TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو - انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 16 · 4 Hadith
۔ (۱۹۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۶۲۴)
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
Takhreej
(۱۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۰۸، ۳۳۳۲، ومسلم: ۲۶۴۳ (انظر: ۳۶۲۴)
Explanation
فوائد: …یہ تقدیر کے وہی معاملات ہیں، جن کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار قبل جن کو تحریر کر دیا گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ اس موقع پر ہر بندے کی علیحدہ فائل تیار کر دی جاتی ہے، اگلی دو احادیث میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
197
Sahih
۔ (۱۹۸)۔عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَۃُ فِی الرَّحِمِ أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا رِزْقُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا أَجَلُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیُعْلَمُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! شَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ فَیُعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتاہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۵۲۶۹)
198
Sahih
۔ (۱۹۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أُسَیْدٍ الْغِفَارِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَۃِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِی الرَّحِمِ بِأَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، (وَقَالَ سُفْیَان مَرَّۃً: أَوْ خَمْسَۃً وَ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً) فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَاذَا، أَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَیُکْتَبَانِ، فَیَقُوْلُ: مَا ذَا؟أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیُکْتَبَانِ، فَیُکْتَبُ عَمَلُہُ وَ أَثَرُہُ وَمَصِیْبَتُہُ وَرِزْقُہُ، ثُمَّ تُطْوَی الصَّحِیْفَۃُ فَـلَا یُزَادُ عَلَی مَا فِیْہَا وَلَا یُنْقَصُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۲۴۱)
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے ربّ! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلاتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل ، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفے کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔
Takhreej
(۱۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۴۴، ۲۶۴۵ (انظر: ۱۶۱۴۲)
199
Sahih
۔ (۲۰۰)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَرَغَ اللّٰہُ اِلٰی کُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ، مِنْ أَجَلِہِ وَ رِزْقِہِ وَأَثَرِہِ وَ شَقِیٍّ أَمْ سَعِیْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۶۶)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے سے پانچ چیزوں سے فارغ ہو گیا ہے، اس کی موت، رزق، عمر اور بدبختی یا خوش بختی۔
Takhreej
(۲۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۳۱۴۴، والبزار: ۲۱۵۲ (انظر: ۲۱۷۲۳)
Explanation
فوائد: …تقدیر کے اس نظام کے باوجود بندے سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خیر و بھلائی کا طالب بنے اور اس کے حصول کی کوشش کرے اور اپنے دامن کو شرّ و فساد والے امور سے بچائے۔
200
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.