TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12469 - باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 20 in this chapter
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶۹)۔ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: فُضِّلَتْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ لَہَا الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُہَا عَلٰی صُفُوفِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ ذَا: ((وَأُعْطِیتُ ہٰذِہِ الْآیَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہَا نَبِیٌّ قَبْلِی۔))قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: کُلُّہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہیں۔
12469
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۴۶۹) تخریج: اخرجہ البخاری: ۶۴۸۰، ومسلم: ۵۲۲ (انظر: ۲۳۲۵۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سورۂ بقرہ کی آخری آیات سے مراد {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ} سے سورت کے آخر تک دو آیات ہیں۔

Related Chapters

1,032
1
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
2
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What has been Related About 'You Shall Follow The Ways of Those Who Were Before You'
باب: امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے
Jam e Tirmazi
8
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Splitting That Will Occur In This Ummah
باب: امت محمدیہ کی فرقہ بندی کا بیان
Jam e Tirmazi
10
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
12
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
13
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
14
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
15
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
Musnad Ahmad
16
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
17
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
Musnad Ahmad
18
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
Musnad Ahmad
19
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
21
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
23
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
Musnad Ahmad
26
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
(3) CHAPTER. The superiority of ablution. And Al-Ghurr-ul-Muhajjalun (the parts of the body of the Muslims washed in ablution will shine on the Day of Resurrection and the angels will call them by that name) from the traces of ablution.
وضو کی فضیلت کے بیان میں ( اور ان لوگوں کی فضیلت میں ) جو ( قیامت کے دن ) وضو کے نشانات سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے
Sahih Bukhari
29
(46) CHAPTER. The religious learned men are entitled to precedence in leading the Salat (prayers).
امامت کرانے کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو علم اور ( عملی طور پر بھی ) فضیلت والا ہو
Sahih Bukhari
30
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
Sahih Bukhari
31
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
32
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
33
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
34
CHAPTER: Concerning The Position Of The Imam And Its Virtue.
باب: امامت اور اس کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
Chapter: Tribulations that will appear
(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
امت محمدیہ کی صفات
Sunnan Ibn e Maja
37
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The lqamah Once
باب: اقامت اکہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Iqamah Two Times Each
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: [What Has Been Related About] Who Is Most Deserving Of Being The Imam
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About: When One Of You Leads The People In Prayer, Then Let Him Be Brief.
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
5401
۔ (۵۴۰۱)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ: یَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَکَرْتَنِی فِی نَفْسِکَ ذَکَرْتُکَ فِی نَفْسِی، وَإِنْ ذَکَرْتَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُکَ فِی مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ، أَوْ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْکَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْکَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَیْتَنِی تَمْشِی أَتَیْتُکَ أُہَرْوِلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: فَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔
Musnad Ahmad
5959
۔ (۵۹۵۹)۔ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا جَرِیْرٌیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ غَسِیْلِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دِرْھَمُ رِبًا یَأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنْیَۃً)) (مسند احمد: ۲۲۳۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا: سود کاایک درہم کہ آدمی جاننے بوجھنے کے باوجود جس کو کھاتا ہے، وہ چھتیس دفعہ زنا کرنے سے بھی سخت ہے۔
Musnad Ahmad
9757
۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Musnad Ahmad
10270
۔ (۱۰۲۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ نَبِیَّ اللّٰہِ یَقُوْلُ : ((اِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا اَھْبَطَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی الْاَرْضِ، قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ: اَیْ رَبِّ! {اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ} قَالُوْا: رَبَّنَا نَحْنُ اَطْوَعُ لَکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِلْمَلَائِکَۃِ: ھَلُمُّوْا مَلَکَیْنِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، حَتَّییُھْبَطَ بِھِمَا اِلَی الْاَرْضِ، فَنَنْظُرُ کَیْفَیَعْمَلَانِ، قَالُوْا: رَبَّنَا ھَارُوْتُ وَمَارُوْتُ، فَاُھْبِطَا اِلَی الْاَرْضِ، وَمُثِّلَتْ لَھُمَا الزُّھَرَۃُ بِاِمْرَاَۃٍ مِنْ اَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَائَ تْھُمَا، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَکَلَّمَا بِھٰذِہِ الْکَلِمَۃِ مِنَ الْاِشْرَاکِ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نُشْرِکُ بِاللّٰہِ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ عَنْھُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِیٍّ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ، حَتّٰی تَقْتُلَا ھٰذَا الصَّبِیَّ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نَقْتُلُہُ اَبَدًا، فَذَھَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُہُ، فَسَاَلَاھَا نَفْسَھَا، قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَشْرَبَا ھٰذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَکِرَا، فَوَقَعَا عَلَیْھَا، وَقَتَلَا الصَّبِیَّ، فَلَمَّا اَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْاَۃُ: وَاللّٰہِ! مَاتَرَکْتُمَا شَیْئًا مِمَّا اَبَیْتُمَا عَلَیَّ اِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِیْنَ سَکَرْتُمَا، فَخُیِّرَا بَیْنَ عَذَابِ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۱۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا: کیا تو اس زمین میں اس کوآباد کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بیشک میں وہ کچھ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! ہم بنو آدمی کی بہ نسبت تیری زیادہ اطاعت کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: تم دو فرشتے پیش کرو، تاکہ ان کو زمین پر اتار کر دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: اے ہمارے ربّ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں، پس ان دو فرشتوں کو زمین کی طرف اتارا گیا اور انسانیت میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شبیہ ان کے سامنے پیش کی گئی، انھوںنے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں،اللہ کی قسم! یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم شرکیہ بات نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی شرک تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور ایک بچہ لے کر پھر آگئی، انھوں نے پھر اس سے بدکاری کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرو گے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کو قتل تو نہیں کریں گے، پس وہ چلی گئی اور شراب کا ایک پیالہ لے کر دوبارہ آ گئی، ان فرشتوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا سوال کیا، لیکن اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک تم یہ شراب نہیں پیو گے، پس انھوں نے وہ شراب پی لی، جب اس سے ان کو نشہ آیا تو انھوں نے اس خاتون سے زنا بھی کر لیا اور بچے کو بھی قتل کر دیا، پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم ہے، جس جس چیز کا تم نے انکار کیا تھا، نشے کی حالت میں تم نے ان کا ارتکاب کر لیا، پھر اس جرم کی سزا میں ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا، پس انھوں نے دنیا کا عذاب پسند کر لیا۔
Musnad Ahmad
11784
۔ (۱۱۷۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقْدَمَہُ الْمَدِینَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَائِلُکَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلْ۔)) قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ؟ وَمِنْ أَیْنَ یُشْبِہُ الْوَلَدُ أَبَاہُ وَأُمَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَخْبَرَنِی بِہِنَّ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام آنِفًا، قَالَ ذَلِکَ عَدُوُّ الْیَہُودِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَی الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ زِیَادَۃُ کَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَہُ الْوَلَدِ أَبَاہُ وَأُمَّہُ فَإِذَا سَبَقَ مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَۃِ نَزَعَ إِلَیْہِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الْمَرْأَۃِ مَائَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَیْہَا۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ، وَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْیَہُودَ قَوْمٌ بُہْتٌ وَإِنَّہُمْ إِنْ یَعْلَمُوْا بِإِسْلَامِی یَبْہَتُونِیْ عِنْدَکَ، فَأَرْسِلْ إِلَیْہِمْ فَاسْأَلْہُمْ عَنِّی أَیُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَیُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟)) قَالُوْا: خَیْرُنَا وَابْنُ خَیْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَہُنَا وَابْنُ أَفْقَہِنَا، قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ؟)) قَالُوْا: أَعَاذَہُ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ،: قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، قَالُوْا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاہِلُنَا وَابْنُ جَاہِلِنَا، فَقَالَ: ابْنُ سَلَامٍ ہٰذَا الَّذِی کُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ان باتوں کو صرف نبی جانتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پوچھو۔ انہوںنے کہا: علامات قیامت میں سب سے پہلی علامت کیا ہے، اہل جنت سب سے پہلے کون سی چیز کھائیں گے اور بچے کی اپنے ماں باپ سے مشابہت کیوں کر ہوتی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ان باتوں کے متعلق جبریل علیہ السلام ابھی ابھی مجھے بتلا کر گئے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ فرشتہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی اولین نشانی وہ آگ ہے، جو مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو جمع کرتی ہوئی مغرب کی طرف لائے گی،اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی اس کے باپ یا ماں کے ساتھ مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ ماں کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ یہ جوابات سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پکار اٹھے: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔)پھر سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ بہتان طراز قسم کے لوگ ہیں، اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پتہ چل گیا تو آپ کے پاس آکر وہ مجھ پر بہتان باندھیں گے، آپ ان کے ہاں پیغام بھیج کر ان سے میرے متعلق دریافت کرلیں کہ ان کے ہاں ابن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں ابن سلام کا کیا مقام ہے؟ انہوںنے جواب دیا: وہ ہم سے بہت اچھا ہے اور بہت اچھے آدمی کا بیٹا ہے، وہ ہمارا عالم ہے اور ہمارے ایک بڑے عالم کا بیٹا ہے، وہ ہم میں سے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والا اور سب سے زیادہ دین کو سمجھنے والے کا بیٹا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بتلائو اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم مسلمان ہو جائو گے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اسے اس کام سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر سیدنا ابن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سامنے آگئے اور پکار کر کہا: اَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے رسول ہیں۔)یہ سن کر یہودی اسی وقت کہنے لگے: یہ تو ہم میں سب سے برا ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے، یہ تو ہم میں سے جاہل اور جاہل آدمی کا بیٹا ہے، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اسی بات سے ڈرتا تھا۔
Musnad Ahmad
12657
۔ (۱۲۶۵۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الدَّجَّالُ فَیَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃَ، فَیَأْتِی الْمَدِینَۃَ فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِہَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، فَیَأْتِی سَبْخَۃَ الْجَرْفِ فَیَضْرِبُ رِوَاقَہُ، فَتَرْجُفُ الْمَدِینَۃُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَیَخْرُجُ إِلَیْہِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۱۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا اور وہ تمام روئے زمین کو روند دے گا، ما سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے،جب وہ مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتوں کی صفوں کو پائے گا اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، پھر وہ جرف کی شورزدہ زمین کی طرف جائے گا اوروہاں اپنے ڈیرے ڈالے گا، مدینہ منورہ تین دفعہ جھٹکے گا اور اس میں موجود ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔