TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9854 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۵۴)۔ عَنْ عَلَیٍّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَِيٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا، فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا، فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ، وَکَانَ مَسْکَنُھَا فِیْ دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، اِنَّھَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَاِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِیْ قُلُوْبِکُمَا شَرًّا، اَوْ قَالَ: شَیْئًا ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔
9854
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۸۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۸۱، ومسلم: ۲۱۷۵ (انظر: ۲۶۸۶۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں بہت بڑا سبق یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی ذات کے بارے میں سوئے ظن کرنے سے محفوظ رکھا ہے، یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے ساتھ شفقت ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مصلحتوں اور ان کے قلوب و جوارح کی سلامتی کا لحاظ رکھا ہے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزرنے والے یہ دو آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا بات کر دیں اور پھر ہلاکت ان کا مقدر بن جائے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔ ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔

Related Chapters

44
1
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
Mishkat
2
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
3
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
Musnad Ahmad
4
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
Musnad Ahmad
5
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
7
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
Musnad Ahmad
8
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
9
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
10
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
11
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
12
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
13
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
Musnad Ahmad
14
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
15
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
16
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
Musnad Ahmad
17
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
18
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
19
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
20
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
21
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
22
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
23
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
24
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
25
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
Musnad Ahmad
26
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
27
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
28
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
29
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
30
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
31
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
32
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
Musnad Ahmad
33
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
34
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
35
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
36
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
Musnad Ahmad
37
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
Musnad Ahmad
38
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
40
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
41
(94) CHAPTER. Sutra (for the prayer) in Makkah and elsewhere.
مکہ اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات میں سترہ کا حکم
Sahih Bukhari
42
Chapter: Abrogation of “water is for water”, and that it is obligatory to perform ghusl when the two circumcised parts meet
’’پانی ، صرف پانی سے ہے ‘‘ منسوخ ہے اور ختنے کے مقاماتے کےملنے سے غسل ضروری ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
44
باب: میت کے دائیں حصے اور وضو کے مقامات کو پہلے دھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
6652
۔ (۶۶۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوْا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمِنِّیْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔
Musnad Ahmad
9853
۔ (۹۸۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اِمْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! ھٰذِہِ امْرَاَتِیْ)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ کُنْتُ اَظُنُّ بِہٖ،فَاِنِّیْ لَمْ اَکُنْ اَظُنُّ بِکَ، قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَی الدَّمِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۲۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
Musnad Ahmad
10282
۔ (۱۰۲۸۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوْا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنْ اَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِّ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمِنِّیْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان عورتوں کے پاس نہ جایا کرو، جن کے خاوند موجود نہ ہوں، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شیطان آپ میں بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ میں بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے خلاف میری مدد کی ہے، پس وہ مطیع ہو گیا ہے۔