TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان - دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 16 · 6 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۰۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَیُّ الْأَدْیَانِ أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ؟ قَالَ: (( الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: کون سا دین اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑکی ملت، جو کہ سہولت والی ہے۔
Takhreej
(۱۰۴) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۵۶۹، والبخاری فی الادب المفرد : ۲۸۷، وعلقہ البخاری فی صحیحہ فی الایمان: باب الدین یسر (انظر: ۲۱۰۷)
Explanation
فوائد:… لغت میں اس شخص کو حنیف کہتے ہیں، جو حضرت ابراہیم ؑکی ملت پر ہو اور حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے حنیف کہتے ہیں، کہ وہ باطل سے حق کی طرف مائل ہو گئے تھے، حنف کے اصل معانی مائل ہونے اور ایک طرف جھک جانے کے ہیں۔ اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔ اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
104
Sahih
۔ (۱۰۵)۔عَنْ غَاضِرَۃَ بْنِ عُرْوَۃَ الفُقَیْمِیِّ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عُرْوَۃُ (ؓ) قَالَ: کُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ رَجِلًا یَقْطُرُ رَأسُہُ مِنْ وُضُوْئٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلّٰی فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُوْنَہُ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَیْنَا حَرَجٌ فِی کَذَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ دِیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِی یُسْرٍ ۔)) ثَلَاثًا یَقُوْلُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۴۵)
سیدنا عروہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۵) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۷۲، وابویعلی: ۶۸۶۳، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۷/ ۳۰(انظر: ۲۰۶۶۹)
Explanation
فوائد:… حقیقت میں دین کے تمام ارکان میں آسانی کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا، لیکن اس حقیقت کو وہ شخص تسلیم کرے گا، جو اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے، اس بیچارے نے دینِ اسلام کی آسانی کا ادراک خاک کرنا ہے، جس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا، جو لوگ اسلام کے ارکان سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور ان کے نفسوں میں ایسی نحوست اور بے برکتی پیدا ہو گئی ہے کہ یہ اپنی ذات کا اندازہ لگانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
105
Sahih
۔ (۱۰۶)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَبْقٰی عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْاِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیْلٍ، إِمَّا یُعِزُّہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیَجْعَلُہُمْ مِنْ أَہْلِہَا أَوْ یُذِلُّہُمْ فَیَدِیْنُوْنَ لَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۱۵)
سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہل اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن حبان: ۶۶۹۹، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۰۱، والحاکم: ۴/ ۴۳۰، والبیھقی: ۹/ ۱۸۱(انظر: ۲۳۸۱۴)
Explanation
فوائد: … عزت والے کی عزت کے ساتھ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ قید و قتال سے پہلے ہی برضا و رغبت مشرف باسلام ہو جائیں گے۔ ذلت والے کی ذلت کے ساتھ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قید یا قتال کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں، دل سے راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر ایسے لوگ بہترین مسلمان بن کر اچھے انجام سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم بنتا ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔} … وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اور اللہ تعالیٰ گواہی دینے والا کافی ہے۔ (سورۂ فتح: ۲۸) اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ…} نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم : ۵۲/۲۹۰۷)
106
Sahih
۔ (۱۰۷)۔عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ الَّلیْلُ وَالنَّہَارُ، وَلَا یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیْلٍ، عِزٍّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْاِسْلَامَ أَوْ ذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ۔)) وَکَانَ تَمِیْمٌ الدَّارِیُّ یَقُوْلُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَالِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِیْ لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرَ وَ الشَّرَفَ وَالْعِزَّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِرًا الذُّلَّ وَالصِّغَارَ وَ الْجِزْیَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۸۲)
سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔ سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں: میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف باسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔
Takhreej
(۱۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ البیھقی: ۹/ ۱۸۱، والحاکم: ۴/ ۴۳۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۲۸۰ (انظر: ۱۶۹۵۷)
Explanation
فوائد: …سابق حدیث میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
107
Sahih
۔ (۱۰۸)۔عَنْ أَبِی بَکْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی سَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۲۸)
سیدنا ابوبکرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۸) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن عدی فی الکامل : ۲/ ۵۷۳ (انظر: ۲۰۴۵۴)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ نے دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کے لیے مختلف لوگوں کو استعمال کیا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جو خود اس دین سے استفادہ نہ کر سکے، مثال کے طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے اور شرعی احکام کو ثابت کرنے والے وہ علما، جو خود اپنے علم پر عمل نہ کر سکے، یا جن کا مقصد ریاکاری، نمودو نمائش اور صدارت و سربراہی تھا۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
108
Sahih
۔ (۱۰۹)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۶)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کی مدد کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۶۲، ومسلم: ۱۱۱(انظر: )۸۰۹۰
Explanation
فوائد: …اس کی کئی صورتیں موجود ہے، بعض کا تعلق عہد ِ نبوی سے بھی ہے، فاجر حکمران کا اسلام کے بعض امور کی خدمت کرنا، کسی فاجر آدمی کا مسجد و مدرسہ تعمیر کر دینا، اسی قبیل کی مثالیں ہیں۔
109
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.