خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب
بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
۔
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دن کہا: تم نے بری عادت ایجاد کرلی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، ایک آدمی ایک لاٹھی لایا، اس کے سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا، اس نے کہا: خبردار! یہی جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد کپڑے کے وہ ٹکڑے ہیں، جن کے ساتھ عورتیں اپنے بال زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔
Takhreej
(۸۱۳۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۲۷ (انظر: ۱۶۸۴۳)
Explanation
فوائد:… خاتون کا اپنے بالوں میں کوئی ایسی چیز داخل کرنا یا ملانا منع ہے، جس سے اس کا مقصود یہ ہو کہ اس کے بال زیادہ نظر آئیں، یہ جھوٹ اور خلافِ فطرت چیز ہو گی، البتہ بالوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پراندہ وغیرہ لگانا جائز ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن شرط یہی ہو کہ عورت کا مقصد یہ ہو کہ بال قابو میں رہیں، یا اس کا مقصد زینت ہو، ضروری یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی جعل سازی اور دھوکا دہی نہ ہو۔
8138
Sahih