۔ (۸۹۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: اِغْتَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ جَنَابَۃٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَاٰی لُمْعَۃً عَلٰی مَنْکِبِہِ الْأَیْسَرِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ فَأَخَذَ مِنْ شَعْرِہِ فَبَلَّہَا ثُمَّ مَضٰی اِلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔
Takhreej
(۸۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، علی بن عاصم ضعیف، وابوعلی الرحبی الواسطی متروک۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۶۳ (انظر: ۲۱۸۰)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۹۵)کی شرح میں وضو میں موالاۃ کے حکم پر بحث کی گئی ہے، وہی حکم غسل جنابت کا ہے، جب تک جسم گیلا ہو تو صرف خشک رہ جانے والی جگہ کو دھویا جا سکتا ہے، اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے اور سارا جسم بھی خشک ہو جائے تو دوبارہ غسل کرنا پڑے گا۔
897
Zaeef