TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لباس اور زینت کے مسائل - لباس اور زینت کے مسائل - Book 140 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 140 of Musnad Ahmad, with 37 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

280 Hadith · 37 Chapters
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پولیس کا ایک عامل بھیجا اور اس سے کہا: کیا تجھے یہ پتہ ہے میں تجھے کس مہم پر بھیج رہا ہوں؟ اس کام پر جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو برابر کردوں۔
Takhreej
(۸۰۷۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۵۶۳(انظر: ۱۲۸۴)
Explanation
فوائد:… قبر سے متعلقہ مسئلہ کتاب الجنائز میںگزر چکا ہے۔
8078
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کامیزبان بنا،انھوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں (تو بہتر ہو گا)، سو انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، آپ ابھی دروازے کی چوکھٹ پر ہی تھے کہ گھر کے کونے میں لٹکایا ہوا ایک پردہ دیکھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پر دہ دیکھا، تو واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مل کر پوچھو کہ آپ کس چیز کی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ واپس کیوں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس طرح کے مزین گھر میں داخل ہو۔
Takhreej
(۸۰۷۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۵۵(انظر: ۲۱۹۲۲)
Explanation
فوائد:… ضرورت کے مطابق پردہ لگانا جائز ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی آل کو سادگی پر برقرار رکھنا چاہتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ تھا کہ یہ دنیوی زینت و آرائش سے دور رہیں۔
8079
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا، اس میں تصوریں تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں آپ کے چہرئہ مبارک سے ناراضگی بھانپ گئی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس تکیے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان تصویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویریں بنائی تھیں، اب ان کو زندہ کرو، اور جس گھر میں یہ تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
Takhreej
(۸۰۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۲۴، ومسلم: ۲۱۰۷(انظر: ۲۶۰۹۰)
8080
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر پردہ پایا، پس اس وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوئے، حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئیں اور سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر نہ جائیں، جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھر آئے تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پریشان دیکھا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف تشریف تو لائے لیکن میرے پاس گھر میں داخل نہیں ہوئے، یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات بہت گراں گزری ہے کہ آپ تشریف لے بھی گئے، لیکن گھر میں داخل نہ ہوئے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرا نقش و نگار سے کیا واسطہ ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ سن کر سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا: تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھو کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاطمہ سے کہو کہ یہ کپڑا بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔
Takhreej
(۸۰۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۱۳(انظر: ۴۷۲۷)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نہیںچاہتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آل کادل دنیوی نعمتوں میں لگ جائے، یہی وجہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے غلام اور خادم کا مطالبہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خادم کی بجائے رات کو سوتے وقت تسبیحات کا ایک عمل بتا دیا۔
8081
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات کرتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو حسب ِ دستور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملنے گئے، اچانک نظر پڑی تو ان کے دروازے پر پردہ دیکھا اور حسن و حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ملے بغیر واپس تشریف لے گئے اور ان کے پاس داخل نہ ہوئے، جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا تو خیال کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل نہیں ہوئے، انہوں نے وہ پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار لئے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بچے رونے لگے، انھوں نے دونوں میں ان کے حصے بانٹ دئیے، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چاندی بچوں سے لے لی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! یہ بنو فلاں کے پاس لے جاؤ اور ان سے ان کے عوض فاطمہ کے لیے حیوان کے پٹھوں کا ہار اور عاج کے دو کنگن بچوں کے لئے خرید لائو، یہ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نیکیوں کو دنیا میں ہی استعمال کر لیں۔
Takhreej
(۸۰۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، حمید الشامی و سلیمان المنبھی مجھولان، أخرجہ ابوداود: ۴۲۱۳(انظر: ۲۲۳۶۳)
Explanation
فوائد:… عاج سے مراد سمندری کچھوے کی کمر کی ہڈیاں ہیں، نہ کہ ہاتھی دانت۔
8082
Zaeef
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔
Takhreej
(۸۰۸۳) تخریج: اثر اسنادہ منقطع، محمد بن علی الباقر، ھو حفید الحسین بن علی بن ابی طالب، ولد سنۃ ۵۶ھـ ومات سنۃ۱۱۴ھـ، وقیل غیر ذالک (انظر: ۲۶۴۲۱)
8083
Zaeef
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔
Takhreej
(۸۰۸۴) تخریج: المرفوع منہ صحیح، واسناد ھذا الحدیث ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم، أخرج المرفوع منہ البزار: ۲۹۹۴ (انظر: ۶۳۲۶)
8084
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارا ایک پردہ تھا، اس میں پرندے کی تصویر تھی، جب اندر آنے والا آتا تو وہ اسے سامنے نظر آتا تھا، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اسے پھیر دو، میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس کو دیکھتاہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک چادر تھی، اس پر ریشم کے نشانات تھے، ہم وہ پہن لیتی تھیں۔
Takhreej
(۸۰۸۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۰۷ (انظر: ۲۴۲۱۸)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: تصویر والے اس پردے کو تصویر کی حرمت سے پہلے پر محمول کریں گے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوتے اور اس کو دیکھتے تھے اور اس کو انکار نہیں کرتے تھے، (بعض میں اس طرح کی تصویریں حرام ہو گئیں)۔
8085
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیزنہ رہنے دیتے تھے جس میں صلیب کا نشان ہو، مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔
Takhreej
(۸۰۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۵۲ (انظر: ۲۵۹۹۶)
8086
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ ام عبدالرحمن دقرہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھیں، انہوں نے ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی، جس میں صلیب کا نشان تھا۔ سیدہ نے کہا:اس کو پھینک دو، اس کو پھینک دو،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اس کو دیکھتے تو کاٹ دیتے تھے۔
Takhreej
(۸۰۸۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۷۹۲ (انظر: ۲۵۰۹۱)
Explanation
فوائد:… صلیب کی تصویر کا حکم وہ نہیں ہے، جو ذی روح چیزوں کی تصاویر کا ہے، چونکہ صلیب کے پیچھے ایک غلط نظریہ ہے، اس لیے مسلمانوں کے گھروں میں اس کا نشان یا اس کی تصویر بھی نظر نہیں آنی چاہیے۔
8087
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے گھر کے کونے میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ پردہ ہم سے دور کر دو، اس کی تصاویر نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔
Takhreej
(۸۰۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۴ (انظر: ۱۲۵۳۱)
Explanation
فوائد:… ان تصاویر سے مراد نقش و نگار والی اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں ہیں۔
8088
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے، جبکہ میں نے تصاویر والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ غصے سے تبدیل ہوگیا اور اس پردے کو اپنے دست مبارک سے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: اللہ تعالی کے ہاں روزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان کو ہو گا، جو اللہ تعالی کی مخلوق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں)۔ امام سفیان نے کہا: دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔
Takhreej
(۸۰۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۵۴، ومسلم: ۲۱۰۷(انظر: ۲۴۰۸۱)
8089
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک پردہ بنایا جس میں تصویریں تھیں، ایک روایت میں ہے: اس میں پروں والے گھوڑے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے اور اسے چاک کر دیا اور فرمایا: روزِ قیامت لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے مشابہ چیز بناتے ہیں۔
Takhreej
(۸۰۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۵۴، ومسلم: ۲۱۰۷ (انظر: ۲۴۵۵۶)
8090
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے دروازہ پر پردہ لٹکایا، اس میں تصویریں تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہونے کے لئے تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پردہ دیکھا اور پھر اس کو چاک کر دیا، میں نے وہ پکڑا اور اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔
Takhreej
(۸۰۹۱) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۴۷۹، ومسلم: ۲۱۰۷(انظر: ۲۴۷۱۸)
8091
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک باریک سی چادر خریدی، اس میں تصویریں تھیں، ان کا ارادہ تھا کہ اس سے دلہن خانہ بنائوں گی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو وہ پردہ دکھایا اور بتایا کہ وہ اس سے دلہن خانہ بنانا چاہتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے دو تکیے بنا لو۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دونوں ان تکیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔
Takhreej
(۸۰۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، لضعف ابی اویس عبد اللہ بن عبد اللہ الاصبحی (انظر: ۲۴۸۱۲)
8092
Zaeef
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ زید بن خالد سے مروی ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ لگا ہوا تھا، اس میں تصویر تھی، میں نے سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں گزشتہ دنوں میں تصویروں کی مذمت بیان نہیں کی تھی؟ لیکن اب ان کے دروازے پر پردہ تصویر والا ہے، عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار کی اجازت ہے؟ ہاشم نے کہا: کیا زید نے ہمیں گزشتہ دنوں بتایا نہیں تھا کہ تصویر نا جائز ہے تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار مستثنی ہے۔
Takhreej
(۸۰۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۵۸، ومسلم: ۲۱۰۶(انظر: ۱۶۳۴۵)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ (یہ جو کپڑے میں نقش و نگار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے) اس سے مراد غیر ذی روح کی تصویر ہے، جیسے درخت وغیرہ۔ کیونکہ یہ حدیث قریب ہی گزری ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تصویر والے کپڑے کو چاک کر دیا تھا۔
8093
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیاِ ان کی تیمارداری کیِ ان کے پاس سہل بن حنیف کو پایا، ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک انسان کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے چادر نکالی، سیدنا سہل نے ان سے کہا: اسے کیوں نکالتے ہو؟ کہا اس میں تصویریں ہیں اور تصویروں کے بارے میں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، سہل نے کہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑے میں تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میرا دل اسی طرح مطمئن ہے۔
Takhreej
(۸۰۹۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۷۵۰، والنسائی: ۸/ ۲۱۲، وأخرجہ بنحوہ البخاری: ۵۹۵۸،ومسلم: ۲۱۰۶ (انظر: ۱۵۹۷۹)
Explanation
فوائد:… سابق حدیث کے فوائد دیکھیں۔
8094
Sahih
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
۔
۔ شعبہ سے مروی ہے کہ سیدنا مسوربن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تکلیف کی وجہ سے ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، ان پر ریشم کی چادر تھی، میں (مسور) نے کہا، اے ابو عباس! یہ کپڑا کیوں؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: یہ تو ریشم ہے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ نہیں تھا، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بڑائی اور تکبر کی وجہ سے ریشم سے منع کیا ہے اور ہم الحمد اللہ ایسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: تو آتش دان میں یہ تصویریں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے کہ ہم ان کو آگ میں جلانے لگے ہیں۔ جب مسور نکل کر چلے گئے تو انھوں نے کہا: یہ کپڑا مجھ سے اتار دو اور ان تصوریروں کے سرکاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! اگر آپ اسے بازار میں لے جائیں تو یہ سروں سمیت جلدی اور اچھی قیمت میں فروخت ہو جائیں گے، انھوں نے کہا: نہیں، پھر ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۸۰۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، شعبۃ بن دینار سییء الحفظ، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۳۰، والطبرانی: ۱۲۲۱۸(انظر: ۲۹۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کپڑے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، جس کا بانا ریشم کا ہو یا اس پر نقش و نگار ریشم کا ہوا ہو، اگرچہ وہ چار انگلی سے زائد ہے، بہرحال یہ ان کی ذاتی رائے ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۸۰۴۸)
8095
Zaeef
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ پسند ہے کہ میرا لباس دھلا ہوا ہو، میرے سر میں تیل لگا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو، انھوں نے مزید اشیاء کا بھی ذکر کیا، حتیٰ کہ اپنے کوڑے کے دستے کا بھی تذکرہ کیا، اے اللہ کے رسول! کیا یہ چیزیں تکبر میں شامل ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو جمال اور خوبصورتی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
Takhreej
(۸۰۹۶) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لارسالہ، یحیی بن جعدۃ لم یلق ابن مسعود، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۲۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۳۳(انظر: ۳۷۸۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا معنی درست ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایک آدمی نے کہا کہ اگر آدمی یہ پسند کرتا ہو کہ اس کے کپڑے اور اور جوتے اچھے ہوں تو اس کے جواب میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی الفاظ ارشاد فرمائے تھے کہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
8096
Sahih
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
۔
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے تواضع کرتے ہوئے قدرت رکھتے ہوئے (شاندار) لباس چھوڑ دیا ،اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے روبرو بلائیں گے اور اسے اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی پوشاکوں میں جو چاہے پہن لے۔
Takhreej
(۸۰۹۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۴۸۱ (انظر: ۱۵۶۳۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے اللہ تعالی کے ساتھ گہرے تعلق کی ضرورت ہے، وگرنہ عام آدمی ایسا کرنے میں لذت اور حلاوت محسوس نہیں کرے گا۔
8097
Sahih

Chapters

37
01
صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا اور مستحب ملبوسات کا بیان
7 Hadith
02
تہبند اور قمیص اور ان سے متعلقہ آداب کا بیان
6 Hadith
03
جوتا پہننے کے آداب کا بیان
8 Hadith
04
پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
5 Hadith
05
نیا کپڑا پہننے والے کی دعا کا بیان
4 Hadith
06
سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان
6 Hadith
07
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
5 Hadith
08
سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
4 Hadith
09
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
15 Hadith
10
سونے اور چاندی کے برتنوں کا مردو زن پر حرام ہونے کا بیان
3 Hadith
11
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب سونے کی انگوٹھی کا بیان
13 Hadith
12
پیتل اور لوہے کی انگوٹھی کی کراہت اور چاندی کی انگوٹھی کے استحباب کا بیان
4 Hadith
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
6 Hadith
14
انگوٹھی کا نقش بنوانے، اس کو دائیں ہاتھ میں پہننے اور اس کو درمیانی انگلی میں پہننے کی کراہت کا بیان
5 Hadith
15
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
16 Hadith
16
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
24 Hadith
17
عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
8 Hadith
18
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
3 Hadith
19
سونے کے ذریعے دانتوں کو باندھنے کا بیان
2 Hadith
20
خارش وغیرہ کی وجہ سے ریشم پہننے کے جواز کا بیان
2 Hadith
21
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
8 Hadith
22
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
11 Hadith
23
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
7 Hadith
24
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے ممانعت کا بیان
7 Hadith
25
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
19 Hadith
26
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
27
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
13 Hadith
28
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
12 Hadith
29
عورت کا اپنا دامن لمبا کرنے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
30
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
12 Hadith
31
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
6 Hadith
32
بغیر کسی ضرورت کے عورتوں کے گھروں سے نکلنے کا اور عطر لگا کر نکلنے والی کی وعید کا بیان
3 Hadith
33
خواتین کے لئے مہندی لگانے کے مستحبّ ہونے کا بیان
5 Hadith
34
خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
6 Hadith
35
مردوں کے لئے مکروہ خوشبو کا بیان
7 Hadith
36
عورتوں اورمردوں کی خوشبو کا بیان
2 Hadith
37
سرمہ کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.