TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا

Chapter 47 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 47 of 51 · 6 Hadith
۔ (۱۰۶۲۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا ھَاجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَبُ وَأَبُوْ بَکْرٍ رَدِیْفُہُ وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ یُعْرَفُ فِی الطَّرِیْقِ لِاِخْتِلَافِہِ اِلَی الشَّامِ وَکَانَ یَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَیَقُوْلُوْنَ: مَنْ ھٰذَا بَیْنَیَدَیْکَیَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَیَقُوْلُ: ھَادٍ یَھْدِیْنِیْ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعَثَ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی أَبِیْ اُمَامَۃَ وَأَصْحَابِہٖفَخَرَجُوْااِلَیْھِمَا فَقَالُوْا: ادْخُلَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ فَدَخَلَا، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا اَحْسَنَ مِنْ یَوْمٍ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ الْمَدِیْنَۃَ، وَشَھِدْتُ وَفَاتَہُ فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا اَقْبَحَ مِنَ الْیَوْمِ الَّذِیْ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۵۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار تھے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے ردیف تھے، راستے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہچان لیا جاتا تھا، کیونکہ وہ شام آتے جاتے وقت اس راستے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے رہتے تھے، اس لیے لوگوں نے پوچھا: اے ابو بکر! یہ آپ کے آگے والا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ میری رہنمائی کرنے والا رہبر ہے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصاری قبیلے کے مسلمان ہونے والے لوگوں کو اور ابو امامہ اور اس کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا، وہ لوگ آ گئے اور انھوں نے کہا: آپ دونوں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں، پس وہ داخل ہوئے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ نور اور حسن والا ہو، اس دن کی بہ نسبت، جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور چونکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے موقع پر بھی مدینہ میں موجود تھا، اس لیے میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ اندھیرے اور قباحت والا ہو، اس دن سے جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی۔
Takhreej
(۱۰۶۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۱۱ (انظر: ۱۲۲۳۴)
10621
Sahih
۔ (۱۰۶۲۲)۔ عَنْہ اَیْضًا قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ لَعَبَتِ الْحَبَشَۃُ لِقُدُوْمِہِ بِحِرَا بِھِمْ فَرْحًا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۷۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے حبشی لوگ جنگی آلات کے ساتھ کھیلے۔
Takhreej
(۱۰۶۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۴۹۲۳ (انظر: ۱۲۶۴۹)
10622
Sahih
۔ (۱۰۶۲۳)۔ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَحَرُوْا جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً وَقَالَ مَرَّۃً: نَحَرْتُ جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۲۶۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے اونٹ یا گائے ذبح کی۔
Takhreej
(۱۰۶۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۴۹۲۳ (انظر: ۱۲۶۴۹)
10623
Sahih
۔ (۱۰۶۲۴)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: اِنِّیْ لَاَسْعٰی فِی الْغِلْمَانِ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا، ثُمَّّ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا ، قَالَ: حَتّٰی جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ أَبُوْ بَکْرٍ فَکُنَّا فِیْ بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لِیُؤَذِّنَ بِھِمَا الْاَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَھُمَا زُھَائَ خَمْسِمِائَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّی اِنْتَھُوْ اِلَیْھِمَا فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: اِنْطَلِقَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ بَیْنَ أَظْھُرِھِمْ فَخَرَجَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ حَتّٰی اِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُیُوْتِیَتَرَائَیْنَہُیَقُلْنَ: اَیُّھُمْ ھُوَ؟ اَیُّھُمْ ھُوَ؟ قَالَ: رَأَیْنَا مَنْظَرًا مُشْبِھًا بِہٖیَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہُیَوْمَ دَخَلَ عَلَیْنَا وَیَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ اَرَ یَوْمَیْنِ مُشْبِھًا بِھِمَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں میں دوڑ کر آتا اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں، پس میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی شخص نظر نہ آتا، پھر جب بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں تو میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی چیز نظر نہ آتی، بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم اس وقت مدینہ کے بعض حرّوں میں تھے، پھر ایک آدمی نے ہمیں بھیجا تاکہ انصاریوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بتایا جائے، پس تقریباً پانچ سو انصاری آئے اور ان دو ہستیوںکے پاس پہنچ گئے اور کہا: تم دونوں امن و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھو، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی دونوں مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے، اُدھر سے اہل مدینہ نکل پڑے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کے چھتوں پر چڑھ گئیں اور کہنے لگیں: ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ہم نے اس دن ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (مسرت و شادمانی میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تھے، میں نے وہ دن بھی دیکھا تھا، اور جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی، پس اس دن بھی میں نے ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (غم و حزن میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔
Takhreej
(۱۰۶۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم وانظر حدیث رقم (۱۰۶۲۱) (انظر: ۱۳۳۱۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)
10624
Sahih
۔ (۱۰۶۲۵)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ اِقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ أَیُّھُمْیَأْوِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَعَھُمْ أَبُوْ أَیُّوْبَ فَآوٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ اِذَا اُھْدِیَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَعَامٌ اُھْدِیَ لِأَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ: فَدَخَلَ أَبُوْ أَیُّوْبَیَوْمًا فَاِذَا قَصْعَۃٌ فِیْھَا بَصَلٌ فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: أَرْسَلَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبُوْ أَیُّوْبَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَنَعَکَ مِنْ ھٰذِہِ الْقَصْعَۃِ قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیْھَا بَصَلًا۔)) قَالَ: وَلَا یَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ؟ قَالَ: ((بَلٰی فَکُلُوْہُ وَلٰکِنْ یَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَاکُمْ)) وَقَالَ حَیْوَۃُ: ((اِنَّہُیَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَا کُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۰۳)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاریوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے پہلے جگہ دے گا، قرعہ میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام نکلا، پس انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانے کا ہدیہ پیش کیا جاتا تھا تو سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی ہدیہ دیا جاتا تھا، ایک دن جب سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اندر داخل ہوئے تو ایک پیالے میں پیاز ڈالا ہوا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس پیالے سے کیوں نہیں کھایا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں پیاز دیکھا ہے۔ میں نے کہا: کیایہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اس کو کھا سکتے ہو، بس میرے پاس (وحی اور فرشتوں کی صورت میں) وہ کچھ آتا ہے، جو تمہارے پاس نہیں آتا۔
Takhreej
(۱۰۶۲۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۶۶۲۹، والطبرانی فی الکبیر : ۴۰۹۱ (انظر: ۲۳۵۰۶)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)
10625
Sahih
۔ (۱۰۶۲۶)۔ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلٰی أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ عَلَیْہِ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْفَلَ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ فِی الْعُلُوِّ، فَانْتَبَہَ أَبُوْ أَیُّوْبَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ: نَمْشِیْ فَوْقَ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَحََوَّلَ فَبَاتُوْا فِیْ جَانِبٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسُّفْلُ أَرْفَقُ بِیْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: لَا أَعْلُو سَقِیْفَۃً أَنْتَ تَحْتَھَا فَتَحَوَّلَ أَبُوْ اَیُّوْبَ فِیْ السُّفْلِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعُلُوِّ، فَکَانَ یَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ فَاِذَا رُدَّ اِلَیْہِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَأْکُلُ مِنْ حَیْثُ أَثَرَ أَصَابِعُہُ، نَصْنَعُ ذَاتَ یَوْمٍ طَعَاماً فِیِْہِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِہٖاِلَیْہِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ لَمْ یَأْکُلْ فَصَعِدَ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَ حَرَامٌ ھُوَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَکْرَھُہُ۔)) قَالَ: اِنِّیْ أَکْرَہُ مَا تَکَرَہُ أَوْ مَاکَرِھْتَہُ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْتٰی۔ (مسند احمد: ۲۳۹۱۴)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔
Takhreej
(۱۰۶۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۵۳ (انظر: ۲۳۵۱۷)
Explanation
فوائد:… کیا بات ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جلد ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بابرکت وجود کے احترام کے تقاضے سمجھ لیے۔
10626
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.