TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان - تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 16 · 13 Hadith
۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کا اندازہ لگا لیا تھا۔
Takhreej
(۱۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۳ (انظر: ۶۵۷۹)
180
Sahih
۔ (۱۸۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ أَلْقٰی عَلَیْہِمْ مِنْ نُّوْرِہِ یَوْمَئِذٍ،فَمَنْ أَصَابَہُ مِنْ نُوْرِہِ یَوْمَئِذٍ اہْتَدَی وَمَنْ أَخْطَأَہُ ضَلَّ، فَلِذٰلِکَ أَقُوْلُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلٰی عِلْمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۴۴)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا، پھر اسی دن پر اپنا نور ڈالا، جس شخص تک اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جس سے تجاوز کر گیا، وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
Takhreej
(۱۸۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۷۷(انظر: ۶۶۴۴)
181
Sahih
۔ (۱۸۲)۔عَنْ طَائُ وْسٍ بْنِ الْیَمَانِیِّ قَالَ: أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَؓ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزُ وَالْکَیْسُ۔ (مسند أحمد: ۵۸۹۳)
طاوس یمانی کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملا قات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے سنا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔
Takhreej
(۱۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۵(انظر: ۵۸۹۳)
Explanation
فوائد: …بے بس کی بے بسی کا اور عقل مند کی عقل کا فیصلہ تقدیر میں ہو چکا ہے۔
182
Sahih
۔ (۱۸۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَلَقَ اللّٰہُ آَدَمَ حِیْنَ خَلَقَہُ فَضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُمْنَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً بَیْضَائَ کَأَنَّہُمُ الذَّرُّ وَ ضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُسْرَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً سَوْدَائَ کَأَنَّہُمْ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِیْ فِی یَمِیْنِہِ: اِلَی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَالَ لِلَّذِی فِی کَفِّہِ الْیُسْرٰی: اِلَی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۶)
سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑکو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائے اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والے اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔
Takhreej
(۱۸۳) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، تفرد بہ ابو الربیع سلیمان بن عتبۃ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔ أخرجہ البزار: ۲۱۴۴(انظر: ۲۷۴۸۸)
183
Zaeef
۔ (۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِیْلَ بِأَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ یَخْتِمُ اللّٰہُ لَہُ بِأَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ فَیَجْعَلُہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِیْلَ بِأَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ ثُمَّ یَخْتِمُ اللّٰہُ لَہُ عَمَلَہُ بِأَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَجْعَلُہُ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۹۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آدمی عرصۂ دراز تک جنتی لوگوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جہنمی لوگوں والے اعمال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو آگ والوں میں سے بنا دیتا ہے، دوسری طرف ایک آدمی کافی عرصے تک آگ والے لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں کے افعال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو اہل جنت میں سے بنا دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۱(انظر: ۱۰۲۸۶)
184
Sahih
۔ (۱۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا عَلَیْکُمْ أَنْ لَّا تُعْجَبُوْا بِأَحَدٍ حَتّٰی تَنْظُرُوْا بِمَ یُخْتَمُ لَہُ، فَاِنَّ الْعَامِلَ یَعْمَلُ زَمَانًا طَوِیْلًا مِنْ عُمُرِہِ أَوْ بُرْہَۃً مِنْ دَہْرِہِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَیْہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ یَتَحَوَّلُ فَیَعْمَلُ عَمَلًا سَیِّئًا، وَاِنَّ الْعَبْدَ لَیَعْمَلُ الْبُرْہَۃَ مِنْ دَہْرِہِ بِعَمَلٍ سَیِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَیْہِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ یَتَحَوَّلُ فَیَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَاِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ قَبْلَ مَوْتِہِ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَسْتَعْمِلُہُ؟ قَالَ: ((یُوَفِّقُہُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلَیْہِ)) (مسند أحمد: ۱۲۲۳۸)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پر اس چیز میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (کسی کے اچھے عمل کی وجہ سے)اس پر خوش نہ کیے جاؤ، یہاں تک کہ تم دیکھ لو کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل کرنے والا اپنی عمر کے طویل حصے میں یا کچھ زمانے میں ایسے نیک عمل کرتا ہے کہ اگر ان پر اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا،لیکن ہوتا یوں ہے کہ وہ اپنی روٹین تبدیل کر لیتا ہے اور برے عمل شروع کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کچھ عرصہ تک ایسے برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا، لیکن پھر وہ بدل جاتا ہے اور نیک عمل شروع کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کی موت سے پہلے استعمال کر لیتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کو نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے اور پھر اس کو اس (اچھے عمل) پر موت دے دیتا ہے۔
Takhreej
(۱۸۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۳(انظر: ۱۲۲۱۴)
185
Sahih
۔ (۱۸۶)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنَّہُ لَمَکْتُوْبٌ مِنْ أَہْلِ النَّارِ فَاِذَا کَانَ قَبْلَ مَوْتِہِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَ اِنَّہٗ لَمَکْتُوْبٌ فِی الْکِتَابِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَاِذَا کَانَ قَبْلَ مَوْتِہِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَمَاتَ فَدَخَلَہَا)) (مسند أحمد: ۲۵۲۶۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ جہنمی لوگوں والے عمل شروع کردیتا ہے اور اسی حالت پر مرجاتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ایک آدمی جہنمی لوگوں والے عمل کررہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جنتی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو وہ پہلی حالت سے منتقل ہو جاتا ہے اور اہل جنت کے عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی حالت پر مر کر جنت میں داخل ہو جاتاہے۔
Takhreej
(۱۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۴۶۶۸، وابن حبان: ۳۴۶ (انظر: ۲۴۷۶۲)
Explanation
فوائد: …نیک اعمال کی روٹین سے اللہ تعالیٰ سے استقامت اور انجام بخیر کی دعا کرنی چاہیے، یہ بہت بڑی بد نصیبی ہو گی کہ آدمی زندگی بھر نیک عمل کرتا ہے، لیکن آخری چند دنوں کی بدعملی کی وجہ سے جنت سے محروم ہو جائے۔
186
Sahih
۔ (۱۸۷)۔عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُہُ یَعُوْدُوْنَہُ فَبَکبٰی، فَقِیْلَ لَہُ مَا یُبْکِیْکَ یَا عَبْدَاللّٰہِ؟ أَلَمْ یَقُلْ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ مِنْ شَارِبِکَ ثُمَّ أَقِرَّہُ حَتَّی تَلْقَانِیْ)) قَالَ: بَلٰی، وَلَکِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَبَضَ قَبْضَۃً بِیَمِیْنِہِ فقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَبَضَ قَبْضَۃً أُخْرٰی یَعْنِیْ بِیِدِہِ الْأُخْرٰی فَقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) فَـلَا أَدْرِیْ فِیْ أَیِّ الْقَبْضَتَیْنِ أَنَا۔ (مسند أحمد:۱۷۷۳۷)
ابو نضرہ کہتے ہیں: ایک صحابی بیمار ہوا، جب اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگ گیا، کسی نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تو کیوں رو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کاٹ دے، پھر اسی حالت پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملے۔ ؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی ہوا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری اور کہا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں، پھر دوسرے ہاتھ سے ایک مٹھی بھری اور کہا: یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۔
Takhreej
(۱۸۷) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ البزار: ۲۱۴۲ (انظر: ۱۷۵۹۴)
Explanation
فوائد:… اس صحابی کو اس خوشخبری کی حقیقت کا علم تھا، لیکن بیماری کی حالت میں دوسری فکر بھی غالب آئی ہوئی تھی۔
187
Sahih
۔ (۱۸۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَقَبَضَ بِیَدَیْہِ قَبْضَتَیْنِ فقَالَ: ہٰذِہِ فِی الْجَنّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰذِہِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۷)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں سے دو مٹھیاں بھریں اور کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف البراء الغنوی و لانقطاعہ، فالحسن البصری لم یدرک معاذا،وقولہ: فقبض قبضتین … یشھد لہ أحادیث أخری (انظر: ۲۲۰۷۷)
188
Zaeef
۔ (۱۸۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَا رَأَیْتُ شَیْئًا أَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَہُ لَا مَحَالَۃَ، وَزِنَا الْعَیْنِ النَّظْرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَ النَّفْسُ تَمَنّٰی وَ تَشْتَہِیْ وَ الْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہے: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی، جو صغیرہ گناہوں سے زیادہ ملتی جلتی ہو، اس چیز کی بہ نسبت، جس کو سیدنا ابو ہریرہؓ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کے ہر بیٹے پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پا لے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور چاہتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔
Takhreej
(۱۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۱۲، ومسلم: ۲۶۵۷(انظر: ۷۷۱۹)
189
Sahih
۔ (۱۹۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ ابْنِ أَبِیْ خُزَامَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَأَیْتَ دَوَائً نَتَدَاوٰی بِہِ وَرُقًی نَسْتَرْقِیْ بِہَا وَ تُقًی نَتَّقِیْہَا تَرُدُّ مِنْ قَدْرِاللّٰہِ شَیْئًا؟ قَالَ: ((اِنَّہَا مِنْ قَدْرِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۵۱)
سیدنا ابو خزامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف علی خطأ فیہ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۸، وابن ماجہ: ۳۴۳۷ (انظر: ۱۵۴۷۲)
Explanation
فوائد: …لیکن یہ بات درست ہے کہ مختلف بیماریاں اور ان کے علاج کے لیے کوئی دوا کھانا یا دم کروانا، اِن سب چیزوں کا تعلق تقدیر سے ہے، اللہ تعالیٰ نے خود مختلف اسباب استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
190
Zaeef
۔ (۱۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّہُ رَکِبَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا غُلَامُ! اِنِّیْ مُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ(یَنْفَعُکَ اللّٰہُ ِبہِنَّ) اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ، اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ، وَاِذَا سَأَلْتَ فَاسْئَلِ اللّٰہَ، وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِاجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَنْفَعُوْکَ لَمْ یَنْفَعُوْکَ اِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَضُرُّوْکَ لَمْ یَضُرُّوْکَ اِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ، رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو فرمایا: اولڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی،مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۱) تخریج: اسنادہ قوی ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۵۱۶ (انظر: ۲۶۶۹)
191
Sahih
۔ (۱۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ زَیَادَۃُ: ((تَعَرَّفْ اِلَی اللّٰہِ فِی الرَّخَائِ یَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ (وَفِیْہِ أَیْضًا) فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ کُلَّہُمْ جَمِیْعًا أَرَادُوْا أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ لَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ، وَاِنْ أَرَادُوْا أَنْ یَضُرُّوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ لَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِی الصَّبْرِ عَلٰی مَا تَکْرَہُ خَیْرًا کَثِیْرًا وَ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَ أَنَّ الْفَرْجَ مَعَ الْکَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہنچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہنچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو… مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تُل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیبے میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۹۱) تخریج: اسنادہ قوی ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۵۱۶ (انظر: ۲۶۶۹)
Explanation
فوائد: …یہ عقیدے کی پختگی ہو گی کہ مختلف جسمانی اور روحانی آزمائشوں سے بچنے کے لیے جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اگر وسائل کی کمی کے باوجود کافروں سے جہاد کرنے کی نوبت آ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جانا چاہیے، کسی بیماری کے علاج کے جائز اسباب استعمال کرنے چاہئیں، لیکن شفا کے معاملے میں توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، ان د و احادیث میں مذکورہ باقی نصیحتیں بھی اس لائق ہیں کہ ان کا بغور مطالعہ کر کے ان کو اپنایا جائے۔
192
Sahih

Chapters

16
01
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
6 Hadith
02
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
4 Hadith
03
اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے
3 Hadith
04
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
6 Hadith
05
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
10 Hadith
06
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
07
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
22 Hadith
08
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
11 Hadith
09
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
4 Hadith
10
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
13 Hadith
11
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
1 Hadith
12
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
13
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
4 Hadith
14
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
10 Hadith
15
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
12 Hadith
16
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
10 Hadith
No chapter matched that.