TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان

Chapter 6 of نماز جنازہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 20 · 2 Hadith
۔ (۳۱۵۸) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَنْیَۃَ اِعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلٰی، فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیَّہَا، فَقَالَ: ((أَحْسِنْ إِلَیْہَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِی۔)) فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِہَا فَرُجَِمَتْ، ثُمَّ صَلّٰی عَلَیْہَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجَمْتَھَا، ثُمَّ تُصَلِّی عَلَیْہَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِیْنَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَہَلْ وَجَدْتَّ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا للّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ؟)) (مسند احمد: ۲۰۱۰۱)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر زنا کا اقرار کیا اور بتلایا کہ وہ اس وقت حاملہ بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک سے رپیش آؤ، جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتلانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون کے متعلق حکم دیا، سو اس پر اس کا لباس اچھی طرح باندھ دیا گیا اور پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے تو اسے رجم کیا اور اب اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کو تمام اہل مدینہ میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو کفایت کر جائے گی۔ بھلا کیا تم نے اس سے افضل چیز بھی پائی ہے کہ اس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیا ہے۔
Takhreej
(۳۱۵۸) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۱۶۹۶ (انظر: ۱۹۸۶۱، ۱۹۹۰۳)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ جو فرد شرعی حد کی وجہ سے وفات پا جائے، اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے۔
3158
Sahih
۔ (۳۱۵۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتّٰی شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: (((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ بِالْمُصَلّٰی فَلَمَّا أَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ، فَاُدْرِکَ فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرًا وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۶)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو اسلم کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کیا، اس نے پھر اعتراف کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے عیدگاہ یا جنازہ گاہ میں لے جا کر رجم کیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا،لیکن پھر اسے پا لیا گیا اور اسے مزید پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Takhreej
(۳۱۵۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۸۲۰، ومسلم: ۱۶۹۱ (انظر: ۱۴۴۶۲)
Explanation
فوائد: …لیکن صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپaنے اس کے حق میں خیر والی باتیں کہیں اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دونوں روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آپaنے رجم کے فوراً بعد نماز نہیں پڑھی، بلکہ بعد میں ادا کی تھی۔
3159
Sahih

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.