فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
Chapter 38 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیدنا جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میںکوئی مشرک داخل نہ ہو گا، البتہ اہل کتاب اور ان کے خدام آسکیں گے۔
Takhreej
(۱۲۶۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من جابر، وشریک النخعی واشعث بن سوار ضعیفان، اخرجہ عبد الرزاق: ۹۹۸۲ (انظر: ۱۴۶۴۹)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خدرہ اور بنو عمر بن عوف کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا کہ قرآن کریم میں جس مسجد کے متعلق آیا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس سے کون سی مسجد مراد ہے؟ بنو حذرہ کے شخص نے کہا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور بنو عمر بن عوف کے آدمی نے کہا: اس سے مراد مسجد ِ قباء ہے۔ وہ دونوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تو میری یہی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے، ہاں مسجد قباء میں بھی بہت زیادہ خیر و بھلائی ہے۔
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری یہی مسجد ہے۔
Takhreej
(۱۲۶۸۲) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۷۰، وابن حبان: ۱۶۰۴، والطبرانی فی الکبیر :۶۰۲۵ (انظر: ۲۲۸۰۵)
Explanation
فوائد:… ویسے تو مسجد ِ نبوی اور مسجد قباء دونوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس اختلاف سے مراد یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں کس مسجد کا ذکر ہے: {لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ۔} … یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو ۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۰۸) ان احادیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی، اس سے مراد مسجد ِ نبوی ہے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آیت میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجد قباء ہے اور آیت کا ظاہری معنی اور سیاق و سباق کا تقاضا بھی یہی ہے۔
حق یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس آیت کے آخری الفاظ فِیْہِ رِجَالٌ … اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں مسجد ِ قباء کا ذکر ہے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فِیْہِ رِجَالٌ … اہل قباء کے حق میں نازل ہوئی۔
تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب میں راز یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وہم کو دور کرنا چاہتے ہیں کہ صرف مسجد ِ قباء ایسی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری و تحفۃ الاحوذی)