(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ تھے،… سارا واقعہ بیان کیا…، سیّدنا فضالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔
(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔
Takhreej
(۳۲۷۱) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، وانظر الحدیث بالطریق الاول أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۸۱۰، وفی ’’الاوسط‘‘: ۳۱۸۸ (انظر: ۲۳۹۵۹)
Explanation
فوائد: …اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قبر کو زمین سے بلند کر کے بنایا جائے گا اور اسے زمین کے بالکل برابر نہیں کیا جائے گا، تاکہ اس کی حفاظت ہوتی رہے اور اس کی توہین نہ ہونے پائے۔ تو پھر سیّدنا فضالہbکی روایت کردہ اس حدیث اور اس سے ان کے کیے ہوئے استدلال کا کیا بنے گا؟ اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) آپ a کے اس فرمان کا تعلق غیر شرعی اونچی قبروں سے تھا، جیسا کہ سیّدنا علیbکی روایت میں گزر چکا ہے، لیکن سیّدنا فضالہbنے اس کو عام سمجھ لیا اور (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا معنی یہ ہو کہ ان کو کم بلند رکھا جائے۔ قبر کے بارے میں مزید احادیث:
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے، اسے چونا گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے اور اسے چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۳۲۷۳) تخریـج: …حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد اختلف فیہ علی ابن لھیعۃ (انظر: ۲۶۵۵۵)
Explanation
فوائد: …ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: ((…وَاَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ…۔)) یعنی: اور قبر پر لکھنے سے بھی منع فرمایا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی قبر پر لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قبر پر لکھنا بھی منع ہے، لیکن اس وقت قبروں کو اونچا بنانا، پکا کرنا، ان پر لکھنا، سنگ ِ مر مر کی تختیاں لگانا، بار بار ان کی مرمت کرنا، ان کے اوپر کمرے بنانا، قبروں پر بیٹھنا، ان میں بلکہ ان پر جوتوں سمیت چلنا، یہ امور عام ہو چکے ہیں، اس طرح کئی احادیث ِ مبارکہ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ البتہ قبر کی شناخت کے لیے لکھنے کے علاوہ کوئی اور علامت لگائی جا سکتی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی آدمی آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کے چمڑے تک جا پہنچے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر کو روندے۔
سیّدناابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبروں کی طرف رخ کر کے نہ نماز پڑھو اورنہ ان پر بیٹھو۔ ایک روایت میںہے: نہ تم قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان پر نماز پڑھا کرو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کی ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے، جیسے زندہ کی ہڈی توڑی جائے۔ اہل علم کا خیال ہے کہ (اس حدیث کا تعلق ہڈی توڑنے) کے گناہ سے ہے، عبد الرزاق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ دائود بن قیس کا قول ہے۔
سیّدنا بشیر بن خصاصہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکھا ہوا نام بشیر، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا عیب لگاتے ہو، حالانکہ تم اس کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو اور تم نے ان کا ہاتھ بھی تھام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر کس چیز کا عیب لگا سکتا ہوں، جبکہ اس نے تو مجھے ہر قسم کی خیر عطا کر رکھی ہے۔ اتنے میں ہم مشرکوں کی قبروں تک جا پہنچے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بڑی بھلائی کو (پیچھے چھوڑ کر) آگے نکل گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد ہم مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: ان لوگوں نے (اسلام قبول کر کے) بہت زیادہ بھلائی پائی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو جوتوں سمیت قبروں میں چلتے ہوئے دیکھا اور اسے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے! تو ہلاک ہو جائے! اپنے جوتوں کو اتار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، جب اس آدمی نے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کی نظر پڑھی تو اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔
فوائد: …’’سِبْت‘‘ گائے کے اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس کو قرظ یا سلم کے درخت کے پتوں سے رنگا گیا ہو اور اس کے بال اتارے نہ گئے ہوں۔ اس چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو ’’نِعَال سِبْتِیَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ a نے قبروں کے احترام کی خاطر اس شخص کو جوتے اتار دینے کا حکم دیا تھا۔ سیّدنابشیر بن خصاصیہb کا سابقہ نام ’’زحم‘‘ تھا، رسول اللہaنے ان کا نام تبدیل کر کے بشیر رکھا تھا، اس لیے ان کو آپ a کی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’بشیرِ رسول‘‘ کہا جاتا تھا۔
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ میت کو دفن کے بعد واپس جاتے ہیں تو میت ان لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۲۷۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۸، والبزار: ۸۷۳، وابن حبان: ۳۱۱۸(انظر: ۹۷۴۲)
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھا دیتے ہیں…۔
فوائد: …یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میت کا جوتوں کی آواز سننا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوتے پہن کر قبروں پر یا ان کے درمیان میں چلنا جائز ہے، لہٰذا ان دو احادیث کا اس حدیث سے کوئی تعارض نہیں ہے، جس میں جوتے پہن کر قبرستان میں چلنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ یہ حدیث ممانعت میں واضح بھی ہے۔
ثابت بنانی کہتے ہیں: سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ کی ایک خاتون سے کہا: کیا تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبرکرو۔ اس نے آگے سے کہا: تم مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔دراصل یہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، بعد میں اسے بتلایا گیا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت کی گھبراہٹ سی طاری ہوگئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچ گئی اور وہاں کوئی دربان نہ پایا، پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک صبر تو وہ ہوتا ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
فوائد: …یعنی جونہی مسلمان کو اپنی کسی چھوٹی بڑی مصیبت کی خبر ہوتی ہے، تو اسی وقت سے صبر کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں، یہ صبر نہیں ہے کہ خبر ملتے ہی واویلا کرلیا جائے، جنون کی سی کیفیت طاری کر لی جائے اور بعد میں تھک ہار کر صبر کا دامن پکڑ لیا جائے، کیونکہ وقت گزرنے سے تو ہر ایک کو صبر آ ہی جاتا ہے۔ اس حدیث سے انتہائی اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ جو کسی کے مقام ومرتبہ کو نہ پہچانتا ہو، اس کے گستاخانہ رویے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ
سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔
Takhreej
(۳۲۸۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، ہشام بن ابی ہشام متروک، وأمہ لایعرف حالھا أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۰(انظر: ۱۷۳۴)
Explanation
فوائد: …یہ کلمات مصیبت زدہ لوگوں کا ملجا و مأوی ہیں اور بندہ یہ کلمات ادا کر کے اپنی موت اور حشر کا اقرار کرتا ہے اور یقینی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز نے اپنے مالک ِ حقیقی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا : جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔ (بیشک ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ ! میں تیرے ہاں اپنی مصیبت پر ثواب طلب کرتا ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور نعم البدل عطا کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی اور میں یہ دعا پڑھتی رہی: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ (اے اللہ!تو مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما۔) تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔
Takhreej
(۳۲۸۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۱۸ (انظر: ۲۶۶۳۵)
Explanation
فوائد: …اس دعا کے الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصَیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا ‘‘ کی بجائے یہ الفاظ ’’اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ‘‘ کہنا بھی درست ہیں، عام کتب میں یہی مؤخر الذکر الفاظ لکھے جاتے ہیں۔ یہ دعا انتہائی بابرکت ہے، جبکہ تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں، اس لیے صبر کے ساتھ یہ دعا پڑھتے رہنا چاہیے۔
سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔
فوائد: …تعزیت اور تسلی دلانے کے لیے یہ بہترین الفاظ ہیں، بخاری ومسلم کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یہ ہیں اور یہی عام کتب میں شائع ہوتے ہیں: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہٗ مَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی۔ نیز دعا وغیرہ کے ذریعے تسلی دلانے کے لیے کوئی بھی جائز انداز اختیار کیا جا سکتا ہے، تعزیت کی فضیلت یہ ہے: محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم a نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُعَزِّيْ أَخَاہُ بِمُصِیْبَۃٍ، إِلَّا کَسَاہُ للّٰہُ سُبْحَانَہٗ مِنْ حُلَلِ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (ابن ماجہ: ۱۶۰۱، صحیحہ: ۱۹۵)
سیّدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سیّدناجعفر بن ابی طالب کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔
Takhreej
(۳۲۸۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ ام عیسی الجزار، لکن یشھد لہ ما قبلہ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۱۱(انظر: ۲۷۰۸۶)
عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔
فوائد: …تلبینہ: مختلف تعریفوں کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے: (۱)بھوسی یا چھنے ہوئے آٹے میں دودھ اور شہد ملا کر بنایا ہوا حریرہ، (۲) دودھ، (۳) خالص آٹا، (۴) وہ آٹا، جس میں چربی ہو۔ عام طور پر پہلا معنی ہی مراد لیا جاتا ہے۔
سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۲۸۸) تخریـج: …حدیث صحیح، نصر بن باب، وان کان ضعیف الحدیث، متابَعٌ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۱۲(انظر: ۶۹۰۵)
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ میت کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کیا کریں۔ لیکن اس وقت ہمارے ہاں بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت جنازے اور تعزیت میں شرکت کرنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا ہے، جس کا جنازہ گاہ میں باقاعدہ اعلان بھی کیا جاتا ہے اور جس کو اہل میت چارو ناچار اپنی عزت سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ عجیب ہمدردی اور خیرخواہی ہے کہ ایک طرف تو اہل میت کرب و اذیت میں مبتلا ہوں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر ان کو کھانے کا اہتمام بھی کرنا پڑ جائے، بندۂ غریب نے خود بعض ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ برادری کے ایک بڑے آدمی کی فوتگی پر ابھی تک اس کے لیے غسل و کفن کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا کہ اہل میت جمع ہو کر کھانے کے بارے میں فکر مند تھے اور اپنی ایک گائے ذبح کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ وہ فوتگی کے رواجوں کو پورا کرتے کرتے کنگال ہو گئے اور دس دس سالوں تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے، جبکہ اس سے قبل ان کے ذاتی کاروبار بھی تھے۔یہ نظام شرعاً اور اخلاقاً کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس رواج سے انتہائی تنگ ہے، لیکن بزعم خود اپنی عزت اور ناک کا مسئلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔