TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمرہ کے ابواب - عمرہ کے ابواب - Book 71 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 71 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 44 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

44 Hadith · 11 Chapters
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۴)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِیْ ذِی الْقَعْدَۃِ وَلَقَدْ اِعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی قعدہ میں ہی عمرے کئے تھے اور کل تین عمرے کیے تھے۔
Takhreej
(۴۱۱۴) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۹۷(انظر: ۲۵۹۱۰)
Explanation
فوائد: … اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع والے عمرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
4114
Sahih
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
۔ (۴۱۱۵) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سُئِلَ کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: مَرَّتَیْنِ ، فَقَالَتْ: عاَئِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَۃً، سِوَی الَّتِیْ قَرَغہَاَ بِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد:۵۳۸۳)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔
Takhreej
(۴۱۱۵) تخریج: صحیح بالشواھد ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۹۲، وأخرجہ البخاری: ۱۷۷۵، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ۴۲۵۴، ومسلم: ۱۲۵۵ مطولا بلفظ: … یا ام المؤمنین! الا تسمعی ما یقول ابوعبد الرحمن؟ یقول: اعتمر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اربعا، احداھن فی رجب؟ فقالت: یرحم اللہ ابا عبد الرحمن، أما انہ لمیعتمر عمرۃ الا وھو شاھدھا، وما اعتمر شیئا فی رجب۔ (انظر: ۵۳۸۳)
Explanation
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چار عمروں کا تذکرہ کیا ہے، اس حدیث میں حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اول الذکر سے روک لیا گیا تھا اور مؤخر الذکر حج کے ساتھ ملا ہوا تھا، دوسرے دو عمروں کی طرح مستقل نہیں تھا۔
4115
Sahih
عمرۂ حدیبیہ کا بیان
۔ (۴۱۱۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَحَر ہَدْیَہُ، وَحَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، فَصَالَحَہُمْ عَلٰی أَنْ یَعْتَمِرُوْا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا یَحْمِلُ السِّلَاحَ عَلَیْہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَلَا یَحْمِلُ سِلَاحًا) إِلَّا سُیُوْفًا وَلَا یُقِیْمُ بِہَا إِلَّا مَا أَحَبُّوْا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَہَا کَمَا کَانَ صَالَحَہُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمْرُوْہُ أَنْ یَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ (مسند احمد: ۶۰۶۷)
۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، لیکن کفارِ قریش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی ہَدی کاجانور ذبح کر دیا اور اپنا سر منڈوا لیا، اور ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کے لئے آ سکیں گے اور ان میں سے کوئی مسلح نہ ہو گا، البتہ ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ اس وقت تک ٹھہر سکیں گے، جب تک کفار چاہیں گے، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آئندہ سال آ کر عمرہ کیا، معاہدہ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انہوںنے کہا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے آئے۔
Takhreej
(۴۱۱۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرج البخاری: ۲۷۰۱، ۴۲۵۲ مثلہ (انظر: ۶۰۶۷)
Explanation
فوائد: … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس موقع پر ذوالقعدہ کے شروع میں۶ھ میں مدینہ منورہ سے نکلے تھے، یہ سوموار کا دن تھا۔
4116
Sahih
عمرۂ حدیبیہ کا بیان
۔ (۴۱۱۷) عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: قَلَّدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدْیَ وَأَشْعَرَہُ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ وَأَحْرَمَ مِنْہَا بِالْعُمْرَۃِ، وَحَلَقَ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ فِی عُمْرَتِہِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذَالِکَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۸)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہَدی کے جانوروں کو قلادے ڈالے، ذوالحلیفہ کے مقام پر ان کے پہلوئوں پر علامتی چیرا دیا اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن حدیبیہ کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرمنڈوا دیا اور اپنے صحابہ کو بھییہی کچھ کرنے کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور صحابہ کو بھییہی حکم دیا۔
Takhreej
(۴۱۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۱۱، ۲۷۳۱، ۲۷۳۲(انظر: ۱۸۹۲۰)
Explanation
فوائد: … ’’کتاب الھدایا و الضحایا‘‘ میں ہدی اور قربانی کے احکام کی تفصیل بیان ہو گی۔
4117
Sahih
عمرۂ قضاء کا بیان
۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ طواف کیا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی، ہم نے اس دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیرے میں لئے رکھا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔
Takhreej
(۴۱۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۸۸(انظر: ۱۹۱۲۹)
4118
Sahih
عمرۂ قضاء کا بیان
۔ (۴۱۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَہُ، وَصَلّٰی وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکُنَّا نَسْتُرُہْ ُمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ لَا یُصِیْبُہُأَحَدٌ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۴۰)
۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔
Takhreej
(۴۱۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۰۰، ۱۷۹۱، ومسلم: ۱۳۳۲(انظر: )
Explanation
فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیاجائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ ٔ قضاء کے موقع پر کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر داخل ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے ہوا تھا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
4119
Sahih
عمرۂ جعرانہ کا بیان
۔ (۴۱۲۰)عَنْ مُحَرِّشٍ الْکَعْبِیِّ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ لَیْلًا مِنَ الْجِعْرَانَۃِ، حِیْنَ أَمْسٰی مُعْتَمِرًا فَدَخَلَ مَکَّۃَ لَیْلًا فَقَضٰی عُمْرَتَہُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ لَیْلَتِہِ فَأَصْبَحَ بِالْجِعْرَانَۃِ کَبَائِتٍ حَتّٰی إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ فِیْ بَطْنِ سَرِفَ، حَتّٰی جَامَعَ الطَّرِیْقَ طَرِیْقَ الْمَدِیْنَۃِ بِسَرِفَ، قَالَ مُحَرِّشٌ: فَلِذٰلِکَ خَفِیَتْ عُمْرَتُہُ عَلٰی کَثِیْرٍ مِنَ النَّاسِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَنَظَرْتُ إِلٰی ظَھْرِہِ کَأَنَّہُ سَبِیْکَۃُ فِضَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۴)
۔ سیدنا محرش کعبی خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کرنے کے لیے رات کو جعرانہ سے روانہ ہوئے اوررات کو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا، پھر اسی رات کو وہاں سے نکل آئے اور صبح کے وقت جعرانہ میں تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جعرانہ میں ہی رات گزاری ہے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ سے وادیٔ سرف کی طرف نکلے اور سرف سے نکلنے والے مدینہ منورہ والے راستے پر آ گئے۔ سیدنا محرش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمرہ کی اطلاع نہ ہو سکی، ایک روایت میں ہے: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت مبارک کی طرف دیکھا گویا وہ (صفائی ستھرائی میں) چاندی کی لڑی تھی۔
Takhreej
(۴۱۲۰) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۹۶، والترمذی: ۹۳۵، والنسائی: ۵/ ۲۰۰ (انظر: ۱۵۵۱۹)
Explanation
فوائد: … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے۸ھ میں ہونے والے غزوۂ حنین کی غنیمتیں جعرانہ کے مقام پر تقسیم کی تھیں،یہ مقام مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ہے اور مکہ مکرمہ سے زیادہ قریب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس موقع پر راتوں رات عمرہ کر کے واپس آ گئے تھے۔ اس عمرے کا انکار کرنے والوں کو اس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
4120
Sahih
ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
۔ (۴۱۲۱)عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَجَالَسْنَاہُ قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ہٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: بِدْعَۃٌ، فَقُلْنَا لَہُ: کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، قَالَ: فَاسْتَحْیَیْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَسَمِعْنَا اسْتِنانَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ لَہَا عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَلاَ تَسْمَعِیْ مَا یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ؟ یَقُوْلُ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعًا إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَعْتَمِرْ عُمْرَۃً إلِاَّ وَہُوَ شَاہِدُہَا، وَمَا اعْتَمَرَ شَیْئًا فِی رَجَبٍ۔ (مسند احمد:۶۱۲۶)
۔ مجاہدکہتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے، وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انھوں نے کہا: چار اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر ہم اس سے شرما گئے کہ ان کی غلطی کی نشاندہی کر سکیں، اتنے میں ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، وہ اس موقع پر حاضر ہو تے تھے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
Takhreej
(۴۱۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۴، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ومسلم: ۱۲۵۵(انظر: ۶۱۲۶)
Explanation
فوائد: … نمازِ چاشت مسنون اور فضیلت والا عمل ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے اسے بدعت کہنے سے مراد اس نماز کو مسجد میں ظاہر کرنا اور اکٹھے ہو کر اس کو ادا کرنا ہے۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ جو عمل جس انداز میں عہدِ نبوی میں سر انجام دیا گیا، اس کو اسی حالت میں برقرار رکھنا چاہیے، درج ذیل روایت سے اس تاویل کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کچھ لوگوں کو مسجد میں اکٹھے ہو کر نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، ان پر انکار کیا اور کہا: اگر یہ نماز لازمی طور پر پڑھنی ہی ہے تو اس کو اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۴۰۵)
4121
Sahih
ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
۔ (۴۱۲۲) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ: أَخْبِرْنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ، مُسْتَنِدَیْنِ إِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا إِنَّا لَنَسْمَعُہَا، تَسْتَنُّ، قُلْتُ: أَمَّاہ! مَا تَسْمَعِیْنَ ماَ یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَتْ: مَا یَقُوْلُ؟ قُلْتُ: یَقُوْلُ اِعْتَمَر النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ، قَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، نَسِیَ، مَا اعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ یَسْمَعُ فَمَا قَالَ لاَ وَلَا نَعَمْ، سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۸۳)
۔ (دوسری سند) عروہ بن زبیر کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حجرۂ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، میں نے کہا: اماں جان! کیا آپ نے ابو عبد الرحمن کی بات نہیں سنی؟ انھوں نے کہا: وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں عمرہ کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبد الرحمن کو بخشے، وہ بھول گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ ساری بات سن رہے تھے، لیکن انھوں نے نہ منفی میں کچھ کہا اور نہ اثبات میں، بلکہ خاموش رہے۔
Takhreej
(۴۱۲۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ ادا نہیں کیا تھا، تین عمرے ذوالقعدہ میں ادا کیے اور ایک ذوالحجہ میں، دوسری روایت کے مطابق سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا خاموش ہو جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان پر یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا تھا، یا وہ بھول گئے تھا یا کوئی شک پڑ گیا تھا۔
4122
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ حَدَّثَنَا یَحْیٰی حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَہُوَ فِیْ بَنِی سَلِمَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ حَجَّۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَثَ بِالْمَدِیْنَۃِ تِسْعَ سِنِیْنَ لَمْ یَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِیْ النَّاسِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجٌّ ہٰذَا الْعَامَ، قَالَ: فَنَزَلَ الْمَدِیْنَۃَبَشَرٌ کَثِیْرٌ کُلُّہُمْ یَلْتَمِسُ أَنْ یَحُجَّ وَیَأْتَمَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْعَلَ مِثْلَ مَا یَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَشْرٍ بَقِیْنَ مِنْ ذِیْ الْقَعْدَۃِ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ نَفِسَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((اِغْتَسِلِیْ، ثُمَّ اسْتَذْفِرِی بِثَوْبٍ ثُمَّ أَہِلِّی۔)) فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ بِالتَّوْحِیْدِ ((لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)) وَلَبَّی النَّاسُ، وَالنَّاسُ یَزِیْدُوْنَ ذَا الْمَعَارِجِ، وَنَحْوَہُ مِنَ الْکَلَامِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْمَعُ فَلَمْ یَقُلْ لَہُمْ شَیْئًا، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِی، وَبَیْنَیَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ، وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، وَعَنْ یَمِیْنِہِ مِثْلُ ذَالِکَ وَعَنْ شِمَالِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، قَالَ جَابِرٌ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أَظْہُرِنَا عَلَیْہِیَنْزِلُ الْقُرْاٰنُ وَہُوَ یَعْرِفُ تَأْوِیْلَہُ وَمَا عَمِلَ بِہِ مِنْ شَیْئٍ عَمِلْنَا بِہِ، فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِی إِلَّا الْحَجَّ حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَاسْتَلَمَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَۃً وَمَشٰی أَرْبَعَۃً حَتّٰی إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلٰی مَقَامِ إِبْرَاہِیْمَ فَصَلّٰی خَلْفَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} قَالَ أَبِی: قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی جَعْفَرًا، فَقَرَأَ فِیْہِمَا بِالتَّوْحِیْدِ، وَ {قُلْ یَآ أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَخَرَجَ إِلَی الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} ثُمَّ قَالَ: ((نَبَدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہِ۔)) فَرَقِیَ عَلَی الصَّفَا حَتّٰی إِذَا نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ کَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی ہٰذَا الْکَلَامِ ، ثُمَّ نَزَلَ حَتّٰی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِی الْوَادِی رَمَلَ، حَتّٰی إِذَا صَعِدَ مَشٰی حَتّٰی أَتَی الْمَرْوَۃَ فَرَقِیَ عَلَیْہَا حَتّٰی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَقََالَ عَلَیْہَا کَمَا قَالَ عَلَی الصَّفَا، فَلَمَّا کَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ، قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُہٗلَمْأَسُقِ الْہَدْیَ، وَلَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ، وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً۔)) فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ، فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ وَہُوَ فِیْ أَسْفَلِ الْمَرْوَۃِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلِعَامِنَا ہٰذَا أَمْ لِلْاَبَدِ؟ فَشَبَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَأَصَابِعَہُفَقَالَ: ((لِلْاَبَدِ۔)) ثَلَاثَمَرَّاتٍ،ثُمَّقَالَ: ((دَخَلَتِالْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ فَقَدِمَ بِہَدْیٍ، وَسَاقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ہَدْیًا، فَإِذَا فَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا، وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَالِکَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ بِالْکُوْفَۃِ، قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِی ہَذَا الْحَرْفُ لَمْ یَذْکُرْہُ جَابِرٌ، فَذَہَبْتُ مُحَرِّشًا، أَسْتَفْتِی بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الَّذِیْ ذَکَرَتْ فَاطِمَۃُ، قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَۃَ لَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا وَ اکْتَحَلَتْ وَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ أَبِی، قَالَ: ((صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرَتُہَا بِہِ۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَقَالَ لِعَلِیٍّ: ((بِمَ أَہْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی اُھِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُوْلُکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَمَعِیَ الْہَدْیُ، قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ۔)) قَالَ: فَکَانَتْ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِیْ أَتٰی بِہِ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ الْیَمِنْ ِوَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃً فَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِ ہِ ثَلَاثَۃً وَسِتِّیْنَ، ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ، ثُمَّ اََمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ، فَجُعِلَتْ فِیْ قِدْرٍ َأَکَلَا مِنْ لَحْمِھَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا، ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((قَدْ نَحَرْتُ ھٰھُنَا وَمِنًی کُلُّھَا مَنْحَرٌ۔)) وَوَقَفَ بِعَرَفَۃَ ‘ فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ھٰھُنَا وَعَرَفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ، فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ہٰہُنَا، وَالْمُزْدَلِفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ جعفر کے والد کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا پاس گئے، جبکہ وہ ان دنوں بنو سلمہ محلے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں نو سال بسر کئے اور اس عرصہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج نہیں کیا،اس کے بعد لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ اس سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں،یہ اعلان سن کر بے شمار لوگ مدینہ منورہ میں جمع ہو گئے، ہر آدمی چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کرے اور وہی افعال کرے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سرانجام دیں، چنانچہ ذی قعدہ کے دس روز باقی تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر شروع کر دیا،ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہو گئے۔ جب ہم ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے محمد بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا، انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ اب وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے آگے بڑھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری بیدائ پر سیدھی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کلمہٗتوحید پڑھا: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا، لوگ اپنے تلبیہ میں ذَا الْمَعَارِجِ (اے بلندیوں والے) وغیرہ کے الفاظ بھی بڑھا رہے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے یہ الفاظ سنے، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کچھ نہ کہا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، تاحدِّ نظر انسان ہی انسان تھے، کوئی سوار تھا اورکوئی پیدل۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی اس کی بہترین تفسیر جانتے تھے، جیسے جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمل کئے، ہم بھی اسی کے مطابق کرتے گئے، ہم حج کی نیت سے روانہ ہوئے تھے، جب ہم کعبہ پہنچے تونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر تین چکروں میں ذرا تیز اور چار چکروں میں ذرا آہستہ چال چل کر بیت اللہ کا طواف کیا، اس سے فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ آیت تلاوت کی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} …( تم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرو۔) ((سورۂ بقرہ : ۱۲۵)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفاکی طرف چلے گئے اور یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} … (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس سے اللہ نے ابتدا کی، ہم بھی اسی سے آغاز کریں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کے اوپر اس قدر چڑھ گئے کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس نے اپنے بندے یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سچا کر دکھایا اور وہ اکیلا تمام جماعتوں اور گروہوں پر غالب رہا)اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دعائیں کیں۔ بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا سے نیچے تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوڑے، جب بلندی شروع ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ آہستہ چلنے لگے تاآنکہ مروہ پر پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مروہ کے اوپر چلے گئے یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا،وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح دعائیں کیں جیسے صفا پر کی تھیں۔ جب مروہ کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتواں چکر تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میںقربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا دیتا، اب جن لوگوں کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اپنے اس عمل کو عمرہ بنا لیں اور احرام کھول دیں، چنانچہ سب لوگ (جن کے پاس قربانی نہیں تھی) حلال ہو گئے۔سیدنا سراقہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو اس وقت مروہ سے نیچے تھے، نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں میں عمرہ کییہ اجازت اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا: ہمیشہ کے لئے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اُدھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے یہ جانور لے کر آئے تھے۔سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا تھا اور رنگین لباس پہن لیا تھا اور سرمہ بھی ڈال لیا تھا، لیکن ان کا یہ عمل سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اچھا نہ لگا، جب انہوںنے اس پر انکار کیا تو انہوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ وہ غصے کی حالت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا اور کہا کہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رنگ دار کپڑے پہن لئے ہیں اور سرمہ بھی ڈال لیا ہے اور کہتی ہے کہ اس کو اس کے والد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ٹھیک کہتی ہے، (تین بار فرمایا) میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ پڑھتے وقت کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے کہا تھا کہ جس طرح کی نیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہے، میری بھی وہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے پاس تو قربانی کا جانور ہے، لہٰذا تم بھی احرام کی حالت میں ہی ٹھہرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے جو جانور لے کر آئے تھے، ان کی مجموعی تعداد (۱۰۰) تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (۶۳) اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے اور باقی اونٹ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نحر کئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قربانی میں شریک کیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لے کر پکانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گوشت ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ نوش کیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں جانور ذبح کئے ہیں،تاہم پورامنی قربان گاہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں ایک مقام پر قیام کیا اورفرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تاہم پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں ایک مقام پر وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں ٹھہرا ہوا ہوں، تاہم پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Takhreej
(۴۱۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۱۸(انظر: ۱۴۴۴۰)
Explanation
فوائد: …ملا علی قاری نے ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں کہا: حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نوے ہزار (۰۰۰,۹۰) صحابہ تھے۔ ایک قول کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ، تیس ہزار تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہدی کے جو اونٹ مدینہ منورہ سے لے کر گئے تھے، ان کی تعداد تریسٹھ (۶۳) تھی، باقی سینتیس (۳۷) اونٹ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یمن سے لے کر آئے تھے۔
4123
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ، إِلٰی قَوْلِہِ: ((لَوِ اسْتَقبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْہَدْیَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْہَدْیَ لَأَحْلَلْتُ، أَلَا فَخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ۔)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ، حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ، وَأَرَادُوْ التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی، أَہَلُّوْا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَکَانَ الْہَدْیُ عَلٰی مَنْ وَجَدَ، وَالصِّیَامُ عَلَی مَنْ لَمْ یَجِدْ، وَأَشْرَکَ بَیْنَہُمْ فِی ہَدْیِہِمْ، الْجَزُوْرُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقْرَۃُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَکَانَ طَوَافُہُمْ بِالْبَیْتِ وَسَعْیُہُمْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ لِحَجِّہِمْ وَعُمْرَتِہِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْیًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان تک تو یہ حدیث اسی طرح مروی ہے: جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میںقربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی اب حلال ہو جاتا، خبردار! تم احکام حج سیکھ لو۔ یہ سن کر لوگ حلال ہو گئے، جب ترویہ کا دن یعنی ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی اور لوگ منیٰ کی طرف جانے لگے تو انہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا، استطاعت رکھنے والوں پر قربانی تھی اور قدرت نہ رکھنے والوں پر روزے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور جو لوگ حج (قران) کر رہے تھے، ان کا حج اور عمرے دونوں کے لیے ایک ایک طواف اور ایک ایک سعی تھی۔
Takhreej
(۴۱۲۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4124
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِعَرَفَۃَ وَہُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: ((ہٰذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ دَفَعَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ، وَجَعَلَ النَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالًا وَہُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ! السَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ، وَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَوَقَفَ عَلَی قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((ہٰذَا الْمَوْقِفُ، وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالًا وَہُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ مُحْسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَہُ، فَخَبَّبَ حَتّٰی خَرَجَ، ثُمَّ عَادَ لِسَیْرِہِ الْأَوَّلِ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ، ثُمَّ جَائَ الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَنْحَرُ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ۔)) ثُمَّ جَائَتْہُ امْرَأَۃٌ شَابَّۃٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِی شَیْخٌ کَبِیْرٌ وَقَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَکَتْہُ فَرِیْضَۃُ اللّٰہِ فِیْ الْحَجِّ وَلَا یَسْتَطِیْعُ أَدَائَہَا فَیُجْزِیئُ عَنْہُ أَنْ أُؤَدِّیَہَا عَنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) وَجَعَلَ یَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسٍ عَنْہَا، ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی رَمَیْتُ الْجَمْرَۃَ وَأَفَضْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقَ، قَالَ: ((فَلَا حَرَجَ، فَاحْلِقْ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّی رَمَیْتُ وَحَلَقْتُ وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ، فَقَالَ: ((لَا حَرَجَ فَانْحَرْ۔)) ثُمَّ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَدَعَابِسَجْلٍمِنْمَائِزَمْزَمَفَشَرِبَ مِنْہُ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنْزِعُوْا یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوْا عَلَیْہَا لَنَزَعْتُ۔)) قَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَأَیْتُکَ تَصْرِفُ وَجْہَ ابْنِ أَخِیْکَ، قَالَ: ((إِنِّی رَأَیْتُ غُلَامًا شَابًّا وَجَارِیَۃً شَابَّۃً فَخَشِیْتُ عَلَیْہِمَا الشَّیْطَانَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کر رکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا عرفہ جائے وقوف ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذرا تیز چلے اور لوگ بھی دائیں بائیں پھیل گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: لوگو! سکون سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے مرذلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو نمازیں (مغرب اور عشائ) جمع کر کے ادا کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ ہی میں ٹھہر گئے اور قُزَح نامی بلند جگہ پر وقوف کیا ، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے، تاہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے آگے روانہ ہوئے، تیز چلے، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دائیں بائیں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے جا رہے تھے: لوگو! سکون سے، آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ محسر تک جا پہنچے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو کوڑا مارا اور دوڑایایہاں تک کہ وادیٔ محسر پار کر گئے، پھر پہلی رفتار سے چلنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ میں جا کر جمرہ (عقبہ) کی رمی کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربان گاہ میں گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے، تاہم پورا منیٰ قربان گاہ ہے۔ بنو خشعم کی ایک نوجوان خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے پوچھا : میرا والد کافی بوڑھا ہو چکا ہے، جبکہ اس پر اللہ تعالی کا فریضہ حج لازم ہو چکا ہے، لیکن وہ خود ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چہرے کو اس عورت سے دوسری طرف کو پھیر دیا، پھر ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرنے کے بعد احرام کھول کر لباس پہن لیا ہے، مگر ابھی تک سر نہیں منڈوا سکا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اب سر منڈا لو۔ ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی اور طواف افاضہ کرکے لباس پہن لیا ہے، لیکن ابھی تک قربانی نہیں کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے، تم اب قربانی کر لو۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف افاضہ کیا اور مائے زمزم کا ایک ڈول منگوا کر اس سے پانی پیا اور وضو بھی کیا۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی کنوئیں سے پانی نکالتا، اب تم پانی نکال نکال کر حاجیوں کو پلائو۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بھتیجے (فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کا رخ دوسری طرف پھیر دیا تھا، اس کی وجہ کیا تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو دیکھا اور مجھے ان پر شیطان کے حملے کا اندیشہ ہونے لگا۔
Takhreej
(۴۱۲۵) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۵۶۴)
4125
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تَمَتَّعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ وَأَہْدٰی فَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ، وَبَدَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ، ثُمَّ أَہَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ، فَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَہْدٰی فَسَاقَ الْہَدْیَ وَمِنْہُمْ مَنْ لَمْ یُہْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِلنَّاسِ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَہْدٰی فَإِنَّہُ لَا یَحِلُّ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَجَّہ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مِنْکُمْ أَہْدٰی فَلْیَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلْیُقَصِّرْ وَلْیَحْلِلْ، ثُمَّ لِیُہِلَّ بِالْحَجِّ وَلْیُہْدِ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ ہَدْیًا فَلْیَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبَعَۃً إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَہْلِہِ۔)) وَطَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ قَدِمَ مَکَّۃَ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَیْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَۃَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَکَعَ حِیْنَ قَضٰی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ، فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ لَمْ یَحْلِلْ مِنْ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰی قَضٰی حَجَّہُ وَنَحَرَ ہَدْیَہُیَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَرُمَ مِنْہُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ أَہْدٰی وَسَاقَ الْہَدْیَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۶۲۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا، کچھ لوگ تو قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، ان پر احرام کی وجہ سے جو حلال چیز حرام ہو چکی ہے، وہ حج پورا ہونے تک حلال نہیں ہو گی، لیکن جن کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں، پھر وہ حج کے لیے علیحدہ احرام باندھیں گے اور قربانی کریں گے، جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین روزے حج کے ایام میںاور سات روزے گھر جا کر رکھے گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس کے بعد بیت اللہ کے گرد سات چکروں میں سے پہلے تین میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، طواف مکمل کرنے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقام ابراہیم کے قریب دو رکعتیں ادا کی اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو صفا پر تشریف لے گئے، اور صفا مروہ کی سعی کی اور حج سے فارغ ہونے تک احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حلال نہ ہوئی، دس ذوالحجہ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کی اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی،جو لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی اسی طرح کے اعمال سرانجام دیئے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادا کیے تھے۔
Takhreej
(۴۱۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۹۱، ومسلم: ۱۲۲۷(انظر: ۶۲۴۷)
Explanation
فوائد: …حدیث کے شروع میں مذکور لفظ ’’تَمَتَّعَ‘‘ کا لغوی معنی مراد ہے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی حاصل کر لیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج قران ادا کر رہے تھے، لغوی اعتبار سے حج قران پر حج تمتع کا اطلاق بھی ہو جاتا ہے، اصطلاحی طور پر ان کی تعریفات میں فرق ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر اس کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی شامل کر لیا۔ اس حدیث کے الفاظ ’’آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کے دوران تلبیہ کہتے تو پہلے عمرے کا ذکر کرتے اور پھر حج کا، اس سے مراد ابتدائے احرام کی حالت نہیں ہے۔
4126
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ بِالْمَدِیْنَۃِ أَرْبَعًا، وَصَلَّی الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتْیِن، وَبَاتَ بِہَا حَتّٰی أَصْبَحَ، فَلَمَّا صَلَّی الصُّبْحَ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَلَمَّا انْبَعَثَتْ بِہِ سَبَّحَ وَکَبَّرَ حَتَّی اسْتَوَتْ بِہِ الْبَیْدَائَ، ثُمَّ جَمَعَ بَیْنَہُمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ أَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَحِلُّوْا فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ أَہَلُّوْا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعَ بَدَنَاتٍ، بِیَدِہِ قِیَامًا وَضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَبِالْمَدِیْنَۃِ بِکَبْشَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۶۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں نمازِ ظہر کی چار اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہیں رات بسر کی اورنمازِ فجر کے بعد سواری پر سوار ہو گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کی، پھر جب سواری بیداء پر بلند ہوئی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حلال ہونے کا یعنی احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ جب ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا، اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات اونٹوں کو نحر کیا، جبکہ وہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں دو سینگ دار سفید مینڈھے بطور قربانی ذبح کئے۔
Takhreej
(۴۱۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۵۱، ۱۷۱۲، ۱۷۱۴ (انظر: ۱۳۸۳۱)
Explanation
فوائد: …آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف سات اونٹ ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہو، آخری جملے میں سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدینہ منورہ کا عمل بیان کر رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((ثُمَّّ بَاتَ حَتّٰی اَصْبَحَ ، فَصَلّٰی الصُّبْحَ، ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ…))…پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ فجر ادا کی اور پھر (حج و عمرہ کے لیے) اپنی سواری پر سوار ہو گئے۔
4127
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
۔ (۴۱۲۸) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ یَوْمَ الصَّدَرِ، فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَۃٌیَمَانِیَّۃٌ وَرِحَالُہُمُ الْاُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِہِمْ الْجُرُرُ، فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی أَشْبَہِ رُفْقَۃٍ وَرَدَتِ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ إِذَا قَدِمُوْا فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذِہِ الرُّفْقَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۰۱۶)
۔ سعید کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ حج سے واپس آ رہا تھے، ہمارے قریب سے ایکیمنی قافلہ گزرا، ان کے اونٹوں کے پالان چمڑے کے اور مہاریں بالوں کی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو شخص اس سال کے حاجیوں میں ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہو جو حجۃ الوداع میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہوں، وہ اس جماعت کو دیکھ لے۔
Takhreej
(۴۱۲۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۴۴(انظر: ۶۰۱۶)
4128
Sahih
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
۔ (۴۱۲۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی أَبِی قُرَّۃَ مَوْسَی بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ مَوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَقَالَ نَافِعٌ، کَانَ عَبْدُاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ (وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ) حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَرِّسُ بِہَا حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۴)
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
4129
Sahih
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
۔ (۴۱۳۰) قَالَ مُوْسٰی (وَأَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ) أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ فِیْ مُعَرَّسِہِ فَقِیْلَ لَہُ إِنَّکَ فِی بَطْحَائَ مُبَارَکَۃٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔
Takhreej
(۴۱۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۳۵، ۲۳۳۶، ومسلم: ۱۳۴۶
4130
Sahih
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
۔ (۴۱۳۱) قَالَ: وَقَالَ: (حَدَّثَنَا نَافِعٌ) أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِیْرِ الَّذِیْ دُوْنَ الْمَسْجِدِ الَّذِیْیُشْرِفُ عَلَی الرَّوْحَائِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۶)
۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔
Takhreej
(۴۱۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸۵(انظر: ۵۵۹۶)
4131
Sahih
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
۔ (۴۱۳۲) قَالَ: (وَقَالَ: نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَۃٍ ضَخْمَۃٍ دُوْنَ الرُّوَیْثَۃِ عَنْ یَمِیْنِ الطَّرِیْقِ فِیْ مَکَانٍ بَطْحٍ سَہْلٍ حَیْثُیُفْضٰی مِنَ الْأَکَمَۃِ دُوْنَ بَرِیْدِ الرُّوَیْثَۃِ بِمِیْلَیْنِ، وَقَدِ انْکَسَرَ أَعْلاَہَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ عَلٰی سَاقٍ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادییا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔
Takhreej
(۴۱۳۲) أخرجہ البخاری: ۴۸۷(انظر: ۵۵۹۷)
4132
Sahih
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
۔ (۴۱۳۳) (وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی مِنْ وَرَائِ الْعَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاہِبٌ عَلٰی رَأْسِ خَمْسَۃِ أَمْیَالٍ مِنَ الْعَرْجِ فِیْ مَسْجِدٍ إِلٰی ہَضْبَۃٍ، عِنْدَ ذَالِکَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَۃٌ، عَلَی الْقُبُوْرِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَۃٍ عَلَییَمِیْنِ الطَّرِیْقِ عِنْدَ سَلِمَاتِ الطَّرِیْقِ، بَیْنَ أُوْلٰئِکَ السَّلِمَاتِ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَرُوْحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِیْلَ الشَّمْسُ بِالْہَاجِرَۃِ، فَیُصَلِّی الظُّہْرَ فِی ذَالِکَ الْمَسْجِد۔ (مسند احمد: ۵۵۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیںہیں، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۱۳۳) أخرجہ البخاری: ۴۸۸(انظر: ۵۵۹۸)
4133
Sahih

Chapters

11