TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان - تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 15 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 16 · 12 Hadith
۔ (۲۱۱)۔عن أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْعَمَلُ عَلَی مَا فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ عَلَی أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ: ((بَلْ عَلَی أَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((کُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹)
سیدنا ابو بکر صدیق ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! عمل اس چیز کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے یا اس کے مطابق ہے، جو ازسرِ نو ہو رہی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس معاملے کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہ عمل آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۱۱) تخریج: حسن لغیرہ ۔أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۷، والبزار: ۲۸ (انظر: ۱۹)
211
Sahih
۔ (۲۱۲)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ: سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴)
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۹۶(انظر: ۱۸۴)
212
Sahih
۔ (۲۱۳)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمٍؓ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَ الْعَمَلُ؟ أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ فِیْ شَیْئٍ نَسْتَأْنِفُہُ؟ فَقَالَ: ((بَلْ فِیْ شَیْئٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا! فَکُلٌ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۰۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا سراقہ بن جعشم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو ہم از سرِ نو کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا: تو پھر عمل کاہے کا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۱۳) تخریج: ھو حدیث طویل و أخرجہ مسلم مفرقا: ۱۲۱۳، ۲۶۴۸ (انظر: ۱۴۲۵۸)
213
Sahih
۔ (۲۱۴)۔ عن أَبِیْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ(یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُہُ؟ قَالَ: ((لِأَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) فَقَالَ سُرَاقَۃُ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کُلُّ عَامِلٍ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۵۴)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں، جس سے فارغ ہو ا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہم کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ سیدنا سراقہ ؓ نے کہا: تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر عامل کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۴۸(انظر: ۱۴۶۰۰)
214
Sahih
۔ (۲۱۵)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا وَفِیْ یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ بِہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَامِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ اِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔)) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا!فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) {أَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی} (مسند أحمد: ۶۲۱)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے ربّ سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا۱۰)
Takhreej
(۲۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۴۶، ۴۹۴۹، ۷۲۱۷، ومسلم: ۲۶۴۷ (انظر: ۶۲۱)
Explanation
فوائد: …ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی اور اطاعت کی توفیق اس کو ملتی ہے، جو خیر کے امور سرانجام دینے اور محارم سے بچنے کے لیے مستعد ہو اور حسب ِ استطاعت ان کی پابندی کر رہا ہے، اس کے برعکس جو شخص بخل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بے پرواہی برتتا ہے تو اس کے لیے برائیوں کے سلسلے کو برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک مثال سے بات کو واضح کر دیتے ہیں، جب نمازِ فجر کا وقت ہوتا ہے، تو اس وقت بعض لوگوں کا سویا رہنا ان کے حق میں قیامت ِ صغری سے کم نہیں ہوتا اور اس وقت ان کو نیند ہی نہیں آتی، پس وہ سکون سے اٹھ جاتے ہیں اور نماز ادا کر کے اطمینان حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعض ایسے منحوس بھی ہوتے ہیں کہ اس نماز کے لیے اٹھنا ان پر اس قدر گراں گزرتا ہے کہ وہ سوئے رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، اول الذکر لوگ عمل صالح کرنے کی رغبت رکھتے تھے، سو ان کے لیے عمل آسان ہو گیا اور مؤخر الذکر میں یہ رغبت نہیں، پس وہ بڑے محروم ٹھہرے۔
215
Sahih
۔ (۲۱۶) (وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی)۔عَنْ عَلِیٍّ (ؓ) قَالَ: کُنَّا مَعَ جَنَازَۃٍ فِیْ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَہُ وَمَعَہُ مِخْصَرَۃٌ یَنْکُتُ بِہَا، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَہُ فَقَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ اِلَّا وَقَدْ کُتِبَ مََقْعَدُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، اِلَّا قَدْ کُتِبَتْ شَقِیَّۃً أَوْ سَعِیْدَۃً۔)) فَقَالَ الْقَوْمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَلَا نَمْکُثُ عَلَی کِتَابِنَا وَ نَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَسَیَصِیْرُ اِلَی السَّعَادَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشِّقْوَۃِ فَسَیَصِیْرُ اِلیَ الشِّقْوَۃِ؟ فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِعْمَلُوْا! فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشِّقْوَۃِ فَاِنَّہُ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِ الشِّقْوَۃِ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَاِنَّہُ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ۔)) ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی} اِلٰی قَوْلِہِ {فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی}۔ (مسند أحمد: ۱۰۶۷)
۔ (دوسری روایت)سیدنا علی ؓ کہتے ہیں: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے زمین کو کرید، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا جنت اور جہنم کی صورت میںٹھکانہ لکھا جا چکا ہے اور یہ بھی لکھا جا چکا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بد بخت۔ لوگوں نے کہا: کیا ہم اپنی کتاب پر اعتماد کر کے عمل ترک نہ کر دیں، کیونکہ جو خوش بختوں میں سے ہو گا، وہ خوش بختی تک رسائی حاصل کرلے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا، وہ بدبختی تک پہنچ جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، جو بد بختوں میں سے ہے، اس کے لیے بدبختی کے عمل آسان کر دیئے گئے ہیں اور جو خوش بختوںمیں سے ہے، اس کے لیے خوش بختی کے عمل آسان کر دیئے گئے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ آیات تلاوت کیں: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی ۔ وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی ۔ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی ۔} … جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے ربّ سے)، اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی، اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اس کے لیے تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔
Takhreej
(۲۱۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
216
Sahih
۔ (۲۱۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ فِیْہِ، أَفِیْ أَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ((فِیْمَا قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ، فَاعْمَلْ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَاِنَّ کُلًّا مُیَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلسَّعَادَۃِ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشَّقَائِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلشَّقَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ اس (تقدیر)کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بد بختوںمیں سے ہو، وہ بد بختی کے لیے عمل کرتا ہے۔
Takhreej
(۲۱۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۱۱۱ (انظر: ۱۹۶)
217
Sahih
۔ (۲۱۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ یَدِہِ کِتَابَانِ فَقَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَانِ الْکِتَابَانِ؟۔)) قَالَ: قُلْنَا: لَا اِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَدِہِ الْیُمْنٰی: ((ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِأَسْمَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَسْمَائِ آبَائِ ہِمْ وَ قَبَائِلِہِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزَادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَسَارِہِ: ((ھٰذَا کِتَابُ أَہْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِ ہِمْ وَ أَسْمَائِ آبَائِہِمْ وَقَبَائِلِہِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزْادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔))فقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: فَلِاَیِّ شَیْئٍ اِذَنْ نَعْمَلُ اِنْ کَانَ ھٰذَا أَمْرٌ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا! فَاِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّۃِ یُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ، وَاِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَاِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ فَقَبَضَہَا، ثُمَّ قَالَ: ((فَرَغَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ۔)) ثُمَّ قَالَ بِالْیُمْنٰی فَنَبَذَہَا فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) وَ نَبَذَ بِالْیُسْرٰی فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ مبارک میں دو کتابیں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی دو کتابیں ہیں؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! الّا یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی ہے (ٹوٹل)نہ ان میں بیشی ہو سکتی ہے، نہ کمی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں کہا: یہ جہنمیوں کی کتاب ہے، اس میں ان کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ صحابہ نے کہا: اگر اس معاملے سے اس قدر فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر ہم کس چیز کے لیے عمل کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، بیشک جنتی آدمی کا اختتام جنت والوں کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جون سا مرضی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کا اختتام اہلِ جہنم کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور فرمایا: تمہارا ربّ اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں سے اس کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جنت میں جائے گا۔ پھر بائیں ہاتھ سے کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جہنم میں جائے گا۔
Takhreej
(۲۱۸) تخریج: حسن، قالہ الالبانی ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۱ (انظر: ۶۵۶۳)
Explanation
فوائد: …یہ دو حقیقی کتابیں تھیں، واللہ علی کل شیء قدیر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مقصدو مدّعا بیان کرنے کے بعد ان کتابوں کو عالم الغیب کی طرف پھینک دیا، یہ پھینکنا بطورِ اہانت نہیں تھا۔ امام غزالی نے کیمیاء السعادت میں کہا: دو چیزوں میں خواص، عوام سے ممتاز ہیں: (۱)عوام کو جو امور تعلیم و تعلم کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، وہ خواص کو بغیر کسی محنت کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم لدنی کے طور پر حاصل ہو جاتے ہیں۔ (۲) جو چیزیں عام لوگوں کو خوابوں میں نظر آتی ہیں، خواص ان کو بیداری میں دیکھ لیتے ہیں۔ اس باب میں مشائخ کی حکایات اور مثالیں بہت زیادہ ہیں، جب یہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کے خاص لوگوں کو حاصل ہے، تو اس شخصیت کا کیا کہنا جو رسولوں کی سردار ہو، رتبہ میں ان سے بلند ہو، علم میں ان سے گہری ہو اور سب سے زیادہ وسیع العلم ہو۔
218
Sahih
۔ (۲۱۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ قَتَادَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَہْرِہِ وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ فِی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰؤُلَائِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((عَلَی مَوَاقِعِ الْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۱۰)
سیدنا عبد الرحمن بن قتادہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لئے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لئے ہیں او رمیں کوئی پروا نہیں کرتا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تقدیر کے مطابق۔
Takhreej
(۲۱۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن حبان: ۳۳۸، والحاکم: ۱/ ۳۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۴۳۵(انظر: ۱۷۶۶۰)
Explanation
فوائد: …بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کو نیکی و بدی کرنے کے اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِِنَّا ہَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِِمَّا شَاکِرًا وَّاِِمَّا کَفُوْرًا} (سورۂ دہر: ۳) … ہم نے اس (انسان) کو راہ دکھائی، اب خواہ وہ شکر گزار بنے، خواہ ناشکرا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ معلوم کر لیا کہ کون کیا عمل کرے گا اور کس کا کیا انجام ہو گا، پھر اس کو قلمی شکل دے دی، اس کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر یا اس کا علم کہتے ہیں۔ یا یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنوآدم کے طرز حیات اور ان کے انجام کی پیشین گوئی کی، جو حق ثابت ہوئی۔ اب کوئی انسان مجبور ہو کر نیک یا برے اعمال نہیں کر رہا، بلکہ اسے اختیار ہے، اس نے خود انتخاب کرنا ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے انتخاب کا علم ہے، اب انسان کے عمل اور اللہ تعالیٰ کے علم میں من و عن موافقت ہے، اسی کو کہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق عمل کر رہا ہے۔
219
Sahih
۔ (۲۲۰)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ سُئِلَ أَوْ قِیْلَ لَہُ: أَیُعْرَفُ أَہْلُ النَّارِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَلِمَ یَعْمَلُ الْعَامِلُوْنَ؟ قَالَ: ((یَعْمَلُ کُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَہُ أَوْ لِمَا یُسِّرَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۷۳)
سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا جہنمیوں کو جنتیوں سے پہچان لیا گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر کوئی وہی عمل کر رہا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا۔
Takhreej
(۲۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۵۱، ومسلم: ۲۶۴۹(انظر: ۱۹۸۳۴)
220
Sahih
۔ (۲۲۱)۔عَنْ أَبِیْ الْأَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍؓ یَوْمًا مِنَ الْأَیَامٍ فَقَالَ: یَا أَبَاالْأَسْوَدِ! فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مِنْ مُزَیْنَۃَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا یَعْمَلُ النَّاسُ الْیَوْمَ وَیَکْدَحُوْنَ فِیْہِ،شَیْئٌ قُضِیَ عَلَیْہِمْ أَوْمَضٰی عَلَیْہِمْ فِیْ قَدْرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِیْمَا یُسْتَقْبَلُوْنَ مِمَّا أَتَاہُمْ بِہِ نَبِیُّہُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَیْہِمْ حُجَّۃٌ؟ قَالَ: ((بَلْ شَیْئٌ قُضِیَ عَلَیْہِمْ وَمَضٰی عَلَیْہِمْ۔)) قَالَ: فَلِمَ یَعْمَلُوْنَ اِذًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَہُ لِوَاحِدَۃٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَیْنِ یُہَیِّئُہُ لِعَمَلِہَا، وَتَصْدِیْقُ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {فَأَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَ تَقْوَاہَا} (مسند أحمد: ۲۰۱۷۸)
ابو اسود دیلی کہتے ہیں: میں ایک دن صبح صبح سیدنا عمران بن حصین ؓ کے پاس گیا ، انھوں نے کہا: اے ابو اسود، پھر پوری حدیث ذکر کی، اس میں ہے: بیشک جہینہ یا مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آجکل لوگ اپنے نبی کی لائی تعلیمات پر جو عمل اور محنت کر رہے ہیں اور جن کے ذریعے ان پر حجت قائم ہو چکی ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا تقدیر میں فیصلہ ہو چکا ہے، یا یہ از سرِ نو ہو رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جو اِن لوگوں پر جاری ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر لوگ عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو منزلوں میں سے ایک کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ اس کو اس کے عمل کے لیے تیار بھی کر تا ہے، اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب کی اس آیت میں ہے: پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر نکلنے کی۔ (سورۂ شمس: ۸)
Takhreej
(۲۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۵۱، ۶۵۹۶ مختصرا، و مسلم: ۲۶۵۰(انظر: ۱۹۹۳۶)
Explanation
فوائد: …اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا اور ان کو انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیرو شرّ کی پہچان کروا دی اور ان کی فطرت اور عقل میں خیر اور شرّ اور نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
221
Sahih
۔ (۲۲۲)۔عن أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: قَالَوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُہُ؟ قَالَ: ((بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ۔)) قَالُوْا: فَکَیْفَ بِالْعَمَلِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((کُلُّ امْرِیئٍ مُہَیَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۵)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہو اجا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۲۲۲)تخرج: طب ک۔ أخرجہ (انظر: )
222
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.