TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 13034 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 9 in this chapter
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
۔ (۱۳۰۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلٰی مَرْوَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَسَمِعُوْہُ وَھُوَ یُحَدِّثُ فِی الْآیَاتِ، اِنَّ اَوَّلَھَا خُرُوْجُ الدَّجَّالِ قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّفَرُ اِلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَدَّثُوْہُ بِالَّذِیْ سَمِعُوْہُ مِنْ مَرْوَانَ فِی الآْیَاتِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: لَمْ یَقُلْ مَرْوَانُ شَیْئًا قَدْ حَفِظْتُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ حَدِیْثًا لَمْ اَنْسَہُ بَعْدُ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ الْآیَاتِ خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوْجُ الدَّابَّۃِ ضُحًی، فَاَیَّتُہُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِہَا فَالْاُخْرٰی عَلٰی اَثَرِھَا۔)) ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکَانَ یَقْرَاُ الْکِتٰبَ وَاَظُنُّ اُوْلَاھَا خُرُوْجًا طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَذٰلِکَ اَنَّہَا کَمَا غَرَبَتْ اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ فَاِذَنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ حَتّٰی اِذَا بَدَاَ لِلّٰہِ اَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِھَا فَعَلَتْ کَمَا کَانَتْ تَفْعَلُ، اَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَلَمْ یُرَدَّعَلَیْہَا شَیْئٌ، ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فِی الرُّجُوْعِ فَلَا یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ ثُمَّ تَسْتَاْذِنُ فَلاَ یُرَدُّ عَلَیْہَا شَیْئٌ حَتّٰی اِذَا ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّذْھَبَ وَعَرَفَتْ اَنَّہُ اِنْ اَذِنَ لَھَا فِی الرُّجُوْعِ لَمْ تُدْرِکِ الْمَشْرِقَ، قَالَتْ: رَبِّ مَا اَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِیْ بِالنَّاسِ حَتّٰی اِذَا صَارَ الْاُفُقُ کَاَنَّہُ طُوِّقَ، اِسْتَاْذَنَتْ فِی الرُّجُوْعِ، فَیُقَالُ لَھَا: مِنْ مَکَانِکَ فَاطْلُعِیْ فَطَلَعَتْ عَلٰی النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ثُمَّ تَلَا عَبْدُاللّٰہِ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔}[الأنعام: ۱۵۸] (مسند احمد: ۶۸۸۱)
ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیںپہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)
13034
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۳۰۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۱ (انظر: ۶۸۸۱)

Related Chapters

150
1
(3) CHAPTER. The saying of the Prophet , “Close the gates (in the Mosque), except the gate of Abu Bakr.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم فرماناکہ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کے دروازے کو چھوڑ کر ( مسجدنبوی کی طرف کے ) تمام دروازے بند کر دو ۔
Sahih Bukhari
2
Chapter: It is recommended to cover vessels, tie up waterskins, close doors and mention the name of Allah over them, extinguish lamps and fires when going to sleep, and keep children and animals in after maghrib
مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
3
Chapter: What has been Related About The Sun Rising From Its Setting Position
باب: مغرب (پچھم) سے سورج نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(87) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) in a mosque situated in a market.
بازار کی مسجد میں نماز پڑھنا اور عبداللہ بن عون نے ایک ایسے گھر کی مسجد میں نماز پڑھی جس کے دروازے عام لوگوں پر بند کئے گئے تھے
Sahih Bukhari
6
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
7
(50) CHAPTER. To close the doors at night.
رات کے وقت دروازے بند کرنا
Sahih Bukhari
8
Chapter: The beginning of the time for Maghrib when the sun sets
اس باب کا بیان کہ مغرب کا اول وقت سورج کے غروب ہونے پر ہے
Sahih Muslim
9
جان بوجھ کر سورج کےطلوع اور غروب کے وقت نماز کا قصد نہ کرو
Sahih Muslim
10
CHAPTER: Burial At Sunrise And Sunset.
باب: سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت دفن کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
11
جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لی۔
Sunnan Nisai
12
سورج گرہن کی نماز میں صف بندی کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
باب: حرم سے نکلنے والے دروازے سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نکل کر صفا کی طرف جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
Chapter: What Has Been Related About The Time For Maghrib
باب: مغرب کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
17
Chapter: [What Has Been Related About] The Recitation For Maghrib
باب: مغرب کی قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About 'What Is Between The East And The West Is A Qiblah'
باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Al-Maghrib And The Recitation In Them
باب: مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Him (S) Praying Them In The House
باب: مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Salat At The (Time Of) Az-Zawal
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Mentioned About Salat After Maghrib Is More Virtuous In The House
باب: مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About: Departing From Jam'is before The Rising Of the Sun
باب: سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Stoning After The Sun Has Passed The Zenith
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد جمرات کی رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Pray The Funeral Salat While The Sun Is Rising And While It Is Setting
باب: سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Mentioned About 'The Gates Of Paradise Are Under The Shadows Of The Swords;
باب: جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
35
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
36
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
37
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
39
مغرب میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
40
مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
Musnad Ahmad
41
مغرب سے پہلے دو رکعتوںکا بیان
Musnad Ahmad
42
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
Musnad Ahmad
43
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
Musnad Ahmad
44
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
Musnad Ahmad
46
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
47
قیامت کے دن کی ہولناکی اور سورج کے لوگوں کے سروں کے قریب ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
(81) CHAPTER. The doors and locks of the Kabah and the mosques.
کعبہ اور مساجد میں دروازے اور زنجیر رکھنا
Sahih Bukhari
49
(11) CHAPTER. The time of Zuhr prayer is when the sun declines (just after mid-day).
اس بیان میں کہ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے پر ہے
Sahih Bukhari
50
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

111
Musnad Ahmad
64
۔ (۶۴) ((أَخَوَانِ نَصِیْرَانِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْ مُشْرِکٍ یُشْرِکُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ یُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ إِلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۰)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
Musnad Ahmad
99
۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔
Musnad Ahmad
114
۔ (۱۱۴)۔عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا السُّنَّۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ) یُسْلِمُ عَلٰی یَدَیْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ہُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِمَحْیَاہُ وَ مَمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۲)
سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔
Musnad Ahmad
265
۔ (۲۶۵)۔عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتَّی أُنْزِلَ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۰)
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
266
۔ (۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر)۔ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔
Musnad Ahmad
762
۔ (۷۶۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمٰی مَوْلَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ امْرَأۃُ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْتَأْذِنُہُ عَلٰی أَبِیْ رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَہَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَبِیْ رَافِعٍ: ((مَالَک وَلَہَا یَا أَبَا رَافِعٍ؟)) قَالَ: تُؤْذِیْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ آذَیْتِیْہِ یَا سَلْمٰی؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا آذَیْتُہُ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ أَحْدَثَ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِہِمُ الرِّیَحُ أَن یَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِیْ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَیَقُوْلُ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّہَا لَمْ تَأْمُرْکَ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۰)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غلام سیدنا ابو رافعؓکی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔
Musnad Ahmad
1035
۔ (۱۰۳۵)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا) صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَغْرِبَ فَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ وَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَقَدْ کَادَ یَحْسِرُ ثِیَابَہُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: ((أَبْشِرُوْا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ، ھٰذَا رَبُّکُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَائِ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ، یَقُوْلُ: ہٰؤُلَائِ عِبَادِیْ قَضَوْا فَرِیْضَۃً وَہُمْ یَنْتَظِرُوْنَ أُخْرٰی)) (مسند أحمد: ۶۷۵۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پس بیٹھنے والے بیٹھ گئے اور واپس جانے والے واپس چلے گئے، پس اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے، جبکہ قریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے گھٹنوں سے کپڑے اٹھا دیں اور فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا ربّ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے کہا: یہ میری بندے ہیں، ایک فرض ادا کر چکے ہیں اور دوسرے فرض کا انتظار کر رہے ہیں۔
Musnad Ahmad
1043
۔ (۱۰۴۳)۔وَعَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
Musnad Ahmad
1164
۔ (۱۱۶۴)۔عَنْ عُمَرَؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْمُرُ عِنْدَ أَبِیْ بَکْرٍ اللَّیْلَۃَ کَذٰلِکَ فِیْ الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَأَنَا مَعَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸)
سیدنا عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مسلمانوں کے معاملات پر سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔