TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 409 - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 205 of 270 in this chapter
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّه سَمِع رَجُلًا يَّقول: يَاآلَ فُلَان! فَقَال لَه: اُعْضُضْ بِهَنِ أَبِيكَ، و لَم يَكُنِ، فَقَالَ لَه: يَا أبا الْمُنْذِر مَا كُنْتَ فَحَّاشًـا، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَقولُ: مَنْ تَعَزَّى بِعَـزَى الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ بِهَـنِ أَبِيه وَلَا تَكْنُوا.
ابی بن کعب سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: اے آل فلاں!توابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اشارہ کنایہ کئے بغیر کہا اس سے کہا: اپنے باپ کی شرم گاہ دانتوں سے کاٹو۔ اس نے ابی بن کعب سے کہا: اے ابو المنذر!آپ تو بدزبان نہیں تھے!، ابو المنذر نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا ،فرما رہے تھے: جو شخص جاہلیت کے تفاخر کا اظہار کرے تو اسے اس کے باپ کی شرم گاہ دانتوں سے کٹواؤ اوراشارہ وکنایۃ نہ استعمال کرو۔
409
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (269) الأدب المفرد (963 964)

Related Chapters

211
1
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
2
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
3
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
5
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
اجازت طلب کرنا
Sahih Muslim
6
Chapter: It Is Disliked For The Person Who Is Seeking Permission To Say Me When Asked Who Is It?
اجازت طلب کرنے والے سے جب پوچھا جا ئے کون ہے تو جواب میں (صرف) میں کہنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
7
CHAPTER: Seeking permission to enter.
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
CHAPTER: How is permission to be sought.
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Asking permission to enter at the three times of undress.
باب: پردے کے تینوں اوقات میں اجازت طلب کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: One Who Stays With A People Should Not Fast Without Their Permission
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Seeking The Permission Of The Virgin And The Matron
باب: کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat Cooked Garlic
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Son
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: جھاڑ پھونک کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Permitting That
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Narrations From The Children of Isra'il
باب: اسرائیلی روایات کے بیان کرنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Seeking Permission To Enter From In Front Of The House
باب: گھر کے (دروازے) کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مانگنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Whoever Gazed Into a People's Home Without Their Permission
باب: کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
31
باب: بغیر اجازت دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
33
باب: مردوں کے لیے سرخ لباس پہننے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Concerning The Virtue Of Asking For Al-Afiyah And Al-Mu’afah
باب: اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
Mishkat
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
Musnad Ahmad
42
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
43
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
44
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
48
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
49
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
Musnad Ahmad
50
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

599
Mishkat
4902
وَعَن أُبيِّ بن كعبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيهِ وَلَا تُكَنُّوا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص جاہلی نسب کی طرف نسبت کرے (اور اس پر فخر کرے) تو اس سے کہو اپنے باپ کا آلہ تناسل کاٹ کر منہ میں لے لو اور یہ بات کنایہ سے مت کہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و احمد و البخاری فی الادب المفرد ۔
Silsila Sahih
331
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ وَرَائِي –يَعْنِي: حِسَّ الْأَرْضِ- قَالَتْ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ قَالَتْ فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَّعَلَيْهِ دِرْعٌ مِّنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: لَبِّثْ قَلِيلًا يُّدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِّنْ الْمُسْلِمَينَ وَإِذَا فِيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ سِبْغَةٌ لَّهُ –يَعْنِي: مِغْفَرًا- فَقَالَ عُمَرُ: مَا جَاءَ بِكِ؟ لَعَمْرِي وَاللهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ! وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَّكُونَ بَلَاءٌ أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ؟ قَالَتْ فَمَا زَالَ يَلُوْمُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا قَالَتْ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ: يَا عُمَرُ! إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَتْ: وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُّقَالُ لَهُ: اِبْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَّهُ فَقَالَ لَهُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ قَالَتْ: وَكَانُوا حُلَفَاءَ وَمَوَالِيَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ: فَرَقَى كَلْمُهُ –أَي: جَرْحُهُ- وَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَّعَهُ بِتِهَامَةَ وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَّعَهُ بِنَجْدٍ وَرَجَعَ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيْهِمْ وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِّنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ  وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعُ الْغُبَارِ فَقَالَ: أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اُخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ قَالَتْ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَّخْرُجُوا فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ فَقَالَ: مَنْ مَّرَّ بِكُمْ؟ فَقَالُوا مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ  فَقَالَتْ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَّعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ قِيلَ لَهُمْ: انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ قَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَنَزَلُوا وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِّيفٍ وَقَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَلَمْ يُرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَّلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: قَدْ أَنَّى لِي أَنْ لَّا أُبَالِيَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ: عُمَرُ سَيِّدُنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :احْكُمْ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ . قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﭽ ﭚ ﭛﭜﭼ قَالَ عَلْقَمَةُ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِــدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ خندق کے موقع پر میں باہر نکلی لوگوں کے نشانات پر چل رہی تھی میں نے اپنے پیچھے زمین کے روندنے کی آواز سنی ۔میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سعد بن معاذنظر آئے ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس تھا جس نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ میں زمین پر بیٹھ گئی سعد گزرے تو ان پر لوہے کی زرع تھی جس کے کنارے نکلے ہوئے تھے ۔میں سعد کے نکلے ہوئے کناروں سے خوف محسوس کر رہی تھی۔ وہ گزرے تو یہ شعر پڑھ رہے تھے: تھوڑی دیر ٹھہروکہ اونٹ لڑائی میں پہنچ جائے۔ جب موت کا وقت آجائے تو کتنی اچھی موت ہے۔میں کھڑی ہوئی اور ایک باغ میں داخل گئی ۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی ، ان میں عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ بھی تھے اورایک آدمی ایسا بھی تھا جس نے اپنے جسم پر خود پہناہوا تھا۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں کونسی چیز یہاں پر لائی ہے؟ واللہ تم تو بہادر ہو ،اگر کوئی آزمائش آگئی یا پسپائی اختیار کرنا پڑی تو تمہیں کونسی چیز بچائے گی؟ وہ مجھے ملامت کرتے رہے حتی کہ میں سوچنے لگی کہ اس وقت زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ اس آدمی نے اپنے چہرے سے خود ہٹایا تو وہ طلحہ بن عبیداللہ تھے ۔انہوں نے کہا اے عمر! آج کے دن تو آپ نے حد کر دی، اللہ عزوجل کے علاوہ پناہ یا فرارکہاں ہے؟ ایک قریشی مشرک نے سعد‌رضی اللہ عنہ کو ایک تیر پھینک کر مارا ؛جسے ابن العرقہ کہا جاتا تھا۔ اور کہا :لو اسے پکڑو میں بھی ابن العرقہ ہوں،وہ تیر سعد‌رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل سے دعا کی : اے اللہ ! جب تک تو قریظہ کے انجام سے میری آنکھ ٹھنڈی نہ کردے مجھے موت نہ دینا۔ قریظہ جاہلیت میں ان کے حلیف تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھر گیا۔ پھر اللہ عزوجل نے مشرکین کے خلاف ایک سخت آندھی بھیجی اور اس طرح اللہ تعالیٰ مومنوں کو قتال کرنے سے کافی ہوگیا، اور اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے ۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ چلے گئے جبکہ عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد او ر بنو قریظہ اپنے قلعوں میں بند ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے واپس پلٹے اور اپنا اسلحہ اتار کر دکھ دیا۔ اور چمڑے کا ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا۔ مسجد میں سعد‌رضی اللہ عنہ کے لئے ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جبریل آئے ان پر گردو غبار کے آثار تھے، کہنے لگے کیا آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے؟ واللہ ابھی تک فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا۔ بنو قریظہ کی طرف جائیے اور ان سے قتال کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو بنو غنم کے پاس سے گزرے ،یہ لوگ مسجد کے ارد گرد رہتے تھے آپ نے پوچھا تمہارے پاس سے کون گزرا ہے؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گزرے ہیں، دحیہ کلبی کی داڑھی دانت اور چہرہ جبریل کے مشابہ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا، پچیس دن محاصرہ جاری رہا، جب محاصرہ شدت اختیار کرگیا اور پریشانی بڑھ گئی تو ان سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اتر آؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ مانگا تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تمہیں نیچے اتار کر ذبح کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اتریں گے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے سعد بن معاذ رضی اللہ کے فیصلے پر اتر آؤ۔ وہ اتر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ کی طرف پیغام بھیجا۔ انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا۔ جس پر پتوں کا پالان تھا وہ گدھے پر سوار تھے۔ ان کی قوم نےانہیں گھیرلیا اور کہنے لگے اے ابو عمرو! وہ تمہارے حلیف تمہارے دوست ،اب وہ شکست خوردہ ہیں اور جو آپ جانتے ہیں ۔ لیکن سعد‌رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف نہیں دیکھا نہ ان کی طرف پلٹے حتی کہ جب ان کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف دیکھا اور کہا: مجھ پر ایسا وقت آگیا ہے کہ میں اللہ کی رضا کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو سعید نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو کر جاؤ۔ اور انہیں سواری سےنیچے اتارو۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم وہ ہمارے سردار ہیں۔ آپ نے فرمایا سعد کو نیچے اتارو، لوگوں نے سعد‌رضی اللہ عنہ کو نیچے اتارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کر دیئے جائیں، ان کے بچے اور عورتیں غلام بنالئے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ تھا تم بھی نے وہی فیصلہ کیا ہے ۔ پھر سعد‌رضی اللہ عنہ نے دعا کی اے اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے خلاف کوئی جنگ قریش کی طرف سے باقی رکھی ہے تو اس کے لئے مجھے باقی رکھ اور اگر تو نے ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو میری روح قبض کر لے۔ ان کا زخم اسی وقت بہنے لگا۔ ان کا زخم ٹھیک ہو چکا تھا صرف کان کی بالی کی مانند سا نشان باقی تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ اپنے اس خیمے میں واپس آگئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے لگوایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،ابو بکر‌رضی اللہ عنہ اور عمر‌رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں ابو بکر کے رونے کی طرح عمر کے رونے کی آواز پہچان گئی میں اپنے حجرے میں تھی ۔یہ لوگ اسی طرح تھے جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﭽ(رحمآء بینہم) آپس میں رحمدل۔ علقمہ نے کہا اے ام المومنین! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کس طرح کر رہے تھے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ان کی آنکھ کسی بھی شخص پر آنسو نہیں بہاتی تھی لیکن جب وہ غمگین ہوتے تو وہ اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔
Jam e Tirmazi
138
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ رُشِّيهِ وَصَلِّي فِيهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ قَيْسِ بْنتِ مِحْصَنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي غَسْلِ الدَّمِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الدَّمِ يَكُونُ عَلَى الثَّوْبِ فَيُصَلِّي فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الدَّمُ مِقْدَارَ الدِّرْهَمِ فَلَمْ يَغْسِلْهُ وَصَلَّى فِيهِ أَعَادَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الدَّمُ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ أَعَادَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُوجِبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ عَلَيْهِ الْإِعَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ يَجِبُ عَلَيْهِ الْغَسْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَشَدَّدَ فِي ذَلِكَ.
Asma' bint Abu Bakr narrated that : a woman asked the Prophet about a garment that was touched by some menstrual blood. So Allah's Messenger said: Remove it, and scrub it, then rinse it and pray in it
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس کپڑے کے بارے میں پوچھا جس میں حیض کا خون لگ جائے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھرچ دو، پھر اسے پانی سے مل دو، پھر اس پر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- خون کے دھونے کے سلسلے میں اسماء رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کپڑے میں جو خون لگ جائے اور اسے دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لے … اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ؛ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار میں ہو اور دھوے بغیر نماز پڑھ لے تو نماز دہرائے ۱؎، اور بعض کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز دہرائے ورنہ نہیں، یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے ۲؎ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے نماز کے دہرانے کو واجب نہیں کہا ہے گرچہ خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ۳؎، جب کہ شافعی کہتے ہیں کہ اس پر دھونا واجب ہے گو درہم کی مقدار سے کم ہو، اس سلسلے میں انہوں نے سختی برتی ہے ۴؎۔
Jam e Tirmazi
238
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي هَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَتَبْنَاهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنَّ تَحْرِيمَ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ دَاخِلًا فِي الصَّلَاةِ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ مُسْتَمْلِيَ وَكِيعٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَوِ افْتَتَحَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ بِسَبْعِينَ اسْمًا مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ وَلَمْ يُكَبِّرْ لَمْ يُجْزِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى مَكَانِهِ فَيُسَلِّمَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الْأَمْرُ عَلَى وَجْهِهِ. قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ.
Abu Sa'eed narrated that : Allah's Messenger said: the key to Salat is the purification, its Tahrim is the Takbir, and its Tahlilis the Taslim, and there is no Salat for one who did not recite Al-Hamd and a Surah in the obligatory (prayer) or other prayers.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ( طہارت ) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» ( سورۃ فاتحہ ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابو سعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ہم اسے کتاب الوضو کے شروع میں ذکر کر چکے ہیں ( حدیث نمبر: ۳ ) ، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر ہے، آدمی نماز میں تکبیر کے ( یعنی اللہ اکبر کہے ) بغیر داخل نہیں ہو سکتا، ۵- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر نماز شروع کرے اور ”اللہ اکبر“ نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہو گا۔ اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہو جائے تو میں اسے حکم دیتا ہوں کہ وضو کرے پھر اپنی ( نماز کی ) جگہ آ کر بیٹھے اور سلام پھیرے، اور حکم ( رسول ) اپنے حال ( ظاہر ) پر ( باقی ) رہے گا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
259
قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:‏‏‏‏ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:‏‏‏‏ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ فَنُهِينَا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ الْأَكُفَّ عَلَى الرُّكَبِ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو يَعْفُورٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ وَاقِدٌ وَيُقَالُ وَقْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Sa'd bin Abi Waqas said: We would do that, but then we were prohibited from it, and we were ordered to put our hands on our knees.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایسا کرتے تھے ( یعنی تطبیق کرتے تھے ) پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں۔
Jam e Tirmazi
697
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
753
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ.
Aishah narrated: Ashura was a day that the Quraish used to fast during Jahiliyyah, and the Messenger of Allah used to fast it. But when (the fast of) Ramadan became obligatory, the Ramadan was the required and Ashura was left. So whoever wanted to, he fasted it, and whoever wanted to, he left it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔
Jam e Tirmazi
793
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ:‏‏‏‏ أَنَّى عَلِمْتَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّهَا لَيْلَةٌ صَبِيحَتُهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يُخْبِرَكُمْ فَتَتَّكِلُوا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Zirr said: I said to Ubayy bin Ka'b: 'O Abu Al-Mundhir! How do you know that it is the night of the twenty-seventh?' He said: 'Rather, the Messenger of Allah informed us that it is a night (after which) the sun rises without rays, so we counted and we remembered it. By Allah! Ibn Mas'ud learned that it is in Ramadan and that it is the nigh of the twenty-seventh, but he did not want to inform you lest you would depend on it.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ”یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہو گی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، ( زرّ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں ( اسے مسلمانو! ) بتا دیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
875
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ حَدِّثْنِي بِمَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَائِشَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهَا:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Al-Aswad bin Yazid narrated that: Ibn Az-Zubair said to him: Narrated to me from what the Mother of the Believers used to (secretly) inform you about - meaning Aishah - so he said: She narrated to me that the Messenger of Allah said: 'Had your people not been still close to the pre-Islamic period of ignorance, then I would demolish the Ka'bah and rebuild it with two doors.' He said: So when Ibn Az-Zubair came to power he demolished it and rebuilt it with two doors.
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما نے ان سے کہا: تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ رضی الله عنہا تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا: مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، چنانچہ ابن زبیر رضی الله عنہما جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کر دیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔