TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - Book 61 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 61 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 47 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

47 Hadith · 8 Chapters
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۰) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا جَائَ فَدَخَلَ فِی الإِسْلَامِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ الإِسْلَامَ وَہُوَ فِی مَسِیْرِہِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِیْرِہِ فِی جُحْرِ یَرْبُوْعٍ فَوَقَصَہُ بَعِیْرُہُ فَمَاتَ، فَأَتٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِیْلًا وَأُجِرَ کَثِیْرًا، قَالَہَا حَمَّادٌ، ثَـلَاثًا، اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۷۱)
سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پائوں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔
Takhreej
(۳۲۵۰) تخریـج: …حدیث حسن بطرقہ أخرجہ ابن ماجہ:۱۵۵۵(انظر: ۱۹۱۵۸، ۱۹۱۵۹)
3250
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَلَسَ عَلٰی شَفِیْرِ الْقَبْرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِلْحَدُوْا، وَلَا تَشُقُّوْا، فَاِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَیْرِنَا)) (مسند احمد: ۱۹۳۹۰)
(دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور فرمایا: بغلی قبر بنائو، شق نہ بناؤ، کیونکہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔
Takhreej
(۳۲۵۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
3251
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِأَہْلِ الْکِتَابِ)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۶)
۔ (تیسر ی سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق اہل کتاب کے لیے۔
Takhreej
(۳۲۵۲) تخریج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے لحد افضل ہے، اگرچہ شق بھی جائز ہے، کیونکہ مدینہ میں لحد بنانے والا اور شق بنانے والا دونوں آدمی موجود تھے اور آپ a نے دونوں کو برقرار رکھا ہوا تھا، اور نبی کریمa کی تدفین کے موقع پر صحابہ نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا کہ ان دو میں جو پہلے پہنچے گا، آپ a کے لیے اسی کے عمل کو ترجیح دی جائے گی،چنانچہ لحد بنانے والا پہلے پہنچ گیا تھا، اس لیے آپ a کے لیے لحد بنایا گیا۔ امام نووی نے کہا: اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ لحد اور شق دونوں میں میت کو دفن کرنا جائز ہے۔
3252
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۳) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: جَائَ تِ الْأَنْصَارُ إِلٰی رَسُوِْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَہْدٌ، فَکَیْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((اِحْفِرُوْا وَأَوْسِعُوْا (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَأَعْمِقُوْا) وَاجْعَلُوْا الرَّجُلَیْنِ وَالثَّلَاثَۃَ فِی الْقَبْرِ۔)) قَالُوْا: فَأَیُّہُمْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ: ((أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا۔)) قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِی عَامِرٌ بَیْنَ یَدَی رَجُلٍ أَوْ اثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۶۷)
سیّدنا ہشام بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد والے دن انصاری صحابہ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت زخمی اور تھکے ہوئے ہیں، (اب ان شہداء کی تدفین کے بارے میں ) آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو اور ان کو وسیع اور گہرا کرو، اور دو دو اور تین تین آدمی ایک ایک قبر میں دفنا دو۔ انھوں نے کہا: ہم ان میں سے کس کو مقدم کر کے رکھیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے زیادہ قرآن یاد ہو۔ ہشام کہتے ہیں: چنانچہ میرے والدعامر کو ایک یا دو آدمیوں سے آگے رکھا گیا۔
Takhreej
(۳۲۵۳) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۱۵، والترمذی: ۱۷۱۳، وابن ماجہ:۱۵۶۰، والنسائی: ۴/ ۸۳(انظر: ۱۶۲۵۹)
3253
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُتِلَ أَبِی یَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِحْفِرُوْا و أَوسِعُوْا وَأَحْسِنُوْا، وَادْفِنُوْا الَاثْنِیْنِ وَالثَـلَاثَۃَ فِی الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوْا أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا (وَفِی رِوَایَۃٍ أَکْثَرَہُمْ أَخَذًا لِلْقُرْآنِ) وَکَانَ أَبِی ثَالِثَ ثَـلَاثَۃٍ وَکَانَ أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۶۹)
(دوسری سند) سیّدنا ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے والد غزوہ احد والے دن شہید ہو گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو، وسیع کرو اور ان کو اچھا بناؤ اور دو دو، تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو، اسے آگے کی طرف رکھو۔ میرے باپ تین افراد میں سے تیسرے تھے، چونکہ ان کو قرآن زیادہ یاد تھا، اس لیے ان کو مقدم کر کے رکھا گیا۔
Takhreej
(۳۲۵۴) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفن کرنا جائز ہے، جیسے زمین کا تنگ ہونا، کھودنے والوں پر شاق گزرنا، وغیرہ۔ نیز قبر گہری، وسیع اور خوبصورت ہونی چاہیے۔
3254
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۵) عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأنَا غَلَامٌ مَعَ أَبِی فجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حَفِیْرَۃِ الْقَبْرِ فَجَعَلَ یُوْصِی الْحَافِرَ وَیَقُوْلُ: ((أَوْسِعْ مِنْ قِبْلِ الرَّأْسِ وَ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَیْنِ لَرُبَّ عِذْقٍ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۲۳۸۵۹)
ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ میں نکلے، میں چھوٹا لڑکا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ گیا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے گڑھے کے قریب بیٹھ گئے اور قبر بنانے والے سے فرمانے لگے: سر کی طرف سے قبر کو کھلا کرو، پائوں کی طرف وسیع کرو، جنت میں اس میت کے لیے کھجور کے بہت سے خوشے ہیں۔
Takhreej
(۳۲۵۵) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابوداود: ۳۳۳۲ (انظر: ۲۲۵۰۹، ۲۳۴۶۵)
3255
Sahih
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
۔ (۳۲۵۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: اِلْحَدُوْا لِیْ لَحْدًا وَانْصِبُوْا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۰)
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم لوگ میرے لیے لحد بنانا اور میرے اوپر اسی طرح کچی اینٹیں رکھ دینا،جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۳۲۵۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۶۶ (انظر: ۱۴۵۰)
3256
Sahih
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۵۷) عَنْ أَبِی أُماَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ کُلْثُوْمٍ بْنَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی الْقَبْرِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِی أَقَالَ بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَمْ لَا، فَلَمَّا بُنِیَ عَلَیْہَا لَحْدُہَا طَفِقَ یَطْرَحُ اِلَیْہِمُ الْجَبُوْبَ، وَیَقُوْلُ: ((سُدُّوْا خِلَالَ اللَّبِنِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا إِنَّ ہٰذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ یَطِیْبُ بِنَفْسِ الْحَیِّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۰)
سیّدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ …… تَارَۃً أُخْرٰی} (سورۂ طہ، ۵۵) (ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی تھی یا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۲۵۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، عبید اللہ بن زحر الافریقی و علی بن یزید الالھانی ضعیفان، وقال الذھبی: علی بن یزید متروک أخرجہ الحاکم: ۲/ ۳۷۹، والبیہقی: ۳/ ۴۰۹(انظر: ۲۲۱۸۷)
Explanation
فوائد: …بعض لوگ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا اس میں مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
3257
Zaeef
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۵۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاکُمْ فِی الْقَبْرِ، فَقُوْلُوْا: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۸۱۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے فوت شدگان کو قبر میں اتارو تو یہ دعا پڑھا کرو: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول کے طریقے پر)۔
Takhreej
(۳۲۵۸) تخریـج: …صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۱۳، والترمذی: ۱۰۴۶، وابن ماجہ: ۱۵۵۰(انظر: ۴۸۱۲)
Explanation
فوائد: …اس دعا کے لفظ ’’مِلَّۃِ‘‘ کی بجائے ’’سُنَّۃِ‘‘ کہنا بھی درست ہے اور ایک حدیث میں اس دعا کے یہ الفاظ مذکور ہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
3258
Sahih
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۵۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا ہُشَیْمٌ أَنَا خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ شَہِدَ جَنَازَۃَ رَجُلِ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَظْہَرُوْا الْاِسْتِغْفَارَ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذَالِکَ أَنَسٌ، قَالَ ہُشَیْمٌ: قَالَ خَالِدٌ فِی حَدِیْثِہٖ: وَأَدْخَلُوْہُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ ہُشَیْمٌ مَرَّۃً: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَۃِ فَشَہَِدَہُ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَأَظْہَرُوْا لَہُ الَاسْتَغْفَارَ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۰)
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے اس کے حق میں بلند آواز سے دعائے مغفرت کی اور سیّدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان پر کوئی انکار نہیں کیا۔ خالد راوی نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: انہوں نے میت کو قبر کے پاؤں کی طرف سے اتارا تھا۔ اور ہشیم راوی نے ایک مرتبہ اس حدیث کو یوں بیان کیا: بصرہ میں ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا تھا، سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اس کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے میت کے حق میں بآواز بلند دعائے مغفرت کی تھی۔
Takhreej
(۳۲۵۹) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۴۰۸۰)
Explanation
فوائد: …ہم ’’جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا‘‘ کے باب میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ میت کے پاس کون سی آواز منع ہے، نیز میت کو قبر میں اتارنے کی دعا کی بھی وضاحت ہو چکی، اِس حدیث سے مراد اتفاقی طور پر دعائیہ کلمات کی آواز کا بلند ہو جانا ہے۔ اس حدیث میں ایک اور اہم مسئلے کا بیان ہے، جس سے ہمارے ہاں عام طور پر غفلت برتی جا رہی ہے، اور وہ ہے میت کو اس کی قبر کی پاؤں والی سمت سے داخل کرنا، اس کی مرفوع دلیل یہ ہے:
3259
Sahih
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۶۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: شَہِدْنَا ابْنَۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ عَلَی الْقَبْرِ، فَرَأَیْتُ عَیْنَیْہِ تَدْمَعَانِ، ثُمَّ قَالَ: ((ہَلْ مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ یُقَارِفِ اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ سُرَیْجٌ: یَعْنِی: ذَنْبًا، فَقَالَ أَبُوْ طَلْحَۃَ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَانْزِلَ۔)) قَالَ: فَنَزَلَ فِی قَبْرِہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۴۱۶)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک صاحب زادی کے جنازہ میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے، جس نے اِس رات کو (اپنی بیوی سے)ہم بستری نہ کی ہو؟ سریج نے کہا: اس کا معنی گناہ ہے، سیّدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اترو۔ پس وہ ان کی قبر میں اترے۔
Takhreej
(۳۲۶۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۸۵(انظر: ۱۳۳۸۳)
Explanation
فوائد: …سریج کا بیان کردہ معنی درست نہیں ہے، جیسا کہ اگلی روایت سے واضح ہو رہا ہے۔
3260
Sahih
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۶۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رُقَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلِ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَہْلَہُ۔)) فَلَمْ یَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْقَبْرَ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۳۱)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا انتقال ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔
Takhreej
(۳۲۶۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۷، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۲۵۱۲(انظر: ۱۳۳۹۸)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہb آپa کے بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاُولُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵)
3261
Sahih
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
۔ (۳۲۶۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَۃً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّہَا،وَحَثَا فِی قَبْرِہَا، وَقَعَدْ حَتّٰی یُؤْذَنَ لَہُ آبَ بِقِیْرَاطَیْنِ مِنَ الأَجْرِ، کُلُّ قِیْرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۸۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۲۶۲) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن ھرمز (انظر: ۱۰۸۷۵)
Explanation
فوائد: …’’مِنْ عُلُوِّھَا‘‘ کا مرادی معنی ’’مِنْ اِبْتِدَائِھَا‘‘ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
3262
Sahih
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
۔ (۳۲۶۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَنِی عُذْرَۃَ فَقُبِرَ لَیْلًا، فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْبَرَ الرَّجُلُ لَیْلًا حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْہِ إِلَّا أَنْ یَضْطَرُّوْا إِلٰی ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۱)
سیّدنا جابربن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بنو عذرہ خاندان کا ایک آدمی رات کو فوت ہوا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو دفن کرنے سے منع فرما دیا، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ لوگ (رات کو دفن) کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
Takhreej
(۳۲۶۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۴۳ (انظر: ۱۴۱۴۵، ۱۵۲۸۷)
Explanation
فوائد: …سیّدناجابرbکہتے ہیں: نبی کریم a نے ایک صحابی کا ذکر کیا، وہ فوت ہو گیا تھا، اسے ردی سا کفن دے کر رات کو دفن کر دیا گیا، پھر آپ a نے اس سے ڈانٹ دیا کہ بندے کو رات کو دفن کیا جائے، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ کوئی آدمی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ (صحیح مسلم)
3263
Sahih
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
۔ (۳۲۶۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِی مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائِ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَالْمَسَاحِی الْمَرُوْرُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن ہو جانے کا اس وقت علم ہوا کہ جب نے بدھ والی رات کے آخری حصے میں بیلچوں وغیرہ کی آوازیں سنیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: اَلْمَسَاحِیْ کا معنی بیلچہ ہے۔
Takhreej
(۳۲۶۴) تخریـج: …حدیث محتمل للتحسین أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۴۷(انظر: ۲۴۳۳۳)
Explanation
فوائد: …لفظ ’’اَلْمَسَاحِیْ‘‘ کے یہ دو معنی بیان کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ ابن اسحاق کی مراد بیلچوں وغیرہ کی آواز ہو، بہرحال مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔
3264
Sahih
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
۔ (۳۲۶۵) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الجْہُنَیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ثَـلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ یَنْہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہَا أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا: حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ، وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ الشَّمْس، وَحِیْنَ تَضَیَّفُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۱۲)
سیّدناعقبہ بن عامر جھنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا: (۱) جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، (۲) جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (۳) جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔
Takhreej
(۳۲۶۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۳۱(انظر: ۱۷۳۷۷)
Explanation
فوائد: …دوسری صورت سے مراد زوال کا وقت ہے، جب سورج کے وسطِ آسمان میں پہنچ جانے کی وجہ سے بظاہر کسی چیز کا سایہ مغرب اور مشرق کی طرف نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد نماز جنازہ جیسی سببی نماز پڑھنا درست ہے۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ طلوع آفتاب کی تکمیل کے بعد کراہت کا وقت ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ بعض احادیث میں عمومی طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے، اس مسئلے میں درج ذیل تفصیل کو سامنے رکھا جائے: سیّدنا عقبہ بن عامرb کی درج بالا حدیث، جس میں سورج کے بلند ہو جانے کا ذکر ہے۔ سیّدنا عمرو بن عبسہb
3265
Sahih
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
۔ (۳۲۶۶) عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ عَنْ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ یَنْطَلِقُ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَـلَا یَدَعُ بِہَا وَثَنَا إِلَّأکَسَرَہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاہُ وَلَا صُوْرَۃً إِلَّا لَطَخَہَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَانْطَلَقَ فَہَابَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ أَدَعْ بِہَا وَثَنَا إِلَّا کَسَرْتُہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّیْتُہُ، وَلَا صُوْرَۃً اِلَّا لَطَخْتُہَا، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَادَ لِصَنْعَۃِ شَیْئٍ مِنْ ہٰذَا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالاً وَلَا تَاجِرًا اِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ، فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمَسْبُوْقُوْنَ بِالْعَمَلِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷)
ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔
Takhreej
(۳۲۶۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، ابو محمد الھذلی لایعرف أخرجہ الطیالسی: ۹۶، وابویعلی: ۵۰۶ (انظر: ۶۵۷)
3266
Zaeef
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
۔ (۳۲۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ یُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرِ وَأَنْ یَلْطَخَ کُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَکْرَہُ أَنْ اَدْخُلَ بُیُوْتَ قَوْمِی، قَالَ: فَأَرْسَلَنِیْ، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ((یَا عَلِیُّ! لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا، وَلَامُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ مُسَوِّفُوْنَ اَوْ مَسْبُوْقُوْنَ فِی الْعَمَلِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۶)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
Takhreej
(۳۲۶۷) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یعنی آج کرتے ہیں، کل کر لیں گے، بس کر ہی لیں گے۔ وہ یہی باتیں کرتے کرتے وقت گزار دیتے ہیں، ان کو کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ یہ بڑا خطرناک انداز ہے، جس کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انداز سے بچائے۔ (آمین) نیکی کے کام جلد اور اول فرصت میں کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
3267
Zaeef
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
۔ (۳۲۶۸) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ أَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لأَبِیْہِ: لَأَبْعَثَنَّکَ فِیْ مَا بَعَثَنِی فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ کُلَّ صَنَمٍ۔ (مسند احمد: ۸۸۹)
جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔
Takhreej
(۳۲۶۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، یونس بن خباب کذبہ یحیی بن سعید، وقال ابن معین: رجل سوء ضعیف، وقال البخاری: منکر الحدیث۔ أخرجہ البزار: ۹۱۱(انظر: ۶۸۳، ۸۸۹)
Explanation
فوائد: …اس سلسلے میں سیّدنا علیbسے مروی درج ذیل روایت صحیح ہے: ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں:
3268
Zaeef
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
۔ (۳۲۶۹) عَنْ ثُمَامَۃَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فََضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌إِلٰی أَرْضِ الرُّوْمِ، وَکَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِیَۃَ عَلَی الدَّرْبِ، فَأُصِیْبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلّٰی عَلَیْہِ فَضَالَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَقَامَ عَلٰی حُفْرَتِہِ، حَتّٰی وَارَاہُ فَلَمَّا سَوَّیْنَا عَلَیْہِ حُفْرَتَہُ، قَالَ: أَخِفُّوْا عَنْہُ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُنَا بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۱)
ثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے تاآنکہ اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۲۶۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۶۸ (انظر: ۲۳۹۳۴)
3269
Sahih

Chapters

8
01
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
6 Hadith
03
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
3 Hadith
04
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
6 Hadith
05
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
9 Hadith
06
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
4 Hadith
07
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
4 Hadith
08
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
8 Hadith
No chapter matched that.