TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 631 - (18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too. - The book of adhan. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، أَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، قَالَ : ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لَا أَحْفَظُهَا وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ .
Narrated Malik: We came to the Prophet and stayed with him for twenty days and nights. We were all young and of about the same age. The Prophet was very kind and merciful. When he realized our longing for our families, he asked about our homes and the people there and we told him. Then he asked us to go back to our families and stay with them and teach them (the religion) and to order them to do good things. He also mentioned some other things which I have (remembered or [??] ) forgotten. The Prophet then added, Pray as you have seen me praying and when it is the time for the prayer one of you should pronounce the Adhan and the oldest of you should lead the prayer.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابوایوب سختیانی نے ابوقلابہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے مالک بن حویرث نے بیان کیا، کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں ہمارا بیس دن و رات قیام رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن واپس جانے کا شوق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم لوگ اپنے گھر کسے چھوڑ کر آئے ہو۔ ہم نے بتایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم اپنے گھر جاؤ اور ان گھر والوں کے ساتھ رہو اور انہیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کرو۔ مالک نے بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جن کے متعلق ابوایوب نے کہا کہ ابوقلابہ نے یوں کہا وہ باتیں مجھ کو یاد ہیں یا یوں کہا مجھ کو یاد نہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔
631
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

210
1
(97) CHAPTER. Whoever pronounced (one) Adhan (for both) and Iqama for each of them (the Maghrib and the Isha prayer).
جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل
Sahih Bukhari
2
(16) CHAPTER. Between every two calls (Adhan and Iqama) there is a Salat (prayer) (that is optional), for the one who wants to offer it.
ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں جو کوئی چاہے ( نفل ) نماز پڑھ سکتا ہے
Sahih Bukhari
3
(14) CHAPTER. Should the Adhan or Iqama be pronounced when the Maghrib and Isha prayers are offered together?
جب مغرب اور عشاء ملا کر پڑھے تو کیا ان کے لیے اذان وتکبیر کہی جائےگی ؟
Sahih Bukhari
4
Chapter: Departing from 'Arafat to Al-Muzdalifah. It is recommended to pray Maghrib and 'Isha together in Al-Muzdalifah on this night
عرفات سے مزدلفہ آنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
5
(14) CHAPTER. How long should the interval between the Adhan and the Iqama be? (And something concerning) the person who waits for the Iqama.
اس بیان میں کہ اذان اور تکبیر کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟
Sahih Bukhari
6
(38) CHAPTER. No Salat (prayer) (is to be offered) except the compulsory Salat after the Iqama has been pronounced for that compulsory Salat.
جب نماز کی تکبیر ہونے لگے تو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا
Sahih Bukhari
7
(42) CHAPTER. (What should one do) if the meal has been served and Iqama has been pronounced for As-Salat (the prayer).
جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟
Sahih Bukhari
8
(44) CHAPTER. If somebody was busy with his domestic work and Iqama was pronounced and then he came out [for offering the Salat (prayer)].
اس آدمی کے بارے میں جو اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف تھا کہ تکبیر ہوئی اور نماز کے لیے نکل کھڑا ہوا
Sahih Bukhari
9
(93) CHAPTER. To dismount between Arafat and Jam (i.e., Al-Muzdalifa) (because of a necessity).
عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا
Sahih Bukhari
10
Chapter: The Command to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the iqamah once, except the phrase, Prayer is about to begin, which is to be said twice
اذان دہری اور تکبیر اکہری کہنے کا حکم
Sahih Muslim
11
CHAPTER: One Person Calling The Adhan And Another Calling The Iqamah.
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت ( تکبیر ) کہے یہ جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
12
(11) CHAPTER. The Adhan pronounced by a blind man (is permissible) when there is a person to inform him about the time of the Salat (prayer).
اس بیان میں کہ نابینا شخص اذان دے سکتا ہے اگر اسے کوئی وقت بتانے والا آدمی موجود ہو
Sahih Bukhari
13
(15) CHAPTER. Whoever waits for the Iqama of the prayer.
اذان سن کر جو شخص ( گھر میں بیٹھا ) تکبیر کا انتظار کرے
Sahih Bukhari
14
(22) CHAPTER. When should the people get up for the Salat (prayer) if they see the Imam (the person leading Salat) during the Iqama?
نماز کی تکبیر کے وقت جب لوگ امام کو دیکھیں تو کس وقت کھڑے ہوں
Sahih Bukhari
15
(24) CHAPTER. To sit on the pulpit while Adhan is being pronounced.
جمعہ کی اذان ختم ہونے تک امام منبر پر بیٹھا رہے
Sahih Bukhari
16
(12) CHAPTER. To say Takbir on the days of Mina and while proceeding to Arafat.
تکبیر منیٰ کے دنوں میں اور جب نویں تاریخ کو عرفات میں جائے
Sahih Bukhari
17
(86) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir while proceeding from Mina to Arafat.
صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان
Sahih Bukhari
18
(89) CHAPTER. To offer the two Salat together at [the Zuhr (prayer) and the Asr (prayer)] at Arafat.
عرفات میں دو نمازوں ( ظہر اور عصر ) کو ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
19
(95) CHAPTER. The offering of two Salat (prayer) together at Al-Muzdalifa.
مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھنا
Sahih Bukhari
20
(99) CHAPTER. At what time is the Fajr prayer to be offered at Jam (i.e., Al-Muzdalifa)?
فجر کی نماز مزدلفہ ہی میں پڑھنا
Sahih Bukhari
21
اذان اور تکبیر کے درمیان نفل نماز
Sahih Muslim
22
Chapter: All of Arafat is a place of standing
میدان عرفات میں کہیں بھی وقوف کیا جا سکتا ہے
Sahih Muslim
23
Chapter: The Talbiyah and the Takbir when going from Mina to 'Arafat on the day of 'Arafat
عرفہ کے دن منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیرات کہنا
Sahih Muslim
24
Chapter: It is recommended to pray Subh when it is still dark on the day of sacrifice in Al-Muzdalifah, and to do it very early after ascertaining that dawn has broken
قربانی کے دن مزدلفہ میں صبح کی نماز خوب اندھیرے میں پڑھنا اور طلوع فجر کا یقین ہونے کے بعد اس (کی جلدی )میں مبالغہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
25
CHAPTER: Salat Al Jam’ (Al-Muzdalifah).
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Standing At Arafat Supplicating There
باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About: All of Arafat Is A Place For Standing
باب: پورا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Departed From Arafat
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For the Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
33
بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ
عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان
Mishkat
34
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
35
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
36
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
37
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
38
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
39
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
Musnad Ahmad
40
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
Musnad Ahmad
41
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
Musnad Ahmad
42
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
(27) CHAPTER. If the Imam is confronted with a problem after the Iqama.
اگر امام کو تکبیر ہو چکنے کے بعد کوئی ضرورت پیش آئے تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
44
(28) CHAPTER. To talk after the Iqama.
تکبیر ہو چکنے کے بعد کسی سے باتیں کرنا
Sahih Bukhari
45
(71) CHAPTER. Straightening the rows at the time of Iqama and after it (immediately).
تکبیر ہوتے وقت اور تکبیر کے بعد صفوں کا برابر کرنا
Sahih Bukhari
46
(82) CHAPTER. The necessity of saying the Takbir, i.e., Allahu Akbar (Allah is the Most Great) and the commencement of As-Salat (the prayer).
تکبیر کا واجب ہونا اور نماز کا شروع کرنا
Sahih Bukhari
47
(83) CHAPTER. To raise both hands on saying the first Takbir simultaneously with opening the Salat (prayer).
تکبیر تحریمہ میں نماز شروع کرتے ہی برابر دونوں ہاتھوں کا ( کندھوں یا کانوں تک ) اٹھانا
Sahih Bukhari
48
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
49
(15) CHAPTER. To delay the SaIat-uz-Zuhr prayers till the Asr prayers if one has set off before noon.
مسافر جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرے تو ظہر کی نماز میں عصر کا وقت آنے تک دیر کرے
Sahih Bukhari
50
(64) CHAPTER. There are four Takbir in the funeral prayers.
نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

19
Sahih Bukhari
7246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَفِيقًا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا ؟ ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، قَالَ : ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ ، وَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا ، أَوْ لَا أَحْفَظُهَا ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ .
Narrated Malik: We came to the Prophet and we were young men nearly of equal ages and we stayed with him for twenty nights. Allah's Apostle was a very kind man and when he realized our longing for our families, he asked us about those whom we had left behind. When we informed him, he said, Go back to your families and stay with them and teach them (religion) and order them (to do good deeds). The Prophet mentioned things some of which I remembered and some I did not. Then he said, Pray as you have seen me praying, and when it is the time of prayer, one of you should pronounce the call (Adhan) for the prayer and the eldest of you should lead the prayer.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب جوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کی خدمت میں بیس دن تک ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت شفیق تھے۔ جب آپ نے معلوم کیا کہ اب ہمارا دل اپنے گھر والوں کی طرف مشتاق ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے ہم کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام سکھاؤ اور دین بتاؤ اور بہت سی باتیں آپ نے کہیں جن میں بعض مجھے یاد نہیں ہیں اور بعض یاد ہیں اور ( فرمایا کہ ) جس طرح مجھے تم نے نماز پڑھتے دیکھا اسی طرح نماز پڑھو۔ پس جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان کہے اور جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
Sahih Muslim
1535
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»
Malik b. Huwairith reported: We came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and we were all young men of nearly equal age. We stayed with him (the Holy Prophet) for twenty nights, and as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was extremely kind and tender of heart, he therefore, thought that we were eager (to see) our family (we felt homesick). So he asked us about the members of the family that we had left behind and when we informed him, he said: Go back to your family, stay with them, and teach them (beliefs and practices of Islam) and exhort them to good, and when the time for prayer comes, one amongst you should announce Adhan and then the oldest among you should lead the prayer.
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ایوب نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے ، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا ۔ اللہ کے رسول ﷺ بہت مہربان اور نرم دل تھے ، آپ نے خیال فرمایا کہ ہمیں گھر والوں کے پاس جانے کا اشتیاق ہو گا ، آپ نے ہم سے ہمارے ان گھر والوں کے بارے میں سوال کیا جنھیں ہم چھوڑ آئے تھے ، ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ ، انھی کے درمیان رہو ، انھیں تعلیم دو اور انھیں ( اچھائی پر چلنے کا ) حکم دو ، چنانچہ جب نماز کا وقت آئے تو ایک آدمی تم سب کے لئے اذان کہے ، پھر تم میں سے ( جو عمر میں ) سب سے بڑا ہو وہ تمھاری امامت کرے ۔
Sunnan Nisai
636
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَاهُ مِنْ أَهْلِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ .
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said: We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and we were young men close in age. He let us stay with him for twenty days. The Messenger of Allah (ﷺ) was merciful and compassionate, and he thought that we were missing our families; he asked us about those whom we had left behind of our families, so we told him, and he said: 'Go back to your families, stay with them and teach them. Tell them when the time for prayer comes; let one of you call the Adhan and let the oldest of you lead the prayer.'
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے، ہم نے آپ کے پاس بیس روز قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم  ( بہت مہربان )  اور نرم دل تھے، آپ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہوں گے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: ہم اپنے گھروں میں کن کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا:  تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ،  ( اور )  ان کے پاس رہو، اور  ( جو کچھ سیکھا ہے اسے )  ان لوگوں کو بھی سیکھاؤ، اور جب نماز کا وقت آ پہنچے تو انہیں حکم دو کہ تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے ۔
Sahih Bukhari
6008
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا ، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا ، فَقَالَ : ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ .
Narrated Abu Sulaiman and Malik bin Huwairith: We came to the Prophet and we were (a few) young men of approximately equal age and stayed with him for twenty nights. Then he thought that we were anxious for our families, and he asked us whom we had left behind to look after our families, and we told him. He was kindhearted and merciful, so he said, Return to your families and teach them (religious knowledge) and order them (to do good deeds) and offer your prayers in the way you saw me offering my prayers, and when the stated time for the prayer becomes due, then one of you should pronounce its call (i.e. the Adhan), and the eldest of you should lead you in prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دنوں تک رہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی نرم خو اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
Mishkat
3059
وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَى فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ہُذیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں ، ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کے حصے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بیٹی کے لیے نصف ، بہن کے لیے نصف ، اور تم ابن مسعود ؓ کے پاس جاؤ وہ بھی میرے موافق فتویٰ دیں گے ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ابوموسی ؓ نے یہ فتوی دیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : تب تو میں گمراہ ہو گیا ، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں ہوں ، میں اس کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے کیا تھا ، بیٹی کے لیے نصف ، پوتی کے لیے چھٹا حصہ اسی طرح دو تہائی مکمل ہوا اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے ، ہم ابوموسی ؓ کے پاس آئے تو انہیں ابن مسعود ؓ کے فتویٰ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : جب تک یہ علاّمہ تم میں موجود ہے مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو ۔ رواہ البخاری ۔
Mishkat
5184
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا وَنَحْنُ مَعَهُ فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالَ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فِي النَّاسُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عرفَ الرجلُ الغضبَ فِيهِ والإِعراضَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: خَرَجَ فَرَأَى قُبَّتَكَ. فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا قَالَ: «مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟» قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا. فَقَالَ: «أَمَا إِنَّ كَلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا» يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز باہر تشریف لائے اور ہم آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک اونچا سا قبہ دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ آپ کے صحابہ نے عرض کیا ، یہ ایک انصاری شخص کا ہے ، آپ خاموش ہو گئے اور اسے اپنے دل میں رکھا حتیٰ کہ جب اس کا مالک آیا تو اس نے لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے اس سے اعراض کیا ، اس نے کئی مرتبہ ایسے کیا ، حتیٰ کہ اس آدمی نے آپ میں ناراضی اور اپنے سے بے رخی پہچان لی ، اس نے اپنے ساتھیوں سے وجہ دریافت کی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺ کو ناراض محسوس کرتا ہوں لیکن وجہ ناراضی معلوم نہیں ، انہوں نے بتایا ، آپ باہر تشریف لائے تھے اور آپ نے تمہارا قبہ دیکھا تھا ، وہ آدمی اپنے قبے کی طرف گیا اور اسے گرا کر زمین کے برابر کر دیا ، پھر ایک روز رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ نے اس (قبے) کو نہ دیکھا تو فرمایا :’’ قبے کو کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اس کے مالک نے آپ کی بے رخی کی ہم سے وجہ دریافت کی تو ہم نے اسے بتا دیا ، پس اس نے اسے گرا دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ہر عمارت جس کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہو وہ اپنے مالک کے لیے وبال ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Mishkat
5482
وَعَن فَاطِمَة بنت قيس قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهِ عَنِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْر فأرفؤُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ فَجَلَسُوا فِي أقرب سفينة فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أعظمُ إِنسان مَا رَأَيْنَاهُ قطُّ خَلْقاً وأشَدُّهُ وَثَاقاً مجموعةٌ يَده إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ. قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحن أُناس من العربِ ركبنَا فِي سفينةٍ بحريّة فلعِبَ بِنَا الْبَحْر شهرا فَدَخَلْنَا الجزيرة فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اعْمِدُوا إِلَى هَذَا فِي الدَّيْرِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ تُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّهَا تُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ. قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ. قَالُوا: وَعَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نعم هِيَ كَثِيرَة المَاء وَأَهله يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وأطاعوهُ. قَالَ لَهُم: قد كانَ ذلكَ؟ قُلْنَا: نعم. قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَإِنِّي يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ هُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا استقبلَني ملَكٌ بيدهِ السيفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ -: «هَذِه طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ «أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ؟» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ. أَلَا إِنه فِي بَحر الشَّأمِ أَو بحرِ اليمنِ لَا بل من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمشرق. رَوَاهُ مُسلم
فاطمہ بنت قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا : نماز جمع کرنے والی ہے ، میں مسجد کی طرف گئی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو منبر پر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ ہنس رہے تھے ، فرمایا :’’ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کس لیے جمع کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں کسی رغبت (مال غنیمت وغیرہ دینے) کے لیے جمع نہیں کیا ہے نہ کسی خوف کی وجہ سے ، بلکہ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی شخص تھا ، وہ آیا اس نے بیعت کی اور مسلمان ہو گیا اس نے مجھے وہ بات بیان کی اور وہ اسی بات کے موافق تھی جو میں تمہیں مسیح دجال کے متعلق بیان کرتا ہوں ، اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم و جذام قبیلے کے تیس افراد کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا ، موجیں ایک ماہ تک انہیں سمندر میں لیے پھریں (باہر کنارے پر پہنچنے کا موقع نہ ملا) وہ غروب آفتاب کے وقت ایک جزیرے کے قریب پہنچ گئے ، وہ چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے تو کثیر بالوں والا ایک حیوان انہیں ملا ، بالوں کی کثرت کی وجہ سے وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا حصہ کون سا ہے ؟ انہوں نے کہا تیری تباہی ہو ، تو کیا چیز ہے ؟ اس نے عرض کیا : میں (دجال کا) جاسوس ہوں ، ہم نے کہا جاسوس سے کیا مراد ہے ؟ اس نے کہا ، تم گرجا میں اس آدمی کی طرف چلو ، کیونکہ وہ تمہیں ملنے کا مشتاق ہے ، انہوں نے (تمیم داری) نے فرمایا : جب اس نے اس آدمی کے متعلق ہمیں بتایا تو ہم اس (حیوان) سے ڈر گئے کہ یہ کہیں شیطان نہ ہو ، ہم جلدی جلدی چلے حتی کہ ہم گرجے میں داخل ہو گئے ، تو وہاں ایک عظیم جثے والا انسان تھا ، ہم نے تخلیق و مضبوطی کے لحاظ سے اس جیسا انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ، وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا ، اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ، اور اس کے گھٹنوں اور ٹخنوں کے مابین لوہے کی زنجیریں تھیں ، ہم نے کہا : تیری تباہی ہو ، تو کون ہے ؟ اس نے کہا : تم میری خبر (معلوم کرنے) پر تو قدرت پا چکے ہو ، مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم عرب لوگ ہیں ، ہم ایک کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر کی موجیں ایک ماہ تک ہمیں ادھر ادھر پھیراتی رہیں ، ہم جزیرے میں داخل ہوئے تو کثیر بالوں والا ایک جانور ہمیں ملا تو اس نے کہا : میں جاسوس ہوں ، تم گرجے میں موجود اس شخص کے پاس جاؤ ، لہذا ہم جلدی جلدی تیرے پاس پہنچ گئے ہیں ، لیکن اس جاسوس سے ہم خوفزدہ ہوئے کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ، اس نے کہا : تم مجھے بیسان کے نخلستان کے بارے میں بتاؤ ، کیا وہ پھل دیتا ہے ؟ ہم نے کہا ، ہاں ، اس نے کہا ، سنو ! قریب ہے کہ وہ پھل نہیں دے گا ، اس نے کہا : بحیرہ طبریہ کے متعلق مجھے بتاؤ ؟ کیا اس میں پانی ہے ؟ ہم نے کہا : اس میں بہت زیادہ پانی ہے ، اس نے کہا : قریب ہے کہ اس کا پانی ختم ہو جائے گا ، اس نے کہا : مجھے چشمہ زغر کے متعلق بتاؤ کیا چشمے میں پانی ہے ، اور کیا وہاں رہنے والے چشمے کے پانی سے زراعت کرتے ہیں ؟ ہم نے کہا : ہاں اس میں پانی بھی بہت ہے ، اور وہاں کے رہنے والے اس پانی سے زراعت بھی کرتے ہیں ، اس نے کہا : مجھے ان پڑھوں (عربوں) کے نبی کے متعلق بتاؤ اس نے کیا کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے آئے ہیں ؟ اس نے کہا : کیا عربوں نے اس سے لڑائی کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : ان کے ساتھ کیا کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریب کے عربوں پر غالب آ چکے ہیں ، اور انہوں (عربوں) نے آپ (ﷺ) کی اطاعت اختیار کر لی ہے ۔ اس نے کہا : سنو ! اگر وہ ان کی اطاعت کریں تو ان کے حق میں یہی بہتر ہے اور میں اب تمہیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں ، بے شک قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے تو میں نکل آؤں گا ، میں زمین پر چلوں گا ، اور میں چالیس روز میں زمین پر مکہ اور طیبہ (مدینہ) کے علاوہ ہر بستی میں اتروں گا ، وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں ۔ میں جب بھی ان دونوں میں سے کسی ایک میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ ہاتھ میں تلوار سونتے ہوئے میرے سامنے آ جائے گا ، اور وہ اس میں داخل ہونے سے مجھے روکے گا ، اور اس کے ہر راستے اور دروازے پر فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ نے منبر پر چھڑی ماری : یہ (یعنی مدینہ) طیبہ ہے ، یہ طیبہ ہے ، یہ طیبہ ہے ۔ سنو ! کیا میں نے تمہیں حدیث سنا دی تھی ؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں (فرمایا) ’’ سنو ! وہ شام کے سمندر میں ہے یا وہ یمن کے سمندر میں ہے ، نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے جو اشارہ فرمایا تھا وہ مشرق کی طرف تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Sahih Bukhari
347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي ؟ فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ ؟ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ ، قُلْتُ : وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِذَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا ، فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَضَهَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِها ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ : وَزَادَ يَعْلَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً .
Narrated Al-A`mash: Shaqiq said, While I was sitting with `Abdullah and Abu Musa Al-Ash`ari, the latter asked the former, 'If a person becomes Junub and does not find water for one month, can he perform Tayammum and offer his prayer?' (He applied in the negative). Abu Musa said, 'What do you say about this verse from Sura Al-Ma'ida : When you do not find water then perform Tayammum with clean earth? `Abdullah replied, 'If we allowed it then they would probably perform Tayammum with clean earth even if water were available but cold.' I said to Shaqiq, 'You then disliked to perform Tayammum because of this?' Shaqiq said, 'Yes.' (Shaqiq added), Abu Musa said, 'Haven't you heard the statement of `Ammar to `Umar? He said: I was sent out by Allah's Apostle for some job and I became Junub and could not find water so I rolled myself over the dust (clean earth) like an animal does, and when I told the Prophet of that he said, 'Like this would have been sufficient.' The Prophet (saying so) lightly stroked the earth with his hand once and blew it off, then passed his (left) hand over the back of his right hand or his (right) hand over the back of his left hand and then passed them over his face.' So `Abdullah said to Abu- Musa, 'Don't you know that `Umar was not satisfied with `Ammar's statement?' Narrated Shaqiq: While I was with `Abdullah and Abu Musa, the latter said to the former, Haven't you heard the statement of `Ammar to `Umar? He said, Allah's Apostle sent you and me out and I became Junub and rolled myself in the dust (clean earth) (for Tayammum). When we came to Allah's Apostle I told him about it and he said, 'This would have been sufficient,' passing his hands over his face and the backs of his hands once only.'
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے ( اور نماز موقوف رکھے ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورۃ المائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہو گا ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلد ہی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ اعمش نے کہا میں نے شقیق سے کہا تو تم نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا۔ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو عمار کا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا۔ سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی، لیکن پانی نہ ملا۔ اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے صرف اتنا کرنا کافی تھا۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ عبداللہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ عمر کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی۔ اور یعلیٰ ابن عبید نے اعمش کے واسطہ سے شقیق سے روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ اور ابوموسیٰ کی خدمت میں تھا اور ابوموسیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ نے عمر سے عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا۔ پس مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا۔ پھر میں رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال کے متعلق ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا ایک ہی مرتبہ مسح کیا۔
Sahih Bukhari
3022
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ لِيَقْتُلُوهُ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَدَخَلَ حِصْنَهُمْ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ فِي مَرْبِطِ دَوَابَّ لَهُمْ ، قَالَ : وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَهُ ، فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ أُرِيهِمْ أَنَّنِي أَطْلُبُهُ مَعَهُمْ ، فَوَجَدُوا الْحِمَارَ فَدَخَلُوا وَدَخَلْتُ وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ لَيْلًا ، فَوَضَعُوا الْمَفَاتِيحَ فِي كَوَّةٍ حَيْثُ أَرَاهَا فَلَمَّا نَامُوا أَخَذْتُ الْمَفَاتِيحَ فَفَتَحْتُ بَابَ الْحِصْنِ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ فَأَجَابَنِي فَتَعَمَّدْتُ الصَّوْتَ فَضَرَبْتُهُ ، فَصَاحَ ، فَخَرَجْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ كَأَنِّي مُغِيثٌ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي ، فَقَالَ : مَا لَكَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ ، قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي مَنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَضَرَبَنِي ، قَالَ : فَوَضَعْتُ سَيْفِي فِي بَطْنِهِ ، ثُمَّ تَحَامَلْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَرَعَ الْعَظْمَ ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَنَا دَهِشٌ فَأَتَيْتُ سُلَّمًا لَهُمْ لِأَنْزِلَ مِنْهُ فَوَقَعْتُ ، فَوُثِئَتْ رِجْلِي ، فَخَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِبَارِحٍ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى سَمِعْتُ نَعَايَا أَبِي رَافِعٍ تَاجِرِ أَهْلِ الْحِجَازِ ، قَالَ : فَقُمْتُ وَمَا بِي قَلَبَةٌ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ .
Narrated Al-Bara bin Azib: Allah's Apostle sent a group of Ansari men to kill Abu-Rafi`. One of them set out and entered their (i.e. the enemies) fort. That man said, I hid myself in a stable for their animals. They closed the fort gate. Later they lost a donkey of theirs, so they went out in its search. I, too, went out along with them, pretending to look for it. They found the donkey and entered their fort. And I, too, entered along with them. They closed the gate of the fort at night, and kept its keys in a small window where I could see them. When those people slept, I took the keys and opened the gate of the fort and came upon Abu Rafi` and said, 'O Abu Rafi`. When he replied me, I proceeded towards the voice and hit him. He shouted and I came out to come back, pretending to be a helper. I said, 'O Abu Rafi`, changing the tone of my voice. He asked me, 'What do you want; woe to your mother?' I asked him, 'What has happened to you?' He said, 'I don't know who came to me and hit me.' Then I drove my sword into his belly and pushed it forcibly till it touched the bone. Then I came out, filled with puzzlement and went towards a ladder of theirs in order to get down but I fell down and sprained my foot. I came to my companions and said, 'I will not leave till I hear the wailing of the women.' So, I did not leave till I heard the women bewailing Abu Rafi`, the merchant pf Hijaz. Then I got up, feeling no ailment, (and we proceeded) till we came upon the Prophet and informed him.
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع ( یہودی ) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب ( عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔ ( اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں ) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آ گیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آ گیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گر گیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آ گئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی۔