TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10328 - ہود علیہ السلام کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
ہود علیہ السلام کا بیان
۔ (۱۰۳۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَزِیْدَ الْبَکْرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ اَشْکُوْ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَۃِ فَاِذَا عَجُوْزٌ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٌ بِھَا فَقَالَتْ لِیْ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَۃٌ فَھَلْ اَنْتَ مُبَلِّغِیْ اِلَیْہِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُھَا فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَاِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِاَھْلِہِ وَ اِذَا رَأْیَۃٌ سَوْدَائُ تَخْفِقُ وَ بِلَالٌ مُتَقَلِّدُ السَّیْفِ بَینیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: مَا شَاْنُ النَّاسِ؟ قَالُوْا: یُرِیْدُ اَنْ یَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعََاصِ وَجْھًا قَالَ: فَجَلَسْتُ۔ قَالَ: فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ اَوْ قَالَ: رَحْلَہُ فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَاَذِنَ لِیْ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: ((ھَلْ کَانَ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ شَیْئٌ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَ کَانَتْ لَنَا الدَّبَرَۃُ عَلَیْھِمْ وَ مَرَرْتُ بِعَجُوْزَۃٍ مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ مُنْقَطِعٍ بِھَا فَسَاَلَتْنِیْ اَنْ اَحْمِلَھَا اِلَیْکَ وَ ھَا ھِیَ بِالْبَابِ، فَاَذِنَ لَھَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ بَنِیْ تَمِیْمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلِ الدَّھْنَائَ، فَحَمِیَتِ الْعَجُوْزُ وَ اسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِلٰی اَیْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اِنّمَا مَثَلِیْ مَا قَالَ الْاَوَّلُ: مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا، حَمَلْتُ ھٰذِہِ وَ لَا اَشْعُرُ اَنَّھَا کَانَتْ لِیْ خَصْمًا، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَ رَسُولِہِ اَنْ اَکُوْنَ کَوَافِدِ عَادٍ، قَالَ: ((ھِیہْ وَ مَا وَافِدُ عَادٍ؟)) (وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ وَ لٰکِنْ یَسْتَطْعِمُہُ) قُلْتُ: اِنَّ عَادًا قَحَطُوْا فَبَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ یُقَالُ لَہُ قَیْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِیَۃَ بْنِ بَکْرٍ فَاَقَامَ عِنْدَہُ شَھْرًا یَسْقِیْہِ الْخَمْرَ وَ تُغَنِّیْہِ جَارِیَتَانِیُقَالُ لَھُمَا: الْجَرَادَتَانِ، فَلَمَّا مَضَی الشَّھْرُ خَرَجَ اِلَی جِبَالِ تِھَامَۃَ فَنَادٰی: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّیْ لَمْ اَجِیئْ اِلَی مَرِیْضٍ فَاُدَاوِیَہُ، وَ لَا اِلٰی اَسِیْرٍ فَاُفَادِیَہُ، اَللّٰھُمَّ اسْقِ عَادًا مَا کُنْتَ تَسْقِیْہِ، فَمَرَّتْ بِہٖسَحَابَاتٌسُوْدٌفَنُوْدِیَ مِنْھَا اخْتَرْ، فَاَوْمَأَ اِلٰی سَحَابَۃٍ مِنْھَا سَوْدَائَ فَنُوْدِیَ مِنْھَا خُذْھَا رَمَادًا رِمْدَدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ اَحَدًا، قَالَ: فَمَا بَلَغَنِیْ اَنَّہُ بُعِثَ عَلَیْھِمْ مِنَ الرِّیْحِ اِلَّا قَدْرُ مَا یَجْرِیْ فِیْ خَاتِمِیْ ھٰذَا حَتّٰی ھَلَکُوْا، قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ: وَصَدَقَ قَالَ: فَکَانَتِ الْمَرْاَۃُ وَ الرَّجُلُ اِذَا بَعَثُوْا وَافِدًا لَھُمْ، قَالُوْا: لَا تَکُنْ کَوَافِدِ عَادٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۰)
۔ حارث بن یزید بکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں علاء بن حضرمی کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوا، جب میں ربذہ مقام سے گزرا تو دیکھا کہ وہاں بنوتمیم کی ایک بڑھیا خاتون تھا، اس کے لیے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی تقاضا ہے، کیا تو مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا سکتا ہے؟ پس میں نے اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا اور مدینہ منورہ پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی، سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار لٹکا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کسی غزوے میں بھیجنا چاہتے ہیں، پس میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت دی، پس میں داخل ہوا اور سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں (حارث) نے کہا: ہمارا ان پر غلبہ تھا اور میں بنوتمیم کی ایک بڑھیاں خاتون کے پاس سے گزرا، اس کے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو آپ تک پہنچاؤں، اب وہ درروازے پر موجود ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں تو دہناء مقام کا تعین کر دیں۔ یہ بات سن کر اس بڑھیا کو غیرت آ گئی تو اس نے اتنی باتیں کیں کہ اپنا پورا حق وصول کر لیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے مضر کو کہاں تک مجبور کریں گے؟ اس کی باتیں سن کر میں نے کہا: میری مثال تو وہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کسی نے کہا: معزاء نے اپنی موت کو اٹھا رکھا ہے، میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا، جبکہ مجھے شعور بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جھگڑنے لگے گی، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں عادیوں کے قاصد کی طرح ہو جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ذرا بیان کرو، عادیوں کا قاصد کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس بات کو زیادہ جانتے تھے، لیکن اب اس سے سننا چاہتے تھے، میں نے کہا: عاد قوم قحط میں مبتلا ہو گئی، انھوں نے قَیل نامی قاصد کو بھیجا، وہ معاویہ بن بکر کے پاس سے گزرا اور ایک ماہ تک اس کے ہاں ٹھہرا، وہ اس کو شراب پلاتا اور اس کے لیے دو لونڈیاں گانے گاتی تھیں، ان لونڈیوں کو جرادتان کہتے تھے، جب ایک ماہ گزر گیا تو وہ آدمی تہامہ کے پہاڑوں کی طرف نکلا اور اس نے یہ آواز دی: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں نہ کسی مریض کا دوا دارو کرنے کے لیے آیا ہوں اور نہ کسی قیدی کو چھڑانے آیا ہوں، اے اللہ! تو عادیوں پر وہی بارش نازل فرما، جو تو پہلے نازل کرتا تھا، پس اس کے پاس سے کالے کالے بادل گزرے اور اس سے کہا: ان میں سے ایک بادل کو منتخب کر، اس نے ایک سیاہ رنگ کی بدلی کی طرف اشارہ کیا، پس اس کو آواز دی گئی: اب لے اس کو، یہ تو آگ کے ساتھ ہونے والی ہلاکت ہے، یہ قومِ عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گی، پھر انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ ان پر اتنی ہوا بھیجی گئی، جو میری اس انگوٹھی سے گزر سکتی تھی، لیکن اس سے بھی وہ ہلاک ہو گئے۔ ابو وائل کہتے ہیں: حارث نے سچ کہا، اسی وجہ سے جب کوئی عورت یا مرد اپنا قاصد بھیجتے تھے تو وہ کہتے تھے: قومِ عاد کے قاصد کی طرح نہ ہو جانا۔
10328
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۳۲۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ مطولا و مختصرا جدا الترمذی: ۳۲۷۳، ۳۲۷۴ (انظر: ۱۵۹۵۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا (معزاء نے اپنی موت کو خود اٹھا رکھا ہے) یہ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مصداق وہ شخص ہے جو ایسے امر کا خود سبب بنتاہے، جس میں اس کی اپنی ہلاکت ہوتی ہے، جبکہ اسے شعور تک نہیں ہوتا۔ درج ذیل آیات میں قوم عاد کی اسی ہلاکت کا بیان ہے: {وَاَمَّا عَاد’‘ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ۔} … اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔ اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ کھجوروں کے گرے ہوئے تنے ہوں۔تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟ (سورۂ حاقہ: ۶ تا ۸)

Related Chapters

927
1
(4) CHAPTER. If a Dhimmi or somebody else abuses the Prophet by playing upon words but not frankly, e.g., by saying, As-Samu Alaika.
اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( السلامعلیکم کے بدلے ) السام علیک کہا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
2
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Descent of 'Eisa Bin Mariam(Peace Be Upon Him)
باب: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
5
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
7
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
8
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
9
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
10
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
11
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
Musnad Ahmad
12
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
13
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
Musnad Ahmad
14
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
Musnad Ahmad
15
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
Musnad Ahmad
16
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
Musnad Ahmad
17
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
18
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
20
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
21
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
Musnad Ahmad
22
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
Musnad Ahmad
23
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
Musnad Ahmad
25
یوسف علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
26
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
27
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
28
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
Musnad Ahmad
29
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
30
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
31
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
32
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
Musnad Ahmad
34
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
35
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
36
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
37
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
Musnad Ahmad
38
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
39
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
Musnad Ahmad
41
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
Musnad Ahmad
42
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
44
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
Musnad Ahmad
45
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
46
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
47
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
48
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
( CHAPTER. )
( رمضان المبارک میں جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا )
Sahih Bukhari
50
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

0
No related Hadith found.