TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید

Chapter 11 of اذان اور اقامت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 11 · 4 Hadith
۔ (۱۳۱۲) عَنْ سَھْلِ عَنْ أَبِیْہِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالنِّـفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُناَدِیَ اللّٰہِ یُنَادِیْیَدْعُوْ إِلیَ الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فر ما یا : یہ ظلم ہی ظلم ہے، بلکہ کفر و نفاق ہے کہ ایک شخص مُنَادِی (مؤذن) کو سنتا ہے کہ وہ فلاح کی طرف دعوت دے رہا ہوتا ہے، لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتا۔
Takhreej
(۱۳۱۲) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۳۹۴ (انظر: ۱۵۶۲۷)
1312
Zaeef
۔ (۱۳۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ھَاشِمٌ ثَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ وَشَرِیکٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِیْ الشَّعْشَائِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: أَمَّا ھَذَا فَقَدْ عَصٰی أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَ: وَفِیْ حَدِیْثِ شَرِیْکٍ: ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَاکُنْتُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَنُوْدِیَ بالصَّلَاۃِ فَـلَا یَخْرُجْ أَحَدُ کُمْ حَتّٰییُصَلِّیَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۴۶)
ابو شعثاء کہتے ہیں کہ ایک آدمی مؤذن کے اذان کہہ دینے کے بعد مسجد سے نکل گیا، اسے دیکھ کر سیّدنا ا بو ہر یر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اِ س شخص نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ شریک کی بیان کردہ حدیث میں ہے: پھر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ: جب تم مسجد میں ہو اور نماز کے لیے اذان ہوجائے تو تم میں سے کوئی (مسجد سے باہر) نہ نکلے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے۔
Takhreej
(۱۳۱۳)تخر یـج:… اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۸۸، وأخرجہ ابن ماجہ: ۷۳۳، والنسائی: ۲/ ۲۹، وابو عوانۃ: ۲/ ۸، وابن خزیمۃ: ۱۵۰۶والدارمی: ۱۲۰۵ الی قولہ: فقد عصی ابا القاسم۔ (انظر: ۹۳۱۵، ۱۰۹۳۳)
1313
Sahih
۔ (۱۳۱۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُ کُمُ الْأَذَانَ وَالْأِنَائُ عَلَییَدِہِ فَـلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَاجَتَہُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۹۴۶۸)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھ نہ دے، یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔
Takhreej
(۱۳۱۴) تخر یـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۵۰ (انظر: ۹۴۷۴)
1314
Sahih
۔ (۱۳۱۵) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَارَوْحٌ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بِنْ أَبِیْ عَمَّارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ فِیْہِ وَکَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۳۸)
اور دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث میں یہ زائد بات ہے: سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اور مؤذن اُس وقت اذان کہتا جب فجر طلوع ہوجاتی ۔
Takhreej
(۱۳۱۵) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ البیھقی: ۴/ ۲۱۸، والحاکم: ۱/ ۲۰۳ (انظر: ۱۰۶۳۰)
Explanation
فوائد:… (۱) اذان کے بعد کسی شرعی عذر کے بغیر ادائیگی ٔ نماز سے پہلے نہیں نکلنا چاہیے، آج کل اکثر لوگوں کا رویہیہ ہے کہ اگر وہ اذان کے وقت مسجد میں موجود ہوں تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جماعت کے شروع ہونے تک مسجد سے باہر چلے جاتے ہیں اور کوئی پروا نہیں کرتے۔ درج ذیل احادیث پر غور کریں: ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَا یَسْمَعُ النِّدَائَ أَحَدٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ھٰذَا ثُمَّ یَخْرُجُ مِنْہُ إِلاَّ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ لَا یَرْجِعُ إِلاَّ مُنَافِقٌ۔)) یعنی: وہ آدمی منافق ہے، جو میری اس مسجد میں موجود ہو، اذان سنے اور ضرورت کے بغیر نکل جائے اور پھر واپس نہ لوٹے۔ (مسند احمد، مسند طیالسی، صحیحہ: ۲۵۱۸) (۲)… امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: اس حدیث میں مسجد نبوی کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس حدیث کا مفہوم تمام مساجد کو شامل ہے، کیونکہ کثیر احادیث جماعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور مسجد سے نکلنے کی وجہ سے یہ واجب فوت ہو جاتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۱۸) جو لوگ مسجد کے انتہائی قریب اور فارغ ہونے کے باوجود نماز باجماعت کا یا سرے سے نماز کا اہتمام نہیں کرتے، ان کو درج ذیل احادیث پر غور کرنا چاہیے۔ کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: ((یَارَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّی أَسْمَعُ النَّدَائَ وَلَعَلِّیْ لَا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ، فَأَجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) اے اللہ کے رسول! میں اذان تو سنتا ہوں لیکن میرے پاس کوئی قائد نہیں (جو مجھے مسجد میں لے آئے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اذان سنے تو اللہ تعالیٰ کے داعی کی پکار پر لبیک کہہ (اور مسجد میں پہنچ)۔ (دارقطنی: ۱۹۷، سنن بیہقی: ۳/ ۵۷، صحیحہ: ۳۵۴) سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یَأْتِ فَـلَا صَلَاۃَ لَہٗاِلَّامِنْعُذْرٍ۔)) (ابوداود،ابن ماجہ) یعنی: جو آدمی اذان سننے کے باوجود نماز باجماعت کے ساتھ ادا نہ کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔ (۳)… اگر اس باب کی تمام روایات پر غور کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں اذان کی ابتدا اللہ اکبر اللہ اکبر کے الفاظ سے ہوتی تھی اور یہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تعلیم تھی، لیکن بعد میں بدعتی لوگوں اور روافض نے اعوذ باللہ … یا بسم اللہ … یا الصلاۃ والسلام… وغیرہ کا اضافہ کر لیا۔ (۴)… سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کے شروع میں سحری کرنے والے کے لیے ایک رخصت کا بیان ہے کہ وہ بامر مجبوری طلوع فجر کے باوجود سحری کا کھانا کھا سکتا ہے۔ کلیہ تو یہی ہے کہ طلوع فجرِ صادق سے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کے لیے اذان فجر کو معیار قرار دیا تھا، کیونکہ طلوع فجر اور اذان فجر کا ایک وقت ہوتا ہے، اس حدیث میں ایک رخصت کا بیان ہے کہ اگر کسی آدمی سے تاخیر ہو جاتی ہے اور وہ اذان سے پہلے سحری سے فارغ نہیں ہو پاتا تو اسے چندلقمے کھا لینے کی اجازت ہے۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیا جائے کہ کس شخص کو ضرورت پورا کرنے کی اجازت ہے۔ اس رخصت کا یہ مفہوم نہیں کہ اذان سننے کے بعد تفصیل کے ساتھ چائے وائے اور مختلف ڈشوں کا اہتمام شروع ہو جائے۔ (انتہت ابواب الاذان والاقا مۃ)
1315
Sahih

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.