۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کستوری کا ذکر کیا گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
۔ سیدنا عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں؟ انھوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں ہوتے تھے۔
۔ سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لانا شروع ہوئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے دعا فرماتے تھے، مجھے بھی لایا گیا، جبکہ مجھے خلوق خوشبو لگائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، وجہ یہ تھی کہ میری ماں نے مجھے خلوق خوشبو لگارکھی تھی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور مجھے ہاتھ نہ لگایا۔
Takhreej
(۸۱۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد اللہ الھمدانی، أخرجہ ابوداود: ۴۱۸۱ (انظر: ۱۶۳۷۹)
۔ ابو حبیبہ اس آدمی سے بیان کرتے ہیں جس نے چار سال صحابیت کا شرف حاصل کیا ، وہ کہتے ہیں: مجھے ایک کام تھا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں نے خلوق خوشبو لگارکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جائو اور اس کو دھو ڈالو۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: جاؤ اور اس کو دھو کر آؤ۔ پس میں اب کی بار گیا اور ایک کنوئیں میں اترا، السی سے بنی ہوئی ایک چیز لی اور جہاں جہاں خلوق لگی تھی، میں نے اس کے ساتھ اسے صاف کیا اور پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لوٹا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اپنی ضرورت بیان کرو۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز قبول نہیں کرتے، جس نے اپنے جسم پر خلوق لگائی ہوئی ہو۔
Takhreej
(۸۱۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، لجھالۃ جدّ الربیع بن انس، وجاء عند ابی داود عن جدیہ ودکلاھما مجھول، والربیع بن انس صدوق سییء الحفظ، أخرجہ ابوداود: ۴۱۷۸ (انظر: ۱۹۶۱۳)
۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم چھوٹے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے موقع پر ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعاء کرتے تھے، ایک دن آپ تشریف لائے تو میرے دائیں بائیں جو بچے تھے، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور مجھے چھوڑ دیا، وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا، اس نے مجھے زرد رنگ لگا دیا تھا، مجھ سے کسی نے کہا: تیرے چہرے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ تیرے چہرے پر یہ رنگ لگا ہوا ہے، پس میں ایک کنویں کیا طرف گیا، اس میں اترا اور غسل کیا، پھر میں دوسری نماز میں حاضر ہواتو میرے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعاء کی اور فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)
Takhreej
(۸۱۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن یعلی: اما ان یکون عبد اللہ واما عثمان، وعبد اللہ بن یعلی، قال البخاری: فیہ نظر، وأما عثمان فھو مجھول، ویونس بن خباب قد ضُعِّف (انظر: ۱۷۵۵۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگا لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے، جب میرے قریب آئے تو آپ نے خلوق سے اپنے ہاتھ کو نہ لگنے دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے یعلی! یہ خلوق کیوں لگائی ہے؟ کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں، شادی تو نہیںکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اسے دھو دے۔ پس میں ایک کنوئیں کی طرف گیا، اس میں اترا اور مٹی سے مل مل کر خلوق کو دھو ڈالا، یہاں تک کہ اس کے نشانات ختم ہو گئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)
Takhreej
(۸۱۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن عبد اللہ بن یعلی و أبوہ ضعیفان، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۶۷۵ (انظر: ۱۷۵۵۵)
۔ (تیسری سند) سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے اوپر زعفران کی زردی کا داغ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے دھو، پھر اس کو دھو، پھر اس کو دھو اور اس کے بعد یہ نہیں لگانی۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر وہ دوبارہ نہیں لگائی۔
۔ (ایک روایت میں ہے:) اور مجھ پر زعفران کی وجہ سے زردی کا نشان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دھو، پھر دھو اور پھر دھو اور دوبارہ نہیں لگانی۔ وہ کہتے ہیں:پس میں نے اس کو دھویا اور پھر دوبارہ کبھی نہیں لگائی۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو اور رنگ نمایاں نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس کارنگ نمایاں ہو اور اس کی خوشبو نہ ہو۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ سرخ رنگ کی ریشم کی چادر پر سوار ہوں گا، نہ عصفر بوٹی سے رنگا کپڑا پہنوں گا اور نہ ایسی قمیص پہنوں گا، جس کے گریبان اور آستینوں پر ریشم لگا ہوا ہو۔ ساتھ ہی حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: خبردار!مردوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ نہ ہو اورعورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ ہو اور خوشبو کی مہک نہ ہو۔
Takhreej
(۸۱۶۸) تخریج: حسن لغیرہ دون قولہ: ’ولا البس القمیص المکفف بالحریر فقد صح ما یخالفہ، وھذا اسناد لم یمسع الحسن البصری من عمران، أخرجہ ابوداود: ۴۰۴۸، وأخرجہ مختصرا الترمذی: ۲۷۸۸ (انظر: ۱۹۹۷۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے ثابت ہوا کہ مرد حضرات وہ خوشبولگائیں جس کا رنگ نہ ہو اور مہک دور تک جائے، نیت اصل میں سنت پر عمل کرنا ہو، آج کل اس قسم کی خوشبوئیں اور عطر بہت زیادہ ہیں، جیسے گلاب، کستوری، عنبر اور کافور وغیرہ اورعورتوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے جو رنگدار ہو، مگر دور تک مہک نہ ہو جیسا کہ زعفران، خلوق یا مہندی ہے لیکن جب عورت خاوند کے پاس ہو باہر نہ جانا ہو پھر جو چاہے خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا سب سے بہترین سرمہ اثمد ہے، سوتے وقت استعمال کیا کرو، یہ نظر کو جلا بخشتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک سرمہ دانی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے وقت اس سے ہر آنکھ میں تین مرتبہ سرمہ ڈالتے تھے۔
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سونے سے پہلے اثمد سرمہ ڈالا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آنکھ میں تین سرمچو ڈالتے تھے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی سرمہ ڈالے تو طاق سرمہ ڈالے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق پتھر استعمال کرے۔
۔ سیدنا معبد بن ابی ہوذہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشبودار اثمد سرمہ ڈالا کرو، کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔
Takhreej
(۸۱۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن النعمان، قال الحافظ فی التقریب : مجھول، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۱۵، والبیھقی: ۴/ ۲۶۲ (انظر: ۱۵۹۰۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا معبد بن ہوذہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوتے وقت خوشبو دار اثمد سرمہ ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۸۱۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن النعمان، قال الحافظ فی التقریب : مجھول، أخرجہ ابوداود: ۲۳۷۷ (انظر: ۱۶۰۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سرمہ ڈالے، وہ طاق سرمچو لگائے، جس نے ایسا کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔
فوائد:… اثمد سرمہ آنکھوں سے بہتے پانی یا زخم کی صورت میں مفید ہے، پلکوں کو مضبوط کرتا ہے، آنکھوں کی پلکیں لمبی کرتا ہے، بوڑھوں اور بچوں کے لئے خصوصی علاج ہے۔