فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Chapter 51 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیہات میںرہنے کی اجازت طلب کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے اور سیدنا بریدہ بن حصیب کو ملے، انھوں نے کہا: اے سلمہ! کیا تم نے اپنی ہجرت کو چھوڑ دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر آیا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہو، ہواؤں کی بو سوسنگھ کر لطف اٹھاؤ اور گھاٹیوں میں رہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ڈرتے ہیں کہ اس سے ہماری ہجرت کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
۔ عمر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کون کون سے افراد اب تمہارے ساتھ باقی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما ، اس آدمی نے کہا: سلمہ تو اپنی ہجرت سے واپس پلٹ گیا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے بنو اسلم! تم دیہات میں رہ سکتے ہو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی ہجرت کو چھوڑ بیٹھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم جہاں بھی ہو، مہاجر ہی رہو گے۔
۔ فرزدق بن حنان قاص کہتے ہیں: کیا تم کو ایسی حدیث بیان کروں، جس کو میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے اور میں ابھی تک اس کو نہیں بھولا، میں اور عبد اللہ بن حِیدہ شام کے راستے پر نکلے اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، … … باقی حدیث ذکر کی، پھر کہا تمہاری قوم کا ایک سخت اور جری بدو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہجرت آپ کی طرف ہو گی، آپ جہاں کہیں بھی ہوں، یا کسی خاص زمین کی طرف ہو گی،یا کسی خاص قوم کی طرف ہو گی اور جب آپ وفات پا جائیں گے تو کیا ہجرت منقطع ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو تو مہاجر ہی ہو گا، اگرچہ تو حضرمہ میں فوت ہو جائے۔ یہ مقامیمانیہ کے علاقے میں ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ شیخ العلاء بن رافع، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۷۷، والبزار: ۱۷۵۰، ۳۵۲۱ (انظر: ۶۸۹۰)
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام علاقے اللہ تعالیٰ کے علاقے ہیں اور تمام بندے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لہٰذا جہاں بھی تجھے خیر ملے، تو وہیں اقامت اختیار کر۔
فوائد:… جب انسان کی روزی کا کوئی نہ کوئی سلسلہ چل رہا ہو اور وہ اپنے دین اور جان کے معاملے میں امن میں ہوتو ٹھیک، وگرنہ وہ کسی ایسے شہر کی طرف ہجرت کر جائے، جہاں اس کی جان اور دین محفوظ ہو جائے۔
۔ قلوص کہتے ہیں: سیدنا شہاب بن مدلج نے ایک دیہات میں اقامت اختیار کی، جب اس کے بیٹے نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا تو اس آدمی نے آگے سے کہا: اے اس باپ کے بیٹے، جس نے ہجرت ِ مدینہ کو باطل کر کے دیہات میں سکونت اختیار کر لی،یہ سن کر شہاب مدینہ میں آیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے افضل دو آدمی ہیں، ایک وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کیا،یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر اترا کہ جس سے دشمن کو تکلیف ہوئی اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کونے میںمقیم ہے، پانچ نمازیں ادا کرتا ہے ، اپنے مال کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے ربّ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے اور کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنے دیہات کی طرف لوٹ آئے اور وہاں سکونت اختیار کی۔
فوائد:… یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ثواب کو دیہاتوںکی طرف نکل جانے نے ضائع نہیں کیا۔ حالات کو دیکھ کر حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا،یہ اجازت ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔