TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان

Chapter 8 of نماز جنازہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 20 · 6 Hadith
۔ (۳۱۶۸)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ إِنْسَانًا کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ، مَاتَ أَوْ مَاتَتْ، فَفَقَدَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا فَعَلَ اْلإِنْسَانُ الَّذِی کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ؟)) قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: مَاتَ، قَالَ: ((فَہَلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ؟)) فَقَالُوْا: بِاَنَّہُ کَانَ لَیْلًا، قَالَ: ((فَدُلُّوْنِیْ عَلٰی قَبْرِہَا)) قَالَ: فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہَا۔ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَالِکَ أَوْ فِی حَدِیْثٍ آخَرَ، ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوْئَ ۃٌ ظُلْمَۃً عَلٰی أَہْلِہَا وَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہِمْ)) (مسند احمد: ۹۰۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مسجد میں جھاڑ و دینے والا ایک سیاہ فام آدمی تھا یا عورت تھی، وہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وہ نظر نہ آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: مسجد کی صفائی کرنے والے کا کیا بنا؟ کسی نے کہا کہ وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے کہا: یہ رات کا واقعہ تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر پر تشریف لے گئے اور نمازجنازہ ادا کی۔ اس حدیث کے راوی ثابت نے یہ یا کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، میری اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منور کر دیا ہے۔
Takhreej
(۳۱۶۸)تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۵۸، ۴۶۰، ۱۳۳۷، ومسلم: ۹۵۶ (انظر: ۸۶۳۴، ۹۰۳۷)
3168
Sahih
۔ (۳۱۶۹) عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ أَسْوَدَ کَانَ یُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ، فَدُفِنَ لَیْلًا وَاَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُخْبِرَ فَقَالَ: ((اِنْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ۔)) فَانْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مُمْتَلِئَۃٌ عَلٰی أَہْلِہَا ظُلْمَۃً، وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہَا۔)) فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَخِی مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَأَیْنَ قَبْرُہُ؟ فَأَخْبَرَہُ فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اْلأَنْصَارِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ رات کو فوت ہو گیا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو اس کی قبر کی طرف، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان پر میری نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر کے پاس آئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی فوت ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس کی قبر کہاں ہے؟ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔
Takhreej
(۳۱۶۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۷۷، والطیالسی: ۲۴۴۶۔ وأخرجہ مختصرا مسلم: ۹۵۵ بلفظ: ان النبیV صلی علی قبر۔ (انظر: ۱۲۳۱۸، ۱۲۵۱۷)
3169
Sahih
۔ (۳۱۷۰) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی قَبْرِ امْرَأَۃٍ قَدْ دُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دفن کر دی جانے والی ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۷۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق ۱۷۷
3170
Sahih
۔ (۳۱۷۱) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیْعَ إِذَا ہُوَ بَقِبْرٍ جَدِیْدٍ، فَسَأَلَ عَنْہُ، فَقِیْلَ فُلَانَۃٌ، فَعَرَفَہَا، فَقَالَ: ((أَلَا آذنْتُمُوْنِی بِہَا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَکَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِنَکَ، فَقَالَ: ((لَا یَمُوْتَنَّ فِیْکُمْ مَیِّتٌ مَا کُنْتُ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ إِلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ فَإِنَّ صَلَاتِی عَلَیْہِ لَہُ رَحْمَۃٌ؟)) قَالَ: ثُمَّ أَتَی الْقَبْرَ فََصَفَّنَا خَلْفَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۸۱)
سیّدنا یزید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ نکلے، جب ہم بقیع میں پہنچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں ایک نئی قبر دیکھ کر اس کے متعلق پوچھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا گیا کہ یہ فلاں عورت کی قبر ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پہچان لیا اور پھر پوچھا: تم نے مجھے اس کے بارے میں بتلایا کیوں نہیں تھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے کی حالت میں تھے اور قیلولہ کر رہے تھے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہ کیا کرو،) جب بھی تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ کسی میت پر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اس کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں اپنے پیچھے صفوں میں کھڑا کیا اور چار تکبیرات کہیں۔
Takhreej
(۳۱۷۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح اِن ثبت سماع خارجۃ بن زید من عمہ یزید بن ثابت، والا فمنقطع أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۲۸، والنسائی: ۴/ ۸۴ (انظر: ۱۹۴۵۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اس طرح قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا مسنون عمل ہے، نیز یہ بھی پتہ چلا کہ ایک آدمی ایک سے زائد دفعہ بھی نماز جنازہ ادا کر سکتا ہے، کیونکہ جن صحابہ نے آپaکے ساتھ نماز جنازہ پڑھی، یقینا وہ پہلے پڑھ چکے ہوںگے، کیونکہ وہی اس میت کو دفنانے والے تھے۔
3171
Sahih
۔ (۳۱۷۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبر والے پر اس کی تدفین کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۳۱۷۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۴۷، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، ۱۳۲۶، ۱۳۴۰، ومسلم: ۹۵۴ (انظر: ۱۹۶۲، ۳۱۳۶)
3172
Sahih
۔ (۳۱۷۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ الشَّیْبَانِیَّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ قَالَ: أَخْبَرَنِی مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُوْلِ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ مَنْبُوْذٍ، فَأَمَّہُمْ وَصَفُّوْا خَلْفَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَمْرٍو! وَمَنْ حَدَّثَکَ؟ قَالَ: اِبْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۳۱۳۴)
(دوسری سند) امام شعبیkکہتے ہیں: مجھے ایک ایسے آدمی نے خبر دی جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کی امامت کرائی اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں۔ سلیمان شیبانی نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو یہ واقعہ کس نے بیان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے۔
Takhreej
(۳۱۷۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے ثابت ہوا کہ دفن کر دی جانے والی میت پر بھی نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی نماز جنازہ پہلے پڑھی جا چکی ہو، کیونکہ درج بالا صورتوں میں صحابہ کرام نے نماز جنازہ پڑھ کر ہی ان لوگوںکو دفنایا تھا، اس ضمن میں مخصوص قیدوں کی شرط لگانا باطل ہے، مثلا: تدفین سے تیسرے دن تک نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، یا ایک ماہ تک، یا جب تک کہ جسم تر نہ ہو جائے، یا جب تک جسم مٹی نہ بن جائے۔ اسی طرح نماز جنازہ کی اس صورت کو آپa کے ساتھ خاص کر دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
3173
Sahih

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.