TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12657 - باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
۔ (۱۲۶۵۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الدَّجَّالُ فَیَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃَ، فَیَأْتِی الْمَدِینَۃَ فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِہَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، فَیَأْتِی سَبْخَۃَ الْجَرْفِ فَیَضْرِبُ رِوَاقَہُ، فَتَرْجُفُ الْمَدِینَۃُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَیَخْرُجُ إِلَیْہِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۱۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا اور وہ تمام روئے زمین کو روند دے گا، ما سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے،جب وہ مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتوں کی صفوں کو پائے گا اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، پھر وہ جرف کی شورزدہ زمین کی طرف جائے گا اوروہاں اپنے ڈیرے ڈالے گا، مدینہ منورہ تین دفعہ جھٹکے گا اور اس میں موجود ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔
12657
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۶۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۸۱، ومسلم: ۲۹۴۳ (انظر: ۱۲۹۸۶)

Related Chapters

513
1
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
2
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
3
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
4
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
Musnad Ahmad
5
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
7
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Musnad Ahmad
8
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
Musnad Ahmad
9
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
Musnad Ahmad
10
غزوۂ بنی نضیر اور بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
12
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
Musnad Ahmad
13
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
14
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
Musnad Ahmad
15
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
16
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
18
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
19
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
Musnad Ahmad
20
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
Musnad Ahmad
21
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
Musnad Ahmad
22
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
24
(6) CHAPTER. Iman (Belief) returns and goes back to Al-Madina.
اس بارے میں کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا
Sahih Bukhari
25
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
26
(32) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah has set forth an example for those who believe, the wife of Firaun (Pharaoh)... (up to)... and she was of the Qanitin (i.e., obedient to Allah).” (V.66:11,12)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اورایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
27
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
28
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
Sahih Bukhari
29
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
مدینہ منورہ کا صاع ( ایک پیمانہ ) اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ( ایک پیمانہ ) اور اس میں برکت ، اور بعدمیں بھی اہلمدینہ کو نسلاً بعد نسل جو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان
Sahih Bukhari
30
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
31
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
32
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
Sahih Muslim
34
Chapter: The prohibition of wishing ill towards the people of Al-Madinah, and that the one who wishes them ill will be caused to melt by Allah
اہل مدینہ سے برائی کرنے کا ارادہ بھی حرام ہے اور جس نے ان کے بارے میں ایسا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے پگھلا دے گا
Sahih Muslim
35
Chapter: The virtue of the dates of Al-Madinah
مدینہ منورہ کی کھجوروں کی فضیلت
Sahih Muslim
36
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
37
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Flee From The Plague
باب: طاعون سے بھاگنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About 'The Dajjal Will Not Enter Al-Madinah'
باب: مدینہ میں دجال داخل نہ ہو سکے گا
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Scholar Of Al-Madinah
باب: عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
49
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
50
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
11784
۔ (۱۱۷۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقْدَمَہُ الْمَدِینَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَائِلُکَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلْ۔)) قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ؟ وَمِنْ أَیْنَ یُشْبِہُ الْوَلَدُ أَبَاہُ وَأُمَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَخْبَرَنِی بِہِنَّ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام آنِفًا، قَالَ ذَلِکَ عَدُوُّ الْیَہُودِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَی الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ زِیَادَۃُ کَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَہُ الْوَلَدِ أَبَاہُ وَأُمَّہُ فَإِذَا سَبَقَ مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَۃِ نَزَعَ إِلَیْہِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الْمَرْأَۃِ مَائَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَیْہَا۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ، وَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْیَہُودَ قَوْمٌ بُہْتٌ وَإِنَّہُمْ إِنْ یَعْلَمُوْا بِإِسْلَامِی یَبْہَتُونِیْ عِنْدَکَ، فَأَرْسِلْ إِلَیْہِمْ فَاسْأَلْہُمْ عَنِّی أَیُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَیُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟)) قَالُوْا: خَیْرُنَا وَابْنُ خَیْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَہُنَا وَابْنُ أَفْقَہِنَا، قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ؟)) قَالُوْا: أَعَاذَہُ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ،: قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، قَالُوْا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاہِلُنَا وَابْنُ جَاہِلِنَا، فَقَالَ: ابْنُ سَلَامٍ ہٰذَا الَّذِی کُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ان باتوں کو صرف نبی جانتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پوچھو۔ انہوںنے کہا: علامات قیامت میں سب سے پہلی علامت کیا ہے، اہل جنت سب سے پہلے کون سی چیز کھائیں گے اور بچے کی اپنے ماں باپ سے مشابہت کیوں کر ہوتی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ان باتوں کے متعلق جبریل علیہ السلام ابھی ابھی مجھے بتلا کر گئے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ فرشتہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی اولین نشانی وہ آگ ہے، جو مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو جمع کرتی ہوئی مغرب کی طرف لائے گی،اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی اس کے باپ یا ماں کے ساتھ مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ ماں کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ یہ جوابات سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پکار اٹھے: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔)پھر سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ بہتان طراز قسم کے لوگ ہیں، اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پتہ چل گیا تو آپ کے پاس آکر وہ مجھ پر بہتان باندھیں گے، آپ ان کے ہاں پیغام بھیج کر ان سے میرے متعلق دریافت کرلیں کہ ان کے ہاں ابن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں ابن سلام کا کیا مقام ہے؟ انہوںنے جواب دیا: وہ ہم سے بہت اچھا ہے اور بہت اچھے آدمی کا بیٹا ہے، وہ ہمارا عالم ہے اور ہمارے ایک بڑے عالم کا بیٹا ہے، وہ ہم میں سے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والا اور سب سے زیادہ دین کو سمجھنے والے کا بیٹا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بتلائو اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم مسلمان ہو جائو گے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اسے اس کام سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر سیدنا ابن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سامنے آگئے اور پکار کر کہا: اَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے رسول ہیں۔)یہ سن کر یہودی اسی وقت کہنے لگے: یہ تو ہم میں سب سے برا ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے، یہ تو ہم میں سے جاہل اور جاہل آدمی کا بیٹا ہے، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اسی بات سے ڈرتا تھا۔
Musnad Ahmad
5401
۔ (۵۴۰۱)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ: یَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَکَرْتَنِی فِی نَفْسِکَ ذَکَرْتُکَ فِی نَفْسِی، وَإِنْ ذَکَرْتَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُکَ فِی مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ، أَوْ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْکَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْکَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَیْتَنِی تَمْشِی أَتَیْتُکَ أُہَرْوِلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: فَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔
Musnad Ahmad
5959
۔ (۵۹۵۹)۔ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا جَرِیْرٌیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ غَسِیْلِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دِرْھَمُ رِبًا یَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنْیَۃً)) (مسند احمد: ۲۲۳۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا: سود کاایک درہم کہ آدمی جاننے بوجھنے کے باوجود جس کو کھاتا ہے، وہ چھتیس دفعہ زنا کرنے سے بھی سخت ہے۔
Musnad Ahmad
9757
۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Musnad Ahmad
10270
۔ (۱۰۲۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ نَبِیَّ اللّٰہِ یَقُوْلُ : ((اِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا اَھْبَطَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی الْاَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَیْ رَبِّ! {اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ} قَالُوْا: رَبَّنَا نَحْنُ اَطْوَعُ لَکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِلْمَلَائِکَۃِ: ھَلُمُّوْا مَلَکَیْنِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، حَتَّییُھْبَطَ بِھِمَا اِلَی الْاَرْضِ، فَنَنْظُرُ کَیْفَیَعْمَلَانِ، قَالُوْا: رَبَّنَا ھَارُوْتُ وَمَارُوْتُ، فَاُھْبِطَا اِلَی الْاَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَھُمَا الزُّھَرَۃُ بِاِمْرَاَۃٍ مِنْ اَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَائَ تْھُمَا، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَکَلَّمَا بِھٰذِہِ الْکَلِمَۃِ مِنَ الْاِشْرَاکِ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نُشْرِکُ بِاللّٰہِ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ عَنْھُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِیٍّ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَقْتُلَا ھٰذَا الصَّبِیَّ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نَقْتُلُہُ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَشْرَبَا ھٰذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَکِرَا، فَوَقَعَا عَلَیْھَا، وَقَتَلَا الصَّبِیَّ، فَلَمَّا اَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْاَۃُ: وَاللّٰہِ! مَاتَرَکْتُمَا شَیْئًا مِمَّا اَبَیْتُمَا عَلَیَّ اِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِیْنَ سَکَرْتُمَا، فَخُیِّرَا بَیْنَ عَذَابِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۱۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدمی کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوںنے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔
Musnad Ahmad
12469
۔ (۱۲۴۶۹)۔ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: فُضِّلَتْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ لَہَا الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُہَا عَلٰی صُفُوفِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ ذَا: ((وَأُعْطِیتُ ہٰذِہِ الْآیَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہَا نَبِیٌّ قَبْلِی۔))قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: کُلُّہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہیں۔