TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے - اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 16 · 3 Hadith
۔ (۱۱۴)۔عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا السُّنَّۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ) یُسْلِمُ عَلٰی یَدَیْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ہُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِمَحْیَاہُ وَ مَمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۲)
سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔
Takhreej
(۱۱۴) تخریج: قال الالبانی: حسن صحیح (ابوداود: ۲۹۱۸)۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۸، الترمذی: ۲۱۱۲، وابن ماجہ: ۲۷۵۲(انظر: ۱۶۹۴۸)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے تمام ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا آدمی وارث بنے گا اور امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں (اجنبی غیر وارث لوگوں) سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق) سعید بن منصور کی روایت میں یَرِثَہٗ وَ یَعْقِلُ عَنْہُ کی زیادتی ہے، لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، جس کے متعلق امام البانی نے کہا: فَیُسْتَشْھَدُ بِہٖ (صحیحہ: ۲۳۱۶) امام مبارکپوری نے کہا: دو احتمال ہیں: (۱)یہ حدیث توارث بالاسلام پر دلالت کرتی ہے، جو کہ منسوخ ہو گیا ہے۔ (۲) اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ وہ زندگی میں اس کی مدد کرے اور موت کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کرے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵) امام خطابی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ حدیث میراث سے متعلق ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث کا مدلول عہد و پیمان، ایثار و قربانی اور برّ وصلہ ہو۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۱۸۵، عون المعبود: ۳/ ۸۷) لیکن سیدنا تمیم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق ابتدائے اسلام سے نہیں ہے، اخیر اسلام کے دور سے ہے، کیونکہ سیدنا تمیم ؓ ۹ ؁ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور اس حدیث کے بارے میں انھوں نے خود سوال کیا تھا۔ اس لیے یہی مناسب ہے کہ اس سے مراد حقِّ وراثت لیا جائے۔ رہا مسئلہ نصرت و تائید اور نماز جنازہ میں شرکت وغیرہ کا، توان حقوق کی ادائیگی میں سب مسلمان برابر ہیں۔ (واللہ اعلم)
114
Sahih
۔ (۱۱۵)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: إِنِّی لَتَحْتَ رَاحِلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْ مَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِیْلًا وَکَانَ فِیْمَا قَالَ: ((مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ فَلَہُ أَجْرُہُ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۸۹)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائیں تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہل کِتَابُ میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔
Takhreej
(۱۱۵) تخریج: حدیث صحیح، وھذا السند متابَع ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۷۸۶(انظر: ۲۲۲۳۴)
115
Sahih
۔ (۱۱۶)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ فَعَلَّمَہَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیْمَہَا وَ أَدَّبَہَا فَأَحْسَنَ تَأْدِیْبَہَا وَ أَعْتَقَہَا فَتَزَوَّجَہَا فَلَہُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّی حَقَّ اللّٰہِ وَ حَقَّ مَوَالِیْہِ وَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِمَا جَائَ بِہِ عِیْسٰی وَمَا جَائَ بِہِ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَہُ أَجْرَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۱)
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہل کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسی ؑکی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
Takhreej
(۱۱۶)تخریج:أخرجہ البخاری: ۹۷، ۳۰۱۱، ۳۴۴۶، ۵۰۸۳، ومسلم: ۱۵۴(انظر: ۱۹۵۳۲)
Explanation
فوائد: …چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر ایمان لانے والے اہل کتاب یکے بعد دیگر دو نبیوں پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے ان کو دو گنا اجر ملتا ہے۔
116
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.