TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1043 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 15 in this chapter
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۰۴۳)۔وَعَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
1043
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۴۳) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۷ (انظر: ۱۰۹۹۴)

Related Chapters

1,956
1
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
5
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
Musnad Ahmad
7
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
10
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
(22) CHAPTER. Superiority of the lsha prayer.
نماز عشاء ( کے لیے انتظار کرنے ) کی فضیلت
Sahih Bukhari
12
(32) CHAPTER. The superiority of offering the Zuhr prayer early.
ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
13
(36) CHAPTER. (The reward of a person) who waits for As-Salat (the prayer) in the mosque and the superiority of mosques.
جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت
Sahih Bukhari
14
(4) CHAPTER. The superiority of Jumuah (prayer and Khutba). [The weekly congregational Salat (prayer) offered by Muslim at the time of Salat-uz-Zuhr (Zuhr prayer). This Salat (prayer) is preceded by a Khutba (religious talk)].
جمعہ کی نماز کو جانے کی فضیلت
Sahih Bukhari
15
Chapter: The virtue of offering the obligatory prayers in congregation, the virtue of waiting for prayer and taking many steps towards the masjid, the virtue of walking to the masjid
فرض نماز باجماعت ادا کرنے اور نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
16
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
17
Chapter: The virtue of offering the funeral prayer and following the bier
جنازے پر نماز پڑھنے اور جنازے کے ساتھ جانے کی فضیلت
Sahih Muslim
18
Chapter: The virtue of praying in the Masajid of Makkah and Al-Madinah
مکہ اور مدینہ کی دونوں مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی )میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
19
CHAPTER: What Has Been Narrated Regarding The Rewards Of Walking To The Prayer.
باب: نماز کے لیے مسجد چل کر جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: What Has Been Narrated About (The Blessings Of) Walking To The Masjid In Darkness.
باب: اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
Chapter: Staying In The Mosques And Awaiting The Prayer
مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
22
نماز جمعہ کے لیے پیدل جانے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Sleeping Past The Salat
باب: نماز سے سو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Recitation For The Subh [(Fajr) Prayer]
باب: نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays Facing A Direction Other Than The Qiblah When It Is Cloudy
باب: جو شخص بدلی میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Salat Toward One's Mount
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Developing Gray Hair In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Scaredness Of Salat
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
Mishkat
42
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
Mishkat
43
جنازے کے ساتھ جانے اور نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Mishkat
44
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
45
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
Musnad Ahmad
46
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
49
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
50
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

111
Musnad Ahmad
2636
۔ (۲۶۳۶) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یُکَفِّرُ اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِی الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلٰی ھٰذِہِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا الْمَلَائِکَۃُ تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، فَاِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاعْدِلُوْا صُفُوْفَکُمْ وَأَقِیْمُوْھَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی، فَاِذَا قَالَ اِمَامُکُمُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، فَقُوْلُوْا اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، وَاِنَّ خَیْرَ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَیْرَ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّھَا الْمُقَدَّمُ، یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میںدوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Musnad Ahmad
1558
۔ (۱۵۵۸) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا کَبَّرَ اِسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَیُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ): ((وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ اللّٰہُمَّ أنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ) رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بَذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقَ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أنْتَ تَبَارَکْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَبَّیْکَ وَسَعْدَ یْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ اَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔)) وَکَانَ إِذَارَفَعَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔)) وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمْدَہُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجِھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَۃُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَاأَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖمِنِّیْ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے: کہ ہے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ تَبَارَکْتَ۔ اور ایک روایت میں ہے: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس دعا کا ترجمہ: میں نے اس ذات کے لیے اپنا چہرہ متوجہ کیا،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میںیکسو مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور جس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ابونضر کے الفاظ یہ ہیں: اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اس لیے تو میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا اور اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، تیرے علاوہ اچھے اخلاق کی طرف کوئی رہنمائی نہیں کرتا اور مجھ سے برے اخلاق دور کر دے،تیرے علاوہ کوئی بھی برے اخلاق کو مجھے سے دور نہیں کر سکتا، تو بابرکت ہے، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:میں تیرے لیے حاضر ہوں اور تیرا تابع فرمان ہوں، خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے، میں تیرے ساتھ اور تیری طرف ہوں (یعنی مجھے توفیق دینے والا بھی تو ہے اور میری پناہ بھی تیری طرف ہے) تو بابرکت اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اور جب رکوع کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِيْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّيْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے ہی مسلمان ہوا، تیرے لیے عاجزی کر رہے ہیں میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرا پٹھا۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَبَّنَاوَلَکَالْحَمْدُمِلْئَالسَّمٰوَاتِوَالْأَرْضِوَمَابَیْنَہُمْا وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَئْ ٍبَعْدُ۔ اللہ نے اس کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب!تیرے لیے ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے (درمیان والا خلا) بھرنے کے برابر اور ان کے بعد جس کو تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر۔ اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗفَصَوَّرَہٗفَأَحْسَنَصُوَرَہٗفَشَقَّسَمْعَہٗوَبَصَرَہٗفَتَبَارَکَاللّٰہُأَحْسَنُالْخٰالِقِیْنَ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا،تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے مسلمان ہوا، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا ہے، جس نے اسے پیدا کر کے اس کی شکل بنائی اور اس کی شکل کو خوبصورت بنایا اور اس کے کان اور نظر کو کھولا، بابرکت ہے وہ اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ پھر جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے اگلے پچھلے، ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو اور جو میں نے زیادتی کی اور جو میرے گناہ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی بخش دے)، تو ہی (لوگوں کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں) آگے کرنے والا اور (اپنی بارگاہِ عالیہ سے) پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود برحق ہے۔
Musnad Ahmad
2692
۔ (۲۶۹۲) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ أَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ اِلَیَّ وَمَعِی الْاِدَاوَۃُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلٰی یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ یَعْقُوْبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَغْسِلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُخْرِجَہُمَا مِنْ کُمَّیْ جُبَّتِہِ، فَضَاقَ عَنْہُ کُمَّاھَا فَأَخْرَجَ یَدَہُ مِنَ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّیْہِ وَلَمْ یَنْزَعْہُمَا، ثُمَّ عَمَدَ اِلَی النَّاسِ فَوَجَدَھُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمْ، فَأَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَۃَ الْآخِرَۃَ بِصَلَاۃِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتِمُّ صَلَاتَہُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِیْنَ فَأَکْثَرُوا الْتَّسْبِیْحَ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ۔)) یَغْبِطُہُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۵۹)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔
Musnad Ahmad
9448
۔ (۹۴۴۸)۔ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلٰی قَوْمٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ، فَرَدُّوْا عَلَیْہِ السَّلامَ، فَلَمَّا جَاوَزَھُمْ قَال رَجُلٌ مِنْھُمْ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا فِی اللّٰہِ، فَقَالَ اَھْلُ الْمَجْلِسِ: فَبِئْسَ وَاللّٰہِ مَا قُلْتَ، اَمَا وَاللّٰہِ لَنُنَبِّئَنَّہُ، قُمْ یَا فُلَانُ! رَجُلٌ مِنْھُمْ، فَاَخْبِرُہُ، قَالَ: فَاَدْرَکَہُ رَسُوْلُھُمْ فَاَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتّٰی اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْھِمْ فُلانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَیْھِمْ فَرَدُّوْا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُھُمْ اَدْرَکَنِیْ رَجُلٌ مِنْھُمْ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ فُلَانًا قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا الرَّجُلَ فِی اللّٰہِ، فَادْعُہُ، فَسَلْہُ عَلٰی مَایُبْغِضُنِیْ؟ فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَساَلَہُ عَمَّا اَخْبَرَہُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَہُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِمَ تُبْغِضُہُ؟)) قَالَ: اَنَا جَارُہُ وَاَنَا بِہٖخَابِرٌ،وَاللّٰہِمَارَاَیْتُہُیُصَلِّیْ صَلَاۃً قَطُّ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ الَّتِیْیُصَلِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ الرَّجُلُ: سَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَخَّرْتُھَا عَنْ وَقْتِھَا، اَوْ اَسَأْتُ الْوُضُوْئَ لَھَا؟ اَوْ اَسَأْتُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ فِیْھَا؟ فَساَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: واللّٰہِ! مَارَاَیْتُہُیَصُوْمُ قَطُّ اِلَّا ھٰذَا الشَّھْرَ الَّذِیْیَصُوْمُہُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَفْطَرْتُ فِیْہِ، اَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّہِ شَیْئًا؟ فَسَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ مَارَاَیْتُہُیُعْطِیْ سَائِلًا قَطُّ، وَلَارَاَیْتُہُیُنْفِقُ مِنْ مالِہِ شَیْئًا فِیْ شَیْئٍ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِخَیْرٍاِلَّا بِخَیْرٍ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّدَقَۃَ الَّتِیْیُؤَدِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ کَتَمْتُ مِنَ الزَّکَاۃِ شَیْئًا قَطُّ اَوْ مَاکَسْتُ فِیْھَا طَالِبَھَا؟ قَالَ: فَسَاَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لا، فقَالَ َلہ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُمْ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہُ خَیْرٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۱۳)
۔ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جوا ب دیا، جب وہ آگے گزر گیا تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس آدمی سے بغض رکھتا ہوں، اہلِ مجلس نے کہا: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کی ہے، اللہ کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو بتلائیں گے، او فلاں! کھڑا ہو اور اس کو بتلا کے آ، پس ان کے قاصد نے اس کو شخص کو پا لیا اور ساری بات اس کو بتلا دی، وہ آدمی وہاں سے پھرا اور سیدھا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا پہنچا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمانوں کی ایک مجلس سے گزرا، ان میں فلاں آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، جب میں ان سے تجاوز کر گیا تو ان میں سے ایک آدمی مجھے پیچھے سے آ کر ملا اور کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے بغض رکھتا ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ اس کو بلائیں اور پوچھیں کہ کس وجہ سے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس آدمی کی بتائی ہوئی بات کے بارے میں پوچھا، اس نے اعتراف کر لیا اور کہا: جی اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا کہ تو اس سے بغض کیوں رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی میں اس کا ہمسایہ ہوں اور اس کے بارے میں باخبر ہوں، اللہ کی قسم! میں نے اس کو دیکھا ہے، یہ صرف فرضی نماز ادا کرتا ہے، جو ہر نیک و بد پڑھ رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے ان نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کیا ہے؟ یا میں نے کبھی وضو میں کمی کی ہے؟ یا میں نے رکوع و سجود کو ناقص ادا کیا ہے؟ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب اس سے یہ سوالات کیے تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی واقعییہ بات تو ہے کہ یہ وقت پر اور مکمل نماز وضو کا اہتمام کرتا ہے)۔ پھر اس اعتراض کرنے والے نے کہا: اللہ کی قسم ہے، میں نے اس کو دیکھا کہ یہ صر ف ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، جس کے روزے ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے رمضان میں کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہے، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنییہ بات تو ٹھیک کہ یہ آدمی اچھے انداز میں روزے رکھتا ہے)۔ اعتراض کرنے والے نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ اس نے کسی سائل کو کبھی کوئی چیز دی ہو، یا اللہ کے راستے میں کوئی مال خرچ کیا ہو، ما سوائے اس زکوۃ کے، جو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے زکوۃ میں سے کبھی کوئی چیز چھپائی ہے، یا زکوۃ لینے والے سے کمی کروائی ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھاتو اس نے منفی میں جواب دیا۔ اب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو جا تو، میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بہتر ہو۔
Musnad Ahmad
64
۔ (۶۴) ((أَخَوَانِ نَصِیْرَانِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْ مُشْرِکٍ یُشْرِکُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ یُفَارِقَ الْمُشْرِکِیْنَ إِلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۳۰۰)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والا مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔
Musnad Ahmad
99
۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔
Musnad Ahmad
114
۔ (۱۱۴)۔عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا السُّنَّۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ) یُسْلِمُ عَلٰی یَدَیْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ہُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِمَحْیَاہُ وَ مَمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۲)
سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔
Musnad Ahmad
265
۔ (۲۶۵)۔عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ أَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتَّی أُنْزِلَ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۰)
سیدنا سعد بن ابو وقاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جرم کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے اور اس قدر چھان بین کرتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کے حرام ہونے کا حکم نازل ہو جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
266
۔ (۲۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر)۔ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ یُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمانوں میں جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا وہ آدمی ہے، جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے، جو حرام نہیں تھی، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر اس کو حرام کر دیا گیا۔