TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9855 - نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتَ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَافَاطِمَۃُ! یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ،یَا صَفِیَّۃُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ،یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ، لَااَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلُوْنِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
9855
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۸۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۵ (انظر: ۲۵۰۴۴)

Related Chapters

262
1
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
2
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
3
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
Sahih Bukhari
4
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
5
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Give The Salam To The One Who Is Urinating
باب: پیشاب کرتے ہوئے شخص کو سلام کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
Musnad Ahmad
9
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
10
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
12
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
13
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
14
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
Musnad Ahmad
15
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
17
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
(108) CHAPTER. Is it permissible to touch or push one's wife in prostration, in order to prostrate properly?
اس بیان میں کہ کیا مرد سجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو چھو سکتا ہے ؟ ( تاکہ وہ سکڑ کر جگہ چھوڑ دے کہ بآسانی سجدہ کیا جا سکے )
Sahih Bukhari
19
(135) CHAPTER. To prostrate on the nose and in the mud.
سجدہ کرتے ہوئے کیچڑ میں بھی ناک زمین پر لگانا
Sahih Bukhari
20
(8) CHAPTER. If someone deputes a person to give something but does not mention how much to give, it is permissible for the deputy to distribute it amongst the people according to the conventional custom.
ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا دے ، اور وکیل نے لوگوں کے جانے ہوئے دستور کے مطابق دے دیا
Sahih Bukhari
21
(4) CHAPTER. “And the Command of Allah is a decree determined.” (V.33:38)
اس بیان میں کہ مشرکوں کی اولاد کا حال اللہ ہی کو معلوم کہ اگر وہ بڑے ہوتے ، زندہ رہتے تو کیسے عمل کرتے
Sahih Bukhari
22
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
Sahih Muslim
23
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
Sahih Muslim
24
Chapter: The upward gaze of the deceased follows his soul
میت کی آنکھوں کا اس کی روح کا تعاقب کرتے ہوئے اوپر اٹھ جانا
Sahih Muslim
25
Chapter: It is permissible for the Muhrim to stipulate a condition for exiting Ihram because of sickness and the like
احرام باندھنے والا احرام کا آغاز کرتے ہوئے بیماری یا کسی اور عذر کی وجہ سے احرام کھولنے کی شرط عائد کر سکتا ہے
Sahih Muslim
26
Chapter: It is recommended to pass water and milk etc., to the right of the one who drinks first
دودھ،پانی یاکوئی اورمشروب تقسیم کرتے ہوئے ابتداء کرنے والے کی دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: It Is Recommended For The One Who Supplicated Not To Be Impatient. And Not To Say: I Supplicated And Received No Response
دعا مانگنے والے کی دعا پوری ہوتی ہے اگر وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہے: میں نے دعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی
Sahih Muslim
28
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
29
CHAPTER: Regarding One Who Died In Batlle.
باب: جہاد کرتے ہوئے مر جانے والے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
غلام کو آزاد کرتے ہوئے خدمت کی شرط لگانا
Sunnan Ibn e Maja
31
نماز کا وقت ہوئے بغیر اذان دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: جہاد کرتے ہوئے خود اپنی ہی تلوار سے ہلاک ہو جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related [About] Whoever Leads People (In Salat) While They Dislike Him
باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gather The Hair During Salat
باب: جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Talking During Tawaf
باب: طواف کرتے وقت بات چیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Selling A Necklace Containing Gold And Jewels
باب: سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Selling Al-Muhaffalat (Animals That Have Not Been Milked)
باب: تھن میں دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Al-Marwah (Granite)
باب: پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Fallen Morsel
باب: گرے ہوئے لقمہ کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
Jam e Tirmazi
46
Chapter: About Reliance Upon Allah
باب: اللہ پر توکل (بھروسہ) کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About I Have Been Ordered To Fight The People Until They Say: La Ilaha Illallah
باب: جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Adulterer Does Not Commit Adultery While He Is A Believer
باب: زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا
Jam e Tirmazi
49
باب: (مردوں کے لیے) ریشم اور ریشم سے بنے ہوئے کپڑے مردوں کے پہنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Supplication At The Opening Of The Salat At Night
باب: نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
8696
۔ (۸۶۹۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} [الشعرائ: ۲۱۴] قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَافَاطِمَۃُ! یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ،یَا صَفِیَّۃُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ،یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ، لَااَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلُوْنِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ}… اور اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالی کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
Musnad Ahmad
6316
۔ (۶۳۱۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْہَا طَیِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ، أَرْجُوْ بِہَا بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَضَعْہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ أَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ، بَخٍ ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَأَنَا أَرٰی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَسَمَہَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ أَقَارِبِہِ وَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مال والے تھے اورانہیں بیرحاء والا مال سب سے زیادہ پسند تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں جاتے اور اس کا شیریں پانی پیتے رہتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہیں کرو گے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور بیرحاء کا مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، لہٰذا میں اسے رضائے الٰہی کے لئے صدقہ کر تا ہوں اورمجھے اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرۂ آخرت بننے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! جہاں آپ اللہ تعالی کی توفیق سے مناسب سمجھتے ہیں، اس کو خرچ کر دیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میں نے اس کے بارے میں سن لیا تھا، اب میرا خیالیہ ہے کہ تو اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ یہسن کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ایسے ہی کروں گا، پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچوں کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔
Musnad Ahmad
9024
۔ (۱۹۲۴)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ اَکْثَرَ اَنْصَارِیِّ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا، وَکَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِہِ اِلَیْہِ بَیرُحَائُ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْھَا طَیِّبٍ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِیْ اِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَرْجُوْ بِرَّھَا وذُخْرَھَا عِنْدَاللّٰہِ، فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ اَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ۔ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَاَنَا اَرٰی اَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَسَمَھَا اَبُوْطَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہٖوَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔