خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان - خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 16 of روزے دار کا وصال کرنا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر ایک روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ رمضان ہو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں حکم دے دیتا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کی جائے اور جس عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیرایک دن کا روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ ماہِ رمضان ہو۔
Takhreej
(۳۸۹۵) تخر یـج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۷۳۴۲، ۷۳۴۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جب بیوی نفلی روزہ رکھنا چاہے یا فرضی روزے کی قضائی دینا چاہے، دونوں صورتوں میں اس کو چاہیے کہ وہ خاوند سے اجازت لے، کیونکہ خاوند کا حق ان حقوق میں سے ہے، جو فوراً واجب ہو جاتے ہیں، جبکہ نفلی روزوں کو ترک کیا جا سکتاہے اور فرض روزوں کی قضائی کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بیویوں کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ان کے خاوندوں کا ان پر کتنا حق ہے۔ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کی ممانعت کی وجہ وظیفۂ زوجیت ہے۔