۔ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔
Takhreej
(۹۴۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی ضعیف سییء الحفظ، ومحمد بن شرحبیل مجھول، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۶۶، ۳۶۰۴ (انظر: ۲۳۸۴۴)
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث صحیح ہے۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَمْشِی جَاء َ رَجُلٌ وَمَعَہُ حِمَارٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اِرْکَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِکَ مِنِّی إِلَّا أَنْ تَجْعَلَہُ لِی۔)) قَالَ فَإِنِّی قَدْ جَعَلْتُہُ لَکَ فَرَکِبَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، جبکہ اس کے ساتھ گدھا بھی تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیں، پھر وہ خود پیچھے ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تو خود اپنے جانور کے اگلے حصے پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے، الا یہ کہ تو اس کو میرے لیے کر دے۔ اس نے کہا: جی میں نے اس حصے کو آپ کے لیے کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے۔
(ابوداود: ۲۲۰۸، ترمذی: ۲۷۷۳)
ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تواضع اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام کا حق ادا کر دیا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔
فوائد:… ولی اس پرہیز گار مومن کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پیروی کرتا ہے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَا ٓ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ } … خبردار! بیشک اللہ تعالیٰ کے اولیائ، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے، وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے، دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (سورۂ یونس: ۶۴)
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔
انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کا کون سا کڑا (یعنی نیک عمل) زیادہ ممتاز اور عالی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نماز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا کون سا عمل ہے؟ لوگوں نے کہا: جی زکوۃ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ بھی اچھا ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی رمضان کے روزے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمل بھی اچھا ہے، اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی حج ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی جہاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی اچھا عمل ہے، اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: ایمان کا سب سے ممتاز اور اعلی کڑا (یعنی نیک عمل) یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
Explanation
فوائد:… محبت کی دو قسمیں ہیں: (۱) طبعی اور (۲) کسبی
طبعي محبت وہ ہے جو انسان کو طبعی طور پر اپنے قرابتداروں اور محسنوں سے ہوتی ہے، یہ محبت انسان کا کمال اور طرۂ امتیاز نہیں، کیونکہ تقریبا تمام حیوانات بھی اس صفت سے متصف نظر آتے ہیں۔
کسبي محبت سے مراد مومنوں کا آپس میں تعلق اور دوستی ہے، جیسا کہ صحابہ کرام ،بالخصوص مہاجرین و انصار کے مابین تھی،یہ دینی محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے، اس سے کوئی دنیوی مفاد اور غرض وابستہ نہیں ہوتی۔ ایسی محبت کو نہ صرف شریعت ِ اسلامیہ میں سراہا گیا ہے، بلکہ ایمان و ایقان کی علامت قرار دیا گیا ہے، یاد رہے کہ ایسی محبت و الفت صرف نیک اور صالح لوگوں سے ہوتی ہے۔
اس باب کی احادیث میں کسبی محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں اور اس کو عزتیں عطا کرتے ہیں۔
یہ مسلمان کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ اس معاملے میں رنگ و نسل، سیاست و سیادت، ذات پات اور قبیلہ و برادری کو ترجیح نہیں دیتا ہے، اگر اس نے کسی سے تعلق کو مضبوط کیا ہے تو اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے اور اگر کسی سے بغض رکھا تو وہ بھی اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔
عصرِ حاضر میں اس قسم کا تعلق انتہائی شاذ و نادر ہے، بلا شبہ ہر کوئی اپنی دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے، لیکن کسی کی بنیاد حسن و جمال ہے، کوئی برادری ازم کو ترجیح دیتا ہے، کوئی سکول کی کلاس اور علاقہ کو مد نظر رکھتا ہے، کوئی اپنے بڑوں کے تعلق کا لحاظ کر رہا ہے، کوئی اپنے پیشے کے لوگوں کو اپنی محبتوں کا مستحق سمجھ رہا ہے، غرضیکہ محض اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دوسروں لوگوں سے محبت کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔
قارئین کرام! یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی برے آدمی سے بغض یا عدم دوستی کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے مکمل طور پر قطع تعلقی کی جائے یا جہاں وہ ملے اس سے اعراض کیا جائے۔ شریعت ِ اسلامیہ نے کافروں اور مشرکوں سے بھی حالات کے مطابق حسن سلوک اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مسلموں کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے تھے۔ شریعت نے جس دوستی و دشمنی کی تعلیم دی ہے، اس کا تعلق دل سے ہے اور جنگ جیسے مخصوص زمان و مکاں میں ظاہری حالات سے بھی ہوتا ہے۔ اس چیز کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ آپ کے سامنے پانچ پانچ سال عمر کے دو بچے کھڑے ہیں، ایک آپ کا اپنا بچہ ہے اور دوسرا کسی ایسے آدمی کا ہے، جس کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ لیکن آپ شریعت کا لحاظ کر کے دونوں بچوں سے ظاہری طور پر برابر کا پیار کرتے ہیں، دونوں کے سروں پر دست ِ شفقت رکھتے ہیں، دونوں کو کھانے کے لیے برابر مقدار کی چیز دیتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے دل میں جتنا پیار و محبت اپنے بچے کا ہے، اتنا کسی دوسرے کا نہیں ہو سکتا، آپ کو جو لطف اپنے بچے سے پیار کر کے ہو گا، وہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ محبت کرنے سے محسوس نہیں ہوتا، بلکہ بعض لوگ اپنے غیر نمازی بچے کو دوسروں کے نمازی بچوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کے بارے میں ہے کہ آپ کے دل میں جو مقام مکمل مسلمان کا ہو، وہ ناقص مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کا نہیں ہو نا چاہیے۔
اب آپ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ کا بغور مطالعہ کریں۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ایک آدمی نے کہا: نماز اور زکوۃ، اور کسی نے کہا کہ جہاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی جائے اور اُسی کے لیے بغض رکھا جائے۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
۔ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جوا ب دیا، جب وہ آگے گزر گیا تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس آدمی سے بغض رکھتا ہوں، اہلِ مجلس نے کہا: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کی ہے، اللہ کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو بتلائیں گے، او فلاں! کھڑا ہو اور اس کو بتلا کے آ، پس ان کے قاصد نے اس کو شخص کو پا لیا اور ساری بات اس کو بتلا دی، وہ آدمی وہاں سے پھرا اور سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا پہنچا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمانوں کی ایک مجلس سے گزرا، ان میں فلاں آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، جب میں ان سے تجاوز کر گیا تو ان میں سے ایک آدمی مجھے پیچھے سے آ کر ملا اور کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے بغض رکھتا ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ اس کو بلائیں اور پوچھیں کہ کس وجہ سے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس آدمی کی بتائی ہوئی بات کے بارے میں پوچھا، اس نے اعتراف کر لیا اور کہا: جی اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا کہ تو اس سے بغض کیوں رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی میں اس کا ہمسایہ ہوں اور اس کے بارے میں باخبر ہوں، اللہ کی قسم! میں نے اس کو دیکھا ہے، یہ صرف فرضی نماز ادا کرتا ہے، جو ہر نیک و بد پڑھ رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے ان نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کیا ہے؟ یا میں نے کبھی وضو میں کمی کی ہے؟ یا میں نے رکوع و سجود کو ناقص ادا کیا ہے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس سے یہ سوالات کیے تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی واقعییہ بات تو ہے کہ یہ وقت پر اور مکمل نماز وضو کا اہتمام کرتا ہے)۔ پھر اس اعتراض کرنے والے نے کہا: اللہ کی قسم ہے، میں نے اس کو دیکھا کہ یہ صر ف ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، جس کے روزے ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے رمضان میں کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہے، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنییہ بات تو ٹھیک کہ یہ آدمی اچھے انداز میں روزے رکھتا ہے)۔ اعتراض کرنے والے نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ اس نے کسی سائل کو کبھی کوئی چیز دی ہو، یا اللہ کے راستے میں کوئی مال خرچ کیا ہو، ما سوائے اس زکوۃ کے، جو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے زکوۃ میں سے کبھی کوئی چیز چھپائی ہے، یا زکوۃ لینے والے سے کمی کروائی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھاتو اس نے منفی میں جواب دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو جا تو، میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بہتر ہو۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
Explanation
فوائد:… یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی نے بہتر ہونے کی امید ظاہر کی جو نماز، روزے اور زکوۃ کا بہترین انداز میں اہتمام کرتا تھا اور اعتراض کرنے والے کی حوصلہ شکنی کی،یہ الگ بات ہے کہ نفلی نماز، نفلی صدقہ اور نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جن کی وہاں واقفیت ہو گئی، وہ ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیں اور جن میں وہاں اجنبیت اور نا واقفیت ہو گئی، وہ مانوس نہیں ہوتیں۔
Takhreej
(۹۴۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۸ (انظر: ۱۰۸۲۴)
Explanation
فوائد:… انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔ دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔
Takhreej
(۹۴۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۸ (انظر: ۱۰۸۲۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات کو مد نظر رکھ کرکسی سے محبت رکھنا، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات کا پاس و لحاظ ہے، کیونکہ بیچ میں اس کی اطاعت کارفرما ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں، آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جبکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۴۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۶(انظر: ۸۴۵۵)
Explanation
فوائد:… میرے جلال کی وجہ سے، یعنی میری عظمت اور میری تعظیم کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکو گے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں، جو اس محبت کی جڑ اور جوہر ہے؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔ ایک روایت میں ہے: کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔
Takhreej
(۹۴۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۴ (انظر: ۹۰۸۴)
Explanation
فوائد:… سلام کے ذریعے باہمی اور شرعی محبت اور دوسروں کے لیے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اس لیے بھرپور انداز میں اس نبوی نسخے کا استعمال ہونا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سلام کہنے میں بڑی سستی کرتے ہیں۔
۔ سیدنا عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک صریح ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے محبت نہیں کرتا اور اُسی کے لیے بغض نہیں رکھتا، پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے اور اُسی کے لیے بغض رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور دوستی کا مستحق قرار پاتا ہے اور بیشک میرے اولیاء میرے بندوں میں سے ہوتے ہیں اور میری مخلوق میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میرے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور مجھے ان کے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد، عبدِ اللہ بن الولید، ولانقطاعہ، ابو منصور مولی الانصار لم یلق عمرو بن الجموح (انظر: ۱۵۵۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے، جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ نظر آتا ہے، پس جب کہا جائے گا کہ یہ لوگ کون ہیں، تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے والے ہیں۔
Takhreej
(۹۴۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو حازم لم یسمع من ابی سعید (انظر: ۱۱۸۲۹)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بندے سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کا اکرام کرتا ہے۔
فوائد:… بندے کا اللہ تعالیٰ کااکرام کرنا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرنا اور اس کی منع کردہ چیز سے رک جانا ہے اور ایک حکم اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت کرنا اور کسی سے نفرت رکھنا ہے ۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔
یہی معاملہ دوسرے اساتذہ اور ڈاکٹر حضرات کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔
۔ ابو مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، اس میں تیس بزرگ صحابہ کرام تشریف فرما تھے، ان میں ایسا نوجوان بھی تھا، جس کی آنکھیں سرمگیں اور دانت چمکنے والے تھے، ایک روایت میں ہے: اس کا چہرہ خوبصورت تھا، اس کی آنکھیں سیاہ اور فراخ تھیں اور اس کے دانت چمکنے والے تھے، وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا، جب لوگوں میں کوئی اختلاف پڑتا تو وہ اسی نوجوان سے سوال کرتے، میں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے کہا: یہ نوجوان کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں، میرے دل میں اس کے لیے بڑی محبت پیدا ہوئی، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا، یہاں تک کہ وہ متفرق ہو گئے، پھر میں جلدی جلدی مسجد کی طرف آیا اور دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل ایک ستون کے ساتھ کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، پھر وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی، میں نے بھی نماز پڑھی اور اپنی چادر سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، پھر وہ بھی فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور مجھ سے کوئی بات نہیں ہے، میں بھی خاموش رہا اور ان سے کوئی بات نہیں کی، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے کہا: تو مجھ سے کیوں محبت کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ کے لیے، پس اس نے میرے گوٹھ کا کپڑا پکڑا اور تھوڑا سا اپنی طرف کھینچ لیا اور پھر کہا: اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو خوش ہو جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے جلال کی وجہ سے محبت کرنے والوں کے نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیاء و شہداء کو ان پر رشک آئے گا۔ ایک روایت میںہے: وہ اس دن اللہ کے سائے میںہوں گے، جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قریب جو بیٹھک بیٹھیں گے، اس پر انبیائ، صدیقین اور شہداء کو رشک آئے گا۔ پھر میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا: اے ابو الولید! آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں جو حدیث سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی، کیا میں وہ آپ کو بیان کروں؟ انھوں نے کہا: میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کی، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی ہے، میرے نام پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی اور میری وجہ سے صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی۔
فوائد:… انبیا ورسل کا مقام و مرتبہ تمام امتیوں سے زیادہ ہو گا، اس حدیث میں رشک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اِن لوگوں کے حالات کو اچھا سمجھیں گے اور ان پر خوش ہوں گے، کیونکہ قاموس میں غِبْطَۃ کا معنی حُسْنُ الْحَالِ وَالْمَسَرَّۃ بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس کا دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اُن کی فضیلت و عظمت اور عالی مرتبت و منزلت بیان کرنا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی جلالت و عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کا مقام و مرتبہ اس کے ہاں روزِ قیامت اتنا عالی شان ہو گا کہ انبیا کرام ، باوجود اس بات کے کہ وہ جلالت و عظمت کے اعلی مقام پر فائز ہوں گے، کو بھی رشک ہو گا کہ کیا بات ہے ان لوگوں کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنی شان عطا کی ہے۔
۔ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو!سنو، سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدائ، لیکن شہداء و انبیاء اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ دور والے لوگوں سے ایک بدّو آیا اور اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ڈالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ ہیں، جو انبیاء ہیں نہ شہدائ، لیکن انبیاء و شہداء ان کی بیٹھکوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے قرب پر رشک کریں گے، ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ بدّو کے سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نور کے منبر بنائے گا، ان پر ان کو بٹھائے گا، ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور بنائے گا، لوگ قیامت کے دن گھبرائیں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Takhreej
(۹۴۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب (انظر: ۲۲۹۰۶)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اس کو اس کے بارے میں بتلایا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو بتلا۔ پس وہ اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے محبت کرتا ہوں، اس نے کہا: وہ ذات تجھ سے محبت کرے، جس کے لیے تو نے مجھ سے محبت کی ہے۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو اور اس کو خبر دے، تاکہ تم دونوں میں محبت ثابت ہو جائے۔
Takhreej
(۹۴۶۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۷۱، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۱۸۲ (انظر: ۱۳۵۳۵)
Explanation
فوائد:… جب کسی کو کسی سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے محبت ہو تو وہ اسے اطلاع دے دے تاکہ دوسرا شخص بھی آگاہ ہو جائے اور محبت دو طرفہ ہوجائے، درج ذیل حدیث میں اس حکم کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
علی بن حسین سے مرسلًا روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فِی اللّٰہِ فَلْیُبَیِّنْ لَہُ فَاِنَّہُ خَیْرٌ فِی الْاُلْفَۃِ، وَأَبْقٰی فِی الْمَوَدَّۃِ۔)) … جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت ہو تو وہ اس پر واضح کر دے، کیوں کہ یہ وضاحت الفت میں بہتری اور محبت کو تادیر رکھنے والی ہے۔ (رواہ وکیع في الزھد ۲/۶۷/۲،صحیحہ:۱۱۹۹)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اپنے کسی ساتھی سے محبت ہو تو وہ اس کے گھر جائے اور اس کو یہ خبر دے کہ وہ اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے۔)) ابو سالم نے ابو امیہ سے کہا: تحقیق میں تیری پاس تیرے گھر آیا ہوں (تاکہ تجھے اپنی محبت کا بتا سکوں)۔
Takhreej
(۹۴۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف،یزید بن ابی حبیب، وھو وان کان ثقۃ، لکنہ قد کان یرسل، ولم یبین ھنا عما رواہ، وابنُ لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۲۱۲۹۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ہے نہ اس کو رسوا کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، جب آپس میں محبت کرنے والے دو آدمیوں میں جدائی پیدا ہوتی ہے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے اس کے بھائی پر چھ حقوق ہیں، جب وہ چھینکے تو اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے، جب وہ غائب ہو یا موجود ہو، ہر صورت میں اس کی خیر خواہی کرے، جب اس کو ملے تو سلام کہے، جب وہ اس کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ کے لیے اس کے پیچھے چلے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ مسلمان اپنے بھائی کو تین دنوں سے زیادہ تک چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۴۶۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۵۳۵۷)
Explanation
فوائد:… مسلمانوں کو چاہیے کہ ان حقوق کی معرفت حاصل کریں اور صرف اسلام کے رشتے کا لحاظ کر کے ان کی ادائیگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
۔ بنوسلیط کے ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، حماد راوی نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا، جب دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور پھر ان میں تفریق پیدا ہو جاتی ہے تواس کا سبب گناہ ہوتا ہے، جس کا ان دو میں ایک ارتکاب کرتا ہے اور گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے۔
Takhreej
(۹۴۶۳) تخریج: صحیح (انظر: ۲۰۶۸۹)
Explanation
فوائد:… گناہ ایسی نحوست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اختیار کی گئی صحبت بھی متأثر ہو جاتی ہے۔