۔ (۲۰۳۶) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَیْتِہِ حِیِنَئِذٍ فَلْیُصَلِّ فِیْ بَیْتِہِ رَکْعَتَیْنِ، وَلْیَجْعَلْ فِی بَیْتِہِ نَصِیْبًا مِنْ صَلَاتِہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ جَاعِلٌ فِیْ بَیْتِہِ مِنْ صَلَاتِہِ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۲۸)
سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز ادا کرلے، تو پھر وہ اپنے گھر واپس جائے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا کرے، بندے کو چاہیے کہ گھر میں بھی نفلی نماز پڑھتا رہا کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل کرتا ہے۔
Takhreej
(۲۰۳۶) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولعنعنۃ ابی الزبیر۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۷۶(انظر: ۱۱۱۱۲، ۱۱۵۶۷)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں میں برکت ہوتی ہے اور نماز ، ذکر الٰہی کا سب سے عظیم ذریعہ ہے، کئی احادیث میں گھروںمیں نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے مراد نفلی نماز ہے، تاکہ گھروں میں خیر و برکت نازل ہو،رحمت والے فرشتوں کا نزول ہو اور عمل مخفیہو اور ریاکاری کا خطرہ کم ہو جائے۔
2036
Sahih