TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10155 - توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان - توبہ کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 17 in this chapter
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
۔ (۱۰۱۵۵)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((فَاِذَا ھُوَ بِھَا تَجُرُّ خِطَامَھَا فَمَا ھُوَ بِاَشَدَّ بِھَا فَرَحًا مِنَ اللّٰہِ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ اِذَا تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۸)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ذرا مختلف ہیں: پس وہ سواری اس کے پاس کھڑی تھی اور اپنی لگام کھینچ رہی تھی، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ کی وجہ سے جو خوشی ہوتی ہے، یہ آدمی اس سے زیادہ خوش نہیں تھا۔
10155
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۱۵۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الدارمی: ۲۷۲۸، والطیالسی: ۷۹۴ (انظر: ۱۸۴۰۸)

Related Chapters

2,354
1
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
2
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
3
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
5
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
6
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
7
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
8
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
9
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
Musnad Ahmad
10
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
12
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
13
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
14
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان
Musnad Ahmad
15
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
امت کے لیے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
Musnad Ahmad
17
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
18
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
19
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
20
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
21
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
23
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
24
(1) CHAPTER. The prescription of Friday [Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer)].
جمعہ کی نماز فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ
Sahih Bukhari
25
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
26
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
Sahih Bukhari
27
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
Sahih Bukhari
28
(5) CHAPTER. Allah's Statement: “And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before his Mercy (rain)...” (V.25:48)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں یہ ارشاد کہ ” وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی رحمت ( بارش ) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘‘ ۔
Sahih Bukhari
29
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
30
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
31
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
32
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
Sahih Bukhari
33
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
34
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
Sahih Bukhari
35
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And invoke Allah for them...”.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ التوبہ میں فرمانا
Sahih Bukhari
36
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الجن میں کہ ” وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا “
Sahih Bukhari
37
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “The King of mankind.” (V.114:2)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور وہی غالب ہے ‘ حکمت والا “ ۔
Sahih Bukhari
38
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “... To one whom I have created with Both My Hands...” (V.38:75)
اللہ تعالیٰ نے ( شیطان سے ) فرمایا ” تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا “ ۔
Sahih Bukhari
39
(24) CHAPTER. The Statement of Allah: “Some faces that Day shall be Nadirah (shining and radiant). Looking at their Lord.” (V.75:22,23)
سورۃ قیامت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے ‘ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ‘ یا دیکھ رہے ہوں گے ۔
Sahih Bukhari
40
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
41
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
43
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: Exhortation To Repent And Rejoicing Therein
توبہ کی تلقین اور اس پر (اللہ عزوجل کی) خوشی
Sahih Muslim
45
Chapter: The Command To Think Positively Of Allah At The Time Of Death
موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنے کا حکم
Sahih Muslim
46
CHAPTER: The Fasting Person Pouring Water Upon Himself Due To Thirst, And Exaggerating In Sniffing Water Into The Nose.
باب: روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضو کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا
Sunnan Ibn e Maja
49
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
50
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

426
Musnad Ahmad
12034
۔ (۱۲۰۳۴)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا فِیْ الْمَسْجِدِ۔ وَکَانَ بَشِیْرٌ رَجُلاً یَکُفُّ حَدِیْثَہٗ۔ فَجَائَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ، فَقَالَ: یَابَشِیْرُ بْنُ سَعْدٍ! أَتَحْفَظُ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْأَمْرِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَہٗ فَجَلَسَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَاَ، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیًّا، فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ، ثُمَّ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۶)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔بشیر اپنی بات کو روک دیتے تھے۔ اتنے میں ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: بشیر بن سعد! کیا تجھے امراء کے بارے میں کوئی حدیثِ نبوی یاد ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (اس معاملے میں) مجھے آپ کا خطبہ یاد ہے۔ ابو ثعلبہ بیٹھ گئے اور حذیفہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصہ تک نبوت قائم رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصہ تک خلافت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے، پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصہ تک بادشاہت ہو گی، جس میں ظلم و زیادتی ہو گا، بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی، پھر جبری بادشاہت ہو گی، وہ کچھ عرصہ کے بعد زوال پذیر ہو جائے گی، اس کے بعد منہجِ نبوت پر پھر خلافت ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے۔
Jam e Tirmazi
80
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
Jabir narrated: Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ .
An-Nu'man bin Bashir said: I am the most knowledgeable among the people about the prescribed time of this prayer: Allah's Messenger would pray it when the moon set on the third (of the month).
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
166
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ أَصَحُّ عِنْدَنَا، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ رَوَى عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ.
An-Nu'man bin Bashir said: A similar narration (from another chain linking to) this chain is also reported.
اس طریق سے بھی ابو عوانہ سے اسی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی نے پہلے ابو عوانہ کا طریق ذکر کیا پھر ہشیم کے طریق کا اور فرمایا: ابو عوانہ والی حدیث ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
227
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ يَوْمًا فَرَأَى رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ عَنِ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُوَكِّلُ رِجَالًا بِإِقَامَةِ الصُّفُوفِ فَلَا يُكَبِّرُ حَتَّى يُخْبَرَ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ أَنَّهُمَا كَانَا يَتَعَاهَدَانِ ذَلِكَ وَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ اسْتَوُوا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ:‏‏‏‏ تَقَدَّمْ يَا فُلَانُ تَأَخَّرْ يَا فُلَانُ.
An-Nu'man bin Bashir said: Allah's Messenger would straighten our lines. One day he came out and saw a man whose chest was protruding from the people, so he said: 'You must straighten your lines, or Allah will cause disagreement to occur among your faces.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیدھی رکھو ۱؎ اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے، ۴- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کر دیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتا دیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہو چکی ہیں، ۵- علی اور عثمان رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے: «استووا» ”صف میں سیدھے ہو جاؤ“ اور علی رضی الله عنہ کہتے تھے: فلاں! آگے بڑھو، فلاں! پیچھے ہٹو۔
Jam e Tirmazi
286
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ اشْتَكَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ اللَّيْثِ.
Abu Hurairah narrated: [Some of] the Companions of the Prophet complained [to the Prophet] about the hardship of the prostration on them, when they were so spread out, so he said: 'Use your knees.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں ( تکلیف کی ) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے ( ان پر ٹیک لگا کر ) مدد لے لیا کرو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے ( یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے ) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سمى عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( اسی طرح ) روایت کی ہے، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
503
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ .
Anas bin Malik narrated: The Prophet would pray the Friday prayer when the sun was declining.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔
Jam e Tirmazi
519
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ. عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ:‏‏‏‏ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said: Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you. Ubaidullah said: So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them.'
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»،‏‏‏‏ عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
533
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمِسْعَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَيُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ، ‏‏‏‏‏‏يُرْوَى عَنْهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَا نَعْرِفُ لِحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ رِوَايَةً عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ هُوَ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ. وَرَوَى عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوُ رِوَايَةِ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِ قَافٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيّ.
An-Numan bin Bashir narrated: For the two Eid and the Friday prayer, the Prophet would recite: Glorify the Name of your Lord, the Most High, and Has there come to you the narration of the overwhelming? And sometimes they would occur on he same day, so he would recite the two of them.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوواقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۴- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» ‏‏‏‏ اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ۲؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ۳؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔