TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9457 - اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان - محبت اور صحبت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 6 in this chapter
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
۔ (۹۴۵۷)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤُمِنُ مَاْلَفَۃٌ وَلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَاْلَفُ وَلَا یُؤْلَفُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۸)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔
9457
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۴۵۷) تخریج: متن الحدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۷۴۴، والبیھقی فی الشعب : ۸۲۱۰ (انظر: ۲۲۸۴۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔ یہی معاملہ دوسرے اساتذہ اور ڈاکٹر حضرات کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔

Related Chapters

2,150
1
باب: نشہ لانے والی چیزیں پینے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ عذاب، ذلت و رسوائی کا ذکر۔
Sunnan Nisai
2
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
3
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
4
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
5
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
Musnad Ahmad
7
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
Musnad Ahmad
10
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
Musnad Ahmad
11
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
12
(32) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah has set forth an example for those who believe, the wife of Firaun (Pharaoh)... (up to)... and she was of the Qanitin (i.e., obedient to Allah).” (V.66:11,12)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اورایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
13
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
14
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
15
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
16
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
17
Chapter: The High Positions that Allah has prepared for the Mujahid in Paradise
اللہ تعالیٰ نے مجاہد کےلیے جنت میں کیا درجات تیار کیے ہیں
Sahih Muslim
18
Chapter: The Virtues Of Ja'far Bin Abi Talib And Asma' Bint Umais, And The People Of Their Ship (RA)
حضرت جعفر بن ابی طالب حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی کشتی والوں کے فضائل
Sahih Muslim
19
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
21
Chapter: The Virtue Of Those Who Praise Allah
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
Sunnan Ibn e Maja
22
باب: اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: تین صلبی اولاد مر جانے پر اللہ تعالیٰ سے اجر چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور کھجوروں اور انگوروں کے کچھ پھلوں سے تم نشہ آور مشروب اور اچھا (حلال و عمدہ) رزق تیار کرتے ہو“ کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
25
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Loving For The Sake Of Allah
باب: اللہ کی خاطر محبت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
33
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
34
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
35
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
37
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
38
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
39
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
40
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
41
بَابُ الْحُبِّ فِي
اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان
Mishkat
42
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
43
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
44
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
45
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
Musnad Ahmad
48
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
49
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
7162
۔ (۷۱۶۲)۔عَنْ اَبِی اُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا أوْتِیَ بِالْجَوْنِیَّۃِ وَدَخَلَ عَلَیْھَا قَالَ: ((ھَبِیْ لِیْ نَفْسَکِ۔)) قَالَتْ: وَھَلْ تَہَبُ الْمَلِکَۃُ نَفْسَہَا لِلسُّوْقَۃِ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا أبَا أَسَیْدٍ اَکْسِہَا رَازِقِیَّتَیْنِ وَ اَلْحِقْہَا بِأھْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۸)
۔ سیدنا ابو اسیدساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔
Musnad Ahmad
8683
۔ (۸۶۸۳)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَ بُو خَلَفٍ مَوْلٰی بَنِی جُمَحٍ: أَ نَّہُ دَخَلَ مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَلٰی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فِی سَقِیفَۃِ زَمْزَمَ لَیْسَ فِی الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَیْرُہَا، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَہْلًا بِأَ بِی عَاصِمٍ یَعْنِی عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ، مَا یَمْنَعُکَ أَ نْ تَزُورَنَا أَ وْ تُلِمَّ بِنَا؟ فَقَالَ: أَخْشَی أَ نْ أُمِلَّکِ، فَقَالَتْ: مَا کُنْتَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: جِئْتُ أَ نْ أَ سْأَ لَکِ عَنْ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَؤُہَا؟ فَقَالَتْ: أَ یَّۃُ آیَۃٍ، فَقَالَ: {الَّذِینَیُؤْتُونَ مَا آتَوْا} أَ وْ {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} [المؤمنون: ۶۰] فَقَالَتْ: أَ یَّتُہُمَا أَ حَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَإِحْدَاہُمَا أَ حَبُّ إِلَیَّ مِنْ الدُّنْیَا جَمِیعًا، أَوْ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، قَالَتْ: أَ یَّتُہُمَا؟ قُلْتُ: {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} قَالَتْ: أَ شْہَدُ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذٰلِکَ کَانَ یَقْرَؤُہَا وَکَذٰلِکَ أُنْزِلَتْ، أَ وْ قَالَتْ: أَ شْہَدُ لَکَذٰلِکَ أُنْزِلَتْ وَکَذٰلِکَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَؤُہَا وَلٰکِنَّ الْہِجَائَ حَرْفٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴۸)
۔ ابو خلف عبید بن عمیرکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس زمزم کے چبوترہ میں آئے، اس کے سوا اس وقت مسجد میں سایہ نہ تھا، سیدہ نے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور کہا: ہماری ملاقات میں تمہیںکیا رکاوٹ ہے؟ عبید نے کہا: مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں ڈال دوں گا،سیدہ نے کہا: کیسے آئے ہو؟ عبید نے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ سے ایک آیت کے بارے میں سوال کرنا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے پڑھا کرتے تھے۔سیدہ نے کہا: وہ کونسی آیت ہے، اس نے کہا: {الَّذِینَیُؤْتُونَ مَا آتَوْا} یا {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا}سیدہ نے کہا: تمہیں ان میں سے کونسی تلاوت زیادہ پسند ہے؟ عبید نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!ان میں سے ایک قرأت مجھے دنیا وما فیہا سے زیادہ پسند ہے، سیدہ نے کہا: وہ کونسی قرأت ہے؟ عبید نے کہا : {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی اور اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے، لیکن حروف تہجی والی بھی ایک قرأت ہے۔
Musnad Ahmad
8685
۔ (۸۶۸۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: {وَہُمْ فِیہَا کَالِحُوْنَ} [المؤمنون: ۱۰۴] قَالَ: ((تَشْوِیہِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُہُ الْعُلْیَا حَتّٰی تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِہِ، وَتَسْتَرْخِی شَفَتُہُ السُّفْلٰی حَتّٰی تَضْرِبَ سُرَّتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ۔}… ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ کی تفسیریہ ہے کہ آگ انہیں بھون ڈالے گی، اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سرکے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک جائے گا، یہاں تک کہ ناف سے جا ٹکرائے گا۔
Musnad Ahmad
9119
۔ (۹۱۱۹)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ اَھْلِ الْاِیْمَانِ بِمَنْزِلَۃِ الرَّاْسِ مِنَ الْجَسَدِ، یَاْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِاَھْلِ الْاِیْمَانِ کَمَا یَاْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِیْ الرَّاْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۵)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔
Musnad Ahmad
9441
۔ (۹۴۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، رِوَایَۃً، قَالَ: ((اَلْمُؤُمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ اِنْ لَمْ یُحْذِکَ مِنْ عِطْرِہِ عَلِقَکَ مِنْ رِیْحِہِ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ مَثَلُ الْکِیْرِ اِنْ لَمْ یُحْرِقْکَ نَالَکَ مِنْ شَرَرِہِ، وَالْخَازِنُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْیُؤَدِّیْ مَا اُمِرَ بِہٖمُؤْتَجِرًااَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
10940
۔ (۱۰۹۴۰)۔ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیٰی عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ تَبُوکَ حَتّٰی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرٰی، فَإِذَا امْرَأَۃٌ فِی حَدِیقَۃٍ لَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((اخْرُصُوا۔)) فَخَرَصَ الْقَوْمُ وَخَرَصَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْمَرْأَۃِ: ((أَحْصِی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا حَتّٰی أَرْجِعَ إِلَیْکِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ حَتّٰی قَدِمَ تَبُوکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہَا سَتَبِیتُ عَلَیْکُمْ اللَّیْلَۃَ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ، فَلَا یَقُومُ مِنْکُمْ فِیہَا رَجُلٌ، فَمَنْ کَانَ لَہُ بَعِیرٌ فَلْیُوثِقْ عِقَالَہُ۔)) قَالَ: قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: فَعَقَلْنَاہَا فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ ہَبَّتْ عَلَیْنَا رِیحٌ شَدِیدَۃٌ، فَقَامَ فِیہَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْہُ فِی جَبَلِ طَیِّئٍ، ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَلِکُ أَیْلَۃَ، فَأَہْدٰی لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَغْلَۃً بَیْضَائَ، فَکَسَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَحْرِہِ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتّٰی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرٰی فَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ: ((کَمْ حَدِیقَتُکِ؟)) قَالَتْ: عَشَرَۃُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ فَلْیَفْعَلْ۔)) قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتّٰی إِذَا أَوْفٰی عَلَی الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ((ہِیَ ہٰذِہِ طَابَۃُ۔)) فَلَمَّا رَأٰی أُحُدًا قَالَ: ((ہٰذَا أُحُدٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ، أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟)) قَالَ: قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خَیْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِی سَاعِدَۃَ، ثُمَّ فِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۲)
سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم وادی ٔ قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک خاتون اپنے باغ میں موجود تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم اس باغ کے پھل کا تخمینہ لگاؤ۔ لوگوں نے اندازے لگائے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس وسق کا تخمینہ لگایا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اس باغ سے جو فصل حاصل ہو،اس کو یاد رکھنا، تاآنکہ میں تمہارے پاس ان شاء اللہ واپس آؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہو کر تبوک پہنچے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات انتہائی تیز ہوا اور آندھی چلے گی، تم میں سے کوئی آدمی آندھی میں کھڑا نہ ہو، جس کے پاس اونٹ ہے وہ اس کے پاؤں کی رسی کو مضبوط باندھ دے۔ سیدنا ابو حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے اونٹوں کو مضبوط باندھ دیا، جب رات ہوئی تو تیز آندھی چلی، ایک آدمی اس میں کھڑا ہو گیا تو آندھی نے اسے قبیلہ طے کے پہاڑوں میں جا گرا یا، بعدازاں ایلہ کا حاکم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک سفید خچر بطور ہدیہ پیش کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک چادر عنایت فرمائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بستی اور علاقہ اس کو لکھ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ہم واپسی پر وادیٔ قری میں پہنچے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا: تمہارے باغ سے کتنا پھل حاصل ہوا؟ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تخمینہ کے مطابق بتایا کہ دس وسق حاصل ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جلدی میں ہوں، میرے ساتھ جو کوئی جلدی جانا چاہتا ہے، تیار ہو جائے۔ آتے آتے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: وہ مدینہ منورہ طابہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نظر احدپہاڑ پر پڑی تو فرمایا: یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، کیا میں تمہیں انصار کے بہترین قبائل سے آگاہ نہ کروں؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ضرور آگاہ فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کے قبائل میں سب سے بہتر بنو نجار، ان کے بعد بنو عبدالاشھل اور ان کے بعد بنو ساعدہ ہے، پھر انصار کے تمام ہی قبائل میں خیر ہے۔
Musnad Ahmad
11221
۔ (۱۱۲۲۱)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ: أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبُرْدَۃٍ مَنْسُوجَۃٍ فِیہَا حَاشِیَتَاہَا، قَالَ سَہْلٌ: وَہَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَۃُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ ہِیَ الشَّمْلَۃُ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ نَسَجْتُ ہٰذِہِ بِیَدِی فَجِئْتُ بِہَا لِأَکْسُوَکَہَا، فَأَخَذَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحْتَاجًا إِلَیْہَا فَخَرَجَ عَلَیْنَا وَإِنَّہَا لَإِزَارُہُ، فَجَسَّہَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ رَجُلٌ سَمَّاہُ فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ ہٰذِہِ الْبُرْدَۃَ! اکْسُنِیہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَلَمَّا دَخَلَ طَوَاہَا وَأَرْسَلَ بِہَا إِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ الْقَوْمُ: وَاللّٰہِ مَا أَحْسَنْتَ کُسِیَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحْتَاجًا إِلَیْہَا، ثُمَّ سَأَلْتَہُ إِیَّاہَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّہُ لَا یَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنِّی مَا سَأَلْتُہُ لِأَلْبَسَہَا وَلٰکِنْ سَأَلْتُہُ إِیَّاہَا لِتَکُونَ کَفَنِییَوْمَ أَمُوتُ، قَالَ سَہْلٌ: فَکَانَتْ کَفَنَہُ یَوْمَ مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۳)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بُنی ہوئی ایک حاشیہ دار چادر لے کر حاضر ہو ئی۔ پھر سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ آیا تم جانتے ہو کہ بردۃ کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، چادر کو کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے،اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ہاتھ سے یہ چادر بن کر حاضر ہوئی ہوں تاکہ آپ کے پہننے کے لیے اسے آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پسند کرتے ہوئے قبول فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے زیب تن کیا اور ہمارے پاس تشریف لائے، سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی کا نام لے کر بیان کیا کہ اس نے اس چادر کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور کہا: یہ کتنی عمدہ چادر ہے، اے اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس کی طرف بھجوا دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے یہ اچھا کام نہیں کیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ چادر پہننے کے لیے دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پسند بھی آئی تھی، لیکن تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ مانگ لی، جبکہ تم جانتے ہو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سائل کو خالی واپس نہیں لوٹاتے۔اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے یہ چادر پہننے کے لیے نہیں مانگی، میں نے تو صرف اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں گا تو یہ چادر میرا کفن ہو گی۔ سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوا تو وہ چادر اس کا کفن بنائی گئی۔
Musnad Ahmad
11533
۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
Musnad Ahmad
11555
۔ (۱۱۵۵۵)۔ عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((خَیْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَفِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ)) فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: جَعَلَنَا رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ، أَسْرِجُوا لِی حِمَارِی، فَقَالَ ابْنُ أَخِیہِ: أَتُرِیدُ أَنْ تَرُدَّ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسْبُکَ أَنْ تَکُونَ رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۷)
ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصارکے گھرانوں میں سب سے بہترین گھر انہ بنو نجار کا، ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا، ان کے بعد بنو حارث بن خزرج اور ان کے بعد بنو ساعدہ کا ہے، ویسے انصار کے سب گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سن کر سیدناسعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارا نام چوتھے نمبر پر لیا، میرے گدھے پر زین کسو (میں جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ شکایت کرتا ہوں)۔ لیکن ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات پر اعتراض کریں گے؟ تمہارے لیےیہ اعزاز بھی کافی ہے کہ تم چوتھے نمبر پر ہو۔