TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - نجاست کو پاک کرنے کے ابواب - Book 7 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 7 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 34 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

34 Hadith · 10 Chapters
اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے
۔ (۴۲۵)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃٌ تَعْنِیْ شَاۃً، فَقَالَ: ((فَلَوْ لَا أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا۔)) فقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیْمَا أُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مِیْتَۃً أَوْ دَمًّا مَسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ} فَاِنَّکُمْ لَا تَطْعَمُوْنَہُ، اِنْ تَدْبُغُوْہُ فَتَنْتَفِعُوْا بِہِ۔))،فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہَا فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ فَأَخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً حَتّٰی تَخَرَّقَتْ عِنْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۳۰۲۷)
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓکی بکری مر گئی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں بکری مر گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیںاتار لیا۔ انھوں نے کہا: ہم مر جانے والی بکری کا چمڑا کیسے اتار لیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے اس میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لیے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ (سورۂ انعام: ۱۴۵) پس بیشک تم نے اس کے چمڑے کو کھانا تو نہیں ہے، اگر تم اس کو رنگ لو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ پس انھوں نے کسی بندے کو بھیج کر (اس بکری کو منگوا لیا) اور اس کی کھال اتار لی اور اس کو رنگ کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، (پھر وہ اس کو استعمال کرتی رہیں) یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گیا تھا۔
Takhreej
(۴۲۵) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۳۳۴، وابن حبان: ۱۲۸۱، والبیھقی: ۱/ ۱۸، أخرجہ البخاری: ۶۶۸۶ مختصرا (انظر: ۳۰۲۷)
Explanation
فوائد:…پچھلے باب کے فوائد میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
425
Zaeef
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
۔ (۴۲۶)۔ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی فِی الْمَسْجِدِ فَأَتٰی رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عِیْسٰی! قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَی رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أُصَلِّی فِی الْفِرَائِ؟ قَالَ: فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟ فَلَمَّا وَلّٰی قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۷۰)
ثابت بن اسلم بنانی کہتے ہیں: میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، پس ایک موٹا سا آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابوعیسی (عبدالرحمن)! انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: تم نے فِرَاء کے بارے جو کچھ سنا ہے، وہ بیان کرو، پس انھوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیامیں فِرَاء میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر رنگنے کا کیا فائدہ ہوا؟ جب وہ چلا گیا تو میں (ثابت) نے کہا: یہ آدمی کون تھا؟ عبد الرحمن نے کہا: یہ سوید بن غفلہ تھے۔
Takhreej
(۴۲۶) اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی ضعیف۔ أخرجہ البیھقی: ۱/۲۴، وابن ابی شیبۃ: ۸/ ۳۷۷ (انظر:۱۹۰۶۰)
Explanation
فوائد:… فِرَاء : یہ فَرْوٌ یا فَرْوَۃٌ کی جمع ہے یہ اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس پر بال موجود ہوں۔
426
Zaeef
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
۔ (۴۲۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُکَیْمٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: أَتَانَا کِتَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عُکَیم جہنی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، (اس خط میں لکھا ہوا تھا:) تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
(۴۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ علتان: الانقطاع، عبداللّٰہ بن عکیم ادرک زمان رسول اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ولا یعرف لہ سماع صحیح، والاضطراب، فقد اختلف فیہ الوانا ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۲۷، والنسائی: ۷/ ۱۷۵، وابن ماجہ: ۳۶۱۳، والترمذی: ۱۷۲۹ (انظر: ۱۸۷۸۰)
427
Zaeef
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
۔ (۴۲۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ وفَاتِہِ بِشَہْرٍ ((أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ)) (مسند أحمد: ۱۸۹۸۹)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ہماری طرف یہ حکم لکھا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
(۴۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
428
Zaeef
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
۔ (۴۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ قَالَ: اَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْضِ جُہَیْنَۃَ قَالَ: وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ قَبْلَ وَفَاتِہٖ بِشَہْرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ ((أَنْ لَاتَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۰)
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہمارے پاس جہینہ کی سرزمین میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ایک خط آیا، جبکہ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک یا دو ماہ پہلے کی بات تھی، اس میں لکھا تھا: تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ حاصل نہ کرو۔
Takhreej
(۴۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
429
Zaeef
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
۔ (۴۳۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رابع)۔قَالَ: جَائَ نا، أَوْ قَالَ: کَتَبَ اِلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْ لَّا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۱)
۔ (چوتھی سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہماری طرف یہ خط لکھا کہ تم مردار کے چمڑے سے استفادہ نہ کرو اور نہ اس کے پٹھے سے۔
Takhreej
(۴۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
430
Zaeef
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
۔ (۴۳۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ)۔ أَنَّہُ قَالَ: قُرِیئَ عَلَیْنَا کِتَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِہَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۹۲)
۔ (پانچویں سند) وہ کہتے ہیں: ہم پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا یہ خط پڑھا گیا کہ تم مردار کے چمڑے اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
(۴۳۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اِھَاب اس چمڑے کو کہتے ہیں، جو رنگا نہ گیا ہو، مردار کے اس طرح کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، لیکن جب اس کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کو اِھَاب نہیں کہتے۔
431
Zaeef
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۴۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا أَھْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمَجُوْسِ وَلَا نَجِدُ غَیْرَ آنِیَتِہِمْ، قَالَ: ((فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَاغْسِلُوْہَا بِالْمَائِ ثُمَّ کُلُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۵)
سیدنا ابو ثعلبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں اور یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے پاس سے ہمارا گزر ہوتا رہتا ہے اور ہمیں صرف اِن کے ہی برتن مل سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس اگر تمہیں دوسرے برتن نہ مل سکیں تو اِن کو پانی کے ساتھ دھو کر اِن میں کھا پی لیا کرو۔
Takhreej
(۴۳۲) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۸۳۹، وابن ماجہ: ۲۸۳۱، الترمذی: ۱۴۶۴(انظر: ۱۷۷۳۳)
432
Sahih
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۴۳۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ أَرَضَنَا أَرْضُ أَھْلِ کِتَابٍ وَاِنَّہُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِآنِیَتِہِمْ وَ قُدُوْرِہِمْ؟ قَالَ: ((اِنْ لَمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَارْحَضُوْہَا وَاطْبَخُوْا فِیْھَا وَاشْرَبُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۸۹)
۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارا علاقہ، اہل کتاب کا علاقہ ہے اور وہ خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں، اب میں ان کے برتنوں اور ہنڈیوں کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تم کو اور برتن نہ ملیں تو اُن کو دھو کر ان میں پکا لیا کرو اور اُن میں پی لیا کرو۔
Takhreej
(۴۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
433
Sahih
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۴۳۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کُنَّا نُصِیْبُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الْأَسْقِیَۃَ وَالْأَوْعِیَۃَ فَنَقْتَسِمُہَا وَکُلُّہَا مَیْتَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۵۵۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ہوتے اور مشرکوں سے حاصل شدہ غنیمتوں میںمشکیزے اور برتن بھی ہمیں مل جاتے تھے لیکن ہم ان کو تقسیم کر لیتے تھے، جبکہ وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۴۷۳ (انظر: ۱۴۵۰۱)
Explanation
فوائد:… وہ سب مردار جانوروں کے ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کے ذبح کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا۔لیکن مالِ غنیمت یا اس قسم کے دیگر مالوں کے بارے میں ہماری شریعت کا قانون یہ ہے کہ جب تک چیز کے حرام ہونے کی واضح دلیل نہیں ہو گی، اس وقت تک اس کو پاک اور جائز ہی سمجھا جائے گا، مشکیزوں کے بارے میں یہ احتمالات اور امکانات موجود ہیں کہ انھوں نے ان کو رنگا ہو یا اہل کتاب کے علاقوں سے منگوایا ہو یا وہ جانور اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا ہو۔
434
Sahih
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۴۳۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ یَہُوْدِیًّا دَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی خُبْزِ شَعِیْرٍ وَاِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ فَأَجَابَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۳۲۳۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جَو کی روٹی اور بو بدلی ہوئی چربی والے سالن کی دعوت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ قبول کی۔
Takhreej
(۴۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۳۲۰۱)
Explanation
فوائد:…ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہودی کی دعوت قبول کر رہے ہیں اور دوسری طرف فرما رہے ہیں کہ اگر صحابہ کو کوئی اور برتن نہ ملیں تو یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتنوں کو دھو کر استعمال کریں۔ جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب غیر مسلم اپنے برتنوں میں ایسی چیز پکاتے ہوں، جو مسلمانوں پر حرام ہے، تو مجبوری کے وقت ان کے برتن دھو کر استعمال کیے جائیں اور اگر یہ لوگ ایسی چیزیں استعمال کرتے ہوں جو مسلمانوں کے لیے حلال ہوں یا مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی دعوت دیں تو ان کے برتن بھی پاک ہوں گے اور کھانا بھی جائز ہو گا۔
435
Sahih
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
۔ (۴۳۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ فَأْرَۃٍ وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَقَالَ: ((اِنْ کَانَ جَامِدًا فَخُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا ثُمَّ کُلُوْا مَا بَقِیَ وَاِنْ کَانَ مَائِعًا فَلَا تَأْکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۳۶۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس چوہے کے بارے میں سوال کیا گیا، جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر گھی جامد ہو تو اس چوہے کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کونکال دو اور اگر وہ مائع ہو تو اس کو کھانے کے لیے استعمال نہ کرو۔
Takhreej
(۴۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۰۳۵۵)
436
Sahih
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
۔ (۴۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًاؓ عَنِ الْفَأْرَۃِ تَمُوْتُ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ أَطْعَمُہُ؟ قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، کُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِی الْجِرَارِ، فَقَالَ: ((اِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَۃُ فِیْہِ فَلَا تَطْعَمُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۳۹)
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے سوال کیا کہ جس کھانے یا پینے میں چوہا گر جاتا ہے کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا ہے، ہم لوگ گھڑوں میں گھی رکھا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب ایسے برتن میں چوہا مر جائے تو اس کو نہ کھایا کرو۔
Takhreej
(۴۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۴۶۸۳)
437
Zaeef
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
۔ (۴۳۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) أَنَّ فَأْرَۃً وَقَعَتْ فِیْ سَمْنٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: جَامِدٍ) فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْہَا وَمَا حَوْلَہَا فَأَلْقُوْہُ وَکُلُوْہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۸۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک چوہیا جمے ہوئے گھی میں گر کر مر گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو اور اس کے ارد گرد والے گھی کو نکال کر پھینک دو اور باقی کو کھا لو۔
Takhreej
(۴۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵، ۲۳۶، ۵۵۴۰ (انظر: ۲۶۸۴۷)
Explanation
فوائد:…ایسا چوہا نجس ہے، اس لیے اگر وہ کسی جامد چیز میں گرتا ہے تو صرف متاثرہ حصے کو ضائع کیا جائے گا اور اگر وہ چیز مائع ہے تو وہ ساری کی ساری پلید ہو جائے گی۔
438
Sahih