TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور اقامت کے ابواب - اذان اور اقامت کے ابواب - Book 22 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 22 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 75 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

75 Hadith · 11 Chapters
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۲۸۱) عَنْ عُثْمَانَ بِنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِجْعَلْنِی إِمَامَ قَوْمِیْ۔ فَقَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُہُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤََذِّنًا لا یَأَخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۰)
سیّدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنا دیجئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے)، تو اُن کا امام ہے، ان میں سے زیادہ کمزور کا خیال رکھنا او رایسا مؤذن مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لیتا ہو۔
Takhreej
(۱۲۸۱) تخر یـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الحاکم: ۱/۱۹۹، والبھیقی: ۱/ ۴۲۹، وابن خزیمۃ: ۴۲۳، وأخرجہ مسلم: ۴۶۸، ۱۸۷، وابن ماجہ: ۹۸۸ بلفظ: ((اذا اممت قوما، فاخف بھم الصلاۃ۔)) (انظر: ۱۶۲۷۰ الی۱۶۲۷۷)
Explanation
فوائد:… امامت انتہائی پاکیزہ اور افضل منصب ہے اور بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے، اس کا مزید اندازہ اس حقیقت سے لگا لینا چاہیے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس قسم کی ذمہ داریاں مختلف لوگوں کو سونپتے تھے اور بوجوہ مختلف لوگوں کو امامت سے معزول بھی کر دیتے تھے۔ بہرحال جو شخص شریعت کی روشنی میں اپنے آپ کواس کا اہل سمجھتا ہو، تو اس کے لیے امامت کا مطالبہ کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان جیسے منصب کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ادا کیا جائے اور اس کے عوض کچھ نہ لیا جائے، یہی افضل و اعلی ہے۔ یہ بات ضرور ہے کہ اس حدیث سے اجرت لینے کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اگر مقصود اجر و ثواب کا حصول ہو تو اجرت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جیسا کہ تعلیم قرآن پر اجرت لینے کا مسئلہ ہے۔ چونکہ عبادت کے لحاظ سے اذان اور تعلیم قرآن دونوں ایک ہی چیز ہیں، اس لیے ہم قارئین کے استفادہ کے لیے مؤخر الذکر کی اجرت کے جواز پر دلالت کرنے والی دو دلیلیں ذکر کر دیتے ہیں: (۱)سیّدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے ایک بستی کے سردار کوسورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اس کے عوض بکریوں کا ایک ریوڑ لیا۔ دوسرے صحابہ کرام نے ناپسند کیا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: ((اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ اَجْرًا۔)) یعنی: تو نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پراجرت لی۔ جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ جواباً رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔)) (بخاری) یعنی: سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کاحق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۶) حافظ ابن حجرنے کہا: ((واستدل منہ للجمھور فی جواز الاجرۃ علی تعلیم القرآن۔)) (فتح الباری) یعنی: اس حدیث سے جمہور کے لیے استدلال کیا گیا ہے جو تعلم القرآن پر اجرت کے جواز کے قائل ہیں۔ (۲)بیوی کا حق مہر خاوند پر فرض ہے ، اس کی تفصیلیوں ہے کہ سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ یہ تھے: ((اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔)) (بخاری، مسلم) یعنی: جا، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تیرے پاس ہے تیرا اس عورت کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔ امام مالک نے کہا: یہ تعلیمِ قرآن پر اجرت ہی تھی، اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری) بہرحال تعلیم قرآن کا مقصود اجر و ثواب کا حصول قرآن مجید کی اشاعت ہونا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1281
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۲) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤََذِّنَ، قَالَ مِثْلَ مَا یَقُولُ حَتّٰی إِذَا بَلَغَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۳۱)
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام سیّدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس وقت مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنتے تو جو وہ کہتا وہی آپ کہتے، حتی کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ پر پہنچتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۸۲) تخر یـج: …حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار فی مسندہ : ۳۸۶۸، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۴۱، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱/ ۱۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۹۲۴ (انظر: ۲۳۸۶۶)
1282
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بِنْ رُبَیِّعَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا یَقُوْلُ: أشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ)) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُوْنَہُ رَاعِیَ غَنَمٍ أَوْعَازِباً عَنْ أَھْلِہٖ۔)) فَلَمَّاھَبَطَالْوَادِیَ قَالَ مَرَّ عَلَی سَخْلَۃٍ مَنْبُوْذَۃ ٍفَقَالَ: ((أَتَرَوْنَ ھَذِہٖھَیِّنَۃً عَلَی أَھْلِہَا؟ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی أَھْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۷۲)
سیّدنا عبد اللہ بن ربیعہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مؤذن کو أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہتے ہوئے سن کر أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہا، پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی میں اُترے تو بکری کے ایک (مردار) بچے کے پاس سے گزرے جسے پھینک دیا گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کے مالکوں کے ہاں حقیر خیال کرتے ہو؟ (تبھی تو انھوں نے اسے پھینک دیا)۔ یقینایہ دنیا اللہ کے ہاں مالکوں پر اس بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۳) تخر یـج: …ھذا اسناد فیہ عبد اللہ بن ربیعۃ السلمی، اختلف فی صحبتہ، والظاہر انہ تابعی۔ وفی باب القول مثل ما یقول المؤذن احادیث ثابتۃ والجملۃ الاخیرۃ: ((أترون ھذہ ھینۃ …)) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ والنسائی: ۲/۱۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۴۵ (انظر: ۱۸۹۶۴)
1283
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَاسَمِعَ الْمُنَادِیَ قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ أِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔))(مسند احمد: ۲۵۴۴۶)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اذان کہنے والے کو سنا کرتے تھے تو فرماتے: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ۔
Takhreej
(۱۲۸۴) تخر یـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، لم یذکروا لمیمون بن مھران سماعا من عائشۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ۔ وأخرج أبوداود: ۵۲۶، وابن حبان: ۱۶۸۳، والحاکم: ۱/ ۲۰۴ عن عائشۃ قالت: کان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذا سمع المؤذن قال: ((وأنا وأنا۔)) واسنادہ صحیح (انظر: ۲۴۹۳۳)
1284
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۵) عَنْ أُمَّ حَبِیَبۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَََذِّنَ یُؤََذِّنُ قَالَ کَمَا یَقُولُ حَتّٰییَسْکُتَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۰۳)
سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس وقت مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو اس کے خاموش ہونے تک وہی کہتے جو وہ کہتا۔
Takhreej
(۱۲۸۵) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی فی الکبری : ۹۸۶۵، وابن خزیمۃ: ۴۱۳، والحاکم: ۱/ ۲۰۴، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۲۲۷ (انظر: ۲۶۷۶۷)
1285
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ: کَانَ عَلِیُّ بِْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا سَمِعَ الْمُوََذِّنَ قَالَ کَمَا یَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: أشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أشْہَدُ أنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَأِنَّ الَّذِینَ جَحَدُوْا مُحَمَّدًا ھُمْ الْکَاذِبُوْنَ۔ (مسند احمد: ۹۶۵)
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتے تو جیسے وہ کہتا ویسے ہی کہتے، اور جب وہ أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ اور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہتا توسیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہاور أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ ہی کہتے ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ((وَأِنَّ الَّذِینَ جَحَدُوْا مُحَمَّدًا ھُمْ الْکَاذِبُوْنَ)) یقینا جن لوگوں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انکار کیا ہے وہی جھوٹے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۶) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ابی شیبۃ عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی (انظر: ۹۶۵)
1286
Zaeef
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۷) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً غُفِرَلَہُ ذَنْبُہُ۔))
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سن کر یہ دعا پڑھی: ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً۔)) اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر خوش ہیں۔ …تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۸) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۳۸۴، وابوداود: ۵۲۳، والترمذی: ۳۶۱۴، والنسائی: ۲/ ۲۵
Explanation
فوائد:… یہ دعا کب پڑھی جائے؟ حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ مین یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ پہلا اشھد ان لا الہ الا اللہ مراد ہے یا آخری لا الہ الا اللہ۔ مؤخر الذکر بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اذان کے بیچ میں تو اذان کے کلمات کا جواب دیا جائے گا۔ قارئین غور سے متن پڑھ کر مناسب صورت پر عمل کر لیں، ان شاء اللہ اجر مل جائے گا۔ واللہ اعلم۔
1287
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَایَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَإِنَّ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوْا لِیَ الْوَ سِیلَۃَ فَإِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَاتَنْبَغِیْ إِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ وَأَرْجُوْ أَنْ أَکُونَ أَنَا ھُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ حَلَّتْ عَلَیْہِ الشَّفَاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کو سنو تو جیسے وہ کہتا ہے ویسے تم بھی کہتے رہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، بعد ازاں میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، کیونکہیہ جنت کے اندر ایک ایسا مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لیے ہی مناسب ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری سفارش حلال ہو جائے گی۔
1288
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۸۹) عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدَّرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : الْوَسِیلَۃُ دَرَجَۃٌ عِنْدَ اللّٰہِ لَیْسَ فَوْقَہَا دَرَجَۃٌ، فَسَلُوا اللّٰہَ أنْ یُؤْتِیَنِیَ الْوَسیِلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۵)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وسیلہ جنت میں ایک مرتبہ ہے اور فضیلت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی درجہ نہیںہے، تم اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ یہ وسیلہ مجھے عطا کردے۔
Takhreej
(۱۲۸۹) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، وموسی بن وردان مختلف فیہ، لکن یشھد بعض الاحادیث الثابتۃ لمعنی ھذا الحدیث۔أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۶۵ (انظر: ۱۱۷۸۳)
1289
Zaeef
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (ابِنْ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ الْمُؤَذِّنِیْنَیَفْضُلُوْنَّا بِأَذَانِہِمْ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَإِذَا انْتَہَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہنے لگا: ا ے اللہ کے رسول! مؤذن لوگ اپنی اذانوںکی وجہ سے ہم سے فضیلت لے جائیں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: وہ اذان کہتے وقت جو(کلمات) کہتے ہیں تو بھی وہ دوہراتا رہا کر، پھر جب تو فارغ ہو تو (اللہ سے) سوال کیا کر، (جو کچھ تو مانگے گا)تجھے دے دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۰) تخر یـج: …حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۵۲۴، وابن حبان: ۱۶۹۵ (انظر: ۶۶۰۱)
1290
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَلَعَاتِ الْیَمَنِ فَقَامَ بِلَالٌ یُنَادِیْ فَلَمَّا سَکَتَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ھَذَا یَقِیْنًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۹)
سیّدنا ابوہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یمن کے بلند ٹیلوں پر تھے، سیّدنابلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے، جب وہ اذان سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یقین کے ساتھ اسی طرح (یہ کلمات) کہے، جو اس (بلال) نے کہے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۱) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۲۴، وابن حبان: ۱۶۶۷، والحاکم: ۱/ ۲۰۴ (انظر: ۸۶۲۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن کے کلمات کا جواب صدقِ دل اور توجہ کے ساتھ دینا چاہیے۔
1291
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۲) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَایَقُوْلُ الْمُؤََذِّنُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۳۳)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جیسے مؤذن کہتا ہے ویسے تم بھی کہا کرو۔
Takhreej
(۱۲۹۲) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ البخاری: ۶۱۱، ومسلم: ۳۸۳، وابوداود: ۵۲۲، والترمذی: ۲۰۸، والنسائی: ۲/ ۲۳، وابن ماجہ: ۷۲۰ (انظر: ۱۱۰۲۰/۱)
1292
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حَیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۷)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ …تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔
Takhreej
(۱۲۹۳) تخر یـج:…أخرجہ البخاری: ۶۱۴، ۴۷۱۹، وابوداود: ۵۲۹، وابن ماجہ: ۷۲۲، والترمذی: ۲۱۱، والنسائی: ۲/ ۲۶ (انظر: ۱۴۸۱۷)
Explanation
فوائد:… اذان کو دعوتِ تامّہ کہا گیا، جو توحید و رسالت پر مشتمل ہے اور جس میں خیر و فلاح کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قائم رہنے والی نماز سے مراد یہ ہے کہ عبادت کا یہ انداز ہر امت میں باقی رہا۔ جنت میں سب سے اعلی منزل کا نام وسیلہ ہے اور فضیلت سے مراد سب سے بڑھ کر عالی مرتبہ ہونا ہے۔ صحیح بخاری (۷۴۴۰) سے ثابت ہوتا ہے کہ مقام محمود سے مراد میدان حشر کا وہ مقام ہے، جہاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلق اللہ کے لیے شفاعت کی خاطر سجدہ کریں گے اور یہ سجدہ سات دن رات تک طویل ہو گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سجدے میں وہ حمد و ثنا بیان کریں گے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیں اور سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔
1293
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیُنَادِی الْمُنَادِی: اللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۷۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھے: (( اللَّہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور فائدہ دینے والی نماز کے رب! محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیج، اور مجھ سے ایسا راضی ہو جا کہ جس کے بعد تو ناراض نہ ہو۔ …تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۴) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۱۹۶، وابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۹۶ (انظر: ۱۴۶۱۹)
1294
Zaeef
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۵)عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّیْ لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، حَتّٰی إِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَلَمّا قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قاَلَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۶)
عبد اللہ بن علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، جب ان مؤذن نے اذان کہی تو انھوں نے وہی (کلمات) کہے جو مؤذن کہتا تھا، حتی کہ جب اس نے حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہا تو سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اور اس کے بعد وہی کہا جو مؤذن نے کہا ، پھر یہ بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہی کہتے ہوئے سنا تھا۔
Takhreej
(۱۲۹۵) تخر یـج:… صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۲۵ (انظر: ۱۶۸۳۱)
1295
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۶) عَنْ مَعْاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَتَشَہَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۶۶)
سیّدنامعاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذنوں کے ساتھ شہادت والے کلمے کہا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۲۹۶) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۱۴، والنسائی: ۲/ ۲۴ (انظر: ۱۶۸۴۱)
1296
Sahih
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۷) عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ یَحْیَی الْأَ نْصَارِیِّ قَالَ: کُنْتُ إِلی جَنْبِ أَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ وَھُوَ مُسْتَـقْبِلُ الْمُوََذِّنِ وَکَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَیْنِ، فَکَبَّرَ أَبُو أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ أَنْ لَّاإِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ اِثْنَتَیْنِ، فَشَہِدَ أَبُو أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ اِثْنَتَیْنِ، وَشَہِدَ أَبُوْ أُمَامَۃَ اثْنَتَیْنَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: ھٰکَذَا حَدَّثَنِیْ مُعَاِویَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۷)
مجمع بن یحی انصاری کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو امامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا اور وہ مؤذن کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، مؤذن نے دو دفعہ اللہ اکبر کہا، جواب میں سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی دو دفعہ اللہ اکبر کہا، مؤذن نے دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، پھر مؤذن نے دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللہ کہا تو سیّدنا ابو امامہ نے بھی دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہا، پھر میری طرف رُخ کر کے فرمایا: مجھے سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسے ہی بیان کیا تھا۔
Takhreej
(۱۲۹۷) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن حبان: ۱۶۸۸، وأخرجہ البخاری: ۶۱۲، ۶۱۳، والنسائی: ۲/ ۲۴ بالفاظ مختلفۃ۔ (انظر: ۱۶۸۲۸، ۱۶۸۴۱،۱۶۸۶۲)
Explanation
فوائد:… اذان کے موقع پر کیے جانے والے اذکار کا خلاصہ یہ ہے، مذکورہ بالا احادیث میں ان کے اجرو ثواب کا ذکر ہو چکا ہے: ۱۔صدقِ دل سے مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دوہرانا اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ کہنا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں اَنَا (اور میں بھی) کہنا بھی درست ہے۔ (مسلم) ۲۔اذان کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنا ۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔ ۴۔ (( وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔ تنبیہ:… کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳) استدلال:… چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴) ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے: سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸) یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے: ۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔ ۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔ ۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔
1297
Sahih
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
۔ (۱۲۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَایَخْرُمُ ثُمَّ لَا یُقِیْمُ حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِیْنَیَرَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۹)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج ڈھلتے وقت اذان کہاکرتے تھے اور اس کا کوئی لفظ نہیں چھوڑتے تھے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے، البتہ جس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔
Takhreej
(۱۲۹۸) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۶۰۶، وابن ماجہ: ۷۱۳ (انظر: ۲۰۸۴۹)
1298
Sahih
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
۔ (۱۲۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیِْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُوْرِہِ فَإِنَّہُ إِنَّمَایُنَادِیْ أَوْ قَالَ یُؤََذِّنُ لِیَرْ جِعَ قاَئِمَکُمْ وَیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ لَیْسَ أَنْ یَقُوْلَ ھٰکَذَا وَلٰکِنْ حَتّٰییَقُوْلَ ھٰکَذَا۔)) وَضَمَّ ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ أَبُوْ عَمْرو أَصَابِعَہٗوَصَوَّبَہَاوَفَتَحَمَابَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِیَعْنِی الْفَجْرَ۔ (مسند احمد: ۳۷۱۷)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تم سے کسی کو اس کی سحری نہ روکے،کیونکہ وہ تو صرف اس لیے اذان کہتا ہے کہ قیام کرنے والے کو واپس لوٹا دے اورسوئے ہوئے کو بیدار کر دے اور (فجر صادق میں روشنی) اس طرح (اوپر کو) ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح (افق میں) پھیل جاتی ہے۔ اور ابن ابی عدی ابو عمر نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو ملا کر جھکایا اور شہادت والی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی۔
Takhreej
(۱۲۹۹) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۲۱، ۵۲۴۸، ۷۲۴۷، ومسلم: ۱۰۹۳، وابوداود: ۲۳۴۷، ۲۳۴۷، والنسائی: ۴/ ۱۴۸، وابن ماجہ: ۱۶۹۶ (انظر: ۳۶۵۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں سحری والی اذان کی حکمت بیان کی جا رہی ہے کہ قیام کرنے والا نماز فجر کے لیے کچھ راحت کر لے یا روزہ کا ارادہ رکھنے کی صورت میں سحری کر لے اور سونے والا جاگ کر غسل یا وضو کرے اور نماز فجر کے لیے تیارہو جائے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں اختصار کے ساتھ فجر کاذب اور فجر صادق کے فرق کو بیان کیا جا رہا ہے۔
1299
Sahih
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
۔ (۱۳۰۰) عَنْ سَاِلمٍ عَنْ أَبِیہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالاً یُؤَذَّنَ بِلَیْلِ فَکُلُوْا وَاشْرَ بُوْا حَتّٰییُؤَذِّنَ اِبْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہہ دے۔
Takhreej
(۱۳۰۰) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۶۱۷، ومسلم: ۱۰۹۲، والترمذی: ۲۰۳، والنسائی: ۲/۱۰ (انظر: ۴۵۵۱)
1300
Sahih

Chapters

11
01
اذان کا حکم اور اس حکم کی تاکید کا بیان
3 Hadith
02
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
03
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
7 Hadith
04
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
6 Hadith
05
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
10 Hadith
06
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
07
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
16 Hadith
08
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
5 Hadith
09
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
3 Hadith
10
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
6 Hadith
11
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
4 Hadith
No chapter matched that.