاۃٍ مُحْرَقٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۸)
۔ عمرو بن معاذ اشھلی اپنی جدہ سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: اگرچہ وہ بکری کا جلا ہوا کم گوشت پنڈلی کا پتلا حصہ ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
(۹۶۴۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ مالک فی المؤطا : ۲/ ۹۹۶، والدارمی: ۱/ ۳۹۵ (انظر: ۱۶۶۱۱)
9646
Sahih
۔ (۹۶۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا خَیْرَ فِیْ جَمَاعَۃِ النِّسَائِ اِلَّا فِیْ مَسْجِدٍ، اَوْ فِیْ جَنَازَۃِ قَتِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، ما سوائے مسجد کے یا شہید کے جنازے کے۔
Takhreej
(۹۶۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۹۳۵۵(انظر: ۲۴۳۷۶)
Explanation
فوائد:… مختلف اجتماعات میں خواتین کا آنا کیسا ہے؟ ہر اجتماع کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، مثلا: حج، عمرہ، نمازِ عیدین، مسجد میں نماز باجماعت، وغیرہ وغیرہ، ہر مسئلہ کی اس کے محل میں وضاحت کی جا چکی ہے۔
9647
Zaeef
۔ (۹۶۴۸)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: اِسْتَاْذَنَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْجِھَادِ فَقَالَ: ((جِھَادُکُنَّ، اَوْ حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے یا تمہیں حج کافی ہے۔
Takhreej
(۹۶۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۷۵، ۲۸۷۶(انظر: ۲۴۳۸۳)
9648
Sahih
۔ (۹۶۴۹)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((عَلَیْکُنَّ بِالْبَیْتِ فَاِنَّہُ جِھَادُکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۹۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بیت اللہ کو لازم پکڑو، یہی تمہارا جہاد ہے۔
Takhreej
(۹۶۴۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… خواتین، جہاد بالسیف کے حکم سے مستثنی ہیں، اتفاقاً اور ضرورت کے پیش نظر کسی مسلم خاتون کا کسی کافر کو قتل کر دینا اور بات ہے، مزید اگلی حدیث دیکھیں۔ حج مشقت کے اعتبار سے جہاد سے ملتا جلتا عمل ہے، اس لیےیہ خواتین کے لیے حج کا حکم رکھتا ہے۔
9649
Sahih
۔ (۹۶۵۰)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ، اَنَا اَیُّوْبُ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیْرِیْنَ، قَالَتْ: کُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا اَنْ یَخْرُجْنَ، فَقَدِمَتِ امْرَاَۃٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِیْ خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ اَنَّ اَخْتَھَا کَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزَوَۃً، قَالَتْ اُخْتِیْ: غَزَوْتُ مَعَہُ سِتَّ غَزَوَاتٍ، قَالَتْ: کُنَّا نُدَاوِیْ الْکَلْمٰی وَنَقُوْمُ عَلَی الْمَرْضٰی، فَسَاَلَتْ اُخْتِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ھَلْ عَلٰی اِحْدَانَا بَاْسٌ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ لَھَا جَلْبَابٌ اَنْ لَّا تَخْرُجَ؟ فَقَالَ: ((لِتُلْبِسْھَا صَاحِبَتُھَا مِنْ جِلْبَابِھَا، وَلْتَشْھَدِ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُؤْمِنِیْنِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمَتْ اُمُّ عَطِیَّۃَ فَسَاَلَتْھَا، اَوْ سَاَلْنَاھَا ھَلْ سَمِعْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: کَذَا وَکَذَا؟ قَالَتْ: وَکَانَتْ لَا تَذْکُرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَبَدًا، اِلَّا قَالَتْ: بِیَبَا، فَقَالَت: نَعَمْ بِیَبَا، قَالَ: ((لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُوْرِ، اَوْ قَالَتْ: اَلْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُوْرِ، وَالْحُیَّضُ فَیَشْھَدْنَ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَیَعْتَزِلْنَ الْحُیَّضُ الْمُصَلَّی)) فَقُلْتُ لِاُمِّ عَطِیِّۃَ: اَلْحَائِضُ، فَقَالَت: اَوَ لَیْسَیَشْھَدْنَ عَرَفَۃَ، وَتَشْھَدُ کَذَا، وَتَشْھَدُ کَذَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۰)
۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم اپنی نوجوان عورتوں کو نکلنے سے منع کرتی تھیں، ایک خاتون آئی، بنوخلف کے محل میں اتری اور یہ بیان کیا کہ اس کی بہن، ایک صحابی کی بیوی تھے، اس صحابی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بارہ غزوے کیے تھے، میری بہن نے کہا: میں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے، ہم زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی نگہداشت کرتی تھیں، میری بہن نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: جس عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو عید کے لیے نہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی حرج ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی سہیلیاس کو چادر دے دے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے۔ پھر جب سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تشریف لائیں تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا تھا، انھوں نے کہا: جی ہاں ، وہ جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو بِیْبًا کہتی تھیں، اس لیے انھوں نے کہا: بِیْبًا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوجوان اور پردہ نشین، بلکہ حائضہ عورتیں بھی نکلیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ خواتین جائے نماز سے دور رہیں۔ میں نے سیدہ ام عطیہ سے کہا: حائضہ بھی؟ انھوں نے کہا: کیا حائضہ عورت حج کے موقع پر عرفہ اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔
Takhreej
(۹۶۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۵۲، ومسلم: ۸۹۰ (انظر: ۲۰۷۸۹)
Explanation
فوائد:… مجاہدین اور ان میں سے زخمی اور بیمار ہو جانے والے افراد کی خدمت کے لیے بعض خواتین جا سکتی ہے۔ بِیْبًا کے معانی ہیں:میں ان پر اپنا باپ قربان کرتا ہوں یا میرا باپ ان پر قربان ہو۔
9650
Sahih