TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1314 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
۔ (۱۳۱۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ أَحَدُ کُمُ الْأَذَانَ وَالْأِنَائُ عَلَییَدِہِ فَـلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ حَاجَتَہُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۹۴۶۸)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اس حالت میں اذان سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اسے رکھ نہ دے، یہاں تک کہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔
1314
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۳۱۴) تخر یـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۳۵۰ (انظر: ۹۴۷۴)

Related Chapters

680
1
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: Leaving The Masjid After The Adhan.
باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
Chapter: If The Adhan Is Called And You Are In The Mosque, Then Do Not Leave
اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
4
اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی برائی کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
6
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
Mishkat
7
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
8
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
9
(24) CHAPTER. Can one go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
10
Chapter: The prohibition of leaving the masjid once the Mu’adhdhin has called the Adhan
جب مؤذن اذان کہہ دے تو اس کےبعد مسجد سے نکلنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
11
اذان کا جواب دینے کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About What Is Said [by A Man] When the Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Abandoning The Salat
باب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
20
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
21
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
Musnad Ahmad
22
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
Musnad Ahmad
23
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
25
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
26
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
Musnad Ahmad
27
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
Musnad Ahmad
28
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
29
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
30
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
31
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا
Musnad Ahmad
33
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
Musnad Ahmad
34
بغیر کسی ضرورت کے عورتوں کے گھروں سے نکلنے کا اور عطر لگا کر نکلنے والی کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
35
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
36
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
37
(58) CHAPTER. The pouring of water over the urine in the mosque.
مسجد میں پیشاب پر پانی بہا دینے کے بیان میں
Sahih Bukhari
38
(35) CHAPTER. The Adhan for the Salat (prayer) after its stated time is over.
وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھتے وقت اذان دینا
Sahih Bukhari
39
(4) CHAPTER. Superiority of the Adhan.
اذان دینے کی فضیلت کے بیان میں
Sahih Bukhari
40
(7) CHAPTER. What to say on hearing the Adhan.
اس بارے میں کہ اذان کا جواب کس طرح دینا چاہیے
Sahih Bukhari
41
(12) CHAPTER. The Adhan after Al-Fajr (dawn).
صبح ہونے کے بعد اذان دینا
Sahih Bukhari
42
(13) CHAPTER. The Adhan before Al-Fajr (dawn).
صبح صادق سے پہلے اذان دینے کا بیان
Sahih Bukhari
43
(23) CHAPTER. The Imam, while sitting on the pulpit, repeats the wordings of the Adhan when he hears it.
امام منبر پر بیٹھے بیٹھے اذان سن کر اس کا جواب دے
Sahih Bukhari
44
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
45
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
لونڈی کو شرعی سزا دینے کے بعد پھر ملامت نہ کرے نہ لونڈی جلاوطن کی جائے
Sahih Bukhari
46
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
Sahih Muslim
47
Chapter: It is obligatory for the one who hears the call to prayer to come to the masjid
جو اذان سنے اس کے لیے مسجد میں آنا واجب ہے
Sahih Muslim
48
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
Sahih Muslim
49
CHAPTER: On Cleaning The Masjid
باب: مسجد میں جھاڑو دینے کا بیان ۔۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Calling The Adhan From Atop A Minaret.
باب: مینار پر اذان دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
1274
۔ (۱۲۷۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً وَالِْأقَامَۃَ سَبْعَ عَشْرَۃَ کَلِمَۃً الأَذاَنُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَالإِ قَامَۃُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قاَمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۶)
سیّدنا ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔اور اقامت کے الفاظ یہ ہیں:اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَا اللّٰہُ۔
Musnad Ahmad
1277
۔ (۱۲۷۷) عَنَ اَنَسِ بِنْ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوْتِرَ الإْ قَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۲۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Musnad Ahmad
1278
۔ (۱۲۷۸)(وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیلُ أنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ قَالَ أَنَسٌ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ یَّشْفَعَ الْأَذَانَ وَیُوِتِرَ الإِْ قَامَۃَ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ أَیُّوْبَ فَقَالَ: إِلاَّ الإِْقَامَۃَ۔
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔ (دوسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا اور اقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم دیا گیاتھا، قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ کے الفاظ کے علاوہ۔
Musnad Ahmad
1280
۔ (۱۲۸۰)عَنِ ابْنِ أَبِیْ مَحْذُوْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ أَوْعَنْ جَدِّہِ قَالَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْأَذَانَ لَنَا وَلِمَوالِیْنَا، وَالسِّقَایَۃَ لِبَنِیِْ ھَاشِمٍ، وَالْحِجَامَۃَ لِبَنِیِْ عَبْدِالدَّارِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۵)
ابن ابی محذورہ اپنے باپ یا دادا سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے اور ہمارے موالیوں کے لیے اذان، اور بنوہاشم کے لیے حاجیوں کو پانی پلانا، اور بنو عبد الدار کے لیے سنگی لگانا خاص فرمایا۔
Musnad Ahmad
1311
۔ (۱۳۱۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أُرِیَ الْأَذَانَ قَالَ فَجِئْتُ إِلیَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ((أَلْقِہْ عَلٰی بِلَالٍ۔)) فَأَلَقَیْتُہُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ یُّقِیْمَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا رَأَیْتُ، أُرِیْدُ أَنْ أُقِیْمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ۔)) فَاقَامَ ھُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۰)
سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی تھی۔
Musnad Ahmad
2104
۔ (۲۱۰۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، کَأَنَّ الْأَذَانَ فِیْ أُذُنِیْہِ۔ (مسند احمد: ۶۰۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (اتنی جلدی سے) ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے۔
Musnad Ahmad
2194
۔ (۲۱۹۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی اللَّیْلَ مَثْنٰی مَثْنٰی، ثُمَّ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَقُوْمُ کَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الإِْقَامَۃَ فِیْ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کان میں ہوتی۔
Musnad Ahmad
2458
۔ (۲۴۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْزِلِی شَاسِعٌ وَأَنَا مَکْفُوْفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَاِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۱)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔