TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5540 - سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 16 in this chapter
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
۔ (۵۵۴۰)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَامَ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی خَدِّہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۵۱)
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے اللہ! اس دن میں اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندے کو اٹھائے گا)۔
5540
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۵۴۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۳۳۹۹ (انظر: ۱۸۵۵۲)

Related Chapters

567
1
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
2
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
Musnad Ahmad
3
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sleep Before Isha And To Talk During The Night After It
باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sleep Before Al-Witr
باب: وتر سے پہلے سونے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
Jam e Tirmazi
6
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
7
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
8
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
Musnad Ahmad
9
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
10
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
11
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
12
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
13
اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
Musnad Ahmad
14
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
15
ذبح پر بسم اللہ پڑھنے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کابیان
Musnad Ahmad
16
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
Musnad Ahmad
17
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
Musnad Ahmad
18
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
20
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
21
(41) CHAPTER. To speak about (religious) knowledge at night.
اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
22
(7) CHAPTER. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba (religious talk) and there is no Adhan or Iqama for it.
نمازعید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر ہونا
Sahih Bukhari
23
Chapter: It is Permissible to delay making up missed Ramadan Fasts until before the next Ramadan comes, and this is for those who broke the fast for a reason such as sickness, travel, menstruation and the like
جس نے کسی عذر ‘مرض‘سفر اور حیض وغیرہ کی بنا پرروزہ چھوڑ ا ہو اس کے لیے رمضان (کے روزوں)کی قضا اگلے رمضان کی آمد (سے پہلے )تک مؤخر کرنے کا جواز
Sahih Muslim
24
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
25
Chapter: Clarifying that the pilgrim who has entered Ihram for Umrah should not exit Ihram after performing Tawaf before Sa'i; And the pilgrim who has entered Ihram for Hajj should not exit Ihram after performing Tawaf Al-Qudum, and the same applies to the pilgrim performing Qiran
عمرے کا احرام باندھنے والے کا احرام ‘صفا مروہ کی سعی سے پہلےصرف طواف کرنے سے ختم نہیں ہوتا ‘حج کا احرام باندھنے والا(صرف)طواف قدوم سے حلّت میں نہیں آتا ‘اسی طرح حج قران کرنے والے کا حکم ہے (طواف سے اس کا احرام ختم نہیں ہو گا
Sahih Muslim
26
Chapter: The Dowry. It is permissible for the dowry to be teaching Quran, a ring of iron or anything else, a small or large amount, And it is recommended for it to be Five Hundred Dirham
پھلوں کی( پکنے کی )صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
Sahih Muslim
27
پھلوں کی (پکنے کی)صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے توڑنے کی شرط لگائے بغیر بیع کرنا منع ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: Lifespans, Provisions, Etc. Do Not Increase Or Decrease From What Has Already Been Decreed
عمریں اور رزق وغیرہ جو پہلے سے تقدیر میں ہیں، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتے
Sahih Muslim
30
Chapter: The First Group To Enter Paradise Will Look Like The Moon When It Is Full; Their Attributes And Their Spouses
پہلے زمرے میں جنت میں داخل ہونے والے چودھویں کی رات کے چاند جیسے ہوں گے،ان کے احوال اور ان کی بیویوں کابیان
Sahih Muslim
31
CHAPTER: Those Who Said That The Sexually Impure Should Perform Wudu’.
باب: جنبی کھانے اور سونے سے پہلے وضو کر لے ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Praying With Witr Before Sleeping.
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Thrice Divorced Woman Cannot Return To Her Husband Until She Re-Marries.
باب: تین طلاق کے بعد عورت دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر پہلے شوہر کے پاس نہیں آ سکتی ۔
Sunnan Abu Dawood
34
جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
Chapter: The Prohibition Of Sleeping Before The 'Isha' prayer And Engaging In Conversation After
عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
36
سونے سے پہلے غسل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
سونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی ترغیب کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
(87)Chapter: [What Has Been Related] About The Person Who Is Junub Sleeping Before performing Ghusl
باب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
39
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Bowing And Prostrating Before The Imam
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجدہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Sleeping In The Masjid
باب: مسجد میں سونے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About 'When Supper Is Present And The Iqamah Is Called For Salat Then Begin With Supper'
باب: شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

82
Musnad Ahmad
5522
۔ (۵۵۲۲)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ، وَرَجُلٍ آخَرَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ تَوَسَّدَ یَمِینَہُ وَیَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) قَالَ: فَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَقَالَ الْآخَرُ: یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۶۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ سونے کا ارادہ کرتے تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ(اے اللہ! اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا)۔
Musnad Ahmad
5088
۔ (۵۰۸۸)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ أَوْ غَیْرِہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَہُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَیْسَ ہٰذَا أَسَرَنِی، أَسَرَنِی رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزَعُ مِنْ ہَیْئَتِہِ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَّجُلِ: ((لَقَدْ آزَرَکَ اللّٰہُ بِمَلَکٍ کَرِیمٍ۔))(مسند أحمد: ۱۸۶۹۳)
۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر آئے، اسی آدمی نے ان کو قید کیا تھا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے مجھے قید نہیں کیا، بلکہ ایک اور آدمی تھا، وہ سر کے اگلے حصے سے گنجا تھا اور اس کی ہیئت ایسے ایسے تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک معزز فرشتے کے ساتھ تیری مدد کی ہے۔
Musnad Ahmad
5149
۔ (۵۱۴۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: وَادَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاہُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَنْ یَرُدُّوہُ، وَمَنْ أَتٰی إِلَیْنَا مِنْہُمْ رَدُّوہُ إِلَیْہِمْ، وَعَلٰی أَنْ یَجِیئَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُہُ، فَیَدْخُلُونَ مَکَّۃَ مُعْتَمِرِینَ فَلَا یُقِیمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا، وَلَا یُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّیْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۸۸۷)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ والے دن مشروکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔
Musnad Ahmad
5537
۔ (۵۵۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَوَیْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ، وَقُلْ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِہِ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: ((فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۸۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔
Musnad Ahmad
5553
۔ (۵۵۵۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا اسْتَیْقَظَ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: ہٰذَا أَوْ نَحْوَ ہٰذَا الْمَعْنَی، وَإِذَا نَامَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۸۰۴)
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ اور جب سوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ(اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں)۔
Musnad Ahmad
6733
۔ (۶۷۳۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِیْ عَمِّی الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو وَمَعَہُ لِوَائٌ قَدْ عَقَدَہُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: أَیْ عَمِّ! اَیْنَ بَعَثَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَعَثَنِی إِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃ اَبِیْہِ فَأَمَرَنِی أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
Musnad Ahmad
6737
۔ (۶۷۳۷)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ یَہُوْدِیًّا وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی اَوَّلُ مَنْ أَحْیَا سُنَّۃً قَدْ أَمَاتُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیہودی کو رجم کیا اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اس سنت کو زندہ کیا، جسے ان لوگوں نے مٹا دیا تھا۔
Musnad Ahmad
9301
۔ (۹۳۰۱)۔ عَنِ الْبَرَائِ السَّلِیْطِیِّ، عَنْ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ بَعَثَ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ اِلَی رَجُلٍ یَسْتَمْنِحُہُ نَاقَۃً لَہُ، وَاِنَّ الرَّجُلَ رَدَّہُ، فَاَرَسَلَ بِہٖاِلَی رَجُلٍ آخَرَ سِوَاہُ، فَبَعَثَ اِلَیْہِ بِنَاقَۃٍ، فَلَمَّا اَبْصَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَائَ بِھَا نُقَادَۃُیَقُوْدُھَا، قَالَ: ((اللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھَا وَفِیْمَنْ اَرَسَلَ بِھَا))، قَالَ نُقَادَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!، وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا، قَالَ: ((وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا۔)) فَاَمَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدِہِ)) یَعْنِی الْمَانِعَ الْاَوَّلَ۔ ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ یَوْمًا بِیَوْمٍ۔)) یَعْنِی صَاحِبَ النَّاقَۃِ الَّذِیْ اَرَسَلَ بِھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۵)
۔ سیدنا نقادہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ نقادہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔
Musnad Ahmad
10792
۔ (۱۰۷۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، فَأَبٰی أَہْلُ مَکَّۃَ أَنْ یَدَعُوہُیَدْخُلُ مَکَّۃَ حَتّٰی قَاضَاہُمْ عَلٰی أَنْ یُقِیمَ بِہَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ کَتَبُوا ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالُوا: لَا نُقِرُّ بِہٰذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ مَا مَنَعْنَاکَ شَیْئًا، وَلٰکِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: ((أَنَا رَسُولُ اللّٰہِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) قَالَ لِعَلِیٍّ: ((امْحُ رَسُولُ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَمْحُوکَ أَبَدًا، فَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکِتَابَ وَلَیْسَیُحْسِنُ أَنْ یَکْتُبَ فَکَتَبَ مَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنْ لَا یُدْخِلَ مَکَّۃَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّیْفَ فِی الْقِرَابِ، وَلَا یَخْرُجَ مِنْ أَہْلِہَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ أَرَادَ أَنْ یَتَّبِعَہُ، وَلَا یَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ أَنْ یُقِیمَ بِہَا، فَلَمَّا دَخَلَہَا وَمَضَی الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِیًّا فَقَالُوْا: قُلْ لِصَاحِبِکَ فَلْیَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْأَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذوالقعدہ کے مہینے میں عمرہ کا قصد کیا، لیکن اہلِ مکہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان سے یہ معاہدہ ہوا کہ آپ آئندہ سال مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے، جب معاہدہ کی عبارت لکھنے لگے تو انہوں نے لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے اتفاق کیا ہے، قریش کہنے لگے: ہم تو اس کا اقرار ہی نہیں کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو ہم آپ کو کسی بھی بات سے نہ روکتے، آپ تو محمد بن عبداللہ ہیں ( یہی لکھو)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھییہ نہیں مٹاؤں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کاغذ لے لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی طرح لکھ نہیں سکتے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اس لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو ان الفاظ کو مٹا نہیں سکتا۔تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹا دیا۔ اس کے بعد سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لفظ کی جگہ یوں لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے، وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہ ہوں گے، ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ بھی نیام کے اندر ہوں گی اور وہ اہل مکہ میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکیں گے، مگر وہ جو اس کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو1 اور اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی مستقل طور پرمکہ مکرمہ میں رہنا چاہے تو یہ اسے نہیں روکیں گے، اگلے سال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ آئے اور مقرر وقت گزر گیا تو قریشی لوگ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے رسول سے کہیں کہ مقرر وقت گزر گیا ہے، اب یہاں سے نکل لے جائیں۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔