TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا - مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 16 · 4 Hadith
۔ (۱۱۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِشَیْئٍ یُعْطَاہُ مِنَ الدُّنْیَا فَـلَا یُمْسِیْ حَتَّی یَکُوْنَ الْاِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَیْہِ وَ أَعَزَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۷۳)
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس دنیوی چیز کے لیے آتا تھا اور وہ اسے دے دی جاتی تھی، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ دنیا و ما فیہا کی بہ نسبت اسے اسلام سب سے زیادہ محبوب اور پیارا بن چکا ہوتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۳۷۵۰، ۳۸۸۰(انظر: ۱۲۰۵۰)
110
Sahih
۔ (۱۱۱)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ یُسْئَلُ شَیْئًا عَلٰی الْاِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاہُ، قَالَ: فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ فَأَمَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَتَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ اِلٰی قَوْمِہِ فَقَالَ: یَاقَوْمِ! أَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا یُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۷۴)
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۱۲(انظر: ۱۲۰۵۱)
Explanation
فوائد: …یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کا امتیاز تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شخصیت پر خرچ کیا اور بڑی مقدار میں خرچ کیا، جبکہ مسجد نبوی اور صفہ سمیت عمارتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کفر سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے، دورِ حاضر کے مسلمان اس سنت ِ نبوی کو ترک کر چکے ہیں، بالخصوص مساجدو مدارس کے منتظمین اور فنڈز جمع کرنے والی دوسری تنظیمیں، ہر ایک کی فکر یہ ہے کہ اس کے ادارے اور مسجد کی عمارت شاندار ہونی چاہیے، اس قسم کی ٹائلیں لگنی چاہئیں، مرکزی دروازے پر کشش ہونے چاہئیں، علی ہذا القیاس۔ لیکن اس محلے کے غریب اور فقیر لوگوں کی کسی کو معرفت تک نہ ہو گی اور ائمہ و خطباء و مدرسین کی کفالت کے وقت بخل اور شکووں کا بھوت رقص کرنے لگے گا اور صبر و برداشت کی تلقین شروع ہو جائے گی، اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو خادمینِ اسلام سمجھتے ہیں، لیکن اِن کو خدمت ِ اسلام کا شعور تک نہیں ہے۔
111
Sahih
۔ (۱۱۲)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرُجُلٍ: ((أَسْلِمْ۔)) قَالَ: أَجِدُنِیْ کَارِہًا، قَالَ: ((أَسْلِمْ وَ إِنْ کُنْتَ کَارِہًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۸۴)
سیدنا انسؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے کہا: میں اپنے آپ کو اسلام کو ناپسند کرنے والا پاتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو مسلمان ہو جا، اگرچہ تو اس کو ناپسند کر رہا ہو۔
Takhreej
(۱۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابویعلی: ۳۷۶۵(انظر: ۱۲۰۶۱)
Explanation
فوائد: …اسلام اور اسلامی احکام پر عمل کرتے وقت ذاتی پسند یا ناپسند، ظاہری مفاد یا نقصان اور عزت یا ذلت کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سمجھ کر اس پر عمل شروع کر دینا چاہیے۔ اتباعِ سنت اور اسلامی احکام پر عمل کرنے سے دلی کراہت آہستہ آہستہ دور ہو جائے گی اور آدمی شرح صدر کے ساتھ اسلام کا پیرو کار بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
112
Sahih
۔ (۱۱۳)۔عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْلَمَ عَلٰی أَنَّہُ لَا یُصَلِّی إِلَّا صَلَاتَیْنِ فَقَبِلَ مِنْہُ ذَالِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۶۸)
نصر بن علی اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس شرط پر مسلمان ہوا کہ وہ صرف دو نمازیں ادا کرے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کی یہ شرط قبول کر لی۔
Takhreej
(۱۱۳) تخریج: رجالہ ثقات (انظر: ۲۳۰۷۹)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تبلیغ میں حکمت ودانائی، دور رسی،عاقبت اندیشی، مزاج شناسی، لوگوں کا بھلا، یہ تمام صفات بدرجۂ اتم نظر آتی ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دیکھا کہ ایک مشرف باسلام ہونا چاہتا ہے، لیکن پانچ نمازوں کے مسئلے پر اڑ گیا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی دانائی نے یہ فیصلہ کیا کہ فی الحال اس کی ضد کو مان لینا چاہیے، بعد میں جب اسلام کی حقیقت کا ادراک کر لے گا تو تمام ارکانِ اسلام کا قائل ہو جائے گا، اسی قسم کی دو مثالیں اور ان کی وضاحت درج ذیل ہیں: سیّدنا فضالہ لیثی ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے مجھے کچھ امور کی تعلیم دی، ان میں سے ایک امر یہ بھی تھا: ((حَافِظْ عَلٰی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ۔)) فَقُلْتُ: إِنَّ ھٰذِہِ سَاعَاتٌ لِی فِیْھَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہٗ أَجْزَأَعَنِّی، قَالَ: ((حَافِظْ عَلٰی الْعَصْرَیْنِ: صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَصَلَاۃٍ قَبْلَ غُرُوْبِھَا)) … پانچوں نمازوں کی محافظت کیا کر۔ میں نے کہا: ان گھڑیوں میں تو میں مصروف رہتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا جامع و قسم کا حکم دیں کہ میں اس پر عمل کرتا رہوں اور وہ مجھے کفایت کرتا رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو نمازوں یعنی طلوع آفتا ب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کی محافظت کرتا رہ۔ (ابوداود: ۴۵۳، صحیحہ: ۱۸۱۳) کسی آدمی کے دماغ میں یہ نکتہ سرایت نہ کر جائے کہ دو نمازوں پر اکتفا کرنا بھی درست ہے، علمائے حق کے نزدیک اس حدیث کے دو معانی مراد لینا ممکن ہیں: (۱) اس آدمی کو اس کی مصروفیت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی گئی تھی، نہ کہ ترکِ نماز کی اور (۲)وہ کوئی نو مسلم آدمی تھا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حکمت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ فی الحال اس کو رخصت دی جائے، جب ایمان میں رسوخ پیدا ہو جائے گا تو اس کے لیے پانچ نمازوں کی ادائیگی ممکن ہو جائے گی اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی مبلّغ کسی بے نمازی کو پانچ نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتا ہے، لیکن وہ اس بات پر مصرّ ہے کہ وہ صرف دو تین نمازیں پڑھے گا تو اس حدیث کی روشنی میں اسے کہا جا سکتا ہے کہ چلو تم دو تین ہی پڑھتے رہو۔ (واللہ اعلم بالصواب) درج ذیل روایت کو دیکھا جائے تو دوسرا معنی راجح اور درست معلوم ہوتا ہے: ابوزبیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاہِدُوْنَ اِذَا اَسْلَمُوْا۔)) … عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (مسند احمد: ۳/ ۳۴۱ ، صحیحہ: ۱۸۸۸) یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کسی بڑی مصلحت کی خاطر کسی کو عارضی طور پر اسلام کے بعض احکام سے مستثنی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ثقیف قبیلہ والے لوگوں کی شرطیں تسلیم نہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ کفر پر اڑے رہتے، جو کہ بہت بڑی مفسدت تھی، اس مفسدت سے تو وہ ناقص اسلام ہی بہتر ہے، جس میں جہاد اور صدقہ نہ ہوں، جبکہ رخصت دینے والے کو یہ امید بھی ہو کہ عنقریب یہ لوگ تمام اسلامی احکام کو تسلیم کر لیں گے۔ یہی معاملہ اس باب کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ پانچوں نمازیں نہ پڑھنے سے بہرحال دو ادا کر لینا بہتر ہے، ان دو کے ذریعے آہستہ آہستہ پانچ کا قائل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ قربان جائیے حکیم و دانا پیغمبر کی حکمت و دانائی پر۔
113
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.