TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان

Chapter 1 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 11 · 3 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۲۴۲/۱) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیِّ قَا لَ: کاَنَ رَجُلٌ بِالشَّامِ یُقَالُ لَہُ مَعْدَانُ، کَانَ أَبُوْ الدَّرْدَائِ یُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَہُ أَبُوْ الدَّرْدَائِ فَلَقِیَہُ یَوْماً وَھُوَ بِدَاِبقٍ فَقَالَ لَہُ أَ بُوْ الدَّرْدَائِ: یَا مَعْدَانُ! مَافَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِیْ کَانَ مَعَکَ؟ کَیْفَ أَنتَ وَالْقُرْآنُ الْیَوْمَ؟ قاَلَ قَدْ عَلَّمَ اللّٰہُ مِنْہُ فَاَ حْسَنَ۔ قَالَ: یَامَعْدَانُ! أَفِیْ مَدِیْنَۃٍ تَسْکُنُ الْیَوْمَ أَوْفِیْ قَرْیَۃٍ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِیْ رِوَاَیۃٍ: فِیْ قَرْیَۃٍ قَرِیْبَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ) قاَل: مَہْلًا وَیْحَکَ یَامَعْدَانُ! فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ خَمْسَۃٍ أَھْلِ أَبْیَاتٍ لَا یُؤْذَّنُ فِیْہِمْ بِالصَّلَاۃِ وَتُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ، وَإِنَّ الذِّئْبَ یَأْخُذُ الشَّاذَّۃَ۔)) فَعَلَیْکَ ِبالْمدَائِنِ وَیْحَکَ یَا مَعْدانُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۳)
عبادہ بن نسی کہتے ہیں: شام میں ایک معدان نامی آدمی تھا، سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُسے گم پایا۔ پھر ایک دن جب دابق مقام پر اسے ملے تو کہنے لگے: معدان! وہ قرآن جو تیرے پاس تھا، اس کا کیا بنا؟ آج کل تیرا اور قرآن کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے وہ سکھایا اور اچھا سکھایا۔سیّدنا ابو درداء نے پوچھا: معدان! آج کل شہر میں رہتے ہو یا کسی دیہات میں؟ معدان نے جواب دیا: نہیں، میں ایک دیہات میں سکونت پذیر ہوں، وہ شہر کے قریب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ایسے دیہات میں ہوں جو حمص شہر کے قریب ہے۔ سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: چھوڑ، تجھ پر افسوس ہے معدان! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہاں پانچ گھر واقع ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور (تجھے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) بھیڑیا علیحدہ رہنے والی بکری کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس لیے تجھ پر شہروں میں رہنا لازم ہے۔اے معدان! تجھ پر افسوس ہے!
Takhreej
(۱۲۴۲/۱)تخریج:… حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ حاتم بن ابی نصر۔ أخرجہ ابوداود: ۵۴۷، والنسائی: ۲/ ۱۰۶، وابن خزیمۃ: ۱۴۸۶، وابن حبان: ۲۱۰۱، والحاکم: ۱/ ۲۱۱، ۲۴۶ و ۲/ ۴۸۲ (انظر: ۲۱۷۱۰)
1242
Sahih
۔ (۱۲۴۲/۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قاَلَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَامِنْ ثَـلَاثَۃٍ فِیْ قَرْیَۃٍ فَـلَا یُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِیہِمُ الصَّلَاۃُ إلاَّ اسْتَحْوَذَ عَلیْہِمُ الشَّیطَانُ۔ عَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَإنَّمَا یَأْ کُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ۔)) قَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: قَالَ السَّائِبُ: یَعْنِیْ الْجَمَاعَۃَ فِی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۴)
یہ روایت دوسری سند کے ساتھ اس طرح مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس بستی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لیے تجھ پر جماعت لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا صرف دور رہنے والی بکری کو ہی کھاتا ہے۔ ابن مہدی نے کہا کہ سائب کا خیال ہے کہ تجھ پر جماعت لازم ہے سے نماز باجماعت مراد ہے۔
Takhreej
(۱۲۴۲/۲) تخر یـج:… اسنادہ حسن، انظر الحدیث بالطریق السابق: ۲۲۴
Explanation
فوائد:… جو بکری جنگل میں ریوڑ اور مالک سے الگ ہو جاتی ہے، بھیڑیا اور دوسرے درندے اس کا کیا حشر کرتے ہیں، ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح جو بندہ نماز باجماعت سے دور رہتا ہے، وہ شیطان کے وسوسوں میں پھنس کر خیر و بھلائی کے کاموں سے دور ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں مصیبتیہ ہے کہ روحانی طہارت کے فقدان کی وجہ سے وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
1242
Sahih
۔ (۱۲۴۳) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتََقَارِبُوْنَ فَأَقَمْنَا مَعَہُ عِشِْرِیْنَ لَیْلَۃً۔ قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا رَفِیقاً فَظَنَّ أنَّاَ قَدِ اشْتَقْنَا أَھْلَنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ أَھْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((اِرْجِعُوْا إِلٰی أَھْلِیْکُمْ فأَقِیْمُوْا فِیہِمْ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۳)
سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔
Takhreej
(۱۲۴۳)تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۰۰۸، ومسلم: ۶۷۴، ۲۹۲، وعند البخاری وغیرہ زیادۃ: ((وصلوا کما رایتمونی اصلی)) (انظر: ۱۵۵۹۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں نماز کے وقت اذان دینے کا حکم اور ترغیب دلائی جا رہی ہے، مزید درج ذیل روایات پر غور کریں: سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، وہ سفر پر جانا چاہتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ((اِذَا اَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَاَذِّناَ ثُمَّ اَقِیْمَا ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا۔)) یعنی جب تم سفر کرو تو (نماز کے وقت) اذان دو اور اقامت کہو اور تم میں سے بڑا آدمی جماعت کروائے۔ (صحیح بخاری: ۶۳۰، صحیح مسلم: ۶۷۴) سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِیْ غَنَمٍ فِیْ رَاْسِ شَظِیَّۃٍ بِجَبَلٍ یُؤَذِّنُ لِلصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ لِلصَّلَاۃِ،یَخَافُ مِنِّیْ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔)) (ابوداود: ۱۲۰۳، نسائی: ۲۱/۲۰) یعنی: تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر (بکریاں چرا رہا ہوتا ہے، جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو) وہ اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ (اس کے اس عمل کو دیکھ کر) کہتے ہیں: میرے بندے کی طرف دیکھو، اذان دیتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے( پھر نماز ادا کرتا ہے) یہ مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱) ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اذان و اقامت کا تعلق نماز سے ہے نہ کہ لوگوں کی تعداد یا مسجد سے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی احادیث مبارکہ میں ان دونوں کا حکم دیا اور سفر و حضر میں ان پر مداومت و مواظبت اختیار کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر طلوع فجر کے بعد ادا کی تھی، اس میں بھی اذان و اقامت کا اہتمام کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت واجب ہیں، جیسا کہ امام احمد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اور امام مالک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مسلک ہے۔ مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ حسب ِ امکان لوگوں کو مسجد میں جاکر نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر وہ سفر یا کسی شرعی عذر کی بنا پر مسجد میں نہ پہنچ سکیں تو جہاں نماز ادا کریں، وہاں اذان، اقامت اور جماعت کا اہتمام کریں۔ ہم جہالت یا غفلتیا لاپرواہییا جھجک کی بنا پر ان امور سے غفلت برت رہے ہیں۔
1243
Sahih

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.