TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10382 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
۔ (۱۰۳۸۲)۔ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرَقْسَانِیّ،ُ قَالَ الْوَلِیْدُ: حَدَّثنِی الْاَوْزَاعِیُّ وَ قَالَ مُحَمَّدٌ: ثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ اَنَّ الزُّھْرِیَّ حَدَّثَہُ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہُ تَمَارٰی ھُوَ وَ الْحُـرُّ بْنُ قَیْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیُّ فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ الَّذِیْ سَاَلَ السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھُوَ خَضِرٌ اِذْ مَرَّ بِھِمَا اُبَیُّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَنَادَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: اِنِّیْ تَمَارَیْتُ اَنَا وَ صَاحِبِیْ ھٰذَا فِیْ صَاحِبِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ سَاَلَ السَّبیْلَ اِلٰی لُقِیِّہِ، فَھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ شَاْنَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَا مُوْسٰی علیہ السلام فِیْ مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذْ قَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ اَحَدًا اَعْلَمْ مِنْکَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعالٰی اِلَیْہِ خَضِرٌ، فَسَاَلَ مُوْسٰی علیہ السلام السَّبِیْلَ اِلَی لُقِیِّہِ، وَ جَعَلَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَہُ الْحُوْتَ آیَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ اِذَا فَقَدْتَ الْحُوْتَ فَارْجِعْ، وَ کَانَ مِنْ شَاْنِھِمَا مَاقَصَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ کِتَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۴۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے حُر بن قیس فزاری کے درمیانیہ مباحثہ ہونے لگا کہ وہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ انھوں نے جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستے کا سوال کیا تھا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: وہ خضر علیہ السلام تھے، اتنے میں وہاں سے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، سیدنا ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرا اور میرے اس دوست کی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستہ کا انھوں نے سوال کیا تھا، تو کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بات بیان کر رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہفرماتے ہوئے سنا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے موسی! کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ خضر ہے، موسی علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ دریافت کیا، جواباً اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے بطور نشانی قرار دیا اور ان سے کہا گیا: جب تو مچھلی کو گم پائے تو لوٹ آنا، پھر ان دونوں کا وہی قصہ پیش آیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔کہ ان کے اور
10382
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۳۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۸، ۷۴۷۸، ومسلم: ۲۳۸۰ (انظر: ۲۱۱۰۹)

Related Chapters

935
1
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
2
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
3
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
Musnad Ahmad
4
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
5
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
Musnad Ahmad
6
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
7
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
8
(24) CHAPTER: The Statement of Allah: Has there come to you the story of Musa (Moses)? (V.79:15) And Allah's Statement: ...And to Moses Allah spoke directly. (V.4:164)
( سورۃ طہٰ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔
Sahih Bukhari
9
(27) CHAPTER. The story of Al-Khidr with Musa (Moses).
حضرت خضراور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات ۔
Sahih Bukhari
10
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
11
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
Musnad Ahmad
12
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
13
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
14
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
16
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
17
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
18
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
19
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
Musnad Ahmad
20
(31) CHAPTER. The death of Musa (Moses) and his remembrance after his death.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے بعد کے حالات کا بیان ۔
Sahih Bukhari
21
(11) CHAPTER. (Prophet) Adam and Musa (Moses) argued with each other in front of Allah.
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آدم و موسیٰ علیہما السلام نے جو مباحثہ کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
22
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “... In order that you [O Musa (Moses)] may be brought up under My Eye.” (V.20:39)
سورۃ طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہالسلام سے فرمانا کہ
Sahih Bukhari
23
Chapter: The Virtues Of Eisa, Peace Be Upon Him
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل
Sahih Muslim
24
Chapter: The Virtues Of Yusuf, Peace Be Upon Him
حضرت خضر علیہ السلام کے بعض فضائل
Sahih Muslim
25
Chapter: The Debate Between Adam And Musa (Peace And Blessings Of Allah Be Upon Them)
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ
Sahih Muslim
26
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
Chapter: What Has Been Related About The Descent of 'Eisa Bin Mariam(Peace Be Upon Him)
باب: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
29
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
32
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
33
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
34
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
37
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
38
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
39
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
40
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
41
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
42
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
Musnad Ahmad
43
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
Musnad Ahmad
44
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
Musnad Ahmad
45
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
Musnad Ahmad
46
ہود علیہ السلام کا بیان
Musnad Ahmad
47
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
48
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
Musnad Ahmad
50
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Musnad Ahmad
8794
۔ (۸۷۹۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: تَذَاکَرْنَا بَیْنَنَا فَقُلْنَا: أَ یُّکُمْیَأْتِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَسْأَ لَہُ أَ یُّ الْأَ عْمَالِ أَ حَبُّ إِلَی اللّٰہِ؟ وَہِبْنَا أَ نْ یَقُومَ مِنَّا أَ حَدٌ، فَأَ رْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْنَا رَجُلًا رَجُلًا حَتّٰی جَمَعَنَا، فَجَعَلَ بَعْضُنَا یُشِیرُ إِلٰی بَعْضٍ، فَقَرَأَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ…إِلٰی قَوْلِہِ… کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ} قَالَ: فَتَلَاہَا مِنْ أَ وَّلِہَا إِلٰی آخِرِہَا، قَالَ: فَتَلَاہَا عَلَیْنَا ابْنُ سَلَامٍ مِنْ أَ وَّلِہَا إِلٰی آخِرِہَا، قَالَ: فَتَلَاہَا عَلَیْنَا عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ مِنْ أَ وَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا، قَالَ یَحْیٰی: فَتَلَاہَا عَلَیْنَا ہِلَالٌ مِنْ أَ وَّلِہَا إِلٰی آخِرِہَا، قَالَ الْأَوْزَاعِیُّ: فَتَلَاہَا عَلَیْنَایَحْیٰی مِنْ أَ وَّلِہَا إِلٰی آخِرِہَا، قَالَ الْاَوْزَاعِیُّ: فَتَلَاھَا عَلَیْنَایَحْیٰی مِنْ اَوَّلِھَا اِلٰی آخِرِھَا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک دن آپس میں مذاکرہ کیا اور کہا: ہم میں سے کون ہے جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کرے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا عمل کونسا ہے، لیکن ہم میں سے کوئی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہیبت کی وجہ سے جانے کو تیار نہ تھا، اتنی دیر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے پاس ایک آدمی بھیجا، اس نے ہم میں سے ایک ایک آدمی کو جمع کیا، اب ہم میں سے ہر کوئی اس تعجب کے ساتھ دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگا (کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہماری بات کا کیسے پتہ چل گیا)، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر یہ آیات تلاوت کیں: {سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ… کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ} ان آیتوں کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اول سے آخر تک پڑھا، پھر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اول سے آخر تک پڑھیں، پھر عطابن یسار نے اسی طرح پڑھیں،یحییٰ کہتے ہیں: پھر ہلال نے یہ آیات اول تا آخر پڑھیں، اوزاعی کہتے ہیں: ہم پر یحییٰ نے ان آیات کی اول تا آخر تلاوت کی۔
Musnad Ahmad
12588
۔ (۱۲۵۸۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا الْوَلِیْدُ الْاَوْزَاعِیُّ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ أَبِی، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَعْنَی قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ، إِمَّا أَنْ یَفْدِیَ، وَإِمَّا أَنْ یَقْتُلَ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِیُقَالُ لَہُ: أَبُو شَاہٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اکْتُبُوا لِی، فَقَالَ: ((اکْتُبُوا لَہُ۔)) فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُیُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: وَمَا قَوْلُہُ: اکْتُبُوا لِأَبِی شَاہٍ، وَمَا یَکْتُبُوْنَ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُ: اکْتُبُوا لَہُ خُطْبَتَہُ الَّتِی سَمِعَہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَیْسَیُرْوَی فِی کِتَابَۃِ الْحَدِیثِ شَیْئٌ أَصَحُّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ، لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَہُمْ قَالَ: ((اکْتُبُوْا لِأَبِی شَاہٍ۔)) مَا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میںنے اوزاعی سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔