TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 916 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
۔ (۹۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مِنْ غُسْلِہَا الْغُسْلُ وَمِنْ حَمْلِہَا الْوُضُوئُ)) (مسند أحمد: ۷۶۷۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا ہے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنا ہے۔
916
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۱۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

873
1
Chapter: What Has Been Related About Washing The Dead
باب: میت کو غسل دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl For The One Who Has Washed The Deceased
باب: میت کو غسل دینے سے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
بَاب غسل الْمَيِّت وتكفينه
میت کو غسل اور کفن دینے کا بیان
Mishkat
4
میت کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(8) CHAPTER. The bath of a dead (Muslim) and his ablution with water and Sidr (lote-tree leaves).
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا
Sahih Bukhari
6
میت کو غسل دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
باب: میت کو پانی اور بیر کی پتیوں سے غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
(79)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu' After Ghusl
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
16
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
17
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
18
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
19
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
22
شہید کو غسل نہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
24
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
26
(31) CHAPTER. While performing ablution or taking a bath one should start from the right side of the body.
وضو اور غسل میں داہنی جانب سے ابتداء کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
27
(45) CHAPTER. To take a bath or perform ablution from a Mikhdab (utensil), a tumbler, or a wooden or stone pot.
لگن ، پیالے ، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
28
(1) CHAPTER. The performance of ablution before taking a bath.
اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے
Sahih Bukhari
29
(10) CHAPTER. Interval during ablution or bath.
اس بیان میں کہ غسل اور وضو کے درمیان فصل کرنا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
30
(25) CHAPTER. A Junub can stay at home without taking a bath but with ablution.
غسل سے پہلے جنبی کا گھر میں ٹھہرنا جب کہ وضو کر لے ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
31
(161) CHAPTER. The ablution for boys (youngsters). When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers.
اس بارے میں کہ بچوں کے لیے وضو اور ان پر غسل اور وضو اور جماعت ، عیدین ، جنازوں میں ان کی حاضری اور ان کی صفوں میں شرکت کب ضروری ہو گی اور کیونکر ہو گی ۔
Sahih Bukhari
32
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
Sahih Bukhari
33
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
Sahih Bukhari
34
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
Sahih Bukhari
35
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
Sahih Bukhari
36
(14) CHAPTER. To undo the hair of a (dead) female.
میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا
Sahih Bukhari
37
Chapter: Prohibition of women attending funerals
عورتوں کےلیے جنازے کے پیچھے (ساتھ)جانے کی ممانعت میت کو غسل دینا
Sahih Muslim
38
CHAPTER: Performing Wudu’ After Ghusl.
باب: غسل جنابت کے بعد وضو کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Those Who Said: She Should Perform Ghusl From One Purity To The Other.
باب: مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے ( یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے ) ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Those Who Said: She Should Perform Ghusl From One Zuhr (Prayer) To The Next Zuhr (Prayer).
باب: مستحاضہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے درمیان میں وضو کیا کرے ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: The Permissibility Of Not Performing Ghusl On Friday.
باب: جمعہ کے دن غسل چھوڑ دینے کی اجازت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: About The Imam Breaking His Wudu’ After He Rises (From The Prostration) During The Last Rak’ah.
باب: آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Covering The Deceased.
باب: میت کو ڈھانپ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Should The Martyr Be Washed.
باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ ؟
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Covering The Deceased When Washing Him.
باب: میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: How The Deceased Is To Be Washed.
باب: میت کو کیسے غسل دیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Ghusl For The One Who Has Washed A Deceased Person.
باب: میت کو نہلانے والے کے لیے غسل کرنے کا مسئلہ ۔
Sunnan Abu Dawood
48
وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
وضو اور غسل کے بعد رومال استعمال کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
710
۔ (۷۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَأَرَاہُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ((ھٰذَا الْوُضُوئُ، فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدَّی وَظَلَمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔
Musnad Ahmad
763
۔ (۷۶۳)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَّا الْمَنِیُّ فَفِیْہِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْمَذِیُّ فَفِیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، اس کے بارے میں میرے سوال پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مَنِی میں غسل ہوتا ہے اور مذی میں وضوہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
782
۔ (۷۸۲)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَفْضٰی بِیَدِہِ اِلٰی ذَکَرِہِ لَیْسَ دُوْنَہُ سِتْرٌ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۸۵)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنا ہاتھ اپنی اگلی شرمگاہ کو لگائے، جبکہ اس کے سامنے کوئی پردہ بھی نہ ہو تو یقینا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
Musnad Ahmad
788
۔ (۷۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَکَرِیْ، أَوِ الرَّجُلُ یَمُسُّ ذَکَرَہُ فِی الصَّلٰوۃِ، عَلَیْہِ الْوُضُوئُ؟ قَالَ: ((لَا، اِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۰۱)
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔
Musnad Ahmad
656
۔ (۶۵۶)۔عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: کُنْتُ خَلْفَ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ وَہُوَ یُمِرُّ الْوَضُوئَ اِلَی اِبِطِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! مَا ھٰذَا الْوُضُوئُ؟ قَالَ: یَا بَنِیْ فَرُّوْخَ! أَنْتُم ہَا ہُنَا؟ لَو عَلِمْتُ أَنَّکُمْ ہَا ہُنَا مَا تَوَضَّأْتُ ھٰذَا الْوُضُوئَ، اِنِّی سَمِعْتُ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ مِنَ الْمُؤْمِنِ اِلَی حَیْثُ یَبْلُغُ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۲۷)
ابو حازم کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پیچھے کھڑا تھا، جبکہ وہ وضو کر رہے تھے او رانھوں نے وضو کا پانی بغل تک پہنچا دیا، میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انھوں نے کہا: اے بنو فروخ! تم لوگ یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں نے یہ وضو نہیں کرنا تھا، میں نے اپنی خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: زیور اور زینت مؤمن کی اس اس جگہ تک پہنچے گی، جہاں تک وضو پہنچتا ہے۔
Musnad Ahmad
715
۔ (۷۱۵)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیٰی بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِیِّ ثُمَّ الْمَازِنِیِّ مَازِنِ بَنِی النَّجَّارِ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ وُضُوئَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ عَمَّ ہُوَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْہُ أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ بْنِ الْغَسِیْلِ حَدَّثَہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوئِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاہِرًا کَانَ أَوْ غَیْرَ طَاہِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَالِکَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوئُ الَّا مِنْ حَدَثٍ، قَالَ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّۃً عَلٰی ذَالِکَ کَانَ یَفْعَلُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۶)
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا کہ اس بارے میں تیرا خیال ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ باوضو ہوں یا بے وضو، وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، ایسے کیوں ہے؟ اس نے کہا: سیدہ اسماءؓ نے ان کو بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہوتے یا بے وضو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ حکم گراں گزرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کی رخصت دے دی گئی، الا یہ کہ بے وضو ہوں۔ تو سیدنا عبد اللہؓ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں ہر نماز کے وضو کرنے کی طاقت ہے، اس لیے وہ اسی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
835
۔ (۸۳۵)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ اِلَیْہِ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ، فَقَالَ لَہُ: (لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ؟) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِذَا أُعْجِلْتَ أَو أُقْحِطتَّ فَلَا غُسْلَ عَلَیکَ، عَلَیْکَ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۷۹)
سیدنا ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ باہر آیا تو اس کے سر سے (غسل کی وجہ سے) پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تجھے جلدی میں ڈال دیا جائے یا انزال نہ ہو تو تجھ پر کوئی غسل نہیں ہو گا، ایسی صورت میں وضو کیا کر۔
Musnad Ahmad
5444
۔ (۵۴۴۴)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ، عَنْ جُرَیٍّ قَالَ الْتَقَی رَجُلَانِ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ نِصْفُ الْمِیزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَؤُہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ یَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالْوُضُوئُ نِصْفُ الْإِیمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۴۸۷)
۔ جری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیم کے دو آدمی صحابی تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِنصف میزان کے برابر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا ثواب ترازو کو بھر دیتا ہے اور اَللّٰہُ أَکْبَر کا ثواب زمین و آسمان کے درمیانے حصہ کو بھرتا ہے، روزہ نصف صبر ہے اور وضو نصف ایمان ہے۔