۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا،اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیںگے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا جا رہاتھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا چلا جائے گا۔
۔ مسلم بن یناق کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ کے بیٹوں کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے اپنا تہبند نیچے لٹکایا ہواتھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلایا اور کہا: تیرا کس قبیلہ سے تعلق ہے؟ اس نے کہا: بنو بکر سے، انھوں نے کہا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تجھے دیکھے؟ اس نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: تو پھر اپنا تہبند اوپر کر لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پرکھینچا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
۔ حسن کہتے ہیں:ایک دفعہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اپنی مجلس میں تھے، اس پر ایک حلہ تھا اور وہ اس میں اترا کے چل رہا تھا، یہاں تک کہ وہ سیدنا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر رکا اوراس نے کہا: اے ابو ہریرہ! میری اس پوشاک کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: مجھے میرے صادق و مصدوق خلیل ابو قاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ تم سے پہلے ایک آدمی دو چادروں میں اترا کر چلتا ہواجا رہاتھا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہوئے اور زمین کو حکم دیا، پس اس نے اسے نگل لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ اے آدمی توبھی قیامت کے دن تک چلتا جا۔
۔ سیدنا ہبیب بن مغفل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے محمد قریشی کو دیکھا، وہ کھڑاہوا اور اپنا تہبند اپنے پیچھے گھسیٹ رہا تھا اور وہ اس کو روند رہا تھا، سیدنا ہبیب رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو روندا تو وہ اس کو دوزخ کی آگ میں بھی روندے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو قاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کی طرف نہیں دیکھے گا، جس نے تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹا۔
۔ سیدنا عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم آج ایسے اعمال کرتے ہو، جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ان کو تباہ کن اور مہلک اعمال تصور کرتے تھے۔ میں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ہمارا زمانہ پا لیتے تو پھر کیا ہوتا؟ انھوں نے کہا: تو پھر وہ اور سخت بات کہتے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن قرط رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسے ایسے امور سر انجام دے رہے ہو کہ وہ تمہاری نگاہوں میں تو بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، لیکن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ان کو تباہ کن گناہ سمجھتے تھے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: انھوں نے یہ بات سچی بیان کی ہے اور میرا خیال ہے کہ تہبند لٹکانا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔
۔ عطاء بن یسار ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہاتھا، جبکہ اس کا ازار اس کے ٹخنوں سے نیچے تک لٹک رہا تھا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو جا اور وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تو جا اور پھر وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہے کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو خاموش ہو گئے، لیکن پھر فرمایا: اس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھتا جس نے تہبند لٹکایا ہوا ہو۔
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خریم! تو بڑا اچھا آدمی ہے، کاش اگر تجھ میں دو عادتیں نہ ہوتیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور بال زیادہ لمبے رکھنا۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کی ایک پوشاک دی، جو فیروز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِہدیہ دی تھی، میں نے تہبند باندھا تو وہ تو کافی لمبا چوڑا تھا،سو میں نے اسے زمین پر گھسیٹا اور اوپر والی چادر بھی پہن لی اور اس طرح میں نے وجود ڈھانپ لیا ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا اور فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اٹھا کر رکھو، کیونکہ یہ ٹخنوں سے لے کر زمین تک جتنی مقدار ہے، یہ آگ میں جائے گی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر لباس کو سمیٹ کر رکھنے والا ہو۔
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی چادر دی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دھاری دار ریشمی حلہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نے چادر ٹخنوں کے نیچے لٹکا رکھی ہے، آپ تشریف لائے، میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! لباس کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کے بعد اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے کھینچے گا، اللہ تعالی اس کی طرف نہیںدیکھے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تہبند دیکھا جو کہ زمین پر حرکت کر رہا تھا، نیا ہونے کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبداللہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنا تہبند اوپر اٹھالو۔ پس میں نے ٹخنوں سے اوپر اٹھا لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اٹھائو۔ پس میں نے اور اٹھا لیا حتیٰ کہ نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، پھر آپ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا لباس زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کبھی کبھی میرا تہبند کچھ لٹک سا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔
فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ مسلمان پراپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانا واجب ہے،اسے چاہیے کہ وہ اپنے لباس کو ٹخنوں سے اوپر رکھے، اگرچہ اس کا مقصد تکبر نہ ہو۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا واضح ردّ کیا گیا ہے، جن کے جبّے زمین پر لگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ تکبر کی نیت سے نہیں کر رہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے تک ہونا چاہیے، یا پھر نصف پنڈلی تک کر لے، نہیں تو ٹخنوں تک، جو اس سے نیچے ہوگا، وہ آگ میں ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے تہبند کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل سے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں ہے کہ وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان درمیان رہے، البتہ ٹخنوں سے نیچے والا جو حصہ تہبند میں آئے گا، وہ آگ میں ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، جو از راہِ تکبر تہبند گھسیٹے گا۔
Takhreej
(۸۱۱۵) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۰۹۳، وابن ماجہ: ۳۵۷۳ (انظر: ۱۱۰۱۰)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے۔ ‘ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹخنوں تک لٹکایا جا سکتا ہے، البتہ اس سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔