TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان - نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان - نفل نماز کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نفل نماز کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 13 · 7 Hadith
۔ (۲۰۳۶) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَیْتِہِ حِیِنَئِذٍ فَلْیُصَلِّ فِیْ بَیْتِہِ رَکْعَتَیْنِ، وَلْیَجْعَلْ فِی بَیْتِہِ نَصِیْبًا مِنْ صَلَاتِہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ فِیْ بَیْتِہِ مِنْ صَلَاتِہِ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۸)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز ادا کرلے، تو پھر وہ اپنے گھر واپس جائے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا کرے، بندے کو چاہیے کہ گھر میں بھی نفلی نماز پڑھتا رہا کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل کرتا ہے۔
Takhreej
(۲۰۳۶) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولعنعنۃ ابی الزبیر۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۷۶(انظر: ۱۱۱۱۲، ۱۱۵۶۷)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں میں برکت ہوتی ہے اور نماز ، ذکر الٰہی کا سب سے عظیم ذریعہ ہے، کئی احادیث میں گھروںمیں نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے مراد نفلی نماز ہے، تاکہ گھروں میں خیر و برکت نازل ہو،رحمت والے فرشتوں کا نزول ہو اور عمل مخفیہو اور ریاکاری کا خطرہ کم ہو جائے۔
2036
Sahih
۔ (۲۰۳۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ الصَّلَاۃ َفِی مَسْجِدِہِ فَلْیَجْعَلْ لِبَیْتِہِ نَصِیْبًا مِنْ صَلَاتِہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَاعِلٌ فِی بَیْتِہِ مِنْ صَلَاتِہِ خَیْرًا)) (مسند احمد: ۱۴۴۴۴)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی آدمی مسجد میں نماز پڑھ لے تو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و بھلائی کرے گا۔
Takhreej
(۲۰۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۸ (انظر: ۱۴۳۹۱، ۱۱۵۶۷)
2037
Sahih
۔ (۲۰۳۸) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلُّوْا أَیُّہَا النَّاسُ! فِیْ بُیُوْتِکُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاۃِ الْمَرْئِ فِیْ بَیْتِہِ إِلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۶۲)
سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرضی نماز کے علاوہ آدمی کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی ہے۔
Takhreej
(۲۰۳۸) تخریج: أخرجہ مطوّلا البخاری: ۶۱۱۳، ومسلم: ۷۸۱ (انظر: ۲۱۶۲۴، ۲۱۶۳۲)
2038
Sahih
۔ (۲۰۳۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلُّوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۷)
سیدنازید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔
Takhreej
(۲۰۳۹) تخریج: صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، عطاء لم یسمع من زید بن خالد۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۵۵، والبزار فی مسندہ : ۳۷۷۷، والطبرانی فی الکبیر : ۵۲۷۸ (انظر: ۱۷۰۳۰، ۲۱۶۷۷)
Explanation
فوائد:… گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ اس کے دو مفہوم ہیں: (۱)مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جو اپنی قبروں میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ (۲)جو آدمی اپنے گھر میں نفلی نماز نہیں پڑھے گا، اس نے اپنے آپ کو میت اور اپنے گھر کو قبر بنا دیا ہے۔ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
2039
Sahih
۔ (۲۰۴۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اِجْعَلُوْا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَجْعَلُوْھَا عَلَیْکُمْ قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھروں میں نماز ادا کیاکرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔
Takhreej
(۲۰۴۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن لھیعۃ۔ أخرجہ مالک فی المؤطا : ۱/ ۱۶۸، وابو یعلی: ۴۸۶۷ (انظر: ۲۴۳۶۶)
2040
Sahih
۔ (۲۰۴۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ فِی الْبَیْتِ وَعَنِ الصَّلَاۃِ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا الصَّلَاۃُ فِی الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاۃُ فِیْ بَیْتِیْ فَقَدْ تَرٰی مَا أَقْرَبَ بَیْتِیْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِیْ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّیَ فِی الْمَسْجِدِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۶)
سیدناعبد اللہ بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھر میں اور مسجد میں نماز کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں نماز اور گھر میں نماز، تودیکھتا تو ہے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے،لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے، الّا یہ کہ وہ فرضی نماز ہو۔
Takhreej
(۲۰۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ مطولا و مختصرا ابوداود: ۲۱۱، ۲۱۲، وابن ماجہ: ۶۵۱، ۱۳۷۸ (انظر: ۱۹۰۰۷)
2041
Sahih
۔ (۲۰۴۲) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ بَیْتِہِ تَطَوُّعًا نُوْرٌ فَمَنْ شَائَ نَوَّرَ بَیْتَہُ)) (مسند احمد: ۸۶)
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفلی نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔
Takhreej
(۲۰۴۲) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۵۱۳، والبزار: ۲۱۰، وابویعلی: ۱۶۵، وابن خزیمۃ: ۲۱۷۲ (انظر: ۸۶)
Explanation
فوائد:… عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔
2042
Sahih