TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3590 - صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 20 of 20 in this chapter
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
۔ (۳۵۹۰) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَظَرَ إِلٰی رَجُلٍ یَصْرِفُ رَاحِلَتَہُ فِی نَوَاحِیْ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضَلٌ مِنْ ظَہْرٍ فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہُ،وَمَنْ کَانَ لَہُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہُ۔)) حَتّٰی رَاَیْنَا اَنْ لَاحَقَّ لِاَحَدٍ ِمنَّا فِی فَضْلٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۳)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔
3590
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۹۰) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۷۲۸(انظر: ۱۱۲۹۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔

Related Chapters

1,222
1
CHAPTER: The View That Half A Sa’ Of Wheat Is To Be Given As Sadaqah.
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
باب: صدقہ فطر میں کھجور دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
باب: صدقہ فطر میں کشمش (خشک انگور) دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: صدقہ فطر میں آٹا دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
باب: صدقہ فطر میں گیہوں دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
باب: صدقہ فطر میں بغیر چھلکے کا جو دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
باب: صدقہ فطر میں جَو دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: صدقہ فطر میں پنیر دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟
Sunnan Nisai
10
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Paying Zakat In Advance
باب: وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been Related About A Man Giving Charity Or Freeing A Slave At The Time Of His Death
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Whoever Dies While He Bears Witness To La Ilaha Illallah
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
صَدَقَة الْفطر
صدقہ فطر کا بیان
Mishkat
17
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Musnad Ahmad
22
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
23
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
Musnad Ahmad
24
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
25
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
27
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
Musnad Ahmad
28
دودھ چھڑاتے وقت عورت کو کچھ دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
30
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Bukhari
32
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
Sahih Bukhari
33
(28) CHAPTER. The examples of an alms-giver and a miser.
صدقہ دینے والے کی اور بخیل کی مثال کا بیان
Sahih Bukhari
34
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
35
(70) CHAPTER. Obligation of Sadaqat-ul-Fitr.
صدقہ فطر کا فرض ہونا
Sahih Bukhari
36
(71) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is compulsory on the free or the slave Muslims.
صدقہ فطر کا مسلمانوں پر یہاں تک کہ غلام لونڈی پر بھی فرض ہونا
Sahih Bukhari
37
(72) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of barley.
صدقہ فطر میں اگر جو دے تو ایک صاع ادا کرے
Sahih Bukhari
38
(73) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of meal (per head).
گیہوں یا دوسرا اناج بھی صدقہ فطر میں ایک صاع ہونا چاہیے
Sahih Bukhari
39
(74) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of dates (per head).
صدقہ فطر میں کھجور بھی ایک صاع نکالی جائے
Sahih Bukhari
40
(75) CHAPTER. (Sadaqat-ul-Fitr is) one Sa of raisins (dried grapes) (per head).
صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیے
Sahih Bukhari
41
(76) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is to be given before the Eid prayers.
صدقہ فطر نمازعید سے پہلے ادا کرنا
Sahih Bukhari
42
(77) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr (is compulsory) on a slave as well as on a free Muslim.
صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا
Sahih Bukhari
43
(78) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is obligatory on the young and the old.
صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے
Sahih Bukhari
44
(7) CHAPTER. Giving in charity at the time of death.
موت کے وقت صدقہ کرنا
Sahih Bukhari
45
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
46
Chapter: Zakat Al-Fitr is due from the muslims in the form of dates and barley
مسلمان کھجور اورجو سے صدقہ فطر (فطرانہ)ادا کرسکتے ہیں
Sahih Muslim
47
Chapter: The virtue of concealing (what is given in) charity
چھپا کر صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Muslim
48
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
Sahih Muslim
49
CHAPTER: Zakat For The Closing Of Fast At The End Of Ramadan.
باب: صدقہ فطر کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: When Sadaqah At The End Of Ramdan Is To Be Given.
باب: صدقہ فطر کب دیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

210
Musnad Ahmad
1234
۔ (۱۲۳۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ سَعَیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ (أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ)ؓ قَالَ: حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی کَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبَ ہَوِیًّا وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ فِی الْقِتَالِ مَا نَزَلَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ صَلَاۃُ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} فَلَمَّا کُفِیْنَا الْقِتَالَ وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا} أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّہْرَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیْہَا فِیْ وَقْتِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۲۱۶)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔
Musnad Ahmad
2280
۔ (۲۲۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَدَخَلَ أَعْرَابِیٌّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَجَلَسَ الْأَعْرَابِیُّ فِی آخِرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَکَعْتَ رَکْعَتَیْنِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَمَرَہُ، فَأَتَی الرَّحَبَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۹۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک بدو(مسجد میں) داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا، پس وہ منبر کے پاس خالی جگہ پرآیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔
Musnad Ahmad
2598
۔ (۲۵۹۸) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ صَلّٰی رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یَرْکَعُ قَبْلَ أَنْ یَرْکَعَ، وَیَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ یَرْفَعَ،فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ قَالَ: ((مَنْ فَعَلَ ھٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَالِکَ أَمْ لَا۔ فَقَالَ: ((اِتَّقُوْا خِدَاجَ الصَّلَاۃِ اِذَا رَکَعَ الْاِمَامُ فَارْکَعُوْا وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی،وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے رکوع کر دیتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے اٹھ جاتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا: اس طرح کرنے والا کون تھا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تھا، میں یہ جاننا پسند کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کے نقصان سے بچا کرو،جب امام رکوع کرے تو تب رکوع کیا کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تب تم سر اٹھایا کرو۔
Musnad Ahmad
2643
۔ (۲۶۴۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوْا فَأْتَمُّوا بِیْ، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۲)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخوہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
Musnad Ahmad
2865
۔ (۲۸۶۵) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی الْفِطْرِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَالْأَضْحٰی‘‘ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَھُمْ جُلُوْسٌ فَیَقُوْلُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَکَانَ أَکْثَرَ مَا یَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئِ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ فِی الْبَعْثِ ذَکَرَہُ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ انْصَرَفَ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَاِنْ کَانَ یُرِیْدُ أَنْ یَضْرِبَ عَلَی النَّاسِ بَعْثًا ذَکَرَہُ وَاِلَّا انْصَرَفَ ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۳۵)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔
Musnad Ahmad
3476
۔ (۳۴۷۶) عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اُصِیْبَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْاعَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوا مَا وَجَدْتُّمْ وَلَیْسَ لَکُمْ إِلاَّ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔
Musnad Ahmad
3529
۔ (۳۵۲۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَ فُلَانًا یُحْسِنَانِ الثَّنَائَ، یَذْکُرَانِ اَنَّکَ اَعْطَیْتَہُمَا دِیْنَارَیْنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لٰکِنْ وَاللّٰہِ! فُلَانًا مَا ہُوَ کَذٰلِکَ، لَقَدْ اَعْطَیْتُہُ مِنْ عَشَرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ، فَمَا یَقُوْلُ ذَاکَ، اَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّ اَحَدَکُمْ لَیُخْرِجُ مَسْاَلَتَہُ مِنْ عِنْدِییَتَاَبَّطُہَایَعْنِی تَکُوْنَ تَحْتَ إِبْطِہِ یَعْنِی نَارًا۔)) قَالَ: قاَلَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ تُعْطِیْہَا إِیَّاہَمْ؟ قَالَ: ((فَمَا اَصْنَعُ؟ یَاْبَوْنَ إِلاَّ ذَاکَ وَیَاْبَیْ اللّٰہُ لِیَ الْبَخْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۷)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں اور فلاں آدمی کو سنا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر ِ خیر کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دو دینار دیئے تھے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!فلاں آدمی تو اس طرح کا نہیںہے، میں نے تو اسے دس سے سو دینار دیئے ہیں، لیکن اس نے تو (احسان مند ہونے کی اور اچھے کلمات کہنے کی) کوئی بات ہی نہیں کی۔ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کا سوال مجھ سے کوئی مال نکال تو لیتا ہے، پھر بغل میں دبا کر چلا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی بغل کے نیچے آگ دے رہا ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں کو دیتے کیوں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں، وہ مانگنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بخل نہیں کرنے دیتا۔
Musnad Ahmad
3619
۔ (۳۶۱۹) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یصُلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّانِیَۃَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّاِلَثۃَ فَاَمَرَہُ اَنْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَفَعَلُوْا، فَاَعْطَاہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقُوْا۔)) فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، فَانْتَہَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَرِہَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا إِلٰی ھٰذَا فَإِنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِی ہَیْئَۃٍ بَذَّۃٍ، فَدَعَوْتُہُ فَرَجَوْتُ اَنْ تُعْطُوْا لَہُ فَتَصَدَّقُوا عَلَیْہِ وَتَکْسُوْہُ فَلَمْ تَفْعَلُوْا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَتَصَدَّقُوْا، فَاَعْطَیْتُہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوْا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوْا فَاَلْقٰی اَحَدَ ثَوْبَیْہِ، خُذْ ثَوْبَکَ۔)) وَانْتَہَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۱۵)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا ، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا تھا، اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کی طرح اسے بلایا اور (دو رکعت نماز پڑھنے کا) حکم دیا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو بھی آیا،اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ لوگوں نے ایسے ہی کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمع شدہ صدقات میں سے دو کپڑے اس شخص کو بھی دیئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: صدقہ کرو۔ تو اس نے بھی انہیں ہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ڈانٹا اور اس کے فعل پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا: اس کو دیکھو،یہ انتہائی کسمپرسی والی حالت میں مسجد میںآیا،میں نے اس کو بلایا، کیونکہ مجھے یہ امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کرتے ہوئے اسے کچھ دو گے اور اسے لباس عطا کرو گے، لیکن تم نے ایسے نہیں کیا، اس لے میں نے تمہیں کہا: صدقہ کرو، پھر تم نے جو صدقہ کیا، اس میں سے میں نے اس کو دوکپڑے دیئے، میں نے پھر تم سے کہا کہ صدقہ کرو، اب کی بار اس نے بھی ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقے میں دیا۔پکڑ لے اپنا کپڑا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو ڈانٹا۔
Musnad Ahmad
5090
۔ (۵۰۹۰)۔ عَنْ رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ قَالَ: کَتَبَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَدِیمٍ أَحْمَرَ، فَأَخَذَ کِتَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَقَعَ بِہِ دَلْوَہُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً، فَلَمْ یَدَعُوْا لَہُ رَائِحَۃً وَلَا سَارِحَۃً وَلَا أَہْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوہُ، وَانْفَلَتَ عُرْیَانًا عَلٰی فَرَسٍ لَہُ لَیْسَ عَلَیْہِ قِشْرَۃٌ حَتّٰی یَنْتَہِیَ إِلٰی ابْنَتِہِ وَہِیَ مُتَزَوِّجَۃٌ فِی بَنِی ہِلَالٍ، وَقَدْ أَسْلَمَتْ وَأَسْلَمَ أَہْلُہَا، وَکَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَائِ بَیْتِہَا، فَدَارَ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہَا مِنْ وَرَائِ الْبَیْتِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَتْہُ أَلْقَتْ عَلَیْہِ ثَوْبًا، قَالَتْ: مَا لَکَ؟ قَالَ: کُلُّ الشَّرِّ نَزَلَ بِأَبِیکِ مَا تُرِکَ لَہُ رَائِحَۃٌ وَلَا سَارِحَۃٌ وَلَا أَہْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ، قَالَتْ: دُعِیتَ إِلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ: أَیْنَ بَعْلُکِ؟ قَالَتْ: فِی الْإِبِلِ، قَالَ: فَأَتَاہُ، فَقَالَ: مَا لَکَ؟ قَالَ: کُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِہِ مَا تُرِکَتْ لَہُ رَائِحَۃٌ وَلَا سَارِحَۃٌ وَلَا أَہْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ، وَأَنَا أُرِیدُ مُحَمَّدًا أُبَادِرُہُ قَبْلَ أَنْ یُقَسِّمَ أَہْلِی وَمَالِی، قَالَ: فَخُذْ رَاحِلَتِی بِرَحْلِہَا، قَالَ: لَا حَاجَۃَ لِی فِیہَا، قَالَ: فَأَخَذَ قَعُودَ الرَّاعِی وَزَوَّدَہُ إِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ، قَالَ: وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّی بِہِ وَجْہَہُ خَرَجَتْ اسْتُہُ، وَإِذَا غَطَّی اسْتَہُ خَرَجَ وَجْہُہُ، وَہُوَ یَکْرَہُ أَنْ یُعْرَفَ حَتَّی انْتَہٰی إِلَی الْمَدِینَۃِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَہُ، ثُمَّ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ بِحِذَائِہِ حَیْثُ یُصَلِّی، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ابْسُطْ یَدَیْکَ فَلْأُبَایِعْکَ، فَبَسَطَہَا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَضْرِبَ عَلَیْہَا قَبَضَہَا إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَفَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذٰلِکَ ثَلَاثًا، قَبَضَہَا إِلَیْہِ وَیَفْعَلُہُ، فَلَمَّا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ قَالَ: ((مَنْ أَنْتَ؟)) قَالَ: رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَضُدَہُ ثُمَّ رَفَعَہُ ثُمَّ قَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ! ہٰذَا رِعْیَۃُ السُّحَیْمِیُّ الَّذِی کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَأَخَذَ کِتَابِی۔)) فَرَقَعَ بِہِ دَلْوَہُ فَأَخَذَ یَتَضَرَّعُ إِلَیْہِ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَہْلِی وَمَالِی، قَالَ: ((أَمَّا مَالُکَ فَقَدْ قُسِّمَ، وَأَمَّا أَہْلُکَ فَمَنْ قَدَرْتَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ۔)) فَخَرَجَ فَإِذَا ابْنُہُ قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَۃَ وَہُوَ قَائِمٌ عِنْدَہَا فَرَجَعٰ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ہٰذَا ابْنِی، فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ اخْرُجْ مَعَہُ فَسَلْہُ أَبُوکَ ہٰذَا، فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ فَادْفَعْہُ إِلَیْہِ۔)) فَخَرَجَ بِلَالٌ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَبُوکَ ہٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَرَجَعَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا رَأَیْتُ أَحَدًا اسْتَعْبَرَ إِلٰی صَاحِبِہِ، فَقَالَ: ((ذَاکَ جَفَائُ الْأَعْرَابِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۳۳)
۔ رعیہ سحمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ چمڑے کے ٹکڑے پر میری طرف خط لکھا، میں نے وہ خط لیا اور اس کے ساتھ اپنے ڈول کو مرمت کر لیا، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، اس لشکر نے نہ میرے اونٹ چھوڑے، نہ مویشی، نہ اہل اور نہ مال، بلکہ سب کچھ لے لیا، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ننگی حالت میں بھاگ گیا، مجھ پر کوئی کپڑا نہیں تھا، یہاں تک کہ میں اپنی بیٹی کے پاس پہنچ گیا، بنو ہلال میں اس کی شادی ہوئی ہوئی تھی، وہ اور اس کے گھر والے مسلمان ہو چکے تھے اور لوگ اسی کے گھر کے صحن میں مجلس لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پس میں گھوما اور گھر کے پیچھے سے اپنی بیٹی پر داخل ہوا، جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ پر کپڑے ڈالے اور کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا شرّ تیرے باپ پر ٹوٹ پڑا ہے، نہ اونٹ بچے ہیں، نہ مویشی، نہ اہل اور نہ مال، بلکہ ہر چیز چھین لی گئی ہے، بیٹی نے کہا: آپ کو اسلام کی دعوت تو نہیں دی گئی؟ میں نے آگے سے کہا: تیرا خاوند کہاں ہے؟ اس نے کہا: اونٹوں میں ہے، پس میں ا س کے پاس پہنچا اور اس نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا شرّ مجھ پر ٹوٹ پڑا ہے، میرے اونٹ، مویشی، اہل اور مال، بس سب کچھ مجھ سے چھین لیا گیا ہے اور میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جلدی جلدی پہنچنا چاہتا ہوں، تاکہ وہ میرے پہنچنے سے پہلے میرے اہل و مال کو تقسیم نہ کر دیں، اس نے کہا: یہ میرے اونٹنی کجاوے سمیت ہے، تم یہ لے لو، میں نے کہا: اس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، پھر اس نے چرواہے کا اونٹ لیا اور چمڑے کے چھوٹے مشکیزے میں پانی ڈال کر بطورِ زادِ راہ دیا۔ مجھ پر اتنا کپڑا تھا کہ اگر اس سے سر ڈھانپتا تو سرین ننگے ہو جاتے اور اگر سرین پر پردہ کرتا تو چہرہ ننگا ہو جاتا، جبکہ میںچاہتا یہ تھا کہ کوئی آدمی مجھے پہچان نہ سکے، بہرحال میںمدینہ منورہ پہنچ گیا، سواری کو باندھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہاتھ پھیلائیں، میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ پھیلایا، لیکن جب میں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ایسے ہی کیا، پھر تیسری بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہے کون؟ میں نے کہا: جی میں رعیہ سحیمی ہوں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا بازو پکڑ ا اور اس کو بلند کر کے فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! یہ رعیہ سحیمی ہے، یہ وہی ہے، جس کی طرف میں نے خط لکھا تھا اور اس نے اس خط کے ساتھ اپنا ڈول مرمت کیا تھا۔ پھر منت سماجت کرنے لگا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرا اہل و مال، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا مال تو تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل میں سے جو افراد لے سکتا ہے، وہ لے لے۔ پس میں وہاں سے نکلا اور میرے بیٹے نے میری سواری کو پہنچان لیا اور وہ اس کے پاس ہی کھڑا تھا، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹا اور کہا: یہ میرا بیٹا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم جاؤ اور اس بچے سے پوچھو کہ کیا اس کا باپ یہی ہے، اگر وہ مثبت جواب دے تو اس کو اس کے حوالے کر دینا۔ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس بچے کی طرف گئے اور اس سے پوچھا: یہ تیرا باپ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس باپ اور بیٹے میںکسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوسرے کو ملتے وقت آنسو بہائے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بدوؤںکی اکھڑ مزاجی اور سختی ہے۔