TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12658 - باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
۔ (۱۲۶۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُوْشِکُ اَنْ یَرْجِعَ النَّاسُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَتّٰی تَصِیْرَ مَسَالِحُہُمْ بِسَلَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۵)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگ مدینہ کی طرف رجوع کریں گے، یہاں تک کہ ان کی سرحد سلاح نامی جگہ کے قریب ہی ہوگی۔
12658
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۲۶۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف (انظر: ۹۲۱۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… مراد یہ ہے کہ دشمن غلبہ پا لیں گے اور مسلمان واپس لوٹ آئیں گے۔

Related Chapters

513
1
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
2
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
3
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
4
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
Musnad Ahmad
5
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
7
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Musnad Ahmad
8
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
Musnad Ahmad
9
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
Musnad Ahmad
10
غزوۂ بنی نضیر اور بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
11
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
12
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
Musnad Ahmad
13
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
14
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
Musnad Ahmad
15
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
16
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
18
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
19
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
Musnad Ahmad
20
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
Musnad Ahmad
21
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
Musnad Ahmad
22
پل صراط ،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
24
(6) CHAPTER. Iman (Belief) returns and goes back to Al-Madina.
اس بارے میں کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا
Sahih Bukhari
25
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
26
(32) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah has set forth an example for those who believe, the wife of Firaun (Pharaoh)... (up to)... and she was of the Qanitin (i.e., obedient to Allah).” (V.66:11,12)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اورایمان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
27
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
Sahih Bukhari
28
(51) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And shun lying speech (false statements).” (V.22:30)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اے ایمان والو ! جھوٹی بات سے بچو “
Sahih Bukhari
29
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
مدینہ منورہ کا صاع ( ایک پیمانہ ) اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ( ایک پیمانہ ) اور اس میں برکت ، اور بعدمیں بھی اہلمدینہ کو نسلاً بعد نسل جو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان
Sahih Bukhari
30
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
31
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
32
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
Sahih Muslim
34
Chapter: The prohibition of wishing ill towards the people of Al-Madinah, and that the one who wishes them ill will be caused to melt by Allah
اہل مدینہ سے برائی کرنے کا ارادہ بھی حرام ہے اور جس نے ان کے بارے میں ایسا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے پگھلا دے گا
Sahih Muslim
35
Chapter: The virtue of the dates of Al-Madinah
مدینہ منورہ کی کھجوروں کی فضیلت
Sahih Muslim
36
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
37
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Flee From The Plague
باب: طاعون سے بھاگنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About 'The Dajjal Will Not Enter Al-Madinah'
باب: مدینہ میں دجال داخل نہ ہو سکے گا
Jam e Tirmazi
42
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: جنت میں رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Scholar Of Al-Madinah
باب: عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
49
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
50
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

197
Musnad Ahmad
8543
۔ (۸۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ۱۱۰] قَالَ: ھُمُ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۹۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}… تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
Musnad Ahmad
9271
۔ (۹۲۷۱)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَمْشِی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَرَّۃِ الْمَدِیْنَۃِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ اِلٰی اُحُدٍ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ!۔)) قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَا اُحِبُّ اَنَّ اُحُدًا ذَاکَ عِنْدِیْ ذَھَبًا اُمْسِی ثَالِثَۃً وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ اِلاَّ دِیْناَرٌ اُرْصِدُہُ لِدَیْنٍ اِلاَّ اَنْ اَقُوْلَ بِہٖفِی عِبَادِ اللّٰہِ ھٰکَذَا وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنَّ الْاَکْثَرِیْنَ ھُمُ الْاَقَلُّونُ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ اِلاَّ مَنْ قَالَ: ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا۔)) وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔ قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! کَمَا اَنْتَ حَتّٰی آتِیَکَ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتّٰی تَوَارٰی عَنِّی، قَالَ: فَسَمِعْتُ لَغَطاً وَصَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُرِضَ لَہُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَتْبَعَہُ ثُمَّ تَذَکَّرْتُ قَوْلَہُ ((لَا تَبْرَحْ حَتّٰی آتِیَکَ)) فَانْتَظَرْتُہُ حَتّٰی جَائَ فَذَکَرْتُ لَہُ الَّذِیْ سَمِعْتُ، فَقَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَانِی فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِکَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ قَالَ: ((وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ۔))(مسند احمد: ۲۱۶۷۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں کچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے ۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔
Musnad Ahmad
9809
۔ (۹۸۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَیْئٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّبَقُّرِ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ، فَقَالَ اَبُوْحَمْزۃَ وَکَانَ جَالِسًا عِنْدَہُ: نَعَمْ، حَدَّثَنِیْ اَخْرَمُ الطَّائِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَکَیْفَ بِاَھْلِ بَرَاذَانَ، وَاَھْلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَھْلٍ بِکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاَبِی التَّیَّاحِ، مَاالتَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْـکَـْثرَۃُ۔ (مسند احمد: ۴۱۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا: کثرت۔
Musnad Ahmad
10037
۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
10086
۔ (۱۰۰۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ فَرَاٰی قُبَّۃً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: ((لِمَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بَنَائٍ ھَدٌّ عَلٰی صَاحِبِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا مَاکَانَ فِیْ مَسْجِدٍ (اَوْ فِیْ بِنَائِ مَسْجِدِ،شَکَّ اَسْوَدُ) اَوْ اَوْ اَوْ۔)) ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ یَرَھَا فَقَالَ: ((مَافَعَلَتِ الْقُبَّۃُ؟)) قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَھَا مَا قُلْتَ فَھَدَمَھَا، قَالَ: فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نظر نہ آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔
Musnad Ahmad
10485
۔ (۱۰۴۸۵)۔ عَنْہ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا اَعْرَابِیٌّ فِیْ بَعْضِ نَوَاحِی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ غَنَمٍ لَہُ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْطَرِیْقِ الْأُوْلٰی وَفِیْہِ: أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِیِّ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْنَخْلَتَیْنِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ قَالَ: فَنَعَقَ الْأَعْرَابِیُّ بِغَنَمِہِ حَتّٰی اَلْجَأَھَا اِلٰی بَعْضِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ مَشٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہُ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ الْأَعْرَابِیُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ؟)) فَقَامَ الْأَعْرَابِیُّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَیْتَ …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۳)
۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، ……، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، ……۔
Musnad Ahmad
10490
۔ (۱۰۴۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعِیْنَ، وَکَانَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرًا، فَمَاتَ وَھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Musnad Ahmad
10810
۔ (۱۰۸۱۰)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْنَا أَنَا وَرَبَاحٌ غُلَامُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِظَہْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَرَجْتُ بِفَرَسٍ لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، کُنْتُ أُرِیدُ أَنْ أُبْدِیَہُ مَعَ الْإِبِلِ، فَلَمَّا کَانَ بِغَلَسٍ غَارَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَلٰی إِبِلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَتَلَ رَاعِیَہَا وَخَرَجَیَطْرُدُہَا ہُوَ وَأُنَاسٌ مَعَہُ فِی خَیْلٍ، فَقُلْتُ: یَا رَبَاحُ! اقْعُدْ عَلٰی ہٰذَا الْفَرَسِ فَأَلْحِقْہُ بِطَلْحَۃَ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَدْ أُغِیرَ عَلٰی سَرْحِہِ، قَالَ: وَقُمْتُ عَلٰی تَلٍّ فَجَعَلْتُ وَجْھِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَدِیْنَۃِ، ثُمَّ نَادَیْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: یَا صَبَاحَاہ! ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِیَ سَیْفِیْ وَنَبَلِیْ فَجَعَلْتُ اَرْمِیْھِمْ وَاَعْقرُ بِھِمْ وَذٰلک حِیْنَیَکْثُرُ الشَّجَرُ، فَاِذَا رَجَعَ اِلَیَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَہُ فِیْ اَصْلِ الشَّجَرَۃِ ثُمَّ رَمَیْتُ، فَلَا یَقْبَلُ عَلَیَّ فَارِسٌ إِلَّا عَقَرْتُ بِہِ فَجَعَلْتُ اَرْمِیْھِمْ رَاحِلَتِہِ وَاَقُوْلُ: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّع، فَاَلْحَقُ بِرَجْلٍ مِنْھُمْ فَاَرْمِیْہِ وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَیَقْعُ سَھْمِیْ فِی الرَّجُلِ حَتَّی انْتَظَمْتُ کَتِفَہُ فَقُلْتُ: خُذْھَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّعِ فَاِذَا کُنْتُ فِی الشَّجَرِ اَحْرَقْتُھُمْ بِالنَّبَلِ فَاِذَا تَضَایَقَتِ الثَّنَایَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَّیْتُھُمْ بِالْحِجَارَۃِ، فَمَا ذَاکَ شَاْنِیْ وَشَاْنُہُمْ اَتْبَعُہُمْ فَاَرْتَجِزُ حَتّٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً مِنْ ظَہْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا خَلَفْتُہُ وَرَائَ ظَہْرِیْ فَاسْتَنْقَذْتُہُ مِنْ اَیْدِیْہِمْ، ثُمَّ لَمْ اَزَلْ اَرْمِیْہِمْ حَتّٰی اَلْقَوْا اَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِیْنَ رُمْحاً، وَاَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِیْنَ بُرْدَۃًیَسْتَخِفُّوْنَ مِنْہَا، وَلَا یُلْقَوْنَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَیْہِ حِجَارَۃً وَجَمَعْتُ عَلٰی طَرِیْقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا امْتَدَّ الضُّحٰی اَتَاھُمْ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِیُّ مَدَدًا لَھُمْ، وَھُمْ فِیْ ثَنِیَّۃٍ ضَیْقَۃٍ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَاَنَا فَوْقَہُمْ فَقَالَ عُیَیْنَۃُ: مَا ھٰذَا الَّذِیْ أرٰی قَالُوا: لَقِینَا مِنْ ہٰذَا الْبَرْحَ مَا فَارَقَنَا بِسَحَرٍ حَتّٰی الْآنَ وَأَخَذَ کُلَّ شَیْء ٍ فِی أَیْدِینَا وَجَعَلَہُ وَرَاء َ ظَہْرِہِ، قَالَ عُیَیْنَۃُ: لَوْلَا أَنَّ ہٰذَا یَرَی أَنَّ وَرَائَ ہُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَکَکُمْ لِیَقُمْ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْکُمْ، فَقَامَ إِلَیْہِ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃٌ فَصَعِدُوْا فِی الْجَبَلِ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُہُمْ الصَّوْتَ قُلْتُ: أَتَعْرِفُونِی؟ قَالُوا: وَمَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ، وَالَّذِی کَرَّمَ وَجْہَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ! لَا یَطْلُبُنِی مِنْکُمْ رَجُلٌ فَیُدْرِکُنِی وَلَا أَطْلُبُہُ فَیَفُوتُنِی، قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ: إِنْ أَظُنُّ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِی ذٰلِکَ حَتّٰی نَظَرْتُ إِلٰی فَوَارِسِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُہُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِیُّ، وَعَلٰی أَثَرِہِ أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلٰی أَثَرِ أَبِی قَتَادَۃَ الْمِقْدَادُ الْکِنْدِیُّ فَوَلَّی الْمُشْرِکُونَ مُدْبِرِینَ، وَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ فَأَعْرِضُ لِلْأَخْرَمِ فَآخُذُ بِعِنَانِ فَرَسِہِ، فَقُلْتُ: یَا أَخْرَمُ! ائْذَنِ الْقَوْمَ یَعْنِی احْذَرْہُمْ، فَإِنِّی لَا آمَنُ أَنْ یَقْطَعُوکَ فَاتَّئِدْ حَتّٰییَلْحَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ، قَالَ: یَا سَلَمَۃُ! إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، فَلَا تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ الشَّہَادَۃِ، قَالَ: فَخَلَّیْتُ عِنَانَ فَرَسِہِ فَیَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُیَیْنَۃَ، وَیَعْطِفُ عَلَیْہِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَیْنِ فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ، وَطَعَنَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ فَقَتَلَہُ، فَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ عَنْ فَرَسِ الْأَخْرَمِ، فَیَلْحَقُ أَبُو قَتَادَۃَ بِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ، فَاخْتَلَفَا طَعْنَتَیْنِ فَعَقَرَ بِأَبِی قَتَادَۃَ وَقَتَلَہُ أَبُو قَتَادَۃَ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلٰی فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ثُمَّ إِنِّی خَرَجْتُ أَعْدُو فِی أَثَرِ الْقَوْمِ حَتّٰی مَا أَرٰی مِنْ غُبَارِ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، وَیُعْرِضُونَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّمْسِ إِلٰی شِعْبٍ فِیہِ مَائٌ یُقَالُ لَہُ: ذُو قَرَدٍ،فَأَرَادُوا أَنْ یَشْرَبُوا مِنْہُ، فَأَبْصَرُونِی أَعْدُو وَرَائَ ہُمْ، فَعَطَفُوا عَنْہُ وَاشْتَدُّوا فِی الثَّنِیَّۃِ ثَنِیَّۃِ ذِی بِئْرٍ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَلْحَقُ رَجُلًا فَأَرْمِیہِ: فَقُلْتُ: خُذْہَا، وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ، وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّعِ، قَالَ: فَقَالَ: یَا ثُکْلَ أُمِّ أَکْوَعَ بَکْرَۃً، قُلْتُ: نَعَمْ، أَیْ عَدُوَّ نَفْسِہِ! وَکَانَ الَّذِی رَمَیْتُہُ بَکْرَۃً فَأَتْبَعْتُہُ سَہْمًا آخَرَ، فَعَلِقَ بِہِ سَہْمَانِ، وَیَخْلُفُونَ فَرَسَیْنِ، فَجِئْتُ بِہِمَا أَسُوقُہُمَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِی جَلَّیْتُہُمْ عَنْہُ ذُوْ قَرَدٍ، فَإِذَا بِنَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی خَمْسِ مِائَۃٍ، وَإِذَا بِلَالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ فَہُوَ یَشْوِی لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَبِدِہَا وَسَنَامِہَا، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! خَلِّنِی فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِکَ مِائَۃً فَآخُذَ عَلَی الْکُفَّارِ عَشْوَۃً فَلَا یَبْقٰی مِنْہُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُہُ، قَالَ: ((أَکُنْتَ فَاعِلًا ذٰلِکَ یَا سَلَمَۃُ۔)) قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِی أَکْرَمَکَ! فَضَحِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ فِی ضَوئِ النَّارِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُمْ یُقْرَوْنَ الْآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ، فَقَالَ: مَرُّوا عَلَی فُلَانٍ الْغَطَفَانِیِّ فَنَحَرَ لَہُمْ جَزُورًا، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذُوا یَکْشِطُونَ جِلْدَہَا رَأَوْا غَبَرَۃً فَتَرَکُوہَا وَخَرَجُوا ہَرَبًا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((خَیْرُ فُرْسَانِنَا الْیَوْمَ أَبُو قَتَادَۃَ، وَخَیْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَۃُ۔)) فَأَعْطَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِیعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِی وَرَائَ ہُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِینَ إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَلَمَّا کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا قَرِیبًا مِنْ ضَحْوَۃٍ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ لَا یُسْبَقُ، جَعَلَ یُنَادِی: ہَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا رَجُلٌ یُسَابِقُ إِلَی الْمَدِینَۃِ؟ فَأَعَادَ ذٰلِکَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَائَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُرْدِفِی قُلْتُ لَہُ: أَمَا تُکْرِمُ کَرِیمًا، وَلَا تَہَابُ شَرِیفًا؟)) قَالَ: لَا إِلَّا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، خَلِّنِی فَلَأُسَابِقُ الرَّجُلَ، قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ۔)) قُلْتُ أَذْہَبُ إِلَیْکَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِہِ وَثَنَیْتُ رِجْلَیَّ فَطَفَرْتُ عَنِ النَّاقَۃِ، ثُمَّ إِنِّی رَبَطْتُ عَلَیْہَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِیَعْنِی اسْتَبْقَیْتُ نَفْسِی،ثُمَّ إِنِّی عَدَوْتُ حَتّٰی أَلْحَقَہُ فَأَصُکَّ بَیْنَ کَتِفَیْہِ بِیَدَیَّ، قُلْتُ: سَبَقْتُکَ وَاللّٰہِ! أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، قَالَ: فَضَحِکَ، وَقَالَ: إِنْ أَظُنُّ حَتّٰی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۵۴)
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سلمہ بن اکوع سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے زمانہ میں ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ آئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غلام رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹ کو لے کر روانہ ہوئے۔ میں طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھوڑے پر سوار اسے اونٹ کے ساتھ دوڑانا چاہتا تھا۔ صبح منہ اندھیرے عبدالرحمن بن عیینہ فزاری نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹوں پر دھاوا بول دیا۔ ان کے چرواہے کو قتل کر دیا۔ وہ اور اس کے ساتھی جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ اونٹوں کو بھگالے گئے۔ میں نے کہا اے رباح! تم اس گھوڑے پر سوار ہو کر جاؤ اور اسے طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچا دو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا کر اطلاع دو کہ ان کے جانوروں کو لوٹ لیا گیا ہے۔ اور میں نے خود ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر مدینہ کی طرف رخ کر کے تین مرتبہ یا صباحاہ کی ندا دی۔ اور تیر تلوار لے کر میں نے ان لوگوں کا پیچھا شروع کر دیا۔ تو میں تیر چلا چلا کر جہاں درخت زیادہ ہوتے ان کو زخمی کرتا اور جب کوئی گھڑ سوار میری طرف رخ کرتا تو میں کسی درخت کے پیچھے بیٹھ جاتا اور پھر تیر چلانا شروع کر دیتا کوئی بھی گھڑ سوار میری طرف رخ کرتا تو میں اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیتا، میں ان پر تیر برساتا اور یہ رجز پڑھتا تھا۔ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّع (اور میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کمینوں (کی ہلاکت) کا دن ہے) میں ان میں سے کسی سے ملتا اس پر تیر چلاتا میرا تیر اسے جا لگتا اور میں تیر کو اس کے کندھے میں پیوست کر دیتا اور میں کہتا۔ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّع (اور میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کمینوں (کی ہلاکت) کا دن ہے)میں جب درختوں کے کسی جھنڈ میں ہوتا تو ان پر تیر وں کی بوچھاڑ کر دیتا۔ اور جب تنگ راستے آتے تو میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر لڑھکانے لگتا۔ ان کی اور میرییہی حالت رہی۔ میں ان کے پیچھے لگا رہا۔ اور رجز پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جتنے اونٹ پیدا کئے تھے میں ان کو دشمنوں سے چھڑوا کر ان کو پیچھے چھوڑتا گیا۔ اور میں ان پر تیر برساتا رہا یہاں تک کہ وہ اپنا وزن ہلکا کرنے کے لیے تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زائد چادریں بھی پھینک گئے۔ وہ جو چیز بھی اس طرح پھینکتے جاتے میں ان پر بطور علامت پتھر رکھ جاتا اور ان اشیاء کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راستے پر جمع کر تا گیا۔ جب دن اچھی طرح چڑھ آیا تو عیینہ بن بدر فزاری ان کی مدد کو آگیا۔ اس وقت وہ ایک تنگ راستے پر جا رہے تھے۔ میں پہاڑ کے اوپر چڑھ گیا۔ تو عیینہ نے ان سے کہا میں تمہارا کیسا براحال دیکھ رہا ہوں۔ وہ بولے یہ ساری مصیبت اس کی طرف سے آئی ہے۔ یہ صبح سے اب تک ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ اس نے ہمارا سارا سامان ہم سے لے کر اسے پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ عیینہ نے کہا اسے یقینا معلوم ہے کہ پیچھے سے اس کے ساتھی آرہے ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ تمہیں چھوڑ جاتا۔ تم میں سے کچھ لوگ اس کی طرف جائیں تو سہی۔ تو ان میں سے چار آدمی اس کی طرف جانے کے لیے اُٹھے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔ میں نے بلند آواز سے ان کو کہا کیا تم لوگ مجھے پہنچانتے ہو؟ وہ بولے بتاؤ تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بے انتہا عزت سے نوازا ہے تم میں سے کوئی بھی مجھے نہیں پکڑ سکتا۔ اور میں تم میں سے جسے پکڑنا چاہوں وہ میرے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک نے کہا بات تو ایسی ہی ہے سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں بڑے آرام سے اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ یہاں تک کہ میں نے درختوں کے بیچ میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھڑ سواروں کو آتے دیکھ لیا۔ اخرم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے آگے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس سے پیچھے تھے۔ اور ان سے پیچھے مقداد کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مشرکین تو دُم دبا کر بھاگ اُٹھے اور میں پہاڑ سے نیچے اتر کر اخرم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے آیا اور ان کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر میں نے کہا اخرم! ان لوگوں سے ذرا محتاط رہنا مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ کو اچک نہ لیں۔ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے اصحاب کے آنے تک ذرا رک جاؤ۔ تو اخرم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اے سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور یقین رکھتے ہو کہ جنت اور دوزخ حق ہیں تو تم میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔ سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں ان کی بات سن کر میں نے ان کے گھوڑے کی باگ کو چھوڑ دیا۔ ان کا ٹکراؤ عبدالرحمن بن عیینہ سے ہو گیا۔ وہ ان پر الٹ الٹ کر حملے کرنے لگا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر نیزے کے دو دو وار کئے اخرم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبدالرحمن کے گھوڑے کی ٹانگوں کو زخمی کر دیا۔ اور عبدالرحمن نے ان کو نیزے کا وار کر کے شہید کر دیا۔ اس کے بعد عبدالرحمن اخرم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پھر ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ انہوں نے بھی ایک دوسرے پر نیزے چلائے۔ ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گھوڑا تو زخمی ہو گیا تاہم انہوں نے عبدالرحمن کو قتل کر دیا۔ اور ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اخرم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ میں پھر دشمن کے پیچھے دوڑنے لگا۔ اور اس قدر آگے نکل گیا کہ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کا غبار بھی دکھائی نہ دے رہا تھا اور دشمن غروب آفتاب سے ذرا پہلے قرد نامی ایک گھاٹی پر پہنچے جہاں کچھ پانی موجود تھا۔ انہوں نے وہاں سے پانی پینے کا ارادہ کیا۔ اسی دوران انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کے پیچھے پیچھے دوڑتا آرہا ہوں وہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور تیزتیز دوڑتے پہاڑی تنگ راستے پر چل دئیے۔ اس پہاڑی راستے کا نام ثینیہ ذی بئر ہے۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔ میر ا ایک مشرک سے ٹکراؤ ہوا میں نے اس پر تیر چلاتے ہوئے کہا: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَّع (اور میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کمینوں (کی ہلاکت) کا دن ہے)وہ بولا اکوع کی ماں اسے گم پائے۔ ( یعنی وہ مر جائے) صبح سے تو ہی ہمارا پیچھا کر رہا ہے؟ میں نے کہا اللہ کے دشمن ! ہاں میں ہی تم پر صبح سے تیر بر سا رہا ہوں۔ اور ساتھ ہی میں نے اس پر دوسرا تیر چھوڑا۔ دونوں تیر اس پر پیوست ہو گئے اور وہ لوگ مزید دو گھوڑے پیچھے چھوڑ گئے۔ میں ان دونوں گھوڑوں کو لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چل دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پانی کے اس ذی قرد چشمے پر تھے جہاں سے میں نے دشمنوں کو دوڑایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے پانچ سو جان نثاروں سمیت وہاں تشریف فرما تھے۔ اور میں جو اونٹ پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان میں سے ایک اونٹ کو ذبح کیا ہو اتھا اور وہ اس کا جگر اور کوہان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بھون رہے تھے۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اجازت ہو تو میں آپ کے ان ساتھیوں سے ایک سوآدمیوں کو لیجاؤں اور جا کر اندھیرے اندھیرے میں کفار پر حملہ کر دوں اور ان سب کو قتل کر دوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا تو یہ کام کرنے کے لیے تیار ہے؟ انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عزت واکرام سے نوازا ہے۔ میں اس کام کے لیے تیار ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آگ کی روشنی میں میں نے آپ کی داڑھ مبارک نمایاں دیکھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت غطفان کے علاقے میں ان کی ضیافت ہو رہی ہے۔ بعد میں بنو غطفان سے ایک آدمی آیا اس نے بتلایا کہ وہ لوگ فلاں غطفانی کے پاس سے گزرے اس نے ان کے لیے ایک اونٹ ذبح کیا۔ جب وہ اس کا چمڑا اتار رہے تھے تو انہوں نے دور غبار اڑتے دیکھا تو وہ اونٹ کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا آج ہمارے گھڑ سواروں میں سب سے افضل ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور پیدل لوگوں میں سب سے افضل سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پیدل اور گھڑ سوار دونوں قسم کے لوگوں سے حصہ دیا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف واپس ہوئے تو آپ نے اپنی عضباء اونٹنی پر مجھے بھی اپنے پیچھے سوار کر لیا جب ہمارے مدینہ منورہ پہنچنے میں چاشت کے بقدر وقت باقی رہ گیا تو لوگوں میں ایک انصاری شخص تھا جو بہت تیز رفتار تھا۔ کوئی شخص اس کامقابلہ کر کے اس سے آگے نہ نکل سکتا تھا۔ وہ آوازیں دینے لگا کوئی میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرنے والا ہے کوئی ہے جو مدینہ منورہ تک میرے ساتھ دوڑ لگائے۔ اس نے یہ بات کئیمرتبہ دہرائی۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے اس سے کہا کیا تم کسی معزز کی عزت نہیں کر سکتے اور نہ کسی صاحبِ شرف سے ڈرتے ہو؟ وہ بولا میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوا سب کو اس مقابلے کی دعوت دے رہا ہوں تو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئے میں اس کے ساتھ دوڑ لگاؤں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تمہاری مرضی، میں نے عرض کیا میں اس کے مقابلے میں جاتا ہوں۔ وہ آدمی اپنی سواری سے کود کر نیچے آگیا۔ اور میں نے بھی اپنی ٹانگوں کو حرکت دی اور اونٹنی سے چھلانگ لگا دی۔ پھر میں ایک دو منزل تک جان بوجھ کر آہستہ دوڑاتاکہ اپنا سانس بچا لوں اور سانس نہ چڑھ جائے۔ اس کے بعد میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور پیچھے سے اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ مار کر کہا اللہ کی قسم میں تجھ سے آگے نکل گیا۔ میں نے یہی لفظ کہے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔ یہ سن کر وہ ہنس پڑا اور بولا میرا بھییہی خیال ہے یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
Musnad Ahmad
11466
۔ (۱۱۴۶۶)۔ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ: أَنَّ النَّبِیَّ حَجَّ بِنِسَائِہٖ،فَلَمَّاکَانَفِی بَعْضِ الطَّرِیْقِ، نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِھِنَّ فَأَسْرَعَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَاکَ سَوْقُکَ بِالْقَوَارِیْرِ۔)) فَبَیْنَمَا ھُمْ یَسِیْرُوْنَ بَرَکَ بَصَفِیَۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ جَمَلُھَا، وَکَانَتْ مِنْ أَحْسَنِھِنَّ ظَھْراً فَبَکَتْ۔ وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أُخْبِرَ بِذٰلِکَ فَجَعَلَ یَمْسَحُ دُمُوْ عَھَا بِیَدِہٖ، وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُکَائً وَھُوَ یَنْھَاھَا، فَلَمَّا أَکْثَرَتْ زَبَرَھَا وَانْتَھَرَھَا، وَأَمَرَالنَّاسَ بِالنُّزُوْلِ فَنَزَلُوْا، وَلَمْ یَکُنْیُرِیْدُ أَن یَّنْزِلَ، قَالَتْ: فَنَزَلُوْا، وَکَانَ یَوْمِی، فَلَمَّا نَزَلُوْا ضُرِبَ خِبَائُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلَ فِیْہِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَدْرِ عَلَامَ أَھْجُمُ مِن رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَشِیْتُ أَن یَّکُوْنَ فِی نَفْسِہٖشَیْئٌ مِنِّی۔ قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ إِلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ لَھَا: تَعْلَمِیْنَ أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَبِیْعُیَوْمِی مِن رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَیْئٍ أَبَداً وَإِنِّی قَدْ وَھَبْتُ یَوْمِی لَکِ عَلٰی أَنْ تُرْضِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِّی! قَالَتْ: نَعَمْ قَالَتْ: فَأَخَذَتْ عَائِشَۃُ خِمَاراً لَّھَا قَدْ ثَرَّدَتْہُ بِزَعْفَرَانَ، فَرَشَّتْہُ بِالْمَائِ لِیُذَکّٰی رِیْحُہُ، ثُمَّ لَبِسَتْ ثِیَابَھَا، ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَرَفَعَتْ طَرْفَ الْخِبَائِ، فَقَالَ لَھَا: ((مَالَکِ یَاعَائِشَۃُ؟! إِنَّ ھٰذَا لَیْسَ بِیَوْمِکِ۔)) قَالَتْ: ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَن یَّشَائُ فَقَالَ مَعَ أَْھِلِہٖفَلَمَّاکَانَعِنْدَالرَّوَاحِ،قَالَلِزَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ: ((یَازَیْنَبُ! أَفْقِرِیْ أُخْتَکِ صَفِیَّۃَ جَمَلاً۔)) وَکَانَتْ مِنْ اَکْثَرِ ھِنَّ ظَھْراً، فَقَالَتْ: أَنَاأُفْقِرُیَھُوْدِیَّتَکَ! فَغَضَبِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْھَا، فَھَجَرَھَا فَلَمْ یُکَلِّمْھَا حَتّٰی قَدِمَ مَکَّۃَ وَأَیَّامَ مِنٰی فِی سَفَرِہٖ،حَتّٰی رَجَعَ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ، وَالْمُحَرَّمُ وَصَفَرٌ، فَلَمْ یَأْتِھَا وَلَمْ یَقْسِمْ لَھَا، وَیَئِسَتْ مِنْہُ فَلَمَّاکَانَ شَھْرُ رَبِیْعِ الأَوَّلِ، دَخَلَ عَلَیْھَا، فَرَأَتْ ظِلَّّہُ، فَقَالَتْ: إِنَّ ھٰذَا لَظِلُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَایَدْخُلُ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنْ ھٰذَا؟ فَدَخَلَ النَّبِیَُ فَلَمَّا رَأَتْہُ قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَأاَدْرِی مَاأَصْنَعُ حِیْنَ دَخَلْتَ عَلَیَّ؟ قَالَتْ: وَکَانَتْ لَھَا جَارِیَۃٌ وَکَانَتْ تُخْبِئُھَا مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: فُلَانَۃٌ لَکَ، فَمَشٰی النَبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سَرِیْرِ زَیْنَبَ وَکَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَہُ بِیَدِہٖ، ثُمَّ اَصَابَ أَھْلَہُ، وَرَضِیَ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: )
سیدہ صفیہ بنت ِ حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ حج کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہیں راستہ میں تھے کہ ایک آدمی اترا، اور عورتوں کی سواریوں کو تیز تیز چلانے لگا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح شیشوں (عورتوں) کو لے کر چلتے ہیں؟ سو وہ چل رہے تھے کہ صفیہ بنت حیی کا اونٹ بیٹھ گیا،حالانکہ ان کی سواری سب سے اچھی تھی،وہ رونے لگ گئیں۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے ان کے آنسوپونچھنے لگ گئے، وہ اور زیادہ رونے لگیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو منع کرتے رہے۔جب وہ بہت زیادہ رونے لگ گئیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور لوگوں کو اترنے کا حکم دے دیا، سو وہ اتر گئے،اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اترنے کا ارادہ نہیں تھا۔وہ کہتی ہیں:صحابہ کرام اتر پڑے اور اس دن میری باری تھی۔ جب صحابہ اترے تو نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خیمہ نصب کیا گیا، آپ اس میں داخل ہوگئے۔ وہ کہتی ہیں:یہ بات میری سمجھ میں نہ آ سکی کہ میں کیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گھس جاؤں اور مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ (ممکن ہے کہ) آپ کے دل میں میری بارے میں کوئی ناراضی ہو۔ وہ کہتی ہیں: میں عائشہ کے پاس گئی اور ان سے کہا: تم جانتی ہو کہ میں کسی چیز کے عوض اپنے دن کا سودا نہیں کروں گی، لیکن میں تجھے اپنی باری کا دن اس شرط پر ہبہ کرتی ہوں کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ سے راضی کروا دو۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ اب وہ کہتی ہیں: عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے زعفران میں رنگی ہوئی چادر لی اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو تروتازہ ہوجائے، پھر اپنے کپڑے زیبِ تن کئے، پھر رسول اللہ کی طرف چلی گئیں اور (جا کر) خیمہ کا ایک کنارہ اٹھایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے عائشہ! تجھے کیا ہوا؟ یہ دن تیرا تو نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے۔ آپ نے اپنی اہلیہ کے پاس دوپہر کو آرام کیا۔ جب شام ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زینب بنت جحش سے فرمایا: اے زینب! اپنی بہن صفیہ کو ایک اونٹ مستعار دے دو۔ کیونکہ ان کے پاس سواریاں زیادہ تھیں۔ زینب نے کہا: کیا میں آپ کییہودیہ کو مستعار دے دوں؟یہ بات سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے ناراض ہو گئے اور اس سے بولنا ترک کر دیا اور اس سے کوئی بات نہ کی، حتی کہ مکہ پہنچ گئے، پھر منی والے دن (بیت گئے) یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ واپس آ گئے اور محرم اور صفر کے (دو ماہ) بھی گزر گئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہ زینب کے پاس گئے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی باری مقرر کی۔ وہ بھی آپ سے نااُمید ہوگئی۔ جب ربیع الاوّل کا مہینہ تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس گئے۔ زینب نے آپ کا سایہ دیکھا اور کہا: یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سایہ ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو میرے پاس آتے ہی نہیں، سو یہ (سائے والا) کون ہو سکتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس داخل ہوئے، جب زینب نے آپ کو دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! آپ کے آنے سے (مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے) کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں ۔ وہ کہتی ہیں: ان کی ایک لونڈی تھی، جس کو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چھپا کر رکھتی تھیں۔پھر اُس نے کہا: فلاں لونڈی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زینب کی چارپائی کی طرف گئے، اُسے اٹھا لیا گیا تھا، آپ نے اُس کو اپنے ہاتھ سے بچھایا، پھر اپنی اہلیہ سے مباشرت کی اور اُن سے راضی ہوئے۔