TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان - امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 16 · 4 Hadith
۔ (۱۷۶)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثَیْنِ قَدْ رَأَیْتُ أَحَدَہُمَا وَ أَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَۃَ نَزَلَتْ فِی جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّۃِ،ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَۃِ فَقَالَ: ((یَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَۃَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَکْتِ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَہُ عَلٰی رِجْلِکَ فَتَرَاہُ مُنْتَبِرًا وَلَیْسَ فِیْہِ شَیْئٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًا فَدَحْرَجَہُ عَلٰی رِجْلِہِ قَالَ: ((فَیُصْبِحُ النَّاسُ یَتَبَایَعُوْنَ لَا یَکَادُ أَحَدٌ یُؤَدِّی الْأَمَانَۃَ حَتَّی یُقَالَ: اِنَّ فِیْ بَنِیْ فُـلَانٍ رَجُلًا أَمِیْنًا حَتّٰی یُقَالَ لِلرَّجُلِ:مَا أَجْلَدَہُ وَ أَظْرَفَہُ وَ أَعْقَلَہُ وَمَا فِیْ قَلْبِہِ حَبَّۃٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ۔)) وَلَقَدْ أَتٰی عَلَیَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِیْ أَیَّکُمْ بَایَعْتُ، لَئِنْ کَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ کَانَ نَصْرَانِیًّا أَوْ یَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ سَاعِیْہِ، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَمَا کُنْتُ لِأُبَایِعَ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًاوَ فُلَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۴۴)
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کی، میں نے ایک کا مصداق تو دیکھ لیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی اصل میں داخل ہوئی، پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن مجید اور سنت کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: آدمی سوئے گا اور اس کے دل سے یہ امانت کھینچ لی جائے گی اور ہلکے سے نشان اور دھبّے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، پھر جب اس کے دل سے رہی سہی امانت کو اٹھا لیا جائے گا تو چھالے اور آبلے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے تو انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکائے اور پھر تو اس کے نتیجے میں ورم کے نشان دیکھے، جب کہ اس میں کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضاحت کرنے کے لیے ایک کنکری کو اپنے پاؤں پر لڑھکایا، پھر فرمایا: پھر لوگ خریدو فروخت تو کریںگے، لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا، جوامانت ادا کرے گا، حتی کہ لوگ کہیں گے: بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی ہے، (لیکن یہ شہادت بھی اس طرح کی ہو گی کہ) لوگ ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے: وہ کس قدر باہمت و با استقلال ہے، وہ کیسا زیرک اور خوش اسلوب آدمی ہے، وہ کتنا عقل مند شخص ہے، جبکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔ پھر سیدنا حذیفہؓ نے کہا: ایک زمانہ ایسا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے سودا کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میری امانت لوٹانے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو اس سے جزیہ وصول کرنے والا میرا حق لوٹا دیتا تھا، لیکن یہ زمانہ، تو اس میں میں صرف اور صرف فلاں فلاں آدمی سے لین دین کروں گا۔
Takhreej
(۱۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۹۷، ۷۰۸۶، ۷۲۷۶، ومسلم: ۱۴۳ وروایۃ البخاری مختصرۃ (انظر: ۲۳۲۵۵)
Explanation
فوائد: …یقین مانیں کہ اس وقت بازاروں میں عدم اعتمادی کی یہی صورتحال ہے، جن لوگوں نے دوکانیں اور مکانات کرائے پر دے رکھے ہیں، ان کو یہی خطرہ رہتا ہے کہ کرایہ دار قبضہ نہ کر لے، کوئی کسی کو اس وجہ سے ادھار دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل کلاں انکاری ہو جائے۔ نیز ایسے ایسے لوگوں کو امانتدار، غیر جانبدار اور انصاف پسندکہا جا رہا ہے، جو بیچارے اسلامی شعائر اور ارکان سے محروم ہوتے ہیں۔
176
Sahih
۔ (۱۷۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَدُوْرُ رَحَی الْاِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: عَلٰی رَأْسِ خَمْسٍ) وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ قَدْ ہَلَکَ وَاِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضٰی أَمْ مِمَّا بَقِیَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۳۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۴(انظر: ۳۷۳۰)
177
Sahih
۔ (۱۷۸)۔ (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَضٰی أَمْ مَا بَقِیَ؟ (مسند احمد)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی مستقل یا مستقل اتنا عرصہ ہے
Takhreej
(۱۷۸) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
178
Sahih
۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)
۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی ،اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔
Takhreej
(۱۷۹) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …علامہ عظیم آبادی نے کہا: اسلام کی چکی گھومنا، اس کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں: (۱) اکثر کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد بغیر کسی نقص کے نبوت کے منہج اور خلافت کا جاری رہنا، خلفاء کے معاملات کا مستقیم رہنا، حدود کو نافذ کرنا اور شرعی احکام کو رواج دینا ہے۔ (۲) اس سے مراد لڑائی اور قتل و غارت گری ہے۔ (عون المعبود: ۱۱/ ۲۲۰) امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: خطیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: تَدُوْرَ رُحٰی اْلِاسْلَامِ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مرادی معنی یہ ہے کہ اس مدت کے بعد اسلام میں کوئی عظیم سانحہ رونما ہو گا، جو اہل اسلام کے لیے خطرہ ہو گا۔ جب کسی معاملے میں تغیر پیدا ہوتا ہے یا وہ تبدیل ہوتا ہے تو دَارَتْ رَحَاہ (اس کی چکی گھوم گئی) کہتے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے شروع میں مدتِ خلافت کے ختم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔ یَقُمْ لَھُمْ دِیْنُھُمْ کے معانی ہیں: مسلمانوں کی بادشاہت اور سلطنت قائم رہے گی، کیونکہ دین کا اطلاق بادشاہت اور سلطنت پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَا کَانَ لِیَاْخُذَ أَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ} (سورۂ یوسف: ۷۶) … وہ (حضرت یوسف ؑ) اپنے بھائی کو بادشاہ کی بادشاہت کے قانون کے مطابق نہیں رکھ سکتے تھے۔ سیدنا حسن بن علی ؓ کی سیدنا معاویہ ؓ کی بیعت کرنے سے لے کر مشرق سے بنو امیہ کی بادشاہت ختم ہونے تک تقریبا ستر سال بنتے ہیں۔ امام طحاوی نے کہا: شک کی بنا پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنا پر پینتیس یا چھتیس یا سینتیس کہا گیا، جو پینتیس برس کی صورت میں ظاہر ہوا،اس عرصے کے بعد (اہل مصر) نے سیدنا عثمان ؓ کا محاصرہ کر لیا، حتی کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت امت میں اختلاف و افتراق کا سبب ٹھہری، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا، بہرحال اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا اور اس کی تلافی کرتے ہوئے اس امت میں ایسے افراد کو قائم رکھا، جنھوں نے دین کی حفاظت کی۔ (صحیحہ: ۹۷۶) ملا علی قاری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: زمانۂ ہجرتِ نبوی سے لے کر خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ) کی خلافت کی انتہا تک پینتیس سال بنتے ہیں، اس میں عوام و خواص کا کوئی اختلاف نہیں ہے، اس عرصے کے بعد سیدنا عثمان ؓ کو قتل کر دیا گیا، پھر چھتیسویں سال کو جنگ ِ جمل کا اور سینتیسویں سال کو جنگ ِ صفین کا واقعہ پیش آیا … خطابی نے کہا: چکی گھومنے سے مراد جنگ و جدل اور قتل و غارت گری ہے، تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح چکی دانے کو پیستی ہے، اس طرح اس عرصے کے بعد لوگوں کی جانیں ہلاک ہونا شروع ہو جائیںگی، … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے صحابہ کو یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پینتیس یا چھتیس یا سینتیس تک (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے دور کی طرح) دین پر قائم رہیں گے، پھر اختلاف کی وجہ سے افتراق و انتشار پڑ جائے گا، اس کے بعد اگر کوئی ہلاک ہوا تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہو گا۔ لیکن اگر مسلمانوں کا معاملہ پھر سے ایک امیر کی اطاعت اور حق کی تائید کی طرف لوٹ آیا تو وہ ستر سال تک جاری رہے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۹/ ۲۹۰۔ ۲۹۲)
179
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.