TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان - تقدیر پر ایمان لانے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 16 · 10 Hadith
۔ (۲۰۱)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ(ؓ): اِنَّا نُسَافِرُ فِی الْآفَاقِ فَنَلْقٰی قَوْمًا یَقُوْلُوْنَ لَا قَدَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اِذَا لَقِیْتُمُوْہُمْ فَأَخْبِرُوْہُمْ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مِنْہُمْ بِرِیْئٌ وَأَنَّہُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَـلَاثًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رَجُلٌ، فَذَکَرَ مِنْ ہَیْئَتِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا حَتَّی کَادَ رُکْبَتَاہُ تَمَسَّانِ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ أَوْ عَنِ الْاِیْمَانِ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَرَاہُ قَالَ: ((بِخَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((اِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَحَجُّ الْبَیْتِ وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ وَ غُسْلٌ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ قََالَ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، کَأَنَّہُ یُعْلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ۔)) أَوْ ((تَعْبُدُہُ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَا تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ نَقُوْلُ: مَا رَاَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرُسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، فَیَقُوْلُ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ،قَالَ: أَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ بِہَامِنَ السَّائِلِ۔))، قَالَ: فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ ذَاکَ مِرَارًا، مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، ثُمَّ وَلّٰی، قَالَ سُفْیَانُ: فَبَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْتَمِسُوْہُ۔)) فَلَمْ یَجِدُوْہُ،قَالَ: ((ہٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ، مَا أَتَانِیْ فِیْ صُوْرَۃٍ اِلَّا عَرَفْتُہُ غَیْرَ ہٰذِہِ الصُّوْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۴)
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے کہا: ہم لوگ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اب جب تم ان کو ملو تو ان کو یہ بتلا دینا کہ عبد اللہ بن عمر ان سے اور وہ اِن سے بری ہیں، انھوں نے تین دفعہ یہ بات کہی، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، پھر اس کی حالت بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: مزید قریب ہو جا۔ وہ اور قریب ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور قریب ہو جاؤ۔ پس وہ اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں کو مسّ کرنے لگے، پھر اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شرّ والی، پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔ ہر دفعہ اس نے جواب میں کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تعلیم دے رہا ہے، بہرحال اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ہر دفعہ ہم کہتے: ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، پھر اس نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں، اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ اس نے کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، اس نے کئی دفعہ یہ بات کہی، ہم نے اس شخص کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا پایا، پھر وہ چلا گیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی موصول ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو۔ لیکن صحابہ اس کو تلاش نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے، پہلے تو جس صورت میں آتے تھے، میں اِن کو پہچان لیتا تھا، ما سوائے اس صورت کے، (آج میں اِن کو نہیں پہچان سکا)۔
Takhreej
(۲۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۴۶۹۷، وقال الترمذی فی السنن : ۵/ ۸: روی ھذا الحدیث عن ابن عمر، عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ والصحیح: عن ابن عمر عن عمر عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌۔ وأخرجہ عن عمر مسلم: ۸۔ (انظر: ۳۷۴)
201
Sahih
۔ (۲۰۲)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَیْدِیْہِمْ فَاِنْ شَائُ وْا عَمِلُوْا وَاِنْ شَائُ وْا لَمْ یَعْمَلُوْا، فَقَالَ: أَخْبِرْہُمْ أَنِّیْ مِنْہُمْ بَرِیْئٌ وَأَنَّہُمْ مِنِّیْ بُرَائُ، ثُمَّ قَالَ: جَائَ جِبْرِیْلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! مَاالْاِسْلَامُ؟ فقَالَ: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ۔)) قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ: ((تَخْشَی اللّٰہَ تَعَالٰی کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَا تَکُ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔))، قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الَمَوْتِ وَالْجَنَّۃِ وَالنَّارِ وَالْقَدْرِ کُلِّہِ۔)) قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: صَدَقْتَ۔(مسند أحمد: ۵۸۵۶)
۔ (دوسری سند)یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ معاملہ ان کے اختیار میں ہے، پس اگر وہ چاہیں تو عمل کرلیں اور چاہیں تو نہ کریں، آگے سے سیدنا ابن عمرؓ نے کہا: ان کو یہ اطلاع دے دوکہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ پھر انھوں نے کہا: جبرائیلؑ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ انھوں نے کہا: جب میں یہ امور سر انجام دوں گا تو میں مسلمان ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں۔ پھر انھوں نے پوچھا: احسان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا: پس جب میں اس طرح کروں گا، تو کیا میں صاحب ِ احسان ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، پھر انھوں نے کہا: اچھا یہ بتائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے، جنت، جہنم اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ۔ انھوں نے کہا: پس جب میں اس طرح کروں گا تو میں مؤمن بن جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں۔
Takhreej
(۲۰۲) تخریج: حدیث صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الاول
202
Sahih
۔ (۲۰۳) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَکَانَ جِبْرِیْلُ یَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ صُوْرَۃِ دِحْیَۃَ۔ (مسند أحمد: ۵۸۵۷)
ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: اور جبریل، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سیدنا دحیہؓکی شکل میں آتے تھے۔
Takhreej
(۲۰۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
203
Sahih
۔ (۲۰۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ أَنَّ جِبْرِیْلَ قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَ مَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ۔)) فَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَتَعَجَّبْنَا مِنْہُ یَسْأَلُہُ وَیُصَدِّقُہُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ مَعَالِمَ دِیْنِکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱)
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر تمہارا ایمان لانا۔ یہ سن کر حضرت جبریل ؑنے کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، ہمیں اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ یہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبرائیلؑ تھے جو تم کو دین کی نشانیوں کی تعلیم دینے آئے تھے۔
Takhreej
(۲۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸ (انظر: ۱۹۱)
204
Sahih
۔ (۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ)۔أَیْ عَنْ یَحْیٰی بْنِ یَعْمَرَ وَ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ (ؓ) فَذَکَرْنَا الْقَدْرَ وَمَا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، فَقَالَ لَنَا: اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ فَقُوْلُوْا: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِیْئٌ وَأَنْتُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ أَنَّہُمْ بَیْنَمَاہُمْ جُلُوْسٌ أَوْ قُعُوْدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہُ رَجُلٌ یَمْشِیْ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الشَّعْرِ عَلَیْہِ ثِیَابٌ بِیْضٌ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ مَا نَعْرِفُ ہٰذَا وَ مَا ہٰذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آتِیْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَجَائَ فَوَضَعَ رُکْبَتَیْہِ عِنْدَ رُکْبَتَیْہِ وَ یَدَیْہِ عَلَی فَخَذَیْہِ،(وَسَاقَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ فِی الْبَابِ الثَّانِیْ مِنْ کِتَابِ الْاِیْمَانِ وَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْدَ أَنْ ذَہَبَ السَّائِلُ) عَلَیَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبُوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا، فَمَکَثَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ عَنْ کَذَا وَ کَذَا؟۔)) قَالَ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ جَائَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔)) قَالَ: وَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ ہُوَ ہٰکَذَا یَعْنِیْ کَمَا قَرَأْتَ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴)
۔ (چوتھی سند)یحییٰ بن یعمر اور حمید حِمْیری کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو ملے اور تقدیر کے موضوع پر بات کی اور لوگوں کا نظریہ بھی ذکر کیا، انھوں نے ہمیںکہا: جب تم ان لوگوںکی طرف لوٹو تو ان کو تین بار کہنا کہ ابن عمر تم سے اور تم اس سے بری ہو پھر انھوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی پیدل چلتے ہوئے آ گیا، وہ خوبصورت چہرے والا اور خوبصورت بالوں والا تھا، اس نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ نہ تو ہم اس آدمی کو جانتے ہیں اور نہ یہ مسافر لگ رہا ہے، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوںکے پاس رکھ دیئے اور اپنے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی رانوں پر رکھ دیئے، (پھر کتاب الایمان کے دوسرے باب میں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ سائل کے چلے جانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے، لیکن ان کو کوئی چیز نظر ہی نہ آئی، پھر وہ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم جانتے ہو کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کرنے والا کون تھا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، جو تم کو دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔ پھر جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔ یحییٰ نے کہا: وہ اسی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح تم نے مجھے بیان کیا ہے۔
Takhreej
(۲۰۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸ الی قولہ: ذَاکَ جِبْرِیْلُ جَائَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔ ، وأخرج ما بعدہ ابوداود: ۴۶۹۶ (انظر: ۱۸۴)
Explanation
فوائد: …یہ مشہور حدیث جبریل ہے، جو اسلام، ایمان اور احسان کی تعریفات کے ساتھ دیگر بعض امور پر مشتمل ہے، اس میں ایمان کے حوالے سے آٹھ نو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان پر ایمان لانا ضروری ہے، ان میں سے ایک تقدیر ہے، وہ اچھی ہو یا بری۔
205
Sahih
۔ (۲۰۶)۔عَنِ ابْنِ الدَّیْلَمِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍؓ فَقُلْتُ: یَا أَبَا الْمُنْذِرِ! اِنَّہُ قَدْ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ شَیْئٌ مِنْ ہٰذَا الْقَدْرِ فَحَدِّثْنِیْ بِشَیْئٍ لَعَلَّہُ یَذْہَبُ مِنْ قَلْبِیْ، قَالَ: لَوْ أَنَّ اللّٰہَ عَذَّبَ أَہْلَ سَمٰوَاتِہِ وَ أَہْلَ أَرْضِہِ لَعَذَّبَھُمْ وَھُوَ غَیْرُ ظَالِمٍ لَہُمْ، وَلَوْ رَحِمَہُمْ کَانَتْ رَحْمَتُہُ لَہُمْ خَیْرًا مِنْ أَعْمَالِہِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ جَبَلَ أُحُدٍ ذَہَبًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَا قَبِلَہُ اللّٰہُ مِنْکَ حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ وَ تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، وَمَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَلَوْ مِتَّ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ لَدَخَلْتَ النَّارَ، قَالَ: فَأَتَیْتُ حُذَیْفَۃَ فَقَالَ لِیْ مِثْلَ ذٰلِکَ، وَأَتَیْتُ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فقَالَ لِیْ مِثْلَ ذٰلِکَ وَ اَتَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۲۲)
ابن دیلمی کہتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب ؓ کو ملا اور کہا: اے ابو منذر! تقدیر کے بارے میں میرے دل میں وسوسہ سا پیدا ہونے لگا ہے، کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ جس سے میرے دل کی یہ کیفیت ختم ہو جائے۔ انھوںنے کہا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوںکو عذاب دینا چاہے تو وہ عذاب دے دے، جبکہ وہ ان کے حق میں ظالم نہیں ہو گا اور ان سب پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہتر ہو گی اور اگر تو احد پہاڑ کے بقدر سونا اللہ کے راستے میں خرچ کر دے تو وہ اس کو تجھ سے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا، جب تک تو تقدیر پر ایمان نہیں لائے گا اور یہ نہیں جان لے گا کہ جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھے پہنچ کر رہے گی تو وہ تجھ سے تجاوز نہیں کرے گی اور جس چیز کے بارے میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ تجھ سے تجاوز کر جائے گی تو وہ تجھ تک نہیں پہنچ پائے گی، اگر تو (تقدیر کے بارے میں) اس عقیدے پر نہ مرا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔ پھر میں سیدنا حذیفہ ؓ کے پاس آیا، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی بات بیان کر دی، پھر میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اسی قسم کی بات کہہ دی، پھر میں سیدنا زید بن ثابت ؓ کے پاس آیا اور انھوں نے بھی مجھے اس قسم کی بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر دی۔
Takhreej
(۲۰۶) تخریج: اسنادہ قوی أخرجہ ابوداود: ۴۶۹۹، وابن ماجہ: ۷۷ (انظر: ۲۱۵۸۹)
Explanation
فوائد: …اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دے یا کچھ نہ کرے، کسی کو آزمائشوں کے شکنجے میںجکڑے رکھے یا کسی کو تکلیف کا احساس ہی نہ ہونے دے، یہ اس کی منشا کے مطابق ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کر گزرے، وہی مناسب ہے اور ہمارے لیے اس پر راضی ہونا ضروری ہے۔
206
Sahih
۔ (۲۰۷)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ شَیْئٍ حَقِیْقَۃٌ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِیْقَۃَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَہُ وَمَا أَخْطَاَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور آدمی ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے اس چیز کا (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ جو چیز (اللہ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) اسے لاحق ہونی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جس چیز نے اس سے تجاوز کرنا ہے وہ اسے لاحق نہیں ہو سکتی۔
Takhreej
(۲۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو الربیع سلیمان بن عتبۃ مختلف فیہ، وقد تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔أخرجہ الطبرانی (انظر: ۲۷۴۹۰)
207
Zaeef
۔ (۲۰۸)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عُبَادَۃَ (یَعْنِی بْنَ الصَّامِتِؓ) وَھُوَ مَرِیْضٌ أَتَخَایَلُ فِیْہِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! أَوْصِنِیْ وَاجْتَہِدْ لِیْ فَقَالَ: أَجْلِسُوْنِیْ، قَالَ: یَا بُنَیَّ! اِنَّکَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ وَلَمْ تَبْلُغْ حَقِیْقَۃَ الْعِلْمِ بِاللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتَّی تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَتَاہُ! فَکَیْفَ لِیْ أَنْ أَعْلَمَ مَا خَیْرُ الْقَدْرِ وَ شَرُّہُ؟ قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، یَا بُنَیَّ! اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی الْقَلْمُ، ثُمَّ قَالَ: اکْتُبْ! فَجَرَی فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) یَا بُنَیَّ! اِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَی ذٰلِکَ دَخَلْتَ النَّارَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۰۸۱)
ولید بن عبادہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ بیمار تھے اور میرا خیال تھا کہ اس بیماری میں ان کی موت واقع ہو جائے گی، پس میں نے کہا: ابا جان! کوئی وصیت کر دو اور میرے لیے کوشش کرو۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر انھوں نے کہا: میرے پیارے بیٹے! تو اس وقت تک نہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی حقیقت کو پہنچ سکتا ہے، جب تک تو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیںلائے گا۔ میں نے کہا: ابا جان! میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ اچھی اور بری تقدیر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جان لے کہ جو چیز تجھ سے تجاوز کر جانے والی ہے، وہ تجھے لاحق نہیں ہو سکتی اور جو چیز تجھے لاحق ہونے والی ہے، وہ تجھ سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا، وہ قلم ہے، پھر اس نے اسے کہا: تو لکھ، پس وہ چل پڑی اور قیامت تک وقوع پذیر ہونے والے امور لکھ دیئے۔ اے میرے بیٹے! اگر تو اس عقیدے کے بغیر مر گیا تو تو جہنم میں داخل ہو گا۔
Takhreej
(۲۰۸) تخریج: حدیث صحیح ۔أخرجہ ابوداود: ۴۷۰۰، والترمذی: ۲۱۵۵، ۳۳۱۹ (انظر: ۲۲۷۰۵)
Explanation
فوائد: …ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے عقائد کی اس طرح اصلاح کریں۔
208
Sahih
۔ (۲۰۹)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِؓ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَ تَصْدِیْقٌ بِہِ وَجِہَادٌ فِیْ سَبِیْلِہِ۔)) قَالَ: أُرِیْدُ أَہْوَنَ مِنْ ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((السَّمَاحَۃُ وَالصَّبْرُ۔)) قَالَ: أُرِیْدُ أَہْوَنَ مِنْ ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لَا تَتَّہِمِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ شَیْئٍ قَضٰی لَکَ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۹۴)
سیدنا عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے آسان عمل کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر وسماحت۔ لیکن اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ تو اس سے ہلکے عمل کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کو متّہم نہ ٹھہرانا، (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جانا)۔
Takhreej
(۲۰۹) تخریج: حدیث محتمل للتحسین ۔ أخرجہ ابو یعلی فی مسندہ الکبیر ، والبخاری فی خلق افعال العباد : ۱۶۳(انظر: ۲۲۷۱۷)
Explanation
فوائد: …آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مختلف اعمال کی ترتیب لگا دی ہے، تاکہ ہر آدمی اپنے حالات کے مطابق اپنے لیے کوئی راہ نکال سکے۔ آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیوی اور اخروی ترقی کے لیے محنت کرتے ہوئے جائز اسباب استعمال کرے، لیکن اگر کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا محنت کا ثمرہ نہیں ملتا تو اس کو اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر راضی ہو جائے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔
209
Sahih
۔ (۲۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عن أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ الْمَرْئُ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) قَالَ أَبُوْ حَازِمٍ: لَعَنَ اللّٰہُ دِیْنًا أَنَا أَکْبَرُ مِنْہُ، یَعْنِی الْتَکْذِیْبَ بِالْقَدْرِ۔ (مسند أحمد: ۶۷۰۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔ ابو حازم نے کہا: اللہ تعالیٰ اس دین پر لعنت کرے کہ میں جس سے بڑا ہوں، ان کی مراد تقدیر کو جھٹلانے پر (ردّ کرنا ہے)۔
Takhreej
(۲۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۶۷۰۳)
Explanation
فوائد: …ابو حازم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس دین کی کیا اہمیت ہے کہ جس میں تقدیر پر ایمان لانے کی شق نہیں پائی جاتی، ایسا دین تو اتنا ناقص ہو گا کہ وہ ابو حازم سے بھی کم تر ہو گا۔
210
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.