TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بنی اسرائیل کی نسل کشی کا دوسرا دور اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو خوشخبری

Every verse of the Quran that speaks about (بنی اسرائیل کی نسل کشی کا دوسرا دور اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو خوشخبری), with its translation — and each verse opens to its tafaseer and word by word meaning.

Verses

7 Surat ul Aeyraaf Open Surah
وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰی وَ قَوۡمَہٗ لِیُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ نَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّا فَوۡقَہُمۡ قٰہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
And the eminent among the people of Pharaoh said," Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?" [Pharaoh] said, "We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them."
اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ ( علیہ السلام ) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیئے رہیں فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے ۔
Bookmark
View Details
7:127
قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہِ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اصۡبِرُوۡا ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰہِ ۟ ۙ یُوۡرِثُہَا مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾
Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah . He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."
موسٰی ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالٰی کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو ، یہ زمین اللہ تعالٰی کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے اور آخر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں ۔
Bookmark
View Details
7:128
قَالُوۡۤا اُوۡذِیۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا ؕ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪  5
They said, "We have been harmed before you came to us and after you have come to us." He said, "Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do."
قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی موسیٰ ( علیہ السلام ) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا ۔
Bookmark
View Details
7:129

Translation

This Topic

1 – 3 / 3 100%
3 Verses 1 Surahs

Related Topics

205
1
حضرت موسی وہارون علیہا السلام و فرعون'ہامان'قارون اوربنی اسرائیل
345 Verses
2
بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے رویّہ
2 Verses
3
ستر (70) رؤسائے بنی اسرائیل موت کی آغوش میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا
1 Verse
4
Issa's mission to the children of Israel
عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانا
9 Verses
5
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور پر اﷲ تعالیٰ سے پہلی ملاقات کی تفصیلی روداد
33 Verses
6
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کا مفصل واقعہ
23 Verses
7
فرعون کا معجزات ماننے سے انکار اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ
18 Verses
8
حضرت موسیٰ علیہ السلام عالم شیر خوارگی سے مصر لے کر سے خروج تک
15 Verses
9
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے بھائی اور قوم پر برہمی اور سامری کا انجام
13 Verses
10
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو بڑی نشانی بھی دکھائی لیکن وہ نافرمانی سے باز نہ آیا
12 Verses
11
حضرت موسیٰ علیہ السلام او رجادوگروں کے درمیان مقابلۂ حق وباطل
10 Verses
12
فرعونی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سنگسار کرنا چاہتے تھے لیکن …
8 Verses
13
حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سامنے
7 Verses
14
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شہر مدین میں آمد اور معاہدۂ وفا
7 Verses
15
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دس برس کے بعد اپنے ملک واپسی او راپنے رب سے ملاقات
7 Verses
16
فرعون سے ملاقات کے لیے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو کچھ مزید ہدایات
7 Verses
17
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور پر اپنے رب سے ملاقات
6 Verses
18
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل فرعونی ظلم و ستم کا عروج
6 Verses
19
کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اﷲ سے ملاقات اور تورات کا نزول
6 Verses
20
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اور مقابلے میں جادوگروں کی شکست
6 Verses
21
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کو توکل کی تلقین اور فرعونیوں کے خلاف دعا
6 Verses
22
بنیامین کو لانے کے وعدے کی پاسداری اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی پدرانہ نصائح
6 Verses
23
فرعون کے سوالات او رحضرت موسیٰ علیہ السلام کے جوابات
6 Verses
24
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا اولین مکالمہ
5 Verses
25
واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھائی پر برہمی اور نرمی
5 Verses
26
فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ’’دلائل کی حقانیت‘‘ پر ایک مکالمہ
3 Verses
27
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصر سے نکلنا اور فرعونی تعاقب
3 Verses
28
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں سامری کا بچھڑے کو معبود بنانا
3 Verses
29
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے بھائی ہارون کو نبی بنوانے کے لیے عرض کرنا
2 Verses
30
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون آمنے سامنے
2 Verses
31
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر چلے جانے کے بعد ’’بچھڑا‘‘ معبود بنالیا گیا
2 Verses
32
The whale was a sign for Musa
مچھلی موسی علیہ السلام کی نشانی
2 Verses
33
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر سے بارہ چشمے جاری کرنے کا معجزہ۔
1 Verse
34
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عبادت الٰہی اور رد شرک پر مبنی خطاب کا خلاصہ
1 Verse
35
تیسری بار سفر کی تیاری او رحضرت یعقوب علیہ السلام کا حضرت یوسف علیہ السلام و بنیامین کو تلاش کرنے کا حکم
1 Verse
36
حضرت ابراہیم علیہ السلام
170 Verses
37
حضرت لوط علیہ السلام
88 Verses
38
حضرت صالح علیہ السلام وقوم ثمود
83 Verses
39
حضرت ہودعلیہ السلام اور قوم عاد
82 Verses
40
حضرت عیسی و مریم علیہما السلام
80 Verses
41
حضرت داوٴدو سلیمان علیہا السلام
76 Verses
42
حضرت شعیب علیہ السلام واہل مدین وا یکہ
66 Verses
43
حضرت یونس علیہ السلام
55 Verses
44
نبی علیہ السلام کا خلق عظیم واوصاف حسنہ
46 Verses
45
حضرت نوح علیہ السلام
31 Verses
46
حضرت نوح علیہ السلام کے اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنے کا بیان
28 Verses
47
The Prophet of the children of Israel
بنی اسرائیل کے انبیاء
28 Verses
48
حضرت اسماعیل علیہ السلام
24 Verses
49
حضرت ذکریاویحیی علیہما السلام
22 Verses
50
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم عذاب الٰہی کی لپیٹ میں
21 Verses
No related topic matched that.