۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
۔ مولائے رسول سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عبد الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔
فوائد:… یہ کل پینتیس چھتیس روزے بن جاتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو ہوتا ہی ہے، اس اعتبار سے روزوں کی اس مقدار کا ثواب (۳۵۰) یا (۳۶۰) روزوں تک جا پہنچتا ہے، اس اعتبار سے اس حدیث میں سال بھر کے روزوں کے ثواب کی بات کی گئی ہے۔
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۳۶۶۱) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۲۲۰۲۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہوا کہ مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادات کی اپنی مخصوص عادت کو اپنے حق میں کافی سمجھنے لگے، دیکھیں اگر ایک آدمی اس حدیث کو سامنے رکھ کرمشرف باسلام ہوتا ہے، نماز ادا کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے روک دیا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ان تین اعمال کے ہی ہو کر رہ جائیں اورمزید کوئی عمل نہ کریں۔
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۶۲) تخر یـج:اسنادہ ضعیف، فیہ راو لم یسم، وھو شیخ عکرمۃ بن خالد۔ اخرجہ البھیقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۸۷۰(انظر: ۱۵۴۳۴)
Explanation
فوائد:… ’’فَلْقِ فِیْ‘‘ میں ’’فَلْق‘‘ کے معانی پھٹن اور شگاف کے اور ’’فِیْ‘‘ کے معانی منہ کے ہیں، صحابی کا مقصود یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔
۔ ایک بدّو بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے سینے کے کینے اور وسوسے کو ختم کر دیتے ہیں۔
فوائد:… صبر والے مہینے سے مراد ماہِ رمضان ہے۔ ہر عبادت کی برکت ہوتی ہے، جب آدمی روزے کی وجہ سے جھوٹ اور غیبت اور دوسرے حرام امور سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جائز خواہشات تک کوکنٹرول کرتا ہے، تو اس سے مزید نیکی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے اور اس سے بندہ کئی برائیوں کو ترک کرنے کا اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے کا عزم کر لیتا ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
فوائد:… جنت کے دروازوں کا کھلنا، جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہو جانا۔ ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر ہی محمول کرنا چاہیے۔ صرف مؤخر الذکر چیز سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر ماہِ مقدس میں نافرمانیوں کا سلسلہ کیوں جاری رہتا ہے؟
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا:
(۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو مقید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک رمضان گزر جاتا ہے۔
فوائد:… رمضان المبارک اس اعتبار سے منفرد مہینہ ہے کہ اس میں کئی لوگوں کو ان کے مزاج برائیوں سے دور کر کے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ نیکی کے متلاشی کو خوشخبری دینے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ آسانی کے ساتھ نیکیوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا، اور دوسرییہ کہ نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملے گا، اس پر مستزاد یہ کہ نیکیوں کا ماحول اور معاشرے سے طبعی شرم و حیا بھی راہِ راست پر چلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ برائی کو چاہنے والے کو آوازدینے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اب تو برائیوں سے رک جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، کیونکہیہ توبہ کی قبولیت کا زمانہ ہے اور مغفرت کے اسباب کے لیے مستعد ہو جانے کا وقت ہے، ایسے موسم میں تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اپنی برائیوں پر اڑا رہے۔
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔
فوائد:… ویسے تو سخاوت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مستقل وصف تھا، لیکن جب سید الملائکہ جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی، نئے علوم و تجلیات سے واسطہ پڑتا، مزاج میں مزید رفعت پیدا ہو جاتی، محسنِ حقیقی کے مخصوص احسانات وصول ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود جودو سخا والے عنصر کو ترقی ملتی اور بندگانِ خدا کے ساتھ انعام و احسان کا سلسلہ پہلے سے بڑھ کر شروع ہو جاتا، اس وصف میں اضافے کا سبب خود ماہِ رمضان بھی ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جبرائیل رضی اللہ عنہ کی ملاقات سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احساس اور مزاج میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی تھی، اس چیز کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جنسیں مختلف ہیں، ایک طرف سے سید البشر ہیں اور دوسری طرف سے سید الملائکہ ہیں، جب کہ ہم صرف اپنے ہم جنسوں سے مانوس ہونے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاںدی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیلیہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاںکرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جو وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔
Takhreej
(۳۶۶۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف جدا، ہشام بن ابی ہشام متفق علی ضعفہ، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ اخرجہ البزار: ۹۶۳، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۶۰۲(انظر: ۷۹۰۴)
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکنیہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔
فوائد:… رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی بخشش کے کئی اسباب سے متصف ہے، لیکن جو آدمی اس ماہِ مقدس میں بھییہ اسباب جمع نہ کر سکا، وہ اس اہل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے بد دعا کریں۔
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔
Takhreej
(۳۶۷۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، کثیر بن زید لیس بالقوی،یکتب حدیثہ للمتابعات، وعمرو بن تمیم، قال البخاری عن حدیثہ ھذا: فیہ نظر، وابوہ تمیم مجھول۔ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۸۸۴، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲، والبیھقی: ۴/ ۳۰۴ (انظر: ۸۳۶۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔
Takhreej
(۳۶۷۱) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مؤمن کی روٹینیہ ہوتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں ضرورت پڑنے والے اسبابِ معیشت کا پہلے سے ہی انتظام و انصرام کر لیتا ہے، تاکہ ماہِ مبارک کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو جائے۔مثلا: سحری و افطاری، صدقہ و خیرات، رات کا قیام، اعتکاف اور مزید فرائض و نوافل۔ لیکن مؤمن کی اس ظاہری غفلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منافق بیچارہ اپنے شرّ میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہے کہ اہل ایمان کو کس کس انداز میں نقصان پہنچا سکتا ہے یا پریشان کر سکتا ہے۔
۔ سیدنا زیاد بن نعیم خضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسلام میں چار امور فرض کیے ہیں، جو آدمی ان میں سے تین پر عمل کرتا ہے، تووہ اسے اس وقت تک کفایت نہیں کریں گے، جب تک وہ ان سب پر عمل نہیں کرے گا، (وہ چار امور یہ ہیں:) نماز، زکوٰۃ، ماہِ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔
Takhreej
(۳۶۷۲) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، ثم زیاد بن نعیم الحضرمی تابعی، فالحدیث مرسل ایضا (انظر: ۱۷۷۸۹)
Explanation
فوائد:… مشرف باسلام ہونے کے بعد یہی چار فرائض ہیں، جن سے مسلمان کا سب سے پہلے واسطہ پڑتا ہے۔
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، …… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَآمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ …… ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔)
Takhreej
(۳۶۷۳) تخر یـج: قال الالبانی: صحیح۔ اخرجہ ابوداود:۵۰۷(انظر: ۲۲۱۲۴)
Explanation
فوائد:… مسلمانوں پر جو روزے فرض ہیں، ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے: سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کے روزے فرض ہے، روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہے، روزہ نہ رکھ سکنے والا مستقل مریض اور کمزور بزرگ ایک روزہ ترک کرنے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کے لیےیہ حکم ہے کہ اگر وہ اس سفر اور بیماری کے دوران روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضائی دے دیں۔ لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
(۱) ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، سترہ مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
(۲) رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
(۳) مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، …۔ یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔ بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔
۔ نضر بن شیبان کہتے ہیں:میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ماہِ رمضان کے بارے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میرے باپ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں رمضان کے قیام کو مسنون قرار دیتاہوں، جو کوئی اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اس مہینے کے روزے رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو جائے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔
Takhreej
(۳۶۷۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، النضر بن شیبان الحرانی، قال ابن معین: لیس حدیثہ بشیئ، وقال البخاری فی حدیثہ ھذا: لم یصح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۲۸، والنسائی: ۴/ ۱۵۸(انظر: ۱۶۶۰)
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! روزہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرض ہے، جس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۳۶۷۵) تخر یـج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۱۳۶۵)
Explanation
فوائد:… یعنییہ نیک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا۔
۔ سیدناطلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چاند کو لوگوں کے اوقات کی علامت بنایا ہے، لہٰذا چاند دیکھ کر روزے شروع کیا کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔
فوائد:… رمضان کے روزے، شعبان کے روزے، ذوالحجہ کے پہلے دس دن، یوم عاشورائ، حج، حج کے مہینوں، عید الفطر، عید الاضحی جیسی مہینوں سے متعلقہ اسلامی عبادات کے وقت کا تعین چاند کے ذریعے کیا جائے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَھِلَّۃِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ} … ’’لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادات) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے۔۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۸۹) وقت سے پہلے اسلامی کیلنڈر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تعین نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لیے ہر مہینے سے متعلقہ عبادت کا یہ تقاضا ہے کہ از سرِ نو اس ماہ کا چاند دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ چاند دیکھنے کا جو طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رائج تھا اور جدید مشینوں کی ایجاد سے پہلے تک جاری رہا، آج بھی اسی کے مطابق فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ افق کی فلمیں بنا کر ان میں چاند کو تلاش کرتے رہنا، سمندر کے پانی میں دیکھنے کا اہتمام کرنا، انتہائی حساس دور بینیں استعمال کرنا اور غروبِ آفتاب کے دو دو گھنٹے بعد چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی اطلاع دینا، افق پر بادلوں کے باوجود مختلف طریقوں سے کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر ان سب طریقوں میں تکلف پایا جاتا ہے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے ترک کیا کرو، ہاں اگر بادل کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔